پیر، 9 دسمبر، 2013

Will without wisdom


علمی استعداد کی کمی نا کہ عزم کی کمی

محمد آصف ریاض
اسرارعالم اردو کے مصنف ہیں ۔ 2013 میں ان کی ایک کتاب مسلم  یونیورسٹی ـ علی گڑھ تحریک  سے متعلق شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نام " سرسید کی بصیرت " ہے۔ اپنی اس کتاب میں مصنف نے علی گڑھ مسلم  یونیورسٹی کے موجودہ نظام کوچیلنج کرتے ہوئے وہاں ریڈیکل چینج لانے کی تجویز پیش کی ہے۔
اس کتاب میں مصنف نے بہت سی ایسی باتیں لکھیں ہیں جن سے آپ اتفاق کر بھی سکتے ہیں اورنہیں بھی کر سکتے۔ یہاں میں ان کے اس خیال سے بحث کروں گا:
" ہندوستان میں عام  طور پر مسلمانوں کے مابین یہ شور سنائی دیتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس علمی استعداد کی کمی ہے اس لئے انھیں مواقع Opportunities) ) میسر نہیں۔ اس کے برعکس تاریخ بالکل ہی مختلف بات کہتی ہے۔ مسلمان بے عزم ہیں اس لئے ان کے یہاں علمی استعداد پائی نہیں جاتی۔" (سر سید کی بصیرت؛ مصنف اسرار عالم؛ صفحہ 25)
مصنف نے بے عزمی کو علمی استعداد کے فقدان کا سبب بتا یا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اپنے اس ریمارک کے سپورٹ میں انھوں نے کوئی تاریخی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ اگر تاریخ یہ بات کہتی ہے جیسا کہ اوپرکے اقتباس سے واضح ہے تو مصنف کو تاریخ سے شواہد پیش کرنا چاہئے تھا۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے ہیں۔ تاریخ کے حوالے سے مصنف نے جو بات کہی ہے اس کا ذکر تاریخ میں کہیں موجود نہیں البتہ ایک برعکس صورت نظر آتی ہے۔ یعنی یہ کہ "مسلمان علمی استعداد نہیں رکھتے اس لئے انھیں مواقع میسرنہیں۔"
صحیح بات یہ نہیں ہے کہ علمی استعداد عزم کا مرہون منت ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ عزم علمی استعداد کا مرہون منت ہے۔ آدمی کے اندر عزم اسی وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ اس کے اندر علمی استعداد پیدا ہو۔ علمی استعداد سے خالی شخص عزم اور قوت ارادی سے خالی ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں عزم علمی استعداد کا محتاج ہے نا کہ علمی استعداد عزم کا محتاج ۔ علمی استعداد کے ذریعہ آدمی اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لے کرصحیح فیصلہ تک پہنچتا ہے۔ عزم کے ذریعہ آدمی بندروں کی طرح چھلانگ تو لگا سکتا ہے لیکن وہ کوئی بامعنی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ عزم کے ذریعہ صرف طوفان اٹھا یا جا سکتا ہے لیکن اس طوفان کو اپنے حق میں نہیں کیا جا سکتا۔ طوفان کو اپنے حق میں کرنے کے لئے علمی استعداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ مسلمان بے عزم ہیں اسی لئے ان کے اندرعلمی استعداد پائی نہیں جاتی۔
اگرآپ تاریخ کا جائزہ لیں تو پائیں گے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ جوش و ولولہ اور عزائم سے بھری رہی ہے۔ پلاسی کی جنگ ((15 57   سے لے کر 57 18 کی بغاوت اور پھر 1947  تک کا زمانہ مسلمانوں کے عزم وہ حوصلہ کا واضح ثبوت ہے۔ مزید جاننے کے لئے پڑھئے تاریخ تحریک آزادی ہند، ڈاکٹرتارا چند۔
تاریخ کی روشنی میں ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان کبھی بھی عزم سے خالی نہیں رہے، البتہ ان کے یہاں ہر دور میں علمی استعداد کی کمی پائی گئی ہے اور ہر دور میں مسلمان اس کمی کی قیمت چکا تے رہے ہیں۔

1 تبصرہ: