منگل، 29 جنوری، 2013

"Ignorant is he, who doesn't know his ignorance"


کسی کو کمترمت سمجھئے

محمد آصف ریاض

گزشتہ دنوں ایک کہانی نظر سے گزری۔ وہ کہانی ایک پروفیسر کے بارے میں تھی۔ پروفیسر سمندری سفر پر تھا۔ اپنے سفر کے دوران وہ ہر روز جہازمیں لکچر دیا کرتا تھا۔ اس کا لکچرسننے کے لئے دوسرے مسافروں کے ساتھ جہازکا سیلر بھی آجایا کرتا تھا۔

ایک دن پروفیسر نے سیلر سے سوال کیا کہ تم جیولوجی Geology جانتے ہو؟ سیلر نے کہا حضوریہ جیولوجی کیا چیز ہے؟ پروفیسر نے جواب دیا تم Geology نہیں جانتے؟ This is Science of earth یہ علم ارضیات ہے۔ افسوس ہے تم پر کہ تم زمین پر رہ کربھی زمین کے علم سے واقف نہیں۔ تم نے کیا جانا۔ تم نے اپنی زندگی کا ایک حصہ برباد کر لیا۔ سیلرخاموش ہو گیا۔ دوسرے دن پھروہ لکچر سننے کے لئے آیا۔ پروفیسر نے پھراس سے سوال کیا۔ Do you know ocean logy? کیاتم اوشینونولوجی جانتے ہو؟
حضوریہ اوشینولوجی کیا چیزہے، مجھے اس کا قطعی علم نہیں۔ تم ocean logy نہیں جانتے، حیرت ہے۔ تم سمندرمیں رہ کر بھی سمندر کے علم سے واقف نہیں؟ تم نے کیا جانا! تم نے اپنی زندگی کا نصف حصہ برباد کر لیا۔ تیسرے دن پروفیسر نے سیلر سے پھر ایک سوال کر دیا۔ اس بار اس نے پوچھا تم Metro logy جانتے ہو؟ سیلر نے جواب دیا حضور یہ کیا ہوتا ہے؟ ارے یہ علم موسمیات ہے تمہیں ہر لمحہ بدلتے ہوئے موسم کا سامنا ہے اور تم علم موسمیات سے واقف نہیں! تم نے کیا جانا تم نے اپنی زندگی کا تیسرا حصہ بھی برباد کر لیا۔ یہ سن کر سیلر بہت اداس ہوا۔ اس نے سوچا اگر پروفیسر کی طرح پڑھا لکھا انسان یہ بول رہا ہے تو وہ ٹھیک ہی بول رہا ہوگا کہ میں نے اپنی زندگی کا تیسرا حصہ بھی برباد کر لیا۔

 چوتھے روزوہ چلاتا ہوا پروفیسر کے پاس آیا۔ پروفیسر! پروفیسر تم swim logy جانتے ہو؟ سویمومولوجی؟ یہ کیا ہوتا ہے؟ پروفیسر نے حیرت سے پوچھا۔ ارے یہ آرٹ آف سوئمنگ ہے۔  "This is art of swimming" یہ تیراکی کا علم ہے۔ پروفیسر تم سوئمنگ نہیں جانتے! تو تم نے کیا جانا! تم نے کچھ نہیں جانا! تم نے اپنی پوری زندگی برباد کر لی۔ پروفیسر جہاز چٹان سے ٹکرا گیا ہے اور اب یہ ڈوب رہا ہے آج وہی شخص بچے گا جسے تیرنا آتا ہو جسے سوئمنگ آتی ہو۔ پروفیسر تم نے کیا جانا تم نے اپنی پوری زندگی برباد کرلی۔

آدمی کو چاہئے کہ وہ احساس برتری کا شکار نہ ہو۔ وہ علم کے زعم میں دوسروں کو کمتراور حقیر نہ سمجھے۔ وہ یہ نہ جانے کہ وہ کیا جانتا ہے وہ یہ جانے کہ وہ کیا نہیں جانتا ہے کہ اپنے نہیں جاننے کو جاننا ہی اصل جاننا ہے۔ کسی مفکر کا قول ہے
 "Ignorant is he, who doesn't know his ignorance" جاہل وہ ہے جو خود اپنی جہالت سے واقف نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہاں ہر چیز کی ایک قیمت ہے اور جاننے کی قیمت یہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ وہ نہیں جانتا ہے۔ کہ جب کوئی شخص اپنے نہیں جاننے کو جان لے گا تو وہ بغیر جانے نہیں رہے گا۔ کسی دانشور نے کہا ہے:
جاننے کاعمل وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں آدمی یہ جان لے کہ وہ نہیں جانتا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں