بدھ, جولائی 8, 2015

کوئی آپ کا چراغ نہیں بجھا تا چراغ کے اندر تیل کی کمی اس کو بجھا دیتی ہے



کوئی آپ کا چراغ  نہیں بجھا تا چراغ کے اندر تیل کی کمی اس کو بجھا دیتی ہے

محمد آصف ریاض
علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی نے 26 اپریل 2015 کوایم بی بی ایس کا انٹرینس ٹسٹ لیا۔ لیکن جب ٹسٹ کا ریزلٹ آیا تو اسے 28 مئی کو کینسل کردیا گیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ کیرالہ کے کوزی کوڈ میں اے ایم یو کا جو سینٹر تھا وہاں سے حیرت انگیز طور پرایک ہی سینٹر(فاروق کالج ) سے 50 طلبا کامیاب ہو گئے۔ ان طلبا میں زیادہ ترمسلمان تھے۔
ٹسٹ کو رد کئے جانے پرکیرالہ کے لیڈران نے اپنی ناراضگی جتائی اورکہا کہ اگر کہیں کوئی بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کا ثبوت پیش کیا جائے۔ صرف اس جواز پرکہ ایک ہی سینٹرسے پچاس طلبا کامیاب ہوگئے ٹیسٹ کے ریزلٹ کو کینسل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو کیرالہ کے بچوں کی صلاحیت کا مذاق ہے۔ یہ ملیالی طلباکی کی بے عزتی ہے۔
انڈین یونین مسلم لیگ کے رکن پارلیمنٹ پی وی عبد الوھاب نے اس معاملے پروزیر برائے فروغ انسانی وسائل محترمہ اسمرتی ایرانی کو ایک خط لکھا اوراپنی نارضگی کا اظہارکرتے ہوئے یونیورسٹی کے فیصلے کو ملیالی طلبا کی بے عزتی سے تعبیر کیا۔
IUML MP P V Abdul Wahab, also expressed its dissent over the cancellation of examination citing it was like humiliating the students of Kerala
7 جولائی کو دی ہندو میں یہ رپورٹ شائع ہوئی کہ اے ایم یو انتظامیہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ ٹیسٹ کینسل نہیں ہوگا کیونکہ اس کی کوئی ٹھوس وجہ  نہیں پائی گئی ہے۔ ایک پریس رلیز میں اے ایم یو نے بتایا کہ علی گڑھ مسلم یونیور سٹی کی ایکزکیوٹیو کونسل نے بہت غوروخوض کے بعد متفقہ طور پرانکوائری کمیٹی کی اس رپورٹ کو قبول کرلیا ہے جسے عزت مآب جسٹس امتیازمرتضیٰ کی قیادت میں تیارکیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں واضح طورپربتایا گیا ہے کہ کوزی کوڈ سینٹر میں کہیں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی تھی۔   
In a press release, the AMU said, “The Executive Council of Aligarh Muslim University, after in depth deliberations, has unanimously accepted the report submitted by the Enquiry Committee headed by Hon’ble Mr. Justice Imtiyaz Murtaza, former Judge, Allahabad High Court, which clearly stated that there was no foul play in the conduct of the affairs that happened at the Kozhikode Centre Kerala in the MBBS/BDS Entrance Test 2015-16 held on April 26, 2015. It also held that the procedures followed were in conformity with approved norms.”۔
ایک اور حقیقت کا انکشاف
مجھے اس معاملہ میں تجسس تھا ۔ میں نے دہلی میں میڈیکل کے چند طلبا سے جانکاری طلب کی تو انھوں نے ایک اور ہی کہانی کا خلاصہ پیش کیا۔
مسٹر رہبر ریاض جو خود میڈیکل کی تیاری کرتے ہیں ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ بات یہ ہے کہ وہ طلبا جو کوزی کوڈ کے سینٹرمیں اپیئر ہوئے تھے وہی طلبا دوسری جگہوں پر بھی امتحان میں بیٹھے تھے اور ان میں سے کئی دوسری جگہوں پر بھی کامیاب ہوگئے تھے۔ گویا انھوں نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوالیا تھا اور اسی لئے حکومت و یونیور سٹی انتظامیہ کے پاس کوئی معقول وجہ نہ رہی کہ اس امتحان کو کینسل کیا جائے۔
یہ سن کر مجھے کسی مفکر کا یہ قول یاد آگیا : " کوئی شخص کسی کا چراغ نہیں بجھاتا ؛ یہ تیل کی کمی ہے جو کسی کے چراغ کو بجھا دیتی ہے۔"

کوزی کوڈ کے ہونیہار طلبا نے اپنے تیل کو مرنے نہیں دیا چنانچہ کوئی ان کے چراغ کو بجھا نے والا بھی نہ بن سکا ۔ اس معاملہ میں ملک کے تمام طلبا کے لئے سبق ہے، خاص طور سے ان اقلیتی طلبا کے لئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کا تعصب انھیں آگے نہیں بڑھنے د یتا۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ کسی قسم کے تعصب کی پرواہ کئے بغیر آپ میدان عمل میں کود پڑیں، آپ اپنے چراغ کے تیل کو بڑھاتے رہیں؛ پھرکوئی آندھی آپ کے چراغ کو بجھانے والی نہیں ہوگی۔

1 تبصرہ:

  1. http://asiatimes.co.in/urdu/Asia-Times-Special/2015/01/4214_
    گنیش نادر کی خصوصی رپورٹ میناکشی پورم : (ایشیا ٹائمز) تمل ناڈو کا میناکشی پورم ایک بار پھر میڈیا میں موضو ع بحث ہے،تمل ناڈو کے ترو نیلو یلی ضلع کے تینکاسی کے قریب واقع اس گاوں کی لگ بھگ آدھی آبادی نے 1981 میں اسلام کے آغوش میں پناہ لے لیا تھا ،یہ پوری آبادی دلت کسانوں پر مشتمل تھی، آج سے کوئی 33 برس قبل سرخیوں میں آنے والے اس گاوں کو ایک بار پھر ریڈیف ڈاٹ کام کے نمائندے گنیش نادر نے منظر عام پر لا دیا ہے ۔ - See more at: http://asiatimes.co.in/urdu/Asia-Times-Special/2015/01/4214_#sthash.Bu0UgaC7.dpuf

    جواب دیںحذف کریں