سوموار، 22 اکتوبر، 2012

Mr. Assad Your wisdom is on test


مسٹر اسد یہ آپ کی حکمرانی کا امتحان نہیں ہے یہ آپ کی دانائی کا امتحان ہے
محمد آصف ریاض

مارچ 2011 کو سیریا میں اسد کی شاہی حکومت کے خلاف عوام نے صدائےاحتجاج بلند کیا۔ اسد کی علوی حکومت نے یہ سوچ کر کہ احتجاج کارسنی ہیں ان پر بمباری شروع کردی اور یہ بھول گئے کہ سیریا کی 74 فیصد آبادی سنیوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ شیعہ {علوی، اسماعیلی اور فاطمی سمیت} محض 13 فیصد ہیں۔

Sunni account for 74% of the population, while 13% are Shia (Alawite, Twelvers, and Ismailis combined), 10% Christian۔

بشر الاسد نے سنیوں کی اتنی بڑی آبادی کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ انھوں نے ان کے احتجاج کا جواب گولی اور بارود سے دیا۔ ان کے اس رویہ سے لوگوں کا غصہ بھڑک اٹھا۔

کہا جا تا ہےاسد نے ظلم کی یہ روش اپنے باپ سے سیکھی ہے کیوںکہ 1976 میں جب ان کے باپ کے خلاف اخوانیوں نےاحتجاج کیا تھا تواسد کے باپ حافظ الاسد نے بم اور بارود کا نشانہ بنا کر 25 ہزار احتجاج کاروں کوقتل کرا دیا تھا۔ اسد نے بھی یہی کیا۔ وہ مارج 2011 سے اب تک 19 ماہ میں 32000 لوگوں کو قتل کرا چکے ہیں۔

اسد یہ بھول گئے ہیں کہ ان کے باپ کا زمانہ کچھ اور تھا اور آج کا زمانہ کچھ اور ہے۔ وہ 1976 کا معاملہ تھا اور یہ 2012 کا معاملہ ہے۔ اس وقت یہی کافی تھاکہ ملک کے نام کے ساتھ { الجمہوریہ العربیہ السوریہ} کا اضافہ کردیا جائے۔ لیکن یہ 2012 ہے اب صرف جمہوری نام سے کام نہیں چلے گا اب لوگ جمہوریت کو عملاً نافذ ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

مصر میں جمہوریت آچکی ہے۔ تونیشیا میں جمہوری نظام قائم ہوچکا ہے۔ لیبیا کے قضافی جا چکے ہیں، یمن میں صالح دور کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ ایسے میں دانائی یہ تھی کہ اسد دیوار پر لکھی تحریر کو پڑھتے اور بم بارود استعمال کرنے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرتے۔ وہ ملک میں جمہوری نظام کا راستہ ہموار کرتے۔ وہ اپنے آپ کو پچھلی سیٹ پر بٹھانے کے لئے راضا مند کرتے۔ لیکن کہا جا تا ہےکہ جب اللہ کسی کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس کی عقل چھین لیتا ہے۔ اور یہی اسد کے ساتھ بھی ہوا۔

جنگ پر جنگ کا اضافہ
بجائے اس کے کہ اسد بات چیت کے ذریعہ معاملات کو سلجھاتے انھوں نے شیطان کے اشارے پر ایک اور نظریہ گڑھ لیا۔ وہ نظریہ ہے جنگ پر جنگ کا نظریہ۔

شیطان نےاسد کو یہ سمجھا یا کہ اگر وہ جنگ پر جنگ چھیڑ دیں گے تو اپنی حکومت بچانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ان کی ایجنسی نے لبنان میں جنگ کی آگ بھڑکادی۔ابھی یہ آگ ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسد نے اردن میں میزائل داغ دیا۔ ابھی وہ آگ پوری طرح ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ انھوں نے اپنے سب سے بڑے اور سب سے مضبوط پڑوسی ترکی پرحملہ بول دیا۔

جنگ پر جنگ بھڑکا نا اسد کے نزدیک ایک خوبصورت نظریہ ہوسکتا ہے لیکن یہ کوئی خوبصورت نظریہ نہیں ہے۔ یہ عذاب پر عذاب کو بڑھاناہے۔ یہ نادانی کے اوپر مزید نادانی کا بوجھ ڈالنا ہے۔

اسد کی واپسی ممکن نہیں
اسد اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لبنانی حزب اللہ،ایران اورعراق کی مالکی حکومت اور روس کی مدد سے اپنی حکومت کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو وہ ایک بار پھر نادانی کر رہے ہیں۔ روس اگر ان سے یہ کہتا ہے کہ جمے رہو توانھیں چاہئے کہ وہ روس سے پوچھیں کہ تم افغانستان میں کیوں نہیں جمے رہے اور کیوں اپنے ملک کو تیرہ ٹکڑے میں تقسیم کرنے پر رضا مند کر لیا۔ اور اگر امریکہ ان سے کہتا ہے کہ جمے رہو تو اسد کو چاہئے کہ وہ امریکہ سے پوچھیں کہ تم عراق سے کیوں بھاگ کھڑے ہوئے اور افغانستان سے بھاگ کھڑے ہونے کے لئے کیوں پر تول رہے ہو۔

رہی بات ایران کی تو ایران خود معاشی اور بے روزگاری کے پہاڑ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ عالمی پابندیوں کی وجہ سے اسے ہر تین ماہ پر پانچ بلین پونڈ کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایران کبھی تیل کا نمبر ون ایکسپورٹر تھا اور اب اس کا شمارتیل ایکسپورٹ کرنے والے 20 بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔

Iran was once the number-one oil exporter in the world. Today, as a consequence of sanctions, it barely makes it into the list of the top 20 oil-exporting countries. The boycott of Iranian oil from the EU this summer came as a particularly hard blow as this alone is costing Iran at least 5 billion pounds in lost revenue every three months. Indeed, Iran is suffering from an increasingly difficult situation with its oil export figures at their lowest levels in more than 23 years. Export figures show a cut of some 1 million barrels a day

تو جو خود کمزور ہیں وہ دوسروں کی مدد کس طرح کرسکتے ہیں۔ مدد مانگنے والے بھی کمزور جن سے مدد مانگی گئی وہ بھی کمزور۔
اور یہی حال حزب اللہ کا ہے۔ جزب اللہ پر ہر وقت اسرائیل کی تلوار لٹکی رہتی ہے اوروہ تمام لبنیانیوں کے جذبات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ رہی بات مالکی کی تو مالکی ایک کمزور لیڈر ہیں اور اپنی حکومت بچانے کے لئے وہ مستقل کسی سہارےکی تلاش میں ہیں۔ مالکی سنیوں اور کردوں کی نمائندگی نہیں کرتے اور بہت سی شیعہ جماعتیں بھی انھیں پسند نہِں کرتیں۔

حکمراں کی ذمہ داری
کسی حکمراں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی رعایاکو تحفظ فراہم کرے ۔ وہ ان کے لئے کھانا پانی اور دوائوں کا انتظام کرے۔ وہ اپنے شہریوں کےلئے تعلیم کا بندو بست کرے۔

اس کے برعکس اسد کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بہنوئی اور وزیر دفاع سمیت دوسرے کئی بڑے لیڈران کو کھو چکے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق خودان کے بھائی زخمی ہوکر روس میں زیر علاج ہیں۔ اسد کی بہن بھاگ کر دبئی میں پناہ لے چکی ہیں۔ عام شہریوں کا حال یہ ہے کہ ملک کے 5 لاکھ سے زیادہ شہری دوسرے پڑوسی ممالک میں رفیوجی کیمپ میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو حکمراں خود اپنے گھر والوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا وہ ملک کو کس طرح بچا سکتا ہے۔ خود اسد کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا زیادہ تر وقت بنکر میں گزارتے ہیں، تو جو حکمراں خود اپنی جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر رہا ہو وہ اپنے ملک کو کس طرح بچا سکتاہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جس حکمراں کو خود اس کے اپنے لوگ ٹھکرادیں اسے کہیں بھی عزت نہیں مل سکتی۔

آخری موقع
مسٹر اسد کے لئے اب آخری وقت آگیا ہے کہ وہ علاقائی اور پڑوسی ممالک کو ایک ساتھ بٹھا کر ان سے کہیں کہ آپ حزب اختلاف کو متحد کریں اور میں انھیں حکومت کی باگ دور سونپنے کے لئے تیار ہوں۔ جو لوگ اسد کو یہ سمجھا رہے ہیں کہ جمے رہو وہ درحقیقت شیطان ہیں اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اور شیطان آخری وقت میں انسان کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ قرآن میں شیطان کی روش کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

"وہ ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور انھیں امیدیں دلا تا ہے، مگر شیطان کے سارے وعدے بجز بفریب کے اور کچھ بھی نہیں" {4:120 }

اسد کے لئے کرنے کا کام
اسد خدا کے یہاں سے حکمرانی لے کر نہیں آئے تھے۔ ان کی پیدائش بھی ایک عام بچے کی طرح ہوئی تھی۔ جو کچھ انھیں ملا اس دنیا میں ملا۔ اس دنیا میں کوئی چیز کسی شخص کو ابدی طور پر نہیں ملتی۔ اگر شک ہو تو دنیا کی تا ریخ پڑھ لیں۔

خدا کا کریشن پلان
خدانے یہ دنیا اس لئے نہیں بنائی ہے کہ وہ کسی کو ابدی سلطنت د یدے اور کسی کو ابد تک کے لئے محروم کردے۔ خدا کا کریشن پلان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو مال دے کر اور کبھی ان سے مال چھیں کر آزمالے کہ ان میں کون خدا کی ابدی جنت میں بسائے جانے کا استحقاق رکھتا ہے۔ یہاں انسان کے لئے نہ پانا ہے اور نہ کچھ کھونا۔ یہاں صرف امتحان ہے،امتحان۔

اگر ایک شخص اس دنیا میں محروم ہے تو وہ اپنی محرومی کے ساتھ آزمایا جا رہا ہے اور اگر کوئی شخص حکومت اور سلطنت والا ہے تو وہ اپنی حکومت اور سلطنت کے ساتھ آزمایا جارہا ہے۔اسد ابھی تک حکومت کے ساتھ آزمائے جا رہے تھے اوراب خدا کا فیصلہ ہے کہ انھیں بغیر حکومت کے آزمایا جائے۔

حضرت آسیہ کا ماڈل
ایسی حالت میں اسد کو وہ کردار پیش کرنا ہے جو فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے پیش کیا تھا۔ جب فرعون نے انھیں خدا پر ایمان لانے کے جرم میں محل سے نکال دیا تو اس خدا ترس خاتون نے نہایت بے بسی کے عالم میں اپنے رب کو پکارا۔ میرے رب تیرے دشمنوں نے مجھے میرے محل سے نکال دیا آپ اپنے پڑوس میں میرے لئے ایک محل بنا دیجئے خدا نے فرمایا تیری دعا سنی گئی،اے آسیہ۔ چنانچہ قرآن نے اس دعا کو اس طرح نقل کیا:

"اور اہل ایمان کے معاملہ میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اس نے دعا کی " اے میرے رب میرے لئے اپنے یہاں جنت میں ایک گھر بنا دیجئے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لیجئے اور ظالم قوم سے مجھکو نجات دیجئے"{66:11}

اسی طرح مسٹر اسد کو حضرت ایوب کا کردار پیش کرنا ہے۔ کہ جب ان سے ان کی پوری دنیا چھین لی گئی یہاں تک کہ ان سے ان کا جسم بھی چھین لیا گیا تو بائبل کے مطابق آپ نے خدا سے کوئی شکایت نہیں کی بلکہ آپ کہا کرتے تھے:

"خدا وند نے دیا تھا خدا وند نے چھین لیا خدا وند کا نام مبارک ہو"

and said: "Naked I came from my mother's womb, and naked I will depart. The LORD gave and the LORD has taken away; may the name of the LORD be praised."{Job-1:21}

حالات و قرائن بتاتے ہیں کہ یہ مسٹر اسد کی حکمرانی کا امتحان نہیں ہے یہ مسٹر اسد کی دانائی کا امتحان ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں