بدھ، 30 اپریل، 2014

مودی ، پرینکا اور مسلمان


مودی ، پرینکا اور مسلمان

محمد آصف ریاض
مودی گجرات فسادات کےساتھ ہی اپنی بدزبانی کےلئے بھی جانےجاتے ہیں۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں انھوں نے میڈیا کے ذریعہ اپنی بدزبانی کی خوب تشہیرکی۔ انھوں نے راہل گاندھی کو ہتک آمیزاندازمیں شہزادہ ، کبھی شہزادے، کبھی  مذاقیہ تو کبھی نمونہ کہا۔ انھوں نے سونیا گاندھی کے لئے بھی بے ہودہ الفاظ استعمال کئے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے پرینکا گاندھی اوران کے شوہرواڈرا کو بھی اپنی بدزبانی کا نشانہ بنا یا۔
مودی کے جواب میں امیٹھی میں ایک ریلی کے دوران پرینکا گاندھی نے جوکچھ کہا وہ قابل ذکر ہے۔ انھوں نے کہا: " ہمارے گھرانے کو ذلیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری فیملی کو بدنام کیا جارہا ہے۔ لیکن میں آپ کو بتا دوں کہ ہم پرجتنا حملہ کیا جائے گا ہم اتنا ہی مضبوط ہوکر ابھریں گے۔ ہم گریں گے تو اورمضبوطی کے ساتھ اٹھیں گے۔ ہم نے اپنی دادی اندرا گاندھی سے یہی سیکھا ہے۔"
آج جن تجربات سے گاندھی گھرانے کو گزرنا پڑ رہا ہے، ملک کے مسلمانوں کو بھی کم و بیش اسی قسم کے تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی انھیں دہشت گرد کہہ کرگالی دی جاتی ہے، کبھی انھیں ریلوے اسٹیشن سے اٹھا لیا جا تا ہے، کبھی انھیں جہاز پر سوار ہونے سے روک دیا جا تا ہے۔ کبھی ان سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ مانگا جا تا ہے۔ کبھی انھیں امتحان میں بیٹھنے نہیں دیا جا تا۔ وغیرہ۔
مسلمان ان واقعات کو سازش کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔ وہ ان حقارت آمیز سلوک کے خلاف سڑکوں پر اتر آتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ صحیح رد عمل نہیں ہے۔ انھیں بھی پرینکا کی طرح ایک جگہ کھڑے ہوکر یہ کہنا چاہئے:
" ہمیں ذلیل کر نے کی کوشش کی جا رہی ۔ ہمیں رسوا کیا جا رہا ہے، ہم پرحملے ہو رہے ہیں۔ ہمیں مشتعل کیا جا رہا ہے۔ ہمیں گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن  ہم آپ کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم پرجتنا حملہ کیا جا ئے گا ، ہم اتنا ہی مضبوط  ہوں گے۔ ہمیں جس قدر گرانے اور ذلیل کرنے کی کوشش کی جائے گی ہم اتنی ہی مضبوطی اور طاقت  کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ہم نے یہی اپنے پیغمبر سے سیکھا ہے۔ قرآن نے ہمیں یہی بتایا ہے۔"

پیر، 28 اپریل، 2014

It is not enough to know yourself

جتنا ضروری اپنےآپ کوجانناہے،اتنا ہی ضروری اپنے مد مقابل کوجاننا بھی ہے

محمد آصف ریاض
مایا وتی ایک طاقتوردلت لیڈرہیں۔ اترپردیش میں وہ کئی باروزیراعلیٰ کےعہدے پرفائزہوچکی ہیں۔ انھوں نے اپنی سیاست کی ابتدا بہت ہی جارحانہ انداز میں کی تھی۔ کبھی ان کا نعرہ ہوا کرتا تھا۔ ' تلک ترازو اور تلوار ان کو مارو جوتے چار'۔
کئی بار وزیراعلیٰ رہنے کے بعد مایا وتی کے دل میں وزیراعظم بننے کی خواہش پیدا ہوئی۔ لیکن ان کے ساتھ مشکل یہ تھی کہ جس نعرہ کے ساتھ وہ اترپردیش کی وزیراعلیٰ بنیں تھیں، اسی نعرہ کے ساتھ وہ  ملک کی وزیراعظم نہیں بن سکتی تھیں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے نعرے کو بدل دیا اوراب ان کا نیا نعرہ ہے:' سروجن ہیتائی اورسروجن سوکھائی' 'Sarvjan Hitai' and 'Sarvjan Sukhai'  یعنی سب کی بھلائی سب کا ہت'
اس نعرہ کے تحت مایا وتی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں قدم رکھا۔ انھوں نے نہ صرف خوبصورت نعرہ دیا بلکہ سیٹ شیئرنگ میں بھی اس خوبصورتی کو بر قرار رکھنے کی کوشش کی۔انھوں نے برہمنوں کو سب سے زیادہ  یعنی 21 سیٹیں دیں۔ ان کا یہ نعرہ بھی بہت مشہور ہوا' برہمن سنکھ بجائے گا ہاتھی بڑھتا جائے گا'
یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ  یوپی میں برہمنوں کی تعداد 16 فیصد ہے اوردلت پچیس فیصد۔ مایا وتی کا ماننا ہے کہ اگردلت برہمن اور مسلم ووٹ ان کی جھولی میں آجائے تووہ ہندوستان پر راج کر سکتی ہیں۔ اسی لئے انھوں نے برہمنوں کو21 سیٹوں کے ساتھ  مسلمانوں کو 19 سیٹیں دے دیں۔
لیکن برہمنوں پرمودی کا نشہ اس طرح چڑھا ہوا تھا کہ مایا وتی کے ہزارکہنے کے با وجود کہ ان کی پارٹی نے برہمنوں کو سب سے زیادہ یعنی 21 سیٹیں دی ہیں، برہمنوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس صورت حال سے مایا وتی بہت پریشان ہوئیں۔ دریں اثنا انھیں معلوم ہوا کہ بی جے پی نے برہمنوں کو صرف 3 سیٹیں ہی دی ہیں۔ اب انھوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ بی جے پی نے یوپی میں برہمنوں کو صرف 3 سیٹیں دی ہیں جبکہ ہم نے 21 سیٹیں دی ہیں۔ ان کے اس بیان کا بڑا اثر پڑا۔ برہمن اچانک سے جاگ اٹھے۔ انھیں لگا کہ بی جے پی نے مذہب کے نام پرانھیں ٹھگ لیا ہے۔ انھوں نے جے پی کو کھلے عام برا بھلا کہنا شروع کردیا۔
اس واقعہ کو انگریزی اخبارمیں پڑھ کرمجھےعربی کا ایک قول یاد آگیا۔ وہ قول یہ ہے۔ تعرف الشیا باضدادھا یعنی چیزیں اپنی ضد سے جانی جاتی ہیں۔ برہمنوں کو21 کی عدد اس وقت تک سمجھ میں نہیں آئی جب تک کہ انھیں 3 کی عدد کا علم نہ ہوا۔
یہ واقعہ بتا ریا ہے کہ آدمی اگر اپنے 21 کو جانے اوراپنے حریف کے 3 کو نہ جانے تو بہت ممکن ہے کہ ہزار ہنگامے کے با وجود بھی وہ اپنامدعا حآصل نہ کر سکے۔
یہاں مجھے ایک چینی فلاسفراورجنگی امور کے ماہرسن تزو(Sun Tzu)کا قول یاد آگیا۔ وہ کہا کرتا تھا:
اگر تم دشمن کو جانتے ہو اورخود کو بھی جانتے ہوتوتمہیں سو لڑائیوں کے نتائج سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تم خود کو جانتے ہو اور دشمن کو نہیں جانتے تو ہر جیت کے ساتھ تمہیں ہار کا منھ دیکھنا پڑے گا۔ اوراگر تم نہ دشمن کو جانتے ہو اور نہ خود کو توہرلڑائی میں تمہیں ہزیمت اٹھانی پڑے گی ۔ سن تزو

بدھ، 23 اپریل، 2014

مسلمانوں کا جرم بھی وہی ہے جو یہود کا جرم تھا

مسلمانوں کا جرم بھی وہی ہے جو یہود کا جرم تھا


محمد آصف ریاض


اگرآپ دہلی کےشاہین باغ، ابوالفضل، بٹلہ ہائوس اورجامعہ نگرجیسے مسلم علاقوں سے گزریں توآپ کوایسامحسوس ہوگا کہ آپ گویا پہاڑوں کے درمیان سے گزررہے ہیں۔ اونچی اونچی عمارتوں سے گزرکرآپ کوایسا لگے گا کہ گویا آپ  قبر میں دھنستےجا رہے ہیں۔
یہاں ہرطرف کنکریٹ کا جنگل ہے۔ دور دور تک کہیں کوئی درخت نظر نہیں آتا۔ آلودگی کی وجہ سے لوگوں کو یہاں سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ 20 اپریل 2014 کو یہاں ایک شخص سےنماز کے بعد میری ملاقات ہوئی۔ ان کا مکان بھی بہت اونچا اوربہت بڑاہے۔ میں نے بات چیت کے دوران ان سے کہا کہ آپ لوگ غاصب ہیں۔ آپ لوگوں کا معاملہ لوٹ ماراورڈاکہ زنی کا معاملہ ہے۔ وہ کہنے لگے کہ کس طرح؟

میں نے انھیں بتا یا کہ آپ جامعہ نگر کے مسلم علاقوں سے گزرجائیں آپ کو پہاڑوں کی طرح اونچی اونچی عمارتیں  نظرآجائیں گی لیکن کہیں کوئی درخت نظر نہیں آئے گا۔ بڑے بڑے مکانوں میں کوئی چھوٹی سی جگہ بھی درختوں کے لئے نہیں چھوڑی گئی ہے۔

میں نے انھیں بتا یا کہ آپ لوگ سانس لیتے ہیں۔ آپ کے بچے اورگھر والے سب آکسیجن لیتے ہیں کیونکہ آکسیجن کے بغیرآپ زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ آکسیجن کہاں سے ملتا ہے؟ یہ آسمان سے تو نہیں ٹپکتا؟ یہ آپ کو درختوں سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ درخت لگاتے نہیں اورآکسیجن لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جن دوسرے لوگوں (ہندوئوں ) نے آکسیجن کے لئے درخت  لگائے ہیں، مسلمان ان کے اوران کے بچوں کا آکسیجن چرا لیتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہے ۔ یہ معاملہ لوٹ ماراورڈاکہ زنی کا معاملہ ہے۔ یہ معاملہ قرآن کے مطابق فساد فی الارض کا معاملہ ہے۔

درختوں کا طریقہ

درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتے ہیں تووہ اسے آکسیجن کی شکل میں فضا کولوٹادیتے ہیں۔ وہ زمین سے توانائی حاصل کرتے ہیں تووہ پتوں کوگراکرزمین سے لی گئی توانائی کو واپس کردیتے ہیں۔ گویا وہ خاموش انداز میں بتا رہے ہیں کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ جوکچھ وہ کسی سے لے،اسے اس سے بہتر چیز لوٹا دے۔ لیکن مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگروہ زمین سے کچھ لیں تووہ اسے لوٹانے والے نہیں، اوراگر فضائوں سے کچھ لیں تو وہ اسے واپس کرنے والے نہیں۔ اوراگرانھیں آسمان سے کچھ ملے تو وہ اسے لوٹانے والے نہیں۔ مثلا وہ درختوں سے آکسیجن لیتے ہیں اوردرخت نہیں لگاتے۔ انھیں آسمان سے خدائی کلمہ ملا ہوا ہے لیکن وہ اس کلمہ کا چرچا نہیں کرتے۔ وہ آلودگی سے پاک فضا چاہتے ہیں اوراس کے لئے کوئی قیمت نہیں چکاتے۔

مسلمان اپنی حقیقت کےاعتبار سےیہود بن گئے ہیں۔ قرآن میں یہود کے ایک گروہ کی صفت یہ باتئی گئی ہے کہ اگرآپ انھیں کوئی چیز دیں تو وہ اسے لوٹانے والے نہیں۔

وَمِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖٓ اِلَیْْکَ وَمِنْہُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لاَّ یُؤَدِّہٖٓ اِلَیْْکَ اِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَیْْہِ قَآءِمًا ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لَیْْسَ عَلَیْْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ وَیَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ()(سورۃ آل عمران -3آیت75)

اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگران کے پاس امانت کا ڈھیربھی رکھو تو مانگنے پر ادا کریں گے اوران میں سے ایسے بھی ہیں کہ اگر تم ان کے پاس بطور امانت ایک دینار بھی رکھو تو وہ اس وقت تک اس کو تمھیں لوٹانے والے نہیں ہیں جب تک تم ان کے سر پر سوار نہ ہوجاؤ۔ یہ اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان امیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی الزام نہیں۔ یہ لوگ جانتے بوجھتے اللہ پرجھوٹ باندھتے ہیں۔"

یہود اپنے دورزوال میں غاصب قوم بن گئے تھے۔ ان کا حال یہ ہوگیا تھا کہ جب وہ کسی سے کوئی چیز لیتے تو اسے لوٹاتے نہیں تھے۔ اس کی سزا انھیں اس شکل میں دی گئی کہ انھیں زمین سے چن چن کر مٹا دیا گیا۔ توجس جرم پریہود کو مٹا دیا گیا ٹھیک اسی جرم پرمسلمانوں کو کیوں باقی رکھا جائے گا؟

آج روئے زمین پرمسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ خدا غاصبوں کو زمین پر بسنے نہیں دے گا۔ کیونکہ اس نے اپنی کتاب میں لکھ دیا ہے۔

"اور زبور میں ہم  نصیحت کے بعد یہ لکھ  چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔"
) الانبیاء (21:105


زبورمیں ہے :" “For evildoers will be cut off, But those who wait for the LORD, they will inherit the land


"بدکارکاٹ کرپھینک دئے جائیں گےاورنیکوکارزمین کے وارث ہوں گے۔"
Psalm 37:9


منگل، 22 اپریل، 2014

Wisely , and slow . they stumble that run fast


जो तेज़ी से आगे बढ़ता है उसके गिरने की आशंका अधिक होती है

मोहम्मद आसिफ रियाज़

पन्द्रह फ़रवरी  2014 को दिल्ली के प्रगति मैदान पुस्तक मेला में जाने का मौक़ा मिला. मेला से हम ने कुछ किताबें खरीदीं. घर वापसी में देर हो गई. रात नौ बजे घर वापस आया. सारी रात बैठकर किताबें पढ़ता रहा. सुबह के समय नींद आ गई. सो कर उठा तो ऑफिस जाना था, इसलिए नहा कर   घर से निकल पड़ा. सुबह सिर में दर्द शुरू हुआ और शाम तक दर्द के साथ बुख़ार आ गया. ऑफिस से लौट कर दवाएं लीं और फिर बिस्तर पर आराम करने के लिए चला गया. सिर में दर्द बहुत तेज़ था और बुखार भी आ गया था तो उस रात कुछ पढ़ नहीं सका. सुबह जब नींद खुली तो कुछ राहत मिली लेकिन फिर भी कमजोरी इतनी थी कि शरीर पढ़ने की अनुमति नहीं दे रहा था, तो सुबह भी कुछ नहीं पढ़ सका. इस प्रकार मैं एक रात की मेहनत के कारण कई रातों की पढ़ाई से वंचित हो गया.

इस अनुभव से गुज़रने के बाद मुझे किसी विद्वान की यह बात याद आ गई "यह संभव है कि आप एक घंटा बहुत तेजी से अपने जीवन का सफर तय कर लें, लेकिन इसके साथ इस बात की आशंका लगी रहती है कि आप अपने एक घंटे की गति और तेजी के कारण एक सप्ताह से वंचित हो जाएंगे.”

मुझे इस अनुभव के आधार पर यह ज्ञान हुआ कि आदमी को किसी प्रकार का निर्णय लेने से पहले अपनी ऊर्जा की समीक्षा कर लेनी चाहिए. अगर आदमी ऐसा ना करे तो यह संभव है कि वह एक दिन बहुत तेज गति के साथ आगे बढ़े और दूसरे दिन किसी काम के लायक ना रहे. विलियम शेक्सपियर ने इस बात को इन शब्दों में समझाने की कोशिश की थी:

  Wisely , and slow . they stumble that run fast

"समझदारी के साथ धीमी गति से आगे बढ़ो, जो तेजी से आगे बढ़ता है उसके गिरने की आशंका अधिक होती है."

बच्चे धीरे धीरे बोलना सीखते हैं, पक्षी धीरे धीरे उड़ना सीखते हैं, पौधे धीरे धीरे तना व पेड़ में बदलते हैं, यह प्रकृति का सबक़ है और कोई भी व्यक्ति प्रकृति के खिलाफ जाकर सफल नहीं हो सकता है.

جمعرات، 17 اپریل، 2014

پھولوں کے نزدیک کانٹوں کا ہونا بتارہا ہے کہ خدا کی دنیا میں جزا اورسزا دونوں کا انتظام ہے

پھولوں کے نزدیک کانٹوں کا ہونا بتارہا ہے کہ خدا کی دنیا میں جزا اورسزا دونوں کا انتظام ہے
محمد آصف ریاض
اقبال کا ایک مشہورشعر ہے:
حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے
اگرکانٹے میں ہو خوئے حریری
یعنی اگرکانٹوں میں پھولوں کی سی نزاکت ہوتوپھرپھولوں کی حفاظت ممکن نہیں ہے۔ اقبال نے پھولوں کےدرمیان کانٹوں کودیکھ کریہ سمجھا کہ کانٹے پھولوں کی حفاظت کےلئے ہیں کیوں کہ ان میں خوئے حریری نہیں ہے، یعنی کانٹے پھولوں کی طرح نرم نہیں ہوتے۔ بہت ممکن ہے کہ اقبال نے کوئی پھول توڑنا چاہا ہواوراس عمل میں وہ کانٹوں سے الجھ گئے ہوں۔ اس الجھن نے انھیں بتا یا کہ کانٹے پھولوں کی حفاظت کے لئے ہوتے ہیں۔
لیکن میرے نزدیک یہ ایک لغوبات ہے۔ جوپھول بغیرکسی مداخلت کے کمہلانے والے اورختم ہونے والے ہیں ان کی حفاظت کے لئے کانٹے کیوں پیدا کئے جائیں گے؟ جو پھول موسم کی تاب نہ لاکرخود بخود مرنے والے ہیں ان کی حفاظت کے لئےخدا اس قدراہتمام کیوں کرے گا؟ جو پھول کا نٹوں کے رہتے ہوئے شاخوں پرمرجھا کرختم ہوجاتے ہیں ان کے لئے کانٹوں کا تحفظ کیا معنی رکھتا ہے۔ کانٹوں کے رہتے ہوئے پھولوں کا مرجھا کرختم ہونا بتارہا ہے کہ کانٹے اس لئے نہیں ہیں کہ وہ پھولوں کی حفاظت کریں، وہ کسی اور پر پز کے لئے ہیں؟
عربی کا ایک قول ہے تعرف الشیاء باضدادھا، یعنی چیزیں اپنی ضد سے جانی جاتی ہیں۔ آدمی اگرصرف پھولوں کی نزاکت کا تجربہ کرے تواس پراس کی معنویت نہیں کھلے گی۔ اسی لئے خدا نے پھولوں کے درمیان کانٹوں کورکھ دیا تاکہ دونوں کا موازنہ کرکے انسان کسی نتیجہ تک پہنچ سکے۔ وہ ایک خیال سے گزرکردوسرے خیال تک پہنچ سکے۔ ایک شخص اگرصرف محبت اورپیارکوجانے، اسے نفرت اور ہزیمت  کا تجربہ نہ ہو تو وہ محبت کی قدروقیمت کو نہیں جان سکتا۔ انسان چیزوں کواس کی ضد سے پہچانتا ہے۔ مثلا رات کو دن سے، زمین کو آسمان سے، خوبصورتی کو بدصورتی سے، صحت کو بیماری سے، روشنی کو تاریکی سے وغیرہ ۔
خدا پھولوں کے درمیان کانٹے پیدا کررہا ہے تاکہ انسان جزا اور سزا کو جان لے۔ انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ خدا کی دنیا میں اگر پھول ہیں توکانٹے بھی ہیں۔ اسی طرح اگر یہاں جزا کا انتظام ہے توسزا کا انتظام بھی  ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جس طرح چاہیں اس دنیا میں رہیں، یہاں انھیں کوئی پکڑ نے والا نہیں ہے، ان کے لئے کانٹوں میں بہت بڑا سبق ہے۔ وہ یہ کہ خدا کی دنیا میں جزا کے ساتھ سزا کا بھی انتظام ہے۔ پھول اگرجزا کی علامت ہیں توکانٹے سزا کی علامت۔
اس واقعہ کا دوسراسبق یہ ہے کہ آدمی کانٹوں کے نزدیک بہت سنبھل سنبھل کرجاتا ہے کیوں کہ اسے ہروقت کانٹوں کے چبھ جانے کا خدشہ لگا رہاتا ہے،اسی طرح انسان کو اس دنیا میں سنبھل سنبھل کراپنی زندگی گزارنا ہے کیوں یہاں بھی ہرطرف کانٹے ہی کانٹے پھیلے ہوئے ہیں۔
اس دنیا کا مزاج ایسا ہے کہ اگر آپ ذرا سی غفلت برتیں تواپنے ہاتھ پھولوں پررکھنے کے بجائے کانٹوں پررکھ دیں گے۔ کانٹوں سے بچائوکی ایک ہی صورت ہے ،وہ ہے آدمی کی اپنی سنجیدگی۔ سنجیدگی ٹوٹی درگھٹنا گھٹی۔
غالباً میر نے اپنے اس شعر میں اسی بات کو سمجھانے کی کوشش کی ہے:
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہہ شیشہ گری کا  
اس دنیا میں انسان کو جوچیز کانٹوں سے بچانے والی ہے وہ اس کی سنجیدگی ہے۔ سنجیدگی کی یہ صفت انسان میں کب پیدا ہوتی ہے؟ یہ صفت انسان میں تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے۔ متقی انسان اپنے آپ کو خدا اور بندوں کے درمیان پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو جزا اور سزا کے درمیان پاتا ہے،وہ اپنے آپ کو پھولوں اور کانٹوں کے درمیان پاتا ہے۔ وہ دنیا میں کسی چیز سے بے پروا ہوکر نہیں جیتا۔ 

بدھ، 16 اپریل، 2014

Food for the soul

ربانی غذا

محمد آصف ریاض
تیرہ اپریل 4014 کو میں دہلی کے اوکھلا علاقہ سے میٹرو پرسوارہوا۔ اس سفر میں میرے ساتھ ایک بڑے میاں بھی تھے۔ ہم دونوں میٹرو پرسوارہوئے اورسینٹرل سیکری ٹیریٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔ میرے ایک ہاتھ میں کتاب تھی اوردوسرے ہاتھ میں انگریزی کا اخبار ٹائمز آف انڈیا تھا۔
میں میٹرو پراخبار پڑھنے لگا اسی دورمیان اچانک وہ اخبارمیرے ہاتھوں سے چھوٹ کرنیچے گرگیا۔ اس پراس بڑے میاں نےکہا کہ آپ کی پکڑ کمزورہو گئی ہے۔ وہ اپنا تھیلہ دکھا کرکہنے لگے کہ اب آپ اس قسم کا ایک تھیلہ خرید لیجئے۔ میرے منھ  سے نکلا کہ جناب والا یہ معاملہ تھیلے کا نہیں ہے۔ یہ ربانی منصوبہ کوجاننے کا معاملہ ہے۔ یہ صرف میری پکڑکے کمزور ہونے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہی ہرشخص کے ساتھ ہونے والا ہے۔
آدمی اس زمین پرچلتا پھرتا ہے، اسے کچھ چیزوں پرخدا نے قدرت دے رکھی ہے، کچھ چیزوں کواس کے لئے مسخرکردیا گیا ہے تواب وہ سمجھتا ہےکہ وہ زمین پراپنی پکڑبنا چکا ہے۔ وہ دنیا کواپنی مٹھی میں دیکھنےلگتا ہے، تبھی اس پرکوئی صدماتی تجربہ گزرتاہے۔ مثلاً کبھی اس کے سامنے اس کے بچے مر جاتے ہیں، کبھی خود وہ ایسی صورت حال سے گزرتا ہے جسے روک پانے کی اس کے اندر قوت نہیں ہوتی۔ یہ تجربات بتاتے ہیں انسان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ کسی کے ہاتھ سے کسی چیزکا اچناک گرپڑنا کوئی سادہ معاملہ نہیں ، یہ ایک بہت بڑی یاد دہانی کا معاملہ ہے جوانسان کو اس کی اپنی کمزوری کی یاد دہانی کراتاہے۔
ایک مادہ پرست انسان اگراپنے ہاتھ سے کسی چیز کوگرتا ہوا دیکھے تو اسے تھیلے کا خیال آ ئے گا اوراگر ایک شخص جو معرفت حق میں جینے والا ہووہ اس قسم  کے تجربہ سے گزرے تو وہ اس تجربہ کو ربانی غذا کے حصول کا سبب بنالے گا۔ وہ اس حقیقت کو پالے گا کہ انسان آخر کار ایک کمزور مخلوق ہے۔ اس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ اس پر خدائے رحمٰن کے اس حکم کی حقیقت کھل جائے گی۔
" لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے،جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا۔ جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو۔  6: 94))
کتناعجیب ہے اس شخص کا معاملہ جودنیا کی ہرچیزکوحاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اسے پچاس ساٹھ سالوں میں اپنے پیچھے چھوڑ کرمرجائے۔ اس طرح کے آدمی کا معاملہ دوہرے نقصان کا معاملہ ہے۔ پہلا نقصان کمرتوڑ محنت کا اور دوسرا نقصان محنت کے پھل کو چکھے بغیر مرنے جانے کا۔

منگل، 15 اپریل، 2014

You may be ignored on the earth and not in the heaven

خدا کا فیصلہ انسان کے رویہ پر ہوتا ہے نہ کہ اس کے گمان پر

محمد آصف ریاض
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ تم میرے بعد اپنے اوپر دوسروں کی ترجیح دیکھو گے، تو تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے ملو اور ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے۔ صحیح بخاری:( جلد دوم ،حدیث نمبر 998)
آدمی اس دنیا میں رہتا ہے تو اکثر یہ محسوس کرتا ہے کہ سماج میں اسے نظرانداز کیا جا رہا ہے اوراس کی جگہ دوسروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وہ اپنے تئیں لوگوں کے اس رویہ سے دلبرداشہ ہوجا تا ہے اورسماج کے خلاف بغاوت کردیتا ہے۔ وہ ہم نہیں تو کوئی نہیں کا نعرہ لے کر اٹھتا ہے اور سماج میں ہنگامہ کھڑا کر دیتا ہے۔ لیکن اسلام اس قسم کی ہنگامہ آرائی کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام انسان کو بتا تا ہے کہ اگر ساری دنیا کے لوگ مل کر کسی ایک کو ترجیح دیں تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ خدا کے یہاں بھی وہی ترجیح پانے والاہے۔ بہت ممکن ہے کہ جو شخص اس دنیا میں اپنے آپ کو سب کچھ والا سمجھ رہا ہو خدا کے یہاں وہ کچھ والا نہ ہواور بہت ممکن ہے کہ جس شخص کو زمین پر کوئی ترجیح نہ دی جا رہی ہو،وہ آسمان پر ترجیح پانے والا ہو۔
جب آدمی پراس قسم کا تجربہ گزرے، جب وہ دیکھے کہ سماج میں اس کی جگہ دوسروں کو ترجیح دی جا رہی ہے، تو اسے دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہئے۔ اسے ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہئے کہ وہ سماج کے خلاف بغاوت کردے۔ اسے صبر کی روش اختیار کرنی چاہئے۔ بہت ممکن ہے کہ صبر کے ذریعہ اللہ پاک اسے وہ چیز دے جو اس کے وہم و گمان میں بھی  نہ ہو۔
 مثلاً ایک شخص کو کسی سماج میں سیاسی طور پراپرہینڈ حاصل ہو اوراسی قسم کے دوسرے انسان کو کوئی ترجیح نہیں دی جا رہی ہو اور وہ صبرکرنے والا ہو تو بہت ممکن ہے خدا اسے یا اس کی آل اولاد کو کسی دوسری چیز پر ترجیح دے ۔ مثلاً اسے تجارت میں بہت آگے بڑھا دے، یا اس کی آل اولاد کو علم میں آگے بڑھا دے ، یا اس کے یہاں بزرگی اور نیکو کاری کو عام کردے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے خدااور رسول کے یہاں ترجیح مل رہی ہو۔ اس کے لئے حوض کوثر کو سجایا جا رہا ہو۔

آدمی کو اگر آدمی سے نہ ملے تو مایوسی کی بات نہیں ۔ بہت ممکن ہے کہ جس وقت وہ اپنے جیسے انسانوں کے ذریعہ ٹھکرا یا جا رہا ہو ٹھیک اسی وقت خدا کے یہاں اس کے حق میں فیصلے ہو رہے ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا کے یہاں چیزیں محرومی کی قیمت پرملتی ہیں۔ ایسا ممکن نہیں کہ ایک آدمی دنیا میں سب کچھ والا ہو اور وہ اپنے آپ کوآخرت میں بھی سب کچھ والا پائے۔ آدمی ایسا گمان کرسکتا ہے اور خدا کا فیصلہ انسانوں کے گمان پر نہیں ہوتا۔ خدا کا فیصلہ انسان کے اس رویہ پر ہوتا ہے جووہ کسی معاملہ میں اپنا تا ہے۔