جمعہ, نومبر 23, 2012

Seeking pure faith


دین حق کی دریافت

محمد آصف ریاض
19نومبر 2012 کو دہلی کے اوکھلا میں میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔ وہ ہر بات میں " یاعلی مولاعلی " کہہ رہے تھے۔ میں نے انھیں بتا یا کہ قرآن میں مولی صرف خدا کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً سورہ الانفال کی ایک آیت ہے: "اوراگر وہ اعراض کریں تو جان لو کہ " اللہ تمہارا مولی ہے" اورکیا ہی اچھا مولی ہے اور کیا ہی اچھا مددگار"  (8:40)
میری اس بات پروہ کہنے لگےکہ ایران میں تو لوگ اسی طرح بولتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اسلام وہ ہے جو قرآن سے درآمد کیا جائے نہ کہ ایران  اور عراق سے۔ میرے اس جواب پر وہ بہت زیادہ سوچنےلگے۔
اصل بات یہ ہے کہ اسلام لوگوں کی اپنی ڈسکوری نہیں ہے۔ لوگ جس اسلام کو جانتے ہیں وہ انھیں وراثت میں ملی ہے۔ چناچہ اس کے ساتھ وراثتی گندگیاں بھی درآئیں ہیں۔
ہر انسان پر لازم ہے کہ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچے تودین کوقرآن کی روشنی میں از سرے نودریافت کرے۔ وہ دین کے معاملہ میں قرآن کو اپنا معیار بنائے۔ وہ قرآن کی کسوٹی پر رکھ کر اپنے دین و ایمان کا محاسبہ کرے۔
قرآن کا ایک نام فرقان بھی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: اور اس نے وہ کسوٹی {فرقان} اتاری ہے جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے۔ (3:4)
فرقان کے معنی ہوتا ہے فرق کرنے والا۔ یعنی ایک چیز کو چھانٹ کر دوسری چیز سےالگ کر نے والا۔ اگر آدمی قرآن کی تلاوت سنجیدگی سے کرے تو وہ پائے گا کہ قرآن " اسلام اورغیر اسلام " میں فرق کرنا سکھا رہا ہے۔ قرآن دانے کو بھونس سے  الگ کردیتا ہے اور جھاگ کو پانی سے۔ اوربلا شبہ بھونس اس لئے ہے کہ اسے جلا دیا جائے اور جھاگ اس لئے ہے کہ اسے ہوائیں اٹھا کر لے جائیں۔ قرآن میں اس بات کوان الفاظ میں سمجھا یا گیا ہے۔
اور اعلان کر دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا اور باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔ (17: 81)
قرآن کو حق کہا گیاہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: "اللہ نے ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی۔" (2:176)
جب کوئی مچھورا اپنی جال پانی سے نکالتا ہے تو وہ مچھلی کو چن کر الگ کر لیتا ہے اوردوسرے کیڑے مکوڑوں کو الگ پھینک دیتا ہے۔
اسی طرح قران انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ قران برائی کو بھلائی سے چھانٹ کر الگ کردیتا ہے۔ قرآن انسان کومچھلی اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان فرق کرنا سکھاتا ہے۔ وہ پانی اور جھاگ کو الگ کرتا ہے۔ وہ چھوٹ کو سچ سے الگ کر تاہے۔ وہ دانےاور بھونس کو چھانٹتاہے۔
ہرایمان والے پر فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی کوقران کے سانچے میں ڈھالے۔ وہ قرآن کی روشنی میں وراثتی گندگیوں کو اپنی زندگی سے چھانٹ چھانٹ کر الگ کرے۔
وہ صرف ایک اللہ کو اپنا مولی بنائے۔ وہ شرک کی اس بیماری میں مبتلا نہ ہو جس میں یہود و نصاری مبتلا ہیں۔
سچے دین کی دریافت کی ذمہ داری ہر انسان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ ہرانسان کو اپنی موت خود مرنا ہے کوئی دوسرا اس کے لئے نہیں مرے گا۔ اسی طرح ہر انسان کو اپنے ایمان کی حفاظت خود کرنی ہے، کوئی دوسرا اس کے ایمان کی حفاظت نہیں کر سکتا۔

Everybody has to do his own believing,because everybody has to die his own dying
ہر انسان کو خدا وند کے نزدیک اپنے اعمال کے لئے خود جوابدہ ہونا ہے کوئی دوسرا اس کے لئے جواب دہ نہیں ہوگا۔ نہ اس کا باپ نہ اس کا کنبہ اورنہ اس کا قبیلہ۔ ہر انسان پر فرض ہے وہ حق کے معاملہ میں کسی کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرے۔ وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ کر دین کو دریافت کرے۔ وہ ہرقسم کی وراثتی گندگیوں کو اپنی زندگی سے چن چن کر نکال دے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں