بدھ, اکتوبر 17, 2012

Circumcision is banned in Delhi


دہلی کے فلاحی اداروں نے ختنہ پرعملاً پابندی نافذکی

محمد آصف ریاض
 ستمبر 2012 کو میں نے اپنے بیٹا یحی کا ختنہ کرایا۔ اس کے ختنہ کے لئے میں نے دہلی میں واقع دو مسلم اسپتالوں سے رابطہ کیا۔ ان میں ایک کانام مجیدیہ اسپتال ہے، جو ہمدرد کے تحت کام کام کرتا ہے۔ دوسرا اسپتال وہ ہے جسے ایک اسلامی جماعت چلاتی ہے اور یہ دہلی کے اوکھلا علاقہ میں واقع ہے۔ مجیدیہ میں میں نے اپنے بھائی رہبر کو فیس جاننے کے لئے بھیجا تو پتہ چلا وہاں ایک ختنہ پر 6000 روپے خرچ آتا ہے۔ دوسرا اسپتال جسے ایک اسلامی جماعت چلاتی ہے وہاں پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ایک ختنہ پر 5000 روپے خرچ آ ئے گا۔
میں نے کہا کہ یہ توعملاً ختنہ پر پابندی لگانا ہے۔ پابندی کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی چیز کو اتنا منہگا کردیا جائے کہ وہ عملاً عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوجائے۔ مثلاً۔
اوبامہ نے ایک بل لایا تھا۔ اس بل کے مطابق امریکی اور باہری ملازمین کے لئے تنخواہ برابر کر دی گئی تھی۔ یعنی اگر ایک ٹیچر امریکی ہے اور وہ ماہانہ د س ہزار ڈالر پاتا ہے تو دوسرا ٹیچر جو بنگہ دیشی ہے اسے بھی دس ہزار ڈالر دیا جائے گا۔ اس فیصلہ کے مطابق امریکی اور باہری ملازمین دونوں مساوی تنخواہ پارہے تھے۔
اس فیصلہ پر ری پبلیکن نے ہنگامہ کیا تو اوبامہ نے چپکے سے ایک ری پبلکن کو بتا یا کہ جب برا بر تنخواہ دینی پڑے گی تو امریکی کمپنیاں باہر والوں کوجاب نہیں دیں گی۔ یہ ابھی باہری لوگوں کو اس لئے جاب دیتی ہیں کیوںکہ وہاں انھیں کم تنخواہ پر ملازمین مل جاتے ہیں۔ اب جب دونوں کو برابر پیسہ دینا ہوگا تو وہ ملازمین کو ڈھونڈنے بنگلہ دیش کیوں جائیں گی، وہ امریکیوں کو ہی جاب دیں گی؟ یعنی اس فیصلہ کے تحت اوبامہ نے باہری ملازمین کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے عملاً روک دیا تھا۔
یہی کام یہ فلاحی ادارے کر رہے ہیں۔ یہ ختنہ تو کرتے ہیں لیکن عملاً اتنا مہنگا کر تے ہیں کہ عام آدمی اپنے بچوں کا ختنہ نہیں کرا سکتا۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ عملاً ختنہ پر پابندی لگا رہے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ آپ کو یہاں آنے کے لئے کون کہتا ہے؟ آپ باہر جائیں۔ باہر 200 روپے میں بھی ختنہ ہوجاتا ہے تو میں نے کہا کہ میں یہی پوچھنے کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں کہ جو کام باہر دو سو روپے میں ہوتا ہے، وہ آپ کے یہاں 5000 روپے میں کیوں ہوتا ہے؟
ان کے مطابق باہر دو سو روپے میں ختنہ کراکر آپ اپنے بچوں کو نامرد بنانے کا رسک لیں اور اگر ان کے اسپتال میں ختنہ کراناچاہتے ہیں تو آپ کو ان کے حساب سے  پے کرنا ہوگا جو آپ کے بس میں نہیں۔
 یعنی آپشن دو ہے ایک یہ کہ آپ اپنے بچوں کا ختنہ نہ کرائیں دوسرا یہ کہ کرائیں تو اسے نامرد بنانے کا رسک لیں۔
 26 جون 2012 کو جرمنی کے ایک کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ختنہ سے بچے کے جسم کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس فیصلہ کے پیش نظرجرمن میڈیکل اسوسی ایشن نے ملک بھر کے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ ختنہ کرنا بند کردیں۔ اس فیصلہ پر جرمنی سمیت پوری دنیا کے مسلمان بر ہم ہوگئے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے بھی اس مسئلہ پر کافی ہنگامہ کیا اور اسے اسلام کے خلاف ایک حملہ قرار دیا ۔ لیکن عملاً وہ خود ختنہ پر پابندی لگا رہے ہیں۔ لیکن ان کے اس فیصلہ پر کوئی ہنگامہ نہیں کرتا کیوں کہ یہ سب کچھ فلاح اور قوم کے نام پر کیا جا رہا ہے۔
جرمن والے جو کچھ کر رہے تھے وہ بچے کے حقوق اور انسانی حقوق کے نام پر کر رہے تھے لیکن یہ ہندوستانی اسپتال والے جو کچھ کر رہے تھے وہ اسلام اور قوم کے نام پر کر رہے تھے۔ کیونکہ یہ دونوں ادارے فلاحی ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور قوم سے اسی کے نام پر فنڈ بھی جمع کرتے ہیں۔
یہ ناپ تول کا معاملہ ہے
میرے نزدیک یہ معاملہ ناپ تول میں کمی اور زیا دتی کا معاملہ ہے۔ یہ وہی جرم ہے جس میں کبھی قوم شعیب مبتلا  ہوگئی تھی اورقرآن کے تاریخی بیان کے مطابق اسی جرم کی پاداش میں پوری قوم کو تباہ کردیا گیا تھا۔
قرآن کا تاریخی بیان اس سلسلے میں ملاحظہ فرمائیں: " ائے برادران قوم ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھا ٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔" {11: 85}
"انھوں نے جواب دیا کہ اے شعیب کیا تمہاری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دا دا کرتے آئے ہیں یا یہ کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑ دیں؟ بس تو ہی تو ایک عالی ظرف اور راست باز آدمی رہ گیا ہے؟"  {11: 87}
"آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیب اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس حرکت پڑے رہ گئے۔ گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے۔ سنو، پھٹکارہےمدین کوجس طرح پھٹکار ہوئی تھی ثمودکو۔" {11: 94-95}
ناپ تول میں کمی اور زیادتی کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی آدمی ترازو سے کوئی چیز تولے۔ اس آیت کا استنباط ہر اس معاملہ پر ہوگا جس میں آدمی اپنے فائدہ کے لئے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کمی اور زیادتی کرتا رہے۔
"پھٹکار ہے مدین کوجس طرح پھٹکار ہوئی تھی ثمود کو۔" یہ بہت سخت جملہ ہے۔ میں اتنا سخت بیان نہیں دوں گا کیونکہ اس کاحق صرف خدا وند کو ہے اور ہمارے لئے ایسا کرنا گویا ایک ایسے میدان میں قدم رکھنا ہے جو انسان کا میدان نہیں۔ البتہ میں وہ بات ضرور کہوں گا جو حضرت شعیب نے اپنی قوم سے کہا تھا:
"ائے برادران قوم ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھا ٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔" {11: 85}

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں