سوموار، 3 ستمبر، 2012

What a rock and what a magnificent building


کیسے کیسے پتھر ہیں اور کیسی کیسی عمارتیں


محمد آصف ریاض
asif343@gmail.com
کل 2 ستمبر2012  فجرکی نماز کے بعد میں آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آسمان کی طرف د یکھتے ہو ئے میں سوچنے لگا کہ خدا نے کتنا بڑا آسمان بنا یا اور اسے کتنا مضبوط بنا یا کہ وہ ٹوٹ کر کسی پر نہیں گرتا۔ اور اگر وہ گر جائے تو خدا کے سوا کوئی دوسرا ہے بھی نہیں جو اسے سنبھال سکے ۔
پھر میں سوچنے لگا کہ اس زمین پر ایک وقت آنے والا ہے جب سب کچھ ٹوٹ پھوٹ  کر بکھر جائے گا، یہاں تک کہ یہ مضبوط آسمان جو ہمارے سر پر نظر آرہا ہے خدا اسے بھی توڑ دے گا۔ وہ اس دنیا کو لپیٹ کر اپنی مخلوق کو ایک اور دنیا میں لے جائے گا جسے آخرت کہتے ہیں۔ یہاں یا تو انسان ابد تک کے لئے آرام میں ہوگا یا بائبل کے لفظوں میں اسے ابد تک کے لئے رونا اور دانت پیسنا ہوگا۔ بائبل میں ہے:" پھر باشاہ نے حکم دیا کے اس کے ہاتھ پائوں باندھو اور اسےدور تاریکی میں ڈال دو،جہاں ابد تک کے لئے رونا اور دانت پیسنا ہوگا"۔
"Then the king told the attendants, 'Tie him hand and foot, and throw him outside, into the darkness, where there will be weeping and gnashing of teeth
Matthew 22-13
اب ذراایک ایسے ریگستان کا تصور کیجئے جہاں ریت کے سوا کچھ بھی نہ ہو اور آپ کو تنہا چھوڑ دیا جائے تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟ وہاں آپ کو ایسی اذیت ہوگی کہ آپ ایسی زندگی پر موت کو ترجیح دیں گے۔
خدا ایک دن آسمان کو توڑ دے گا ۔ وہ راستے سے پہاڑوں کو ہٹا دے گا ۔ وہ سورج چاند ستارے سب کو ختم کر دے گا ، وہ سمندر کی گہرائیوں کو بھر دےگا  اور پہاڑوں کی اونچائیوں کوپست کر دے گا۔ پھر پوری زمین ریگستان کی طرح سپاٹ ہو جائے گی اس وقت آپ اپنی زندگی سے زیادہ موت کو یاد کریں گے۔ کچھ لوگ کہیں گے کاش میں اس دن کو دیکھنے سے پہلے مٹی ہوجا تا ۔ یا لیتنی کنت ترابا۔ قرآن میں ہے:
"وہ آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انھیں میرا رب ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا۔ اور زمین بالکل ہموار صاف میدان کر کے چھوڑے گا۔ جس میں تو نہ کہیں موڑ دیکھے گا اور نہ اونچ نیچ۔ اس روز لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا اور تمام آوازیں رحمان کے آگے دب جائیں گی۔ ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔
(20-105-8) 
خدا نے آسمان کو بنا یا اگر وہ نہ بنا تا تو کوئی دوسرا اسے بنا بھی نہیں پاتا، پھر دوبارہ وہی اس کو توڑے گا اس کے علاوہ کوئی ہے بھی نہیں جو اس کے بنائے ہوئے آسمان کو توڑ دے۔
انسان خدا کو بھول کر خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں گم ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا کی طلب میں لگا رہتا ہے جسے بہر حال ایک دن اسی طرح  ختم ہونا ہے جس طرح خود انسان ختم ہورہا ہے۔ بائبل میں ہے:
" اور جب وہ ہیکل سے نکلا تو اس کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا استاد دیکھ کیسے کیسے پتھر ہیں اور کیسی کیسی عمارتیں تو یسوع نے جواب دیا تو ان عمارتوں کو دیکھتا ہے ۔ سن کوئی پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا جو گرا یا نہ جائے گا"۔
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں