ہفتہ, جولائی 11, 2015

خدایا، تو میری قوم کوعلم و دانش سے خالی مت چھوڑ


خدایا، تو میری قوم کوعلم و دانش سے خالی مت چھوڑ

محمد آصف ریاض

البانیہ یوروپ کا ایک ملک ہے۔ یہ یوروپ کے نقشے پرجنوب مشرق میں واقع ہے۔ اس خطہ کوبلقان بھی کہتے ہیں۔ البانیہ کے شمال مغرب میں مانٹینیگرو، شمال مشرق میں کوسوو،جبکہ مشرق میں مقدونیہ اوراس کے جنوب مغرب میں یونان واقع ہے۔


البانیہ میںsalve سلیودور(548) سے پہلے تک رومن ایمپائرکا قبضہ تھا، پھراس پر9 ویں صدی میں بلغاریائی ایمپائرکا قبضہ ہوا۔ 13 ویں صدی میں رومن ایمپائراوربلغاریائی ایمپائرکی کمزوری کےساتھ ہی اس کے کچھ علاقوں پرسربوں نے قبضہ جما لیا۔ 1415 میں عثمانیوں نے اس پرحملہ کیا اورکئی سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد 1431 میں اس پرقابض ہونے میں کامیاب ہوگئے۔


کہا جا سکتا ہے کہ البانیہ 15ویں صدی میں اسلام سے متعارف ہوا لیکن اسے اسلام میں داخل ہونے میں 200 سال لگ گئے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ ترکوں کے تئیں ان کی نفرت تھی۔ ترک ایک فاتح قوم کی طرح اس میں داخل ہوئے تھے جس کی وجہ سے البانیائی قوم اورترک قوم کے درمیان ایک نفسیاتی خلا پیدا ہوگیا تھا۔ اس خلا کو پر کرنے میں دو سو سال لگے۔ ترکوں نے دوسوسال کی کوشش اورحسن سلوک سے اس خلا کو پاٹنے میں کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے مفتوح قوم کے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا۔ ان کی اخلاقیات اوربردباری کو دیکھ کرالبانیائی قوم پگھل گئی اوردوسوسال کے بعد 17 ویں صدی کی انتہا میں محض 50 سال کے اندراندر پوری قوم اسلام میں داخل ہوگئی۔


دی اسپریڈ آف اسلام ان دی ورلڈ (The Spread of Islam in the World ) کے مصنف پروفیسرتھامس آرنالڈ نےاسے تاریخ کا ایک حیران کن واقعہ قرار دیا ہے۔ ایک قوم جودوسو سال تک اپنی تہذیب اوراپنے مذہب کو اپنے گلے میں باندھے رہی، اچانک محض پچاس سال کی مدت میں حیرت انگیز طورپراسلام میں کس طرح داخل ہوگئی؟ پروفیسرآرنالڈ نے لکھا ہے کہ جہاں ترکوں کا ہتھیارہارگیا وہاں ان کی اعلیٰ قدریں اوراعلیٰ اخلاقیات جیت گئیں۔ البانیہ آج ایک مسلم ملک ہے۔ اس کی آبادی 30 لالکھ ہےاوروہ تیزرفتارترقی کی راہ پر گامزن ہے۔


ترکی کےموجودہ صدررجب طیب اردوغان 13 مئی 2015 کوالبانیہ کے سرکاری دورے پرپہنچے۔ یہاں انھوں نے دارالحکومت 'تیرانہ' کے نزدیک 'پریزا' گائوں میں ترک طرزتعمیر کی ایک مسجد کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پرایک البانیائی لڑکی نے معروف ترک شاعر Arif Nihat Asya) ) کی ایک دعایہ نظم پڑھی۔ اس نظم کوسن کررجب طیب اردوغان اوران کی اہلیہ روپڑیں۔ وہ نظم یہ ہے۔


"خدایا، چیخ و پکارکی وجہ سے ہماری آواز بیٹھ گئی ہے، توہماری مسجدوں کے میناروں کواذان کی صدائوں سے خالی مت چھوڑ


خدایا، ہمارے درمیان ایسے لوگ اٹھا جوشہد پیدا کریں، تو ہمیں شہد کی مکھیوں سے خالی مت چھوڑ

خدایا، ہماری مسجدوں کے مینارے قمقموں سے خالی ہیں، توہمارے آسمانوں کو قوس و قزح سے خالی مت چھوڑ

خدایا، تو اس ملک کو جسے مسلمانوں نے بنایا ہے، اسے مسلمانوں سے خالی مت چھوڑ

خدایا، اس قوم کو جسے ایک ہیرو کی تلاش ہے، تو اسے بغیر ہیرو کے مت چھوڑ

خدایا، ہمیں دشمنوں کا سامنا کرنے والا بنا ، تو ہمیں مردہ مت چھوڑ 

خدایا، ہم کل کے سفرپرہیں تو ہمارے سال کو رمضان سے خالی مت چھوڑ

خدایا، اگراس ریوڑ کا کوئی نگراں نہیں، تو تواسے منتشر کردے، تواسے چرواہے کےبغیرمت چھوڑ

خدایا، تو ہمیں بغیرپیار، بغیرآب، بغیر ہوا، اور بغیر ملک کے مت چھوڑ"




“We all have a hoarse voice... do not leave 
our minarets with no calls to prayer, my God!

Either bring us those who make honey
or do not just leave us with no hive, my God!

Minarets have no mahya [a string of lights set up between two minarets to flash a short text, often featuring moral or religious themes]...
Do not take the Milky Way away from our skies, my God!

Do not leave this country, which was kneaded by Muslims,
with no Muslims, my God”

Do not leave these masses, who look for a hero,
with no hero, My God!

Let us know how to resist the foe, 
do not leave us lifeless, my God!

On the path to tomorrows, do not leave
our years with no Ramadan [month], my God!

Either disperse your herd, if left unattended,
or do not leave them with no shepherd, my God!

Do not leave us, O, with no love, no water, no air
and with no country, my God!”


یہ ایک اچھی نظم ہے۔ اس طرح کی نظمیں اقبال کی بھی ہوا کرتی ہیں ۔ لیکن اس نظم میں ایک چیز غائب ہے۔ اورمیرے نزدیک یہی وہ چیز ہے جواس وقت مسلمانوں کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ وہ چیزہے طلب علم وحکمت ۔ دراصل مسلمانوں کوعلم وحکمت کی کمی نے دنیا بھر میں بے وزن اور بے قیمت کردیا ہے۔ مسلمان اس چیزسے محروم کردئے گئے ہیں جسے قرآن میں 'خیرکثیر' کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے "خدا جسے چاہتا ہے حکمت دے دیتا ہے اوراس نے جسے حکمت دے دی اسے گویا خیر کثیر دے دیا"


مسلمانوں کا اصل مسئلہ نا دانی کا مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کا حال آج وہی ہوگیا ہے جو دورزوال میں یہود کا ہوگیا تھا، جس کی نشاندہی کرتے ہوئے یہود کے ایک پیغمبر ہبککوک (Habakkuk) نے کہا تھا:


“God will pour upon you the spirit of foolishness, and there will be no wise man among you”


"خدا تمہارے اوپر نادانی کو انڈیل دے گا، تمہارے درمیان کوئی دانا آدمی نہ ہوگا جو تمہارے مسائل کو حل کر سکے۔"

میں سمجھتا ہوں کہ اس نظم میں ایک لائن غائب ہے اور جو غائب ہے اسے اس طرح ہونا چاہئے تھا:


My God, our people are in darkness, they sans education and wisdom، do not leave them, with no education, no wisdom my God!


" خدایا، میری قوم تاریکی میں ہے، جہالت میں ڈوب گئی ہے، علم و دانش سے خالی ہے، تواسے علم ودانائی اورمومنانہ فراست سےخالی مت چھوڑ!

شاید اسی بات کو کسی اردو شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے :

قوت فکروعمل پہلے فنا ہوتی ہے 

تب کسی قوم کی عظمت پہ زوال آتا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں