جمعہ، 12 اکتوبر، 2012

Why interest is fatal for mankind

سود انسانیت کے لئے خطرہ کیوں ؟

محمد آصف ریاض

مصرکے پہلے جمہوری صدر محمد مرسی نے انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ سے قرض ماناگا ہے۔ لیکن انھوں نے کہا ہے کہ وہ سود پرقرض نہیں لیں گے۔ وہ سود سے پاک نظام چاہتے ہیں۔ وہ سود کھانے کے بجا ئے فاقہ کرنا پسند کریں گے۔

Egypt has asked the International Monetary Fund for a $4.8 billion loan to help bolster the economy, and officials said theIMF had asked Egypt to restructure its subsidies system as one of the prerequisite for the loan.

He also reiterated that he would abide by Islamic banking laws and not accept interests on the loan, telling the cheering crowd that “we’ll go
Hungry before we eat off of interest.”

آج ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ہر ملک کسی نہ کسی انقلاب سے دوچار ہے۔ مثلاً مشرق وسطی میں سیاسی انقلاب

برپا ہے۔ مصر، تیونس، لیبیا میں حکومتیں بدل چکی ہیں اور سیریا کی اسد حکومت اپنے خاتمہ پر پہنچنے والی ہے۔

یوروپ میں معاشی انقلاب برپا ہے۔ یہاں یکے بعد دیگرے سات حکومتیں بدل چکی ہیں۔ ایک اخبار نے اس کی رپورٹنگ کرتے ہوئے یہ سرخی قائم کی ہے: One After Another, European Leaders Get the Boot
رپورٹ میں بتا یا گیا ہے کہ یوروپین لیڈران کے لئے اپنی معیشت کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ صرف ایک سال میں چھہ حکومتیں بدل چکی ہیں اور فرانس میں سرکوزی کاجا نا بھی تقریاً طے ہے۔{ اب سرکوزی کا جانا ایک واقعہ بن چکا ہے}

It's been a rough time for European leaders trying to keep their troubled economies afloat. In just over a year, six European leaders or ruling parties have been forced out of office in countries that include Ireland, Portugal, Greece, Italy, Spain and the Netherlands.

امریکہ سمیت پورا یورپ مالی بحران کا شکار ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ اوراہل یوروپ نے جومعاشی نظام بنا یا تھا اب وہ ناکام ہوچکا ہے۔ اس نظام میں اب وقت کا ساتھ دینے اور لوگوں کے مسائل کو حل کر نے کی طاقت نہیں ہے۔ اب اسی فرسودہ نظام کو دہرا یا نہیں جا سکتا۔ امریکہ اور یوروپ میں آئے معاشی بحران کا سب سے بڑا سبق یہی ہے۔ دنیا کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے ایک نئے انقلابی نظام کی ضرورت ہے، جس کی بنیاد انسانیت کی فلاح پر رکھی گئی ہو۔ اس سلسلے میں مرسی کا قدم ایک سوچا سمجھا انقلابی قدم معلوم پڑتا ہے۔

سود سے پاک نظام کیوں؟
فرض کیجئے کہ ایک شخص کے پاس پانچ لاکھ روپیہ ہے۔ وہ اسے اٹھا کر بینک میں اس امید پر فکس کردیتا ہے کہ پانچ سال کےبعد وہ رقم بڑھ کر بغیر کسی رسک کے آٹھ لاکھ ہوجائے گی۔ پانچ سال کے بعد وہ رقم آٹھ لاکھ ہوجاتی ہے۔ لیکن ذرا غور کریں کہ اگر سودی نظام نہیں ہوتا تو پیسہ کو جمع کرنے والا شخص اسے مارکٹ میں لاتا، اس طرح سرمایہ کاری کو فروغ ملتا اورروز گار کے مواقع پیدا ہوتے۔ معلوم ہوا کہ سود سرمایہ کاری اور انوسٹ منٹ کی راہ میں سب سے بڑی رکا وٹ ہے۔ پانچ سال کے بعد پانچ لاکھ فکس کرنے والے کو آٹھ لاکھ ملتا ہے یعنی بیٹھے بٹھا ئے تین لاکھ کا پر فریب فائدہ۔ پر فریب اس لئے کیونکہ یہ فائدہ صرف نظر آتا ہے حقیقتاً کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیوں کہ پانچ سال میں پیسہ کا ویلو بہت زیادہ گر چکا ہوتا ہے۔ اس بات کو یوں سمجھیں کہ آپ ایک شہر میں پانچ لاکھ میں ایک فلیٹ خریدنے کے لائق ہیں لیکن آپ نے اس پانچ لاکھ کو یہ سوچ کر فکس کردیا کہ جب آٹھ لاکھ ہو جائے گا تب آپ اس سے ایک گھر خریدیں گے لیکن جب پانچ سال کے بعد آپ اپنا آٹھ لاکھ نکالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پانچ لاکھ کی فلیٹ کی قیمت بڑھ کر 10 لاکھ ہوگئی ہے، یعنی دو لا کھ کا گھا ٹا۔ معلوم ہوا کہ سود ایک دوھوکہ ہے جو دکھتا زیادہ ہے اور ہوتا بہت کم ہے۔ پھر یوں بھی غور کریں کہ اگر رقم کو فکس کرنے والا اسے مارکٹ میں لاتا تو اس رقم کو بڑھا نے کے لئے اسے بھاگ دوڑ کرنی پڑتی۔ لیکن اس نے سرگرمی کے بجائے کاہلی کو پسند کیا۔ پتہ چلا کہ سود ان ایکشن اور کاہلی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ہرآدمی اپنا پیسہ ایک خاص مقام پر جمع کرتا ہے جہاں سے چند لوگ، اسے اٹھا لیتے ہیں۔ پتہ چلا کہ سود سرمایہ کوچند محدود ہاتھوں تک پہنچانے کا آلہ ہے۔ اور اس طرح ملک اور قوم کے لئے خطرہ بھی کیوں کہ یہ مٹھی بھر لوگ سرمایہ پر قبضہ کر کے حکومت کو بلیک میل کر تے ہیں اور بعض اوقات ملک سے غداری بھی کرتے ہیں۔ پتہ چلا سود ملک اور قوم کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ اگر ایک عام آدمی سود لے لے تو وہ اسے اس وقت تک ادا نہیں کر پائے گا جب تک کہ وہ اپنا گھر بار فروخت نہ کردے۔ پتہ چلا سود انسان کو ہوپ لیس بنا تا ہے۔ بعض اوقات سود انسان کو خود کشی پر آمادہ کرتا ہے۔ خود کشی کرنے والا یہ سوچتا ہے کہ جب اسے مرنا ہی ہے تو کیوں نہ وہ ان لوگوں کو بھی ماردے جس نے اس کے لئے موت کا ماحول تیار کیا۔ پتہ چلا سود کیلنگ اور قتل و غارت گری کو بڑھا وا دیتا ہے۔ ایک ماں کسی اسپتال میں اپنے بیمار بیٹے کی زندگی سے جنگ لڑ رہی ہے۔ ڈاکٹر اس سے پیسہ مانگتا ہے اور اسے سود پر پیسہ دیا جا تا ہے، عورت کو آپ کی ہمدردی اور مدد درکار تھی نہ کہ سود۔ پتہ چلا سود انسان کی مجبوری سے فائدہ اٹھا نے کا آلہ ہے اور یہ انسیانت پر کیا گیا ظلم عظیم ہے۔

سود سے پاک نظام کے کئی اسباب ہیں۔ یہاں چند اسباب پیش کئے جاتے ہیں۔

· سود آدمی کو ان ایکٹیو بناتا ہے

· سود انوسٹ منٹ کو ڈ س کاریج کرتا ہے

· سود منی کو دوچار ہاتھوں تک محدود کر دیتا ہے

· سود لوگوں کو قتل غارت گری پر ابھارتا ہے

· سود بد امنی پھیلاتا ہے

· سود ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہے

· سود ایک دھوکہ ہے

· سود انسانیت پر کیا گیا ظلم ہے

· سود ملک اور قوم کے خلاف بغاوت ہے

اسلام میں سود کی ممانعت کیوں؟

قرآن میں ہے: "انھوں نے کہا کہ اے شعیب کیا تمہاری نماز تم کو یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔ یااپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑدیں۔ بس تم ہی تو ایک دانشمند اورایک نیک چلن آدمی ہو۔" {11-87}

حضرت شعیب کی قوم کو یہ زعم ہوگیا تھا کہ جو کچھ مال ان کے پاس ہے سب ان کا اپنا ہے اور اس لئے وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ انھیں اپنے مال پر اپنے حساب سے تصرف کرنے کا حق ہے۔ دنیا میں زیادہ تر لوگ اسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ان کو ملا ہوا ہے وہ سب انہی کا ہے۔
حالانکہ اگر وہ غور کرتے تو پاتے کہ انھِں اس دنیا میں جو کچھ حاصل ہے وہ ان کا نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تواس کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ جب وہ دنیا میں آتا ہے توپاتا ہے کہ اس کے استعمال کی چیزیں اس کی پیدائش سے پہلے ہی دنیا میں بھیج دی گئی تھیں۔ یعنی یہاں پہلے سے آسمان ہے، زمین ہے، سولر سسٹم ہے، لائف سپورٹ سسٹم ہے،پانی ہے، آگ ہے، توانائی کے ذخائر ہیں، پھل پھول اور اناج ہیں، درخت اور باغات ہیں، جمادات و حیوانات ہیں، وغیرہ۔ انسان اس زمین پر اپنے استعمال کی تمام چیزیں موجود پاتا ہے۔ اب وہ انھیں جمع کرتا ہے اور پھر اسے یہ دھوکہ ہوجا تا ہے کہ وہ تو اسی کا ہے۔ گویا کہ اسی نے ان تمام وسائل کو پیدا کیا ہے۔ اب وہ بھول جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کچھ لے کر نہیں آیا تھا اور جو کچھ اس کے پاس ہے وہ سب خدا کا ہے۔ انسان مال میں اپنے حساب سے تصر چاہتا ہے اورجب کوئی بندہ خدا اسے اس کام سے روکتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ تم مجھے اپنے مال میں اپنے حساب سے تصرف کرنے سے کیوں روکتے ہو؟ کیاتم ہی ایک عقلمند ہو؟ انسان کی اس غلط فہمی کا خاتمہ موت کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اس وقت سچائی کو پانےکا کوئی فائدہ نہیں۔

اسلام انسان کے اندر "گاڈ اوری اینٹڈ" سوچ پیدا کرتا ہے۔ بندہ مومن کے قبضہ میں جب کوئی دولت آتی ہے تو وہ اسے خدا کا عطیہ سمجھتا ہے اور وہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا استعمال کرتا ہے۔ وہ سود خوری نہیں کرتا کیونکہ خدااسے ایسا کرنے سے روکتا۔ وہ اپنے مال میں اپنے عزیز و اقربا، دوستوں، رشتہ داروں، سائلوں اور محتاجوں کا حق سمجھتا ہے کیوں کہ خدا اسے یہی حکم دیتا ہے۔

" اے ایمان والو بڑھا چڑھا کر سود مت کھا ئو، اور اللہ تعالی سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے۔"{3:130-31 }

تم جو سود میں دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالی کے یہاں نہیں بڑھتا اور جو لوگ اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو ایسے ہی لوگ اپنا مال بڑھا تے ہیں۔"30:39}}

3 تبصرے:

  1. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. السلام علیکم
    آج میں نے یہ مضمون دی فری لانسر، ممبئی میں دیکھا۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں