جمعرات, اگست 30, 2012

God, Narendra Modi and Muslims


خدا ،  نریندر مودی اور مسلمان

محمد آصف ریاض

 نریندرمودی گجرات کے وزیراعلی ہیں۔ وہ 7 اکتوبر   2001سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ مودی 2002 میں ہونے والے گجرات فساد کے لئے ملک بھر میں بدنام ہیں۔ گجرات میں اسی سال سال 2012 میں اسمبلی انتخاب ہونے کو ہے۔ اس انتخاب سے قبل یہاں اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی ہوئی ہے۔ اس نئی حد بندی میں 9 سیٹیں مسلم اکثریت والی نکل کر آئی ہیں۔ ان نو سیٹوں کے ساتھ گجرات میں مسلم اکثریت والے اسمبلی حلقوں کی تعداد 19 سے بڑھ کر 28 ہوگئی ہے۔ مثلاً احمد آباد کے کھادیا اسمبلی  حلقہ میں نئی حد بندی کے تحت جمال پورکو شامل کردیا گیا ہے اور جمال پور کی شمیو لیت کی وجہ سے یہ حلقہ مسلم اکثریت والا حلقہ ہوگیا ہے ۔ اس نئی حد بندی کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا  ہے کہ کھادیا کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار کوئی مسلمان ایم ایل ہو۔  

Ahmedabad’s Khadia is traditionally a BJP seat. One could not imagine that a Muslim can be the MLA of Khadia. But thanks to delimitation, Khadia is most probably going to have a Muslim MLA for the first time in its electoral history. That is because the Muslim dominated areas of Jamalpur constituency have been merged with Khadia in the final delimitation order. The seat, now Khadia-Jamalpur has a majority of Muslim voters.

اس نئی حد بندی کا کام مسلمانوں کے مطالبہ پر انجام نہیں پا یا ہے۔ بلکہ یہ کام انتخابی ضرورت کے تحت انجام پا یا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کا م برارہ راست خداکی نگرنی میں ہوا ہے۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ جب کوئی قوم سر کش ہوجا تی ہے تو وہ اس کو ایک  دوسری قوم سے بدل دیتا ہے تاکہ زمین پر توازن قائم رہے۔ اگر خدا ایسا نہ کرے تو زمین فساد سے بھر جائے۔ اور زمین پر انسان کا جینا محال ہوجائے۔ خدا بحرانی صورت حال میں آسمان سے اتر کر براہ راست مداخلت کرتا ہے۔ خدا کے اس قانون کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

 " اگر اللہ تعالی بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہیں کرتا تو زمین میں فساد پھیل جا تا ۔ لیکن اللہ تعالی زمین والوں پر فضل کرنے والا ہے۔"2-251}  (

خدا اپنے قانون کے مطابق زمین پر تبدیلی لاتا رہتا ہے، وہ ایک کو دوسرے سے بدلتا رہتا ہے  تاکہ زمین پر عدل، انصاف  اور توازن کا ماحول باقی رہے ۔ با شعور قومیں اس تبد یلی کا فائدہ اٹھا کر اپنے مستقبل کو بہتر بناتی ہیں اور نادان قومیں اس موقع کو گنوا کر روتی ہیں اور ماتم کرتی ہیں۔

  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں