سوموار، 12 نومبر، 2012

A story of two boys

دو بچوں کی کہانی

محمد آصف ریاض
کل 11  اکتوبر 2012 کو میں دہلی جامع مسجد گیا ہوا تھا۔ اس سفر میں میرا چار سالہ بیٹا " محمد یحی"  بھی میرے ساتھ تھا۔
ہم لوگ جامع مسجد کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن مسجد کا راستہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ میں نے نزدیک کے ایک دکاندار سے مسجد کا راستہ پوچھا۔ دکاندار ابھی کچھ بولتا کہ اس سے پہلے وہاں موجود ایک لڑکا بول پڑا۔ "مسجد جائیے گا ؟ چلئے میں آپ کو وہاں پہنچا تا ہوں ۔ میں بھی اسی طرف جا رہا ہے۔"
اس لڑکے کی عمرتقریباً چھ سال کی رہی ہوگی۔ وہ اسٹریٹ بوائے معلوم پڑ رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ بیٹے آپ کیا کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا میں یہاں "نگ" کا کام کرتا ہوں اور ساتھ میں پڑھائی بھی کرتا ہوں۔ وہ ترکمان گیٹ سلم ایریا کا رہنے والا تھا۔ وہ کرکرے ٹائپ کی کوئی چیز کھا رہا تھا اور بہت کنفی ڈنس کے ساتھ ہمارے آگے آگے چل رہا تھا۔
لیکن میرا بیٹا اس کے ساتھ چلنے کے لئے راضی نہ تھا۔ وہ بار بار میرے پائوں پکڑ کر مجھے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ احتجاً باربار پیچھے رک جاتا تھا۔ میں نے کہا آجائو بیٹا۔ جواب میں  اس بچے کی طرف انگلی کا اشارہ کر کے وہ بولنے لگا، وہ، وہ! یعنی اس کے ساتھ میں نہیں جائوں گا۔ اب اس بچے نے کہا کہ آجائو، بابو، آجائو، یہ کہتے ہوئے اس نے میرے بیٹے کو کرکرے کا ایک ٹکڑا دیا۔ میرے بیٹے نے اسے لے لیا اور پھر اس کے ساتھ چلنے پر کسی طرح راضی ہوا۔
اس اسٹریٹ بوائے کہ اندر مجھے شیئرنگ کیپاسٹی نظر آئی۔ وہ بہادر اور فیئر لیس تھا۔ اس کے اندر ایجسٹ کرنے کی پوری صلاحیت موجود تھی۔ مجھے لگا کہ وہ دنیا کے کسی بھی نقشے میں اپنے آپ کو ایجسٹ کر سکتا ہے۔
اس کے بر عکس مجھے لگتا ہے کہ شاید میرا بیٹا ایسا نہ کرسکے۔ وہ بڑا ہوکر شاید اپنی دنیا الگ بنائے۔ شاید وہ ہر دوسرے کی بنائی ہوئی دنیا میں اپنے آپ کو فٹ نہ کر سکے۔ وہ اپنی زندگی کا نقشہ خود تیار کرے۔ اور اپنے انداز میں اپنی زندگی گزارے۔
ایک لحاظ سے دیکھئے تووہ اسٹریٹ بوائےاچھا تھا، دوسرے لحاظ سے دیکھئے تومیرابیٹا۔ ایک ٹرینڈ سیٹر(Trend setter) تھا تو دوسرا ٹرینڈ فولورTrend follower) (
 حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر آدمی کے اندر کوئی نہ کوئی یونک صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ خواہ وہ اسٹریٹ پر رہنے والا ہو خواہ وہ محل میں رہے۔   

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں