سوموار، 27 اگست، 2012

Laziness_ a key to poverty

کا ہلی فقیری کی کنجی ہے

محمد آصف ریاض
عربی کا ایک قول ہے __ الکسل مفتاح الفقر__ کاہلی فقیری کی کنجی ہے۔ اس قول کو پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو اس قول کی تفسیر معلوم پڑتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ اسی قول کی تائید کے لئے پیدا کئے گئے  ہیں۔
 
بلاشبہ فقیری ایک بری چیز ہے ۔لیکن یہ بری چیزکسی انسان  پر تھوپی نہیں جاتی بلکہ انسان خود اس کا خریدار بنتا ہے۔
ہر فقیرکا معاملہ کہیں نہ کہیں کسل_ کاہلی کا معاملہ ہوتا ہے۔
 
پٹنہ کےایک گائوں میں ایک شخص رہا کرتا تھا، جس کا نام علا الدین تھا ۔
علا الدین کو وراثت میں اچھی خاصی زمین ملی تھی لیکن اس نے اس زمین کا استعمال اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے نہیں کیا ۔ وہ اس راز سے واقف نہ ہوسکا کہ زمین کوڑنے جوتنے اور کاشت کر نے کے لئے ہوتی ہے،وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ آپ اسے بیچ کر کے کھاجا ئیں۔
علا الدین نے زمین کو کوڑنے جوتنے کے بجائے فروخت کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ اس کی زندگی عسرت و فقر کی علامت بن گئی ۔
 
علا الدین کا معاملہ کسل _ کاہلی کا معاملہ تھا ۔ کاہلی نے اسے اس بات پر مجبور کیا کہ وہ عسرت و فقر کی زندگی گزار کر مر جائے۔
 
اسی طرح دہلی کے اوکھلا  میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی ۔ وہ گفتار کے غازی تھے لیکن عملاً کاہل تھے ۔ وہ اپنی کاہلی کو گفتار کی خوبصورت چادر میں سمیٹے رہتے تھے تاکہ ان پر کاہلی کا الزام نہ آئے۔  لیکن ایسا کر کے وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے تھے ۔ آخر کار کاہلی نےان کی زندگی تباہ کر دی۔
 
آسمان سے پانی برستا ہے تاکہ کسان اپنے گھروں سے نکل کر کھیتوں میں آجائیں ۔ وہ اسے کوڑیں ، جوتیں اور اسے تیار کر کے اس میں بیج گرائیں تاکہ وہ اس میں اپنے لئے اناج پیدا کر سکیں ۔ فصل وہی کاٹتا ہے جو کھیت کو جوتتا کوڑتا اور اس میں بیج گرا تا ہے، جو بیج نہیں گرا تا وہ فصل بھی نہیں کاٹتا۔
 
بنجامن فرنکلن کا قول ہے __" کاہلی اس قدر سست رفتاری میں چلتی ہے کہ بہت جلد غربت اس پر غالب آجاتی ہے۔"
 
{Laziness travels so slowly that poverty soon overtakes him}
Benjamin Franklin
 
 
آدمی کو چاہئے کہ وہ سب کچھ کرے، لیکن کاہلی نہ کرے۔ وہ اپنے اوپر فقر کا دروازہ نہ کھولے۔ وہ اس دروازہ کی کنجی__ مفتاح الا فقر _ کو کسی ایسے سمندر میں غرق کردے جس کا کوئی کنارہ نہ ہو۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں