سوموار، 24 جولائی، 2017

آر ایس ایس آپ کو نہیں ہرا سکتی البتہ آپ کی نادانی آپ کو ہرا سکتی ہے

محمد آصف ریاض
ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان ان دنوں ایک بات یہ پھیلا ئی جا رہی ہے کہ آرایس ایس مسلمانوں کو دلتوں سے پیچھےدھکیل دینا چاہتی ہے۔ وہ مسلمانوں کو دلتوں سے بد تر پوزیشن میں پہنچا دینا چاہتی ہے وغیرہ ۔ یہ بات ہندوئوں کے درمیان آرایس ایس کے لوگ پھیلا رہے ہیں اورمسلمانوں کے درمیان بیوقوف لوگ اس بات کوعام کررہے ہیں۔ ایسی بہت سی رپورٹیں سوشل میڈیا پر گشت کررہی ہیں۔
آئے سب سے پہلے اس بات کا جائزہ لیں کہ اگرواقعی آرایس ایس کا یہ منصوبہ ہے تو کیا یہ منصوبہ قابل عمل بھی ہے؟سب سے پہلی بات یہ کہ مسلمانوں کودلتوں سے پیچھے دھکیلنے کے لئے سارے ہندوئوں کو (جوایک سوکروڑ ہیں) ایک ہی جست میں آگے بڑھا نا ہوگا، یعنی انھیں خوشحال اورمالدار بنانا پڑے گا۔ کیا آرایس ایس کی حمایت والی مودی حکومت کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ تمام ہندوئوں کوخوشحال بنا دے؟ کیا ملک کی معیشت اس کی اجازت دے گی؟ کیا عالمی طاقتیں اس کو سپورٹ کریں گی؟

مزید یہ کہ ایک سو کروڑ ہندوئوں کو خوشحال بنانے کے لئےکم سے کم  پچاس سال تک سب کچھ حکومت کے فیورمیں ہونا چاہئے۔ یعنی ملک میں امن و امان قائم ہواورملک کوعالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہو۔ ملک کے سامنے کم سے کم 50 سال تک کوئی داخلی یا خارجی چیلنج نہ ہو۔ کیا یہ ممکن ہے؟ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جب وزیراعظم مودی امریکہ کے دورے پرگئےاورآرایس ایس کے لوگوں نے وہاں بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگا نا شروع کیا توامریکیوں کارسپانس کیا آیا! اوبامہ کی حکومت گئی اورٹرمپ حکومت میں آگئے۔ ٹرمپ نے حکومت میں آتے ہی لاکھوں ہندوستانیوں کو نوکری سے باہر نکال دیا۔
آج کی دنیا اس قدر انٹیگریٹیڈ  ہے کہ سب کا مفاد سب سے جڑا ہوا ہے۔ آج کسی بھی ملک کے لئےعملاً یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ (unilaterally) یعنی یکطرفہ طورپراپنے لوگوں یا اپنی قوم کو خوشحال بنا لے۔ اورمان لیجئے کہ بی جے پی – آر ایس ایس کی حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ یعنی وہ آئندہ پچاس سالوں میں سارے ہندوئوں کو خوشحال بنا دے گی تو پھریہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں مسلمان کس طرح پچھڑ جائیں گے؟ جب خوشحالی کا دریا ہرطرف بہے گا توایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دروازے سے کٹ کرگزر جائے؟ظاہرہے کہ جب پورا ملک خوشحال ہو جائے گا تو مسلمانوں کی بدحالی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دوسری بات یہ کہ مسلمانوں کا موازنہ دلتوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان ایک عالمی کمیونٹی ہیں۔ ساٹھ ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں اورحکومت کرتے ہیں۔ وہ دنیا کے زیادہ ترممالک میں بڑی اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے برخلاف دلت صرف ہندوستان میں رہتے ہیں۔ ہرچند کہ وہ اپنے آپ کو ہندو بتاتے ہیں لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ اعلیٰ ذات کے ہندو انھیں ہندو نہیں مانتے۔
تیسری بات یہ کہ بلا شبہ تاریخی طور پردلت ہندوستان کےاصلی باشندے ہیں۔ بہت پہلے یعنی آریائی قوم کی ہندوستان میں آمد سے قبل وہ یہاں حکومت کیا کرتے تھے۔ لیکن جب سے آرین قوم نے انھیں زیرکیا تب سے آج تک یعنی گزشتہ تین ہزارسالوں میں بحیثیت قوم وہ کبھی ابھرنہیں سکے۔ آج بھی دلتوں کا حال یہ ہے کہ چاہے وہ کتنا ہی پڑھ لکھ جائیں برہمن واد کے سامنے آخرکارگھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ وہ نظریاتی طورپر برہمن واد کے غلبہ کو تسلیم کر چکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ نظریاتی طورپربرہمن واد کے مقابلہ میں اپنی ہارتسلیم کر چکے ہیں۔ جب تک وہ اپنی اس نظریاتی ہارکوجیت میں تبدیل نہیں کرلیتےتب تک وہ بہ حیثیت قوم سرخرو نہیں ہو سکتے۔
یہ بات صحیح ہے کہ ڈاکٹربھیم رائو امبید کر، مہاتما جیوتیبا پھولے اورکانشی رام جیسے بڑے دلت رہنمائوں نے دلتوں کو برہمن واد کےغلبہ سے نکالنے کے لئے بڑی کوششیں کیں۔ تاہم دلت سماج اب بھی اس غلبہ سے نجات حاصل نہیں کرسکا ہے۔ دلت ابھی تک اپنی شناخت اپنی تہذیب اوراپنے مذہبی رسوم کو دریافت نہیں کر سکے ہیں۔ یہ دلت سماج کی سب سے بڑی کمزوری ہے اور یہی کمزوری انھیں بہ حیثیت قوم ابھرنے نہیں دے رہی ہے۔ البتہ یہی بات مسلمانوں کے بارے میں صحیح نہیں ہے۔ مسلمان پوری دنیا میں اپنی تہذیبی اورنظریاتی شناخت کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ معاشی طور پربھلے ہی کہیں کمزور پڑجائیں لیکن نظریاتی طورپرکہیں کمزورثابت نہیں ہوتے۔
صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو دلتوں سے پیچھے دھکیلنا یعنی انھیں 'سب سے پیچھے دھکیلنا' نہ حکومت کے بس میں ہے اور نہ ہی آر ایس ایس کے بس میں۔ یہ ان کی خواہش ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ''خواہش پریشاں'' ہے جو انھیں ہمیشہ پریشان کر تی رہے گی۔ قرآن میں مسلمانوں کو بتا یا گیا ہے:ام للانسان ما تمنا ؟ کیا انسان کے لئے(وہ سب کچھ ) میسرہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں۔
دلت بنام مسلم
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آخرآرایس ایس کے لوگ یہ کیوں کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو دلت سے پیچھے دھکیل دیں گے؟ غالباً وہ ایسا اس لئے کہتے ہیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ ان کے ایسا کہنے سے دلت خوش ہو جائیں گے۔ اوروہ اپنے آپ کو ہندوازم کا حصہ بنانے پرراضی ہو جائیں گے۔ یہ دراصل پولا رائیزیشن کی ایک کوشش ہے۔ اس پولا رائیزیشن کےذریعہ وہ دلتوں میں پیدا ہونے والی تہذیبی، شناختی، سماجی، معاشی اورسیاسی  بیداری کو روک دینا چاہتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی وہ یہ چاہتے ہیں کہ دلت مسلمانوں سے ٹکرا جائیں۔
مسلمانوں کو کیا چیز ہرا سکتی ہے
مسلمانوں کو جو چیز ہرا سکتی ہے وہ کسی اور کی سازش یا خواہش نہیں ہے بلکہ یہ ان کی نادانی اوربےعقلی ہے جو انھیں کسی قوم کے مقابلہ میں زیر کر سکتی ہے۔ مسلمانوں کا اصل مسئلہ نا دانی کا مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کا حال آج وہی ہوگیا ہے جو دورزوال میں یہود کا ہوگیا تھا، جس کی نشاندہی کرتے ہوئے یہود کے ایک پیغمبر ہبککوک (Habakkuk) نے انھیں خبردار کیا تھا:
God will pour upon you the spirit of foolishness, and there will be no wise man among you
"خدا تمہارے اوپر نادانی کو انڈیل دے گا، تمہارے درمیان کوئی دانا آدمی نہ ہوگا جو تمہارے مسائل کو حل کر سکے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں