ہفتہ، 12 اپریل، 2014

Prove your worth

آپ لوگوں کو بیٹے جیسا پیار دیں تاکہ لوگ آپ کو باپ مان لیں

محمد آ صف ریاض
معروف اسلامی اسکالراورمفکر مولانا وحید الدین خان نےاپنی ڈائری 1993-94  میں ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ بنگلورکے ڈاکٹرسلطان ملاقات کے لئے آئے، انھو ں نے بتا یا کہ ان کی بیوی میسورگئیں اوروہاں سے کام کے لئے دو ہندو لڑکے لے آئیں۔ راجیش (8 سال ) شنکر ( 14 سا ل)۔
ان بچوں کو دیکھ کرڈاکٹر سلطان نے کہا کہ ان بچوں کی پڑھائی بند ہونا ٹھیک نہیں ہے، انھیں دوبارہ اسکول میں داخل کردو، یہ فاضل وقت میں گھرکا کام کریں گے۔ اب راجیش پانچویں کلاس اورشنکر گیارہویں کلاس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ان بچوں سے کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ تمہارے باپ کا نام کیا ہے؟ انھوں نے کہا احمد سلطان، تو پوچھنے والے کو تعجب ہوا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے میسورکے باپ نے ہماری پڑھائی چھڑا دی تھی اوراحمد سلطان ہم کو پڑھوا رہے ہیں اورہمارا سارا خرچ دے رہے ہیں تو وہی ہمارے باپ ہیں۔ (صفحہ 144)
یہ ایک استثنائی واقعہ ہے جو بتا رہا ہے کہ اگرآدمی کسی سماج میں دینے والا بن کررہے تو وہ عملاً اس سماج کا باپ بن جاتا ہے۔ آج ملک کے مسلمانوں کویہ شکایت ہے کہ سماج میں ان کی کوئی عزت نہیں رہ گئی ہے۔ وہ اس بات کو تو جانتے ہیں کہ سماج میں ان کی کوئی عزت نہیں ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی عزت کیوں نہیں ہے؟
اصل بات یہ ہے آج کے مسلمان اپنی افادیت کھوچکے ہیں۔ وہ سوسائٹی کے لئے فائدہ مند ثابت ہونے کے بجائے نقصاندہ ثابت ہورہے ہیں، اسی لئے سوسائٹی نے انھیں  بہت پیچھے ڈھکیل دیا ہے۔
مثلاً مسلمانوں میں بہترین ٹیچرس پیدا نہیں ہو رہے ہیں، ان کے اندر تعلیم کا غلغلہ نہیں ہے، وہ فعال نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس ملک کے کرسچن کو دیکھئے ان کے یہاں بہترین اساتذہ پیدا ہورے ہیں اوران کے اندر تعلیم کا غلغلہ ہے، اس لئے تعداد میں کم ہو نے کے با جود وہ عملاً سماج پر راج کر رہے ہیں۔

 مسلمانوں میں بہترین ڈاکٹرس اور نرسیں پیدا نہیں ہو رہی ہیں حالانکہ کیرالہ انھیں بہترین نرسوں کے ذریعہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں اپنا ایک مقام بنا چکا ہے۔ سکھ ہندوستان کی ایک چھوٹی اقلیت ہیں لیکن اپنی جفا کشی اورافادیت کی وجہ سے ہرجگہ عزت پاتے ہیں۔
کرسچن تعلیمی اداروں کے بارے میں ایم کے موہنتی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
"ملک میں کنونٹ اسکولوں کو تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ پسند کیا جا تا ہے۔ جدید تعلیمی مٹیریل، انگریزی میڈیم، اورجدید طرز زندگی، بشمول ڈریس کوڈ نے ان اسکولوں کواسٹیٹس سیمبول بنا دیا ہے۔"
  
Convent schools have become India's most sought-after educational institution. The modern study materials, English language medium and modern way of living (including dress and food choices) have led these schools to become status symbols among Indians.

M.P Mohanty
مسلمانوں کی ذلت اوررسوائی کی وجہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ سوسائٹی میں وہ اپنی افادیت کھوچکے ہیں۔ وہ دینے والی کمیونٹی کی جگہ لینی والی کمیونٹی بن کررہ گئے ہیں۔ مسلمان جب تک اس پوزیشن کو نہیں بدلیں گے، سماج میں ان کی پوزیشن بدلنے والی نہیں، چا ہے ان کے علما فتویٰ پرفتویٰ جاری کریں یا ان کے لیڈران ہنگامے پر ہنگامہ کھڑا کریں، عملاً کچھ بدلنے والا نہیں۔ ان کی موجودہ حالت اسی وقت بدل سکتی ہے جبکہ وہ سماج میں اپنی افادیت ثابت کردیں۔ جب تک وہ لوگوں کواپنے بیٹا جیسا پیار نہیں دیں گے وہ سماج کے باپ بھی بننے والے نہیں۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں