جمعرات، 16 جنوری، 2014

When poverty becomes power

جب غریبی طاقت بن جاتی ہے

محمد آصف ریاض
میگھا لیہ کے ایک کرسچن مصنف مسٹرالبرٹ تھیرنیانگ  ( Albert Thyrniang)نے ایک مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے۔ "میگھالیہ آسام بن سکتا ہے"ـــــــ  Meghalaya could become Assam
مضمون میں شمال مشرقی ریاستوں میں مسلمانوں کے وجود کو خطرہ بتا یا گیا ہے۔ مضمون نگارشمال مشرقی ریاستوں میں عیسائی غلبہ کو برقرار رکھنے کے لئے تگ و دو کرتا ہوا نظرآتا ہے۔  وہ اس راہ میں مسلمانوں کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اوراسی لئے پریشان ہے۔ آسام سے جو غریب مسلمان میگھا لیہ مزدوری کے لئے جاتے ہیں وہ انھیں عیسائی میگھالہ کے لئے خطرہ بتاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی امیری سے خوفزدہ نہیں ہے، وہ ان کی غریبی سے خوفزدہ ہے۔ وہ لکھتاہے۔
" ہم اس بدنام کمیونٹی سے جو سبق حاصل کر سکتے ہیں وہ یہ کہ یہ بدنام کمیونٹی بہت زیادہ محنتی اور سخت جان ہوتی ہے۔ یہ لوگ کسی بھی حالت میں ترقی کرنے اور پنپنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ پائیدارعزم و حوصلہ کے حامل لوگ ہیں۔ وہ ہر جگہ ہر صورت حال میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ وہ سستے مزدوروں کا گروہ ہیں۔ وہ کوئی بھی کام کر سکتے ہیں۔ وہ چلچلاتی دھوپ اور بارش میں بھی کام کر سکتے ہیں۔ کمپنیاں اور فرمس انھیں اپنے یہاں مزدوربناتی ہیں کیوں کہ انھیں سستے مزدور مل جاتے ہیں۔ ان کے سامنے مزدوروں کے لئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ اور اس طرح وہ پوری ریاست میں پھیل رہے ہیں؛ ہم مقامی لوگوں کو اس سے سبق حاصل کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وقت ہمارے ہاتھ سےنکل جائے۔ مضمون نگارکے لفظوں میں:
One lesson that we can learn from these much maligned community is hard work. They flourish in extreme conditions. They have an endearing and enduring spirit. They can survive anywhere, anyhow. They are a source of cheap labour. They do any work. They work under the sun and under the rain. It's a big temptation for firms and companies, organizations and individuals to hire them. At times there is no option but to employ them. That's how they spread. We indigenous people have to learn before it is too late.
 مذکورہمضمون کو پڑھ کر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آگئی:
" قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا تو موسیٰ اوراس کی قوم کو چھوڑ دے گا کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اورتجھکو اور تیرے معبودوں کو چھوڑدیں۔ فرعون نے کہا کہ ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اوران کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے۔ اورہم ا ن پر پوری طرح قادر ہیں۔ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔"( سورہ الاعراف، آیت نمبر، 128-127)
مذکورہ آیت سے لوگوں کی ایذا رسانی کے مقابلہ میں نبیوں اوررسولوں کے صحیح رسپانس کا پتہ چلتا ہے۔ وہ یہ کہ نبی اور رسول کا یہ طریقہ نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کی سفاکیت اور ایذا رسانی کے طوفان کے جواب میں اسی قسم کا کوئی دوسرا طوفان اٹھا ئے۔

وہ لوگوں کو ظلم کے مقابلہ میں صبرو تحمل کی تلقین کرتا ہے۔ وہ یکطرفہ قتل عام کے جواب میں یکطرفہ صبرو تحمل کا رویہ اپنا تا ہے۔ وہ اپنا اور اپنے لوگوں کا معاملہ خدا وندکی طرف لوٹا دیتا ہے۔ وہ سادہ لفظوں میں بتاتا ہے کہ زمین اللہ کی ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ بائبل میں اسی بات کو اس طرح سمجھا یا گیا ہے:

 ”ا فسوس ہے تم پر کہ تم اپنا انعام پا چکے، افسوس ہے تم پرکہ تم کھا چکے ،اب تم فاقہ کرو گے ۔ افسوس ہے تم پر کہ تم ہنستے ہو ،عنقریب تم روﺅگے اور ماتم کرو گے
“But woe, unto you that are rich for you have received your consolation. Woe unto you that are full, for ye shall hunger. Woe unto you that laugh now! For ye shall mourn and weep". Luke 6:24-5
یہ ایک واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے غریبی اورامیری، دونوں رحمت ہے؛ جہاں ان کی امیری کام نہیں کرتی  وہاں ان کی غریبی کام کر جا تی ہے ، اور جہاں ان کی غریبی کام نہیں کر تی وہاں ان کی امیری کام کرجاتی ہے۔

جمعرات، 12 دسمبر، 2013

Maulana and Gandhi ji


مولانا آزاد اور گاندھی جی


محمد آصف ریاض
1942 میں جب کرپس مشن ناکام ہوگیا اور ملک پرجاپانی حملے کاخطرہ منڈلا نےلگا تو برٹش حکومت کو ہندوستانیوں کی طرف سے تشویش لاحق ہوئی۔ برٹش حکومت چاہتی تھی کہ ہندوستانی جاپان کے خلاف لڑیں۔
جاپان کے خلاف لڑائی میں برٹش حکومت ہندوستانیوں کی کھلی اورغیر مشروط حمایت چاہتی تھی۔ لیکن مولانا ابولکلام آزاد نے جواس وقت انڈین نیشنل کانگریس کے صدرتھے ہندوستان کی حمایت کوسوراج سے جوڑدیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جب تک ہندوستان کو پوری آزادی نہیں مل جاتی تب تک ہندوستان اس جنگ میں برٹش حکومت کا ساتھ نہیں دے گا۔
اس معاملہ میں گاندھی جی کا نظریہ مولانا اورجواہرلال کے برخلاف تھا۔ گاندھی جی سرے سے جنگ کے مخالف تھے۔ گاندھی جی کے برعکس مولانا اورجواہر لال کا ماننا تھا کہ آزادی اورجمہوریت کے لئے کوئی بھی قیمت چکائی جا سکتی ہے یہاں تک کہ جنگ کی قیمت بھی۔
تاہم کرپس مشن کی ناکامی کے بعد جب برٹش حکومت اورکانگریس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا تو مولانا ابولکلام آزاد کو یہ اندازہ ہوگیا کہ جنگ ناگزیر ہوچکی ہے اورجاپان کسی بھی وقت ہندوستان پرحملہ کرسکتا ہے، چنانچہ ہندوستان کو ایسی حالت میں ہاتھ پرہاتھ  دھر کر نہیں بیٹھنا چاہئے۔ ان کا ماننا تھا کہ جاپان چاہے گا کہ بنگال پر قبضہ کر لے اور اگر جاپان یہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو پھر صورت حال یہ ہوگی کہ ایک مالک کی رخصتی کے بعد ہندوستان کے سر پر دوسرا مالک مسلط ہوجائے گا جو پہلے سے زیادہ جریح طاقتور اور نقصاندہ ہوگا۔
"میں سمجھتا تھا کہ یہ بات ناقابل برداشت ہوگی کہ پرانے مالکوں کو نئے مالکوں سے بدل لیا جائے۔ در اصل یہ ہمارے مفادات کے لئے کہیں زیادہ نقصان دہ ہوگا اگر ایک نئے اور تازہ دم فاتح نے اس پرانی حکومت کی جگہ لے لی، جو وقت کے ساتھ ساتھ مضمحل ہوچکی تھی اور جس کی گرفت بتدریج کمزور پڑ رہی تھی ۔ مجھے یقین تھا کہ جاپانیوں کی جیسی ایک نئی شہنشایت (امپریلزم) کو نکال کر باکرنا کہیں زیادہ دشوار ہوگا۔" (آزادی ہند ، مولانا ابوالکلام، 97)
مولانا نےاس صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایک  منصوبہ بنا یا تھا۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ اگر جاپانی فوج حملہ آور ہوتی ہے اور برٹش فوج پیچھے ہٹتی ہے تو کانگریس آگے بڑھ کر ملک کے کنٹرول پر قبضہ جمالے گی۔ مولانا کے لفظوں میں:
"میرے ذہن میں یہ اسکیم تھی کہ جیسے ہی جاپانی فوج بنگال پہنچے اور برطانوی فوج بہار کی طرف پیچھے ہٹے کانگریس کو آگے بڑھ کر ملک کے کنٹرول پر قبضہ جمالینا چاہئے۔ اپنے رضاکاروں کی مدد سے، اس سے پہلے کہ جاپانی اپنے قدم جما سکیں بیچ کے وقفے میں ہمیں اقتدار پر قابض ہوجانا چاہئے۔"
مولانا کے اس خیال سے گاندھی جی متفق نہیں ہوئے۔ گاندھی جی اس معاملہ کو ایک دوسرے ہی نظریہ سے دیکھ رہے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ "اگر جاپانی فوج ہندوستان آہی گئی تو وہ ہمارے دشمن کے طور پر نہیں انگریزوں کے دشمن کے طور پر آئے گی۔"  مزید جاننے کے لئے پڑھئے India wins freedom
اس معاملہ پر گاندھی جی اور مولانا کے درمیان اختلاف اتنا گہرا ہوگیا کہ 7 جولائی کو گاندھی جی نے مولانا کے پاس ایک خط بھیجا۔ اس خط میں گاندھی جی نے واضح کردیا کہ "ہمارا موقف اس قدر مختلف ہے کہ ہم ساتھ کام کر ہی نہیں سکتے۔ اگرکانگریس چاہتی ہے کہ گاندھی جی تحریک کی قیادت کریں تو مجھے صدارت سے مستعفی ہونا پڑے گا اور ورکنگ کمیٹی کے عہدے سے بھی مستعفی ہونا ہوگا اور جواہر لال کو بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔"
ابولکلام نے اس خط کو جواہر لال نہرو کو دکھا یا اسی دوران سردار پٹیل بھی پہنچ گئے، انھیں بھی خط دکھا یا گیا۔ پٹیل کو یہ خط پڑھ کر کافی صدمہ ہوا اور وہ فورا بھاگ کر گاندھی جی کے پاس پہنچے اور بتا یا کہ اگر مولانا ورکنگ کمیٹی اور کانگریس کی صدارت سے مستعفی  ہوگئے اور جواہر لال نے بھی یہی کیا تو "اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ نہ صرف یہ کہ عوام میں ابتری پیدا ہوگی بلکہ کانگریس کی بنیادیں کانپ اٹھیں گی۔"
گاندھی جی نے اسی دن مولانا کو بلوایا اور ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی ۔ اس موقع پر گاندھی جی نے ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے واضح کیا کہ  یہ خط انھوں نے جلد بازی میں لکھا تھا اور اب وہ اسے واپس لیتے ہیں۔ میٹنگ میں پہلی بات جو گاندھی جی نے کہی وہ یہ تھی " گناہ گارنادم ہوکر مولانا کے پاس آیا ہے۔"( آزادی ہند ، مولانا ابوالکلا، صفحہ 70(
یہ ایک  واقعہ  ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آدمی اگر دانا اور ہوشیار ہو، وہ چیزوں کی پوری سمجھ رکھتا ہو اور صاحب بصیرت بھی ہو، نیز تمام تعصبات سے اوپراٹھ کراقدام کرتا ہو، تو دنیا میں کوئی بھی شخص اتنا مضبوط نہیں جو اسے اس کے عہدے سے ہٹا دے، یہاں تک کہ گاندھی بھی نہیں۔

پیر، 9 دسمبر، 2013

Will without wisdom


علمی استعداد کی کمی نا کہ عزم کی کمی

محمد آصف ریاض
اسرارعالم اردو کے مصنف ہیں ۔ 2013 میں ان کی ایک کتاب مسلم  یونیورسٹی ـ علی گڑھ تحریک  سے متعلق شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نام " سرسید کی بصیرت " ہے۔ اپنی اس کتاب میں مصنف نے علی گڑھ مسلم  یونیورسٹی کے موجودہ نظام کوچیلنج کرتے ہوئے وہاں ریڈیکل چینج لانے کی تجویز پیش کی ہے۔
اس کتاب میں مصنف نے بہت سی ایسی باتیں لکھیں ہیں جن سے آپ اتفاق کر بھی سکتے ہیں اورنہیں بھی کر سکتے۔ یہاں میں ان کے اس خیال سے بحث کروں گا:
" ہندوستان میں عام  طور پر مسلمانوں کے مابین یہ شور سنائی دیتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس علمی استعداد کی کمی ہے اس لئے انھیں مواقع Opportunities) ) میسر نہیں۔ اس کے برعکس تاریخ بالکل ہی مختلف بات کہتی ہے۔ مسلمان بے عزم ہیں اس لئے ان کے یہاں علمی استعداد پائی نہیں جاتی۔" (سر سید کی بصیرت؛ مصنف اسرار عالم؛ صفحہ 25)
مصنف نے بے عزمی کو علمی استعداد کے فقدان کا سبب بتا یا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اپنے اس ریمارک کے سپورٹ میں انھوں نے کوئی تاریخی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ اگر تاریخ یہ بات کہتی ہے جیسا کہ اوپرکے اقتباس سے واضح ہے تو مصنف کو تاریخ سے شواہد پیش کرنا چاہئے تھا۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے ہیں۔ تاریخ کے حوالے سے مصنف نے جو بات کہی ہے اس کا ذکر تاریخ میں کہیں موجود نہیں البتہ ایک برعکس صورت نظر آتی ہے۔ یعنی یہ کہ "مسلمان علمی استعداد نہیں رکھتے اس لئے انھیں مواقع میسرنہیں۔"
صحیح بات یہ نہیں ہے کہ علمی استعداد عزم کا مرہون منت ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ عزم علمی استعداد کا مرہون منت ہے۔ آدمی کے اندر عزم اسی وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ اس کے اندر علمی استعداد پیدا ہو۔ علمی استعداد سے خالی شخص عزم اور قوت ارادی سے خالی ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں عزم علمی استعداد کا محتاج ہے نا کہ علمی استعداد عزم کا محتاج ۔ علمی استعداد کے ذریعہ آدمی اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لے کرصحیح فیصلہ تک پہنچتا ہے۔ عزم کے ذریعہ آدمی بندروں کی طرح چھلانگ تو لگا سکتا ہے لیکن وہ کوئی بامعنی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ عزم کے ذریعہ صرف طوفان اٹھا یا جا سکتا ہے لیکن اس طوفان کو اپنے حق میں نہیں کیا جا سکتا۔ طوفان کو اپنے حق میں کرنے کے لئے علمی استعداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ مسلمان بے عزم ہیں اسی لئے ان کے اندرعلمی استعداد پائی نہیں جاتی۔
اگرآپ تاریخ کا جائزہ لیں تو پائیں گے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ جوش و ولولہ اور عزائم سے بھری رہی ہے۔ پلاسی کی جنگ ((15 57   سے لے کر 57 18 کی بغاوت اور پھر 1947  تک کا زمانہ مسلمانوں کے عزم وہ حوصلہ کا واضح ثبوت ہے۔ مزید جاننے کے لئے پڑھئے تاریخ تحریک آزادی ہند، ڈاکٹرتارا چند۔
تاریخ کی روشنی میں ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان کبھی بھی عزم سے خالی نہیں رہے، البتہ ان کے یہاں ہر دور میں علمی استعداد کی کمی پائی گئی ہے اور ہر دور میں مسلمان اس کمی کی قیمت چکا تے رہے ہیں۔

جمعرات، 5 دسمبر، 2013

They are even more misguided

یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں

محمد آصف ریاض
تین دسمبر 2013 کو رات گیارہ بجے میں اپنے بسترپر گیا۔ بسترپرجاتے ہی میں نے لائٹ آف کردی۔ پھردیکھتے ہی دیکھتے میرے جسم کےاعضا سلیپنگ موڈ میں چلے گئے اورکب میں نیند میں چلا گیا مجھے یاد نہیں۔ ساڑھے چار بجے صبح جب میری نیند ٹوٹی تودیکھا کہ صبح کی سفیدی آسمان پر نمودار ہورہی ہے۔
نیند پرآدمی کو قابو نہیں۔ نیند آتی ہے توجسم کے تمام اعضا سلیپنگ موڈ میں چلے جاتے ہیں۔ پھر جب آد می نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اپنے آپ کو توانا اور پہلے سے زیادہ پر سکون اور قوی محسوس کرتا ہے۔
قرآن میں اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا "اورہم نے تمہارے لئے نیند کو باعث سکون بنایا۔"
صبح اٹھ کر میں سوچ رہا تھا کہ رات کی تاریکی سے نکل کرمیں دن کی روشنی میں کس طرح آگیا؟ کون تھا جو مجھے نہایت سبک رفتاری کے ساتھ رات کی تاریکی سے اٹھا کردن کی روشنی میں لے آیا ؟ کیا میں خود بخود یہاں پہنچ گیا؟ یا حالات نے مجھے یہاں پہنچا دیا؟
نہیں؛ میں یہاں از خود نہیں پہنچا تھا بلکہ ایک مستحکم نظام کے تحت مجھے یہاں پہنچا یا گیا تھا۔ رات کی تاریکی سے دن کے اجالے تک پہنچنے میں زمین و آسمان نے اپنا کردارادا کیا تھا۔
جب میں رات میں نیند کی آغوش میں گیا تواس وقت زمین تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی پھراس نے سورج کی روشنی کی جانب سفر کیا اور یہ سفر مسلسل کئی گھنٹوں تک جاری رہا یہاں تک کہ زمین نامی گاڑی نے مجھے اندھیرے اسے اٹھا کر روشنی میں پہنچا دیا۔ اسی بات کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: توہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں (تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ
آدمی سونے کو اور جاگ اٹھنے کو فار گرانٹیڈ لیتا ہے۔ نیند اور بیداری ، دن اور رات کی شکل میں انسان کے سامنے ہر روز ایک ہیبتناک قسم کا معجزہ ہوتا رہتا ہے تاکہ انسان اس سے عبرت حاصل کرے لیکن انسان ہے کہ وہ اس پرغور نہیں کرتا وہ اسے فار گرانٹیڈ لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اسی طرح ہمیشہ سوتا اور جاگتا رہے گا۔ حلانکہ انسان پرایک دن آنے والا ہے جبکہ وہ سوئے گا توپھرجاگ نہ سکے گا اور یہ وقت اس کے باپ دادائوں پر پہلے ہی آچکا ہے۔ تو کیا وہ انھیں اپنے ارد گرد پاتے ہیں؟ اسی طرح ایک دن وہ بھی اس دنیا میں نہیں پائے جائیں گے۔
خدا وند انسان کو ہرروزنیند کی حالت میں لے جاتا ہے تاکہ نیند کا تجربہ کر کے انسان کو اپنی موت پر یقین آجائے۔ اسی طرح خدا وند ہر روز انسان کو نیند سے جگا رہا ہے تاکہ انسان کو معلوم ہوجائے کہ اسی طرح موت کے بعد وہ زندہ کیا جائے گا۔ لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ نہ تو انسان نیند سے کچھ سیکھ رہا ہے اور نہ نیند سے جاگ اٹھنے سے وہ  کوئی سبق حاصل کر رہا ہے۔
انسان کو دل اور دماغ دیا گیا ہے تاکہ خدائی واقعات کے رسپانس میں وہ ان کا استعمال کرے لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خدائی نشانیوں کے معاملہ میں اندھا اور بہرہ بنا ہوا ہے۔ اور بلا شبہ انسان کو ایک دن اپنے اندھے اور بہرے پن کی سزا کاٹنی ہوگی۔ قرآن کا ارشاد ہے:
"ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں،ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں، وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔" 7:179))

جمعہ، 29 نومبر، 2013

Stone walls do not a prison make, No iron bars a cage,


اگر میری محبت اور میرا دل آزاد ہے، تو سمجھو کہ میں آزاد ہوں!


محمد آصف ریاض

ریچرڈ لوئس (1657-1618) سترہویں صدی کا معروف انگریزی شاعرتھا۔ اسے آج سے تقریباً ڈھائی سوسال قبل جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا تھا۔ وہاں اس نے وہ شاہکار نظم تحریر کی جو پوری انگریزی دنیا میں دیکھتے ہی دیکھتے مشہور ہوگئی۔ اس نظم کا ایک بند یہ ہے:

پتھر کی دیواریں جیل خانے تعمیر نہیں کرتیں،
اور نہ ہی لوہے سے قفس تیار ہوتےہیں،
نیکوکار اور پاکیزہ صفت انسان اسے راہبوں کی کٹیا سمجھتے ہیں،
اگرمیری محبت اور میرا دل آزاد ہے تو سمجھو میں آزاد ہوں،
لیکن اس طرح کی آزادی سے صرف آسمان کے فرشتے ہی لطف اندوز ہوتے ہیں۔

Stone walls do not a prison make,
No iron bars a cage,
The spotless mind, and innocent,
Calls that a hermitage,
If i have freedom in my love,
And in my soul am free,
Angels alone that are above,
Enjoy such liberty.

میں لوئس کی اس بات کو درست سمجھتا ہوں۔ خدا وند نے جب اس دنیا کی تخلیق کی تو کہیں کوئی دیوارتعمیر نہیں کی اور نہ ہی کوئی قید خانہ تعمیر کیا۔ اس نے آنسان کو آزاد پیدا کیا اور پوردی دنیا کواس کے لئے پھیلا دیا۔ تاہم انسان نے پتھر کے بڑے بڑے جیل خانے تعمیر کئے اور انسانی جانوں کو اس میں مقید کردیا۔ انسان نے لوہے کی زنجیریں بنائیں اور انسانیت کو اس میں جکڑ دیا، اس حقیقت کے با وجود کہ خدا وند نے انسان کو آزاد پیدا کیا تھا۔

خلیفہ دوم حضرت عمر نے اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ تاریخی جملہ کہا تھا جو تاریخ کی کتابوں میں آج بھی ان الفاظ میں محفوظ ہے: " تم نے کب سے انسانوں کوغلام بنا لیا حالانکہ ان کی مائوں نے انھیں آزاد پیدا کیا تھا۔"
حضرت عمر کے اس قول کی بازگشت جین جیکس روسو(1778-1712) کے اس قول میں ہزار سالوں کے بعد سنی گئی:

"انسان آزاد پیدا ہوا تھا لیکن ہر طرف وہ زنجیروں ميں جکڑا ہوا ہے۔"


Man is born free; and everywhere he is in chains
حقیقت یہ کہ خدا وند نے انسان کو آزاد پیدا کیا۔ لیکن انسان ہے کہ وہ زمین پر ایک دوسرے کو زنجیروں میں جکڑ رہا ہے اور بعض کو پس زنداں کر دیتا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا میں کوئی زنجیر ایسی نہیں جو حقیقی انسان کو جکڑ لے، اور کوئی دیوارایسی نہیں جو کسی زندہ دل انسان سے اس کی آزادی کو چھین لے۔

آزادی اور غلامی در حقیقت دل کی آزادی اورغلامی کا نام ہے۔ دل آزاد ہے تو انسان آزاد ہے اور دل غلام ہے تو انسان غلام۔ دل کی طاقت کا نام آزادی ہے اور دل کی کمزوری کا نام غلامی۔ یہی وہ بات ہے جسے لوئس نے ان الفاظ میں سمجھا نے کی کوشش کی ہے۔:
" اگرمیری محبت اور میرا دل آزاد ہے تو سمجھو میں آزاد ہوں،"

منگل، 26 نومبر، 2013

Faith is not about total surrender of mind, it is about total use of mind

شکر کے آئٹم کی دریافت

محمد آصف ریاض
قرآن کی سورہ یوسف میں حضرت یوسف کا قصہ بیان ہواہے۔ قرآن میں اس قصہ کواحسن القصص یعنی بہترین اسٹوریThe best story) ) کہا گیا ہے۔ یہ بہترین اسٹوری کیا ہے؟
یہ بہترین اسٹوری کمزوری سے طاقت، گمنامی سے شہرت اورنفرت کے جواب میں محبت اورکامل خیرخواہی کی اسٹوری ہے۔ یہ اسٹوری اپنے مربی کے ساتھ وفا شعاری اور انتہائی حسن سلوک کی اسٹوری ہے۔ یہ اسٹوری رنج وغم کے پہاڑکے سامنےامید وں کا ایک طوفان اٹھا نے کی اسٹوری ہے۔ یہ اسٹوری حکمت اوروزڈم کی اسٹوری ہے۔ یہ اسٹوری صبرکے ساتھ زندگی کا سفر جاری رکھنے کی اسٹوری ہے ۔ یہ اسٹوری ناکامی سے کامیابی نچوڑنے کی اسٹوری ہے۔ یہ اسٹوری بتاتی ہے کہ آدمی کہیں بھی ہو، کسی بھی حال میں ہو، اسے خدا وند پر ہرحال میں بھروسہ رکھنا چاہئے اسے کسی  بھی حال میں امید کا دامن نہیں چھوڑنا ہے۔
یوسف کا قصہ
کنعان کا یہ ننھا سا لڑکا یوسف اپنے باپ یعقوب کے دل کی دھڑکن ہے، اوراسی لئے اس کے بھائی اس سے حسد کرتے ہیں۔ یوسف ایک خواب دیکھتا ہے، یہ خواب اسے اپنے باپ کی نظروں میں اورمحبوب بنا دیتا ہے۔ یوسف کے بھائی جارحیت پراترآتے ہیں اوروہ اسےجنگل کےاندھیرے کوئیں میں مرنے کے لئے دھکیل دیتے ہیں۔ یوسف مدین سے مصر جانے والے قافلہ کے ہاتھ لگ جاتاہے، پھرمصر کے بازارمیں غلام کی حیثیت سے فروخت کیا جا تا ہے۔ یہاں یوسف کوعزیرکے گھرمیں بیٹا بنا کررکھا جا تا ہے، اسی گھرمیں وہ عزیز کی بیوی زلیخا کے مکرکا شکارہوتا ہے جبکہ وہ یوسف کواندھیرے کمرے میں بند کرلیتی ہے اورکہتی ہے کہ آجا۔ یوسف معاذ اللہ کہتے ہوئے بھاگ کھڑاہوتا ہے۔ اب زلیخہ اور مصر کے اونچے گھرانے کی عورتیں اپنی چال چلتی ہیں اور یوسف کو جیل میں بندکراد یتی ہیں ۔ جیل میں دوقید یوں کے خواب کا واقعہ پیش آتا ہے اوریوسف ان کے خواب کی سچی تعبیربتا دیتے ہیں۔ اب مصرکے بادشاہ کے خواب دیکھنےکا واقعہ پیش آتا ہے۔ بادشاہ کو یوسف کے بارے میں علم ہوتا ہے اوروہ یوسف سےاپنا خواب بیان کرتا ہے۔ یوسف خواب کی تعبیربیان کرکے بادشاہ کو مشکل حالات سے بچائو کی ترکیب بتا تا ہے۔ بادشاہ یوسف کےعلم سے بہت زیادہ متاثرہوتا ہے اور انھیں اپنے خزانے کا مالک بنا دیتا ہے۔
یوسف کی بردباری
کنعان کے یعقوب کا ننھا سا لڑکا نشیب و فرازکی مختلف راہوں سے گزرتاہوا،ایک طویل سفرکے بعد مصرکاعملاً بادشاہ بن جا تا ہے اوراپنے بھائیوں کی جارحیت کو یکطرفہ طورپرمعاف کردیتا ہے، یوسف کی خیر خواہی سے متاثر ہوکراس کے سارے برادران اس کے آگے جھک جاتے ہیں۔ اس طرح یوسف کا وہ خواب پورا ہوتا ہے جسے انھوں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں سورہ یوسف۔
اسٹوری کا خاتمہ
اس بہترین اسٹوری کا خاتمہ قرآن کے بیان کےمطابق ان الفاظ پرہوتاہے۔
" اے میرے پروردگارتونے مجھے ملک عطا فرمایا، اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلا ئی ، اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی اورکارساز ہے، تو میرا خا تمہ اسلام  پر کر اور مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔" (12:101)
یوسف کی زبان پرشکراور دعا کے یہ الفاظ کس طرح جاری ہوئے؟ یوسف نے اپنے دماغ کو بہت زیادہ متحرک  کیا۔ انھوں نے سوچا کہ وہ کس طرح بچپن میں عام بچوں کی طرح کنعان میں اپنے گھرمیں اپنے گیارہ بھائیوں اوروالدین کے ساتھ رہا کرتے تھے ، پھرخواب دیکھنے کا واقعہ پیش آیا، باپ نے یہ خواب بھائیوں کوبتانے سے منع کردیا۔ پھر بھائی غضبناک ہوگئے اورانھوں نے جنگل کے ایک کوئیں میں مرنے کے لئے دھکیل دیا۔ وہ تین دن تک اسی تاریک کوئیں میں پڑے رہے، پھر قافلہ والوں نے انھیں مصر کے بازارمیں فروخت کردیا پھرزلیخہ کا سامنا ہوا اورجیل جا نا پڑا، پھرقیدیوں نے خواب دیکھا اورپھر بادشاہ کے خواب کا واقعہ پیش آیا۔ بادشاہ اپنے خواب کی تعبیرسن کرخوش ہوااوراس نے انھیں مصرکاعملاً بادشاہ بنا دیا۔ یہ سب سوچ کر یوسف کے دل و دماغ میں ایک ابال پیدا ہوگیا اور یہی ابال مذ کورہ دعا اورشکرکی شکل میں آپ کی زبان سے جاری ہوگیا۔
یوسف کوکنعان سے مصرتک پہنچنےمیں ایک زمانہ لگا تھا لیکن یوسف نے ایک ایک واقعہ کوچن چن کر یاد کیا۔ یوسف نے کنعان سے مصرتک کے سفرکی تمام مصائب  کو سوچا۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے شکر کے ایک ایک آئٹم کو دریافت کیا اورجب مائنڈ بہت زیادہ ایکٹیو ہو گیا تو آپ کی زبان پردعا اورشکرکے وہ الفاظ جاری ہوگئے جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔" انت ولی فی الدنیا والآخرۃ " یعنی ' تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا والی اور مددگار ہے، تونے مجھے ملک عطا فرمایا اور مجھے خواب کی تعبیر سکھائی'۔
خدا وند کا مطلوب انسان
یہ واقعہ بتا رہا ہےکہ خدا وند زمین پرکیسا انسان چاہتا ہے۔ وہ زمین پرتفکیری انسان دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ایسا انسان دیکھنا چاہتا ہے جواپنے دماغ کو ہمیشہ متحرک رکھے۔ خدا وند چاہتا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے دماغ کو ایکٹیویٹ کرتا رہے اورکائنات میں پھیلے شکر کے ایک ایک آئٹم کو دریافت کرے تاکہ اس کا سارا وجود ربانی شکرکے احساس میں نہاجائے۔
شکرکے آئٹم کی دریافت
یوسف کے قصہ کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے ہم نے  "شکرکے آئٹم کی دریافت"  کا نام دیا ہے۔
معروف نغمہ نگاراورسماجی  کارکن جاوید اخترنےاپنے ایک حالیہ ٹیوٹ میں یہ الفاظ لکھے تھے:
I am against "faith" because it needs total surrender of mind”
یعنی میں ایمان  کے خلاف ہوں کیوں کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ پورے دماغ کو سرینڈر کردیا جائے۔
میں نےاس کے جواب میں انھیں لکھا:
Faith is not about total surrender of mind, it is about total use of mind
یعنی ایمان کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے پورے دماغ کوسرینڈرکردیں۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنے"دماغ کا بھرپور استعمال" کریں۔ ایمان آپ کے دماغ کا پورا استعمال چاہتا ہےناکہ پورا سرینڈر۔ میرا جواب دیکھ کرانھوں نے اپنے ٹیوٹ کو ڈلیٹ کردیا۔
خدا کا دین انسان سے 'ٹوٹل یوزآف مائنڈ' چاہتا ہے، لیکن انسان ہے کہ وہ اس کی قیمت چکانےکےلئےتیارنہیں۔ وہ کسی بھی حال میں سوچنا نہیں چاہتا اوراسی لئے اسے شکرکا کوئی آئٹم بھی دریافت نہیں ہوپاتا۔
ہرانسان کی زندگی میں شکرکے بے پناہ آئٹم ہوتے ہیں۔ ہرانسان کنعان سے مصر کا سفرکرتا ہے، لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ اس میں یوسف بہت کم بن پاتے ہیں زیادہ تر لوگ فرعون اور شداد بنے رہتے ہیں۔
انسانی زندگی میں شکر کے آئٹم

انسانی زندگی میں شکرکےبے پناہ آئٹم موجود ہوتے ہیں۔ یہ آئٹم انسان پراس وقت کھلتے ہیں جب کہ انسان دماغ کوکام میں لاکراس پر بہت زیادہ غوروخوض کرے۔ مثلاً انسان معجزاتی ڈھنگ سے پیدا ہواہے وہ سوچے کہ ماں کے پیٹ میں کس طرح اس کی صورت گری ہوئی ۔ انسان معجزاتی اندازمیں بولتا ہے، وہ سوچے کہ کس طرح زمین پراس کا بولنا ممکن ہورہاہے، وہ سوچے کہ جب وہ پیدا ہوا تھا توکتنا کمزورتھا پھررفتہ رفتہ کس طرح وہ طاقت والا بن گیا۔ وہ سوچے کہ درختوں سے اسے پھل، خوشبو، پھول اورآکسیجن حاصل ہوتے ہیں، حالانکہ  سارے درخت ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اورسب پرمختلف رنگ کے پھول اور پھل آتے ہیں۔ زمین پر یہ حیران کن واقعہ کس طرح پیش آرہا  ہے۔ وہ سوچے کہ خدا وند زمین وآسمان کو سرگرم عمل کرکےاس کے لئے کس طرح آب و ہوا  اورآکسیجن کا انتظام کررہا ہے۔ جب انسان اپنے مائنڈ کو بہت زیادہ ایکٹیویٹ کرے گا تووہ اپنی زبان پربھی شکراوردعا کے وہی الفاظ پائے گا جو یوسف کی زبان پرعالم  بے تابی  میں جاری ہو گئے تھے۔

پیر، 25 نومبر، 2013

Too much politics is harming Indian Muslims


ہندوستانی مسلمان حد سے زیادہ سیاسی انہماک کی قیمت چکا رہے ہیں

محمد آصف ریاض
بدرالدین طیب جی (1906-1844) کانگریس کے پہلے مسلم صدرتھے۔ آپ کا تعلق ممبئی کے ایک با اثرمسلم گھرانے سے تھا۔ آپ 1887 میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدرمنتخب ہوئے۔ 1895 میں طیب جی نے کانگریس اوردیگرتمام سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیارکر لی کیونکہ اس سال وہ ممبئی ہائی کورٹ کے جج بنا دئے گئے تھے۔ طیب جی مسلمانوں کی تعلیمی اورسماجی خدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔  ممبئی میں انجمن اسلام کا قیام ان کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھاجاتاہے۔
زندگی کے آخری ایام میں انھیں یہ دیکھ کر وحشت ہونے لگی تھی کہ پورا ہندوستان تعلیمی، معاشی اور سماجی میدان کو چھوڑکرسیاسی میدان میں اترآیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
"مجھے یہ دیکھ کر وحشت سی محسوس ہونے لگتی ہے کہ ہندوستان کے نوجوانوں نے اپنی توجہات کو خالصتاً سیاست پر مرکوز کردیا ہے اور انھیں تعلیم اور سماجی اصلاح کی زیادہ  پرواہ  نہیں ہے۔ میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری بہتری اور ترقی اس امر میں پو شیدہ نہیں ہے کہ ہم اپنی تمام تر توجہات کو ایک ہی سمت میں مرکوز کردیں ۔ ہمیں تو چاہئے کہ آج ہم جتنی محنت اپنی سیاسی حالت کو سدھارنے کے لئے کر رہے ہیں اسی کے ساتھ ساتھ اتنی ہی محنت اپنی تعلیمی اورسماجی حالت کوسدھارنے کے لئے بھی کریں۔ اگر ہمارے ہم وطنوں کی بہت بڑی تعداد جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی رہے تو خواہ ہم مل جل کر ایک نمائندہ  قسم کی حکومت کے لئے کتنی ہی جد جہد کیوں نہ کرلیں اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔"
) ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کا عروج ، ڈاکٹر رفیق زکریا، صفحہ 464 (
بدرالدین طیب جی ایک دانا اوردور اندیش لیڈرتھے۔ انھوں نے اپنی دور اندیشی سے سمجھ لیا تھا کہ ہندوستانی قوم سیاست میں حد سے زیادہ انہماک کی وجہ سے زندگی کے دوسرے میدان میں بری طرح پچھڑ جائے گی اور واقعتاً وہی ہوا۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ آزادی کے ساٹھ سال بعد بھی ہم یہ اعلان کررہے کہ 26 روپے کمانے والا غریب نہیں ہے اور حالت یہاں تک پہنچی ہے کہ ہمیں اپنی ساٹھ فیصد آبادی کو رائٹ ٹو فوڈ دینا پڑرہا ہے۔
اب تاریخ سے ایک مثال لیجئے۔ ہندوستان کی آزاد ی کے بہت بعد جاپان امریکہ کی غلامی سے آزاد ہوا۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے جاپان دنیا کے بازار پر چھا گیا اورامریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کرابھرا۔ یہاں تک کہ امریکہ میں اس طرح کی کتابیں نظرآنے لگیں کہ کیا امریکہ جاپان کے پاکٹ میں ہے؟
Is America in Japan's pocket?
جاپان ہندوستان سے آگے کیوں نکل گیا ؟ کیونکہ جاپانی سیاست میں اس طرح منہمک نہیں ہوئے جس طرح ہندوستانی منہمک نظر آتے ہیں۔ جاپانیوں نے اپنی توانائی کو سیاست کے بجائے معیشت اورتعلیم کے فروغ پرصرف کیااورنتیجہ کار کامیاب ہوئے۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ
ہندوستان میں مسلمانوں کی سماجی، معاشی اورتعلیمی حالت پر سروے کرنے والی سچرکمیٹی ،اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کرتی ہے کہ ہندوستانی مسلمان تعلیمی، معاشی، سماجی اورحفظان صحت کے میدان میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں۔ یہ کیوں ہوا؟ کیا یہ حکومت نے کرادیا؟ نہیں، ہرگزنہیں۔
کوئی حکومت اتنی طاقتور نہیں کہ وہ اپنے ہی ملک کو پیچھے لے جائے۔ یہ اس لئے ہوا کیوں کہ ہندوستانی مسلمانوں نے بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا۔ نیز یہ کہ وہ حد سے زیادہ سیاست میں منہمک ہوگئے۔ ان کا حال یہ ہے کہ ان کا پڑھا لکھا بھی سیاست میں سرگرم ہے اور جاہل بھی۔ ان کے سیکولرلوگ بھی سیاسی دھوم مچا رہے ہیں اورمذہبی لوگ بھی۔ ان کے مالدار لوگ بھی سیاست کے میدان میں اتر آئے ہیں اورفقرا بھی ۔ مسلمانوں میں جسے بھی دیکھئے ہر ایک کسی نہ کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں ملوث ہے اور یہی ان کی بربادی کا سبب ہے۔
اب میں آپ کو آج کی دنیا سے ایک مثال دوں گا جس سے پتہ چل جائے گا کہ سیاست میں حد سے زیادہ انہماک کس قدر خطرناک ہوتاہے۔

سید شہاب الدین (پیدائش 1935 ) ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان ایک بڑا سیاسی نام ہے۔ وہ کئی بڑے عہدے پر فائز رہے اور رکن پارلیمنٹ بھی منتخب ہوئے۔ وہ شاہ بانو کیس اور بابری مسجد شہادت کے معاملہ میں ہندوستانی مسلمانوں کے ہیرو بن گئے اور پھر پوری طرح سیاست میں غرق ہوگئے۔ سیاست میں حد سے زیادہ انہماک کی وجہ سے وہ کوئی سماجی، معاشی یا تعلیمی کام انجام نہیں دے سکے۔ ان کی پوری توانائی محض سیاسی شورشرابے میں صرف ہو گئی۔ وہ قوم کو کوئی ایسی چیز نہ دے سکے جو قوم کے لئے کار آمد ہو۔ وہ خود بھی مایوس ہوئے اور قوم بھی ان سے مایوس ہوئی۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ سیاست میں حد سے زیادہ منہمک ہوگئے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے پچھڑنے کا سبب بھی یہی ہے یعنی  سیاست میں حد سے زیادہ انہماک ہے۔