بدھ، 19 ستمبر، 2012

If water stands motionless…


اگر پانی ٹھہر جائے

محمد آصف ریاض
محمد اسد (1900-1992) آسڑیا کے ایک شہر لیوو- }ان دنوں یوکرین کا شہر{ میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
1926 میں برلن کی ایک مسجد میں انھوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کا اصل نام لیوپولڈ ویس (Lepold Weiss  ) تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے اپنا نام اسد رکھا۔ وہ ایک معروف صحافی، مصنف اور سیاح کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔
 وہ جرمن، عربی انگلش سمیت کئی دوسری زبانیں بھی جانتے تھے۔ انھوں نے دنیا کے کئی ممالک کا سفر کیا تھا۔ سعودی عرب میں رہ کر انھوں نے عربی سیکھی تھی۔
محمد اسد مارمدوک پکھتل (7 April 1875 – 19 May 1936) کے بعد قرآن کا انگریزی ترجمہ اور تفسیر لکھنے والے  دوسرے شخص ہیں۔ بقول اسد پکھتل پر انھیں اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ کیوںکہ پکھتل کو عربی زبان سے گہری واقفیت نہیں تھی جبکہ انھوں نے سعودی عرب میں رہ کر عربی زبان سیکھی ہے۔
اسد کی کئی کتابیں بہت مشہور ہیں ۔ مثلاً روڈ ٹو مکہ  اور اسلام ایٹ دی کراس روڈ ۔ ابرو امن اندرابی نے محمد اسد پر ایک کتاب تیار کی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے:
 Muhammad Asad – His contribution to Islamic clearing
اس کتاب میں انھوں نے محمد اسد کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ یہ کہ محمد اسد عرب بدوں کی زندگی سے بہت متاثر تھے۔ ایک بار انھوں نے ایک بوڑھے بدو سے دریافت کیا کہ وہ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ کیوں ہجرت کرتے رہتے ہیں؟ بدو نے جواب دیا :
" جب پانی ٹھہر جاتا ہے تو وہ گدلا ہوجاتا ہے لیکن جب وہ رواں رہتا ہے تو صاف شفاف رہتا ہے۔ اور یہی حالت انسان کی ہے اگر وہ کہیں ٹھہر جائے تو اس کی زندگی ٹھہر جائے گی۔"
مجھے نہیں معلوم کہ مسلسل ہجرت کرنے سے اس بدو کی زندگی میں کتنی تبدیلی واقع ہوئی۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ بہت درست ہے کہ ہجرت میں برکت ہے۔
 جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد اکثر کسی کا یہ شعر سنا یا کرتے تھے:
وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے نکل گیا
عزت اسے ملی جو وطن سے نکل گیا
اصل بات یہ ہے کہ جب آدمی اپنے گھر میں ہوتا ہے تو اس کو سپورٹ کر نے کے لئے اس کے ارد گرد بہت سارے لوگ ہوتے ہیں۔ گھرمیں اس کے سامنے کوئی چیلنج نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے اسے یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کا استعمال کرسکے۔ ایسی صورت میں انسان کی اپنی صلاحیتیں خوابیدہ رہتی ہیں۔ اسے یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو جگا ئے اور اسے کام میں لائے ۔ انسان اپنے گھر میں رہ کر اپنے امکانات کو استعمال نہیں کرپاتا۔
لیکن جب یہی انسان اپنے وطن سے نکل جا تا ہے تو یہاں اسے ہر قدم پرا یک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کوئی شخص اس کی مدد کے لئے نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں انسان کی خوابیدہ صلاحیتیں ایک دم سے جاگ جاتی اٹھتی ہیں۔
اب وہ دوسروں سے زیادہ ایکٹیو ہوجا تا ہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ سوچنے لگتا ہے، وہ دوسروں سے زیادہ کام کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنے کام میں دوسروں سے زیادہ ہوشیاری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مین سے سوپر مین بن جاتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جسے سادہ لفظوں میں ہجرت میں برکت کا نام دیا جا تا ہے۔ 

2 تبصرے:

  1. ڈوب جائے گی یہ کشتی گر اسے ساحل ملا
    زندگی کو ہر قدم پر ایک طوفاں چاہئے
    ﴾اقبال﴿

    جواب دیںحذف کریں