پیر، 14 اپریل، 2014

Do not lose hope

مایوسی نہیں

محمد آصف ریاض
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نےایک پاکستانی بس ڈرائیور کے بیٹا ساجد جاوید کووزیرثقا فت نامزد کیا ہے۔ ان کی نامژدگی 9 اپریل 2014 کو ماریہ ملر 
(Maria Miller) کی جگہ پرہوئی ۔ 
بی بی سی نیوزکے مطابق جاوید کے والد 1961 میں پاکستان سے ہجرت کرکےبرطانیہ پہنچے اوریہاں 1969 میں ان کے بیٹےجاوید کی پیدائش ہوئی۔ جاوید نے یہیں مقامی اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھرایکسٹریونیورسٹی سے معیشت وسیاست میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
جاوید 2010 میں کنزرویٹیو پارٹی کے ٹکٹ پررکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے اوراب 2014 میں انھیں برطانیہ کا کلچرمنسٹربنایا گیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جاوید کےوالد جب برطانیہ آئے تھے توان کی جیب میں صرف ایک پونڈ تھا۔
جاوید کے والد کے لئے پاکستان میں کوئی موقع نہیں تھا۔ اس لئے انھوں نے ملک چھوڑکر برطانیہ جانے کا فیصلہ کیا۔
برطانیہ پہنچتے ہی ان کی زندگی بدل گئی۔ وہاں انھیں لا محدود مواقع حاصل ہوئے اوران مواقع کا استعمال کرکےانھوں نے اپنے بیٹوں کواعلیٰ تعلیم دی، ہاں تک کہ ان میں سےایک برطانیہ کاوزیرثقافت بن گیا۔
آدمی اپنے منصوبے کے مطابق ایک جگہ ناکام ہوجا تا ہےتواسے لگتا ہے کہ اب اس کی زندگی بے معنیٰ ہو کررہ گئی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک لٹا ہوا انسان سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن وہی آدمی جب ایک دوسری جگہ پہنچتا ہےتواسے ایک اورہی تجربہ ہوتاہے۔ یہ تجربہ اسے بتاتا ہے کہ چاہے مایوسی کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہو، وہ امید کی روشنی کوختم نہیں کر سکتی۔
آدمی کوچاہئےکہ اگروہ ایک مقام پرناکام ہوجائےتوہرگزمایوس نہ ہو،کیوں بہت ممکن ہے کہ وہ دوسری جگہ کامیاب ہو نے والا ہو۔ آدمی صرف اپنے منصوبہ کوجانتا ہے وہ اپنے بارے میں خدائی منصوبہ کو نہیں جانتا۔ وہ نہیں جانتا کہ خدا نے اس کے لئے کامیابی کا کیا منصوبہ بنارکھا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ انسان اپنے منصوبہ کے مطابق ایک جگہ ناکام ہوجائے اورخدا ئی منصوبہ کےمطابق دوسری جگہ کامیابی سے ہمکنار ہو۔ آدمی کو چاہئے کہ جب اس کا اپنا منصوبہ ناکام  ہوتووہ خدا کے منصوبہ کی طرف دیکھے۔ وہ مایوس ہر گز نہ ہو۔ وہ یہ جانے کہ اس کا اپنا منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے لیکن اس کے بارے میں خدا کا جو منصوبہ ہے وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوسکتا۔
مارٹن لیوتھرکنگ جونیئر ( پیدائش 15 جنوری 1929 : موت  4 اپریل 1968) کا قول ہے:
"ہمیں محدود قسم کی مایوسی کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن ہم لا محدود قسم کی امید کا دامن نہیں چھوڑسکتے۔"
We must accept finite disappointment, but never lose infinite hope
Martin Luther King, Jr

ہفتہ، 12 اپریل، 2014

Prove your worth

آپ لوگوں کو بیٹے جیسا پیار دیں تاکہ لوگ آپ کو باپ مان لیں

محمد آ صف ریاض
معروف اسلامی اسکالراورمفکر مولانا وحید الدین خان نےاپنی ڈائری 1993-94  میں ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ بنگلورکے ڈاکٹرسلطان ملاقات کے لئے آئے، انھو ں نے بتا یا کہ ان کی بیوی میسورگئیں اوروہاں سے کام کے لئے دو ہندو لڑکے لے آئیں۔ راجیش (8 سال ) شنکر ( 14 سا ل)۔
ان بچوں کو دیکھ کرڈاکٹر سلطان نے کہا کہ ان بچوں کی پڑھائی بند ہونا ٹھیک نہیں ہے، انھیں دوبارہ اسکول میں داخل کردو، یہ فاضل وقت میں گھرکا کام کریں گے۔ اب راجیش پانچویں کلاس اورشنکر گیارہویں کلاس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ان بچوں سے کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ تمہارے باپ کا نام کیا ہے؟ انھوں نے کہا احمد سلطان، تو پوچھنے والے کو تعجب ہوا۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے میسورکے باپ نے ہماری پڑھائی چھڑا دی تھی اوراحمد سلطان ہم کو پڑھوا رہے ہیں اورہمارا سارا خرچ دے رہے ہیں تو وہی ہمارے باپ ہیں۔ (صفحہ 144)
یہ ایک استثنائی واقعہ ہے جو بتا رہا ہے کہ اگرآدمی کسی سماج میں دینے والا بن کررہے تو وہ عملاً اس سماج کا باپ بن جاتا ہے۔ آج ملک کے مسلمانوں کویہ شکایت ہے کہ سماج میں ان کی کوئی عزت نہیں رہ گئی ہے۔ وہ اس بات کو تو جانتے ہیں کہ سماج میں ان کی کوئی عزت نہیں ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی عزت کیوں نہیں ہے؟
اصل بات یہ ہے آج کے مسلمان اپنی افادیت کھوچکے ہیں۔ وہ سوسائٹی کے لئے فائدہ مند ثابت ہونے کے بجائے نقصاندہ ثابت ہورہے ہیں، اسی لئے سوسائٹی نے انھیں  بہت پیچھے ڈھکیل دیا ہے۔
مثلاً مسلمانوں میں بہترین ٹیچرس پیدا نہیں ہو رہے ہیں، ان کے اندر تعلیم کا غلغلہ نہیں ہے، وہ فعال نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس ملک کے کرسچن کو دیکھئے ان کے یہاں بہترین اساتذہ پیدا ہورے ہیں اوران کے اندر تعلیم کا غلغلہ ہے، اس لئے تعداد میں کم ہو نے کے با جود وہ عملاً سماج پر راج کر رہے ہیں۔

 مسلمانوں میں بہترین ڈاکٹرس اور نرسیں پیدا نہیں ہو رہی ہیں حالانکہ کیرالہ انھیں بہترین نرسوں کے ذریعہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں اپنا ایک مقام بنا چکا ہے۔ سکھ ہندوستان کی ایک چھوٹی اقلیت ہیں لیکن اپنی جفا کشی اورافادیت کی وجہ سے ہرجگہ عزت پاتے ہیں۔
کرسچن تعلیمی اداروں کے بارے میں ایم کے موہنتی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
"ملک میں کنونٹ اسکولوں کو تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ پسند کیا جا تا ہے۔ جدید تعلیمی مٹیریل، انگریزی میڈیم، اورجدید طرز زندگی، بشمول ڈریس کوڈ نے ان اسکولوں کواسٹیٹس سیمبول بنا دیا ہے۔"
  
Convent schools have become India's most sought-after educational institution. The modern study materials, English language medium and modern way of living (including dress and food choices) have led these schools to become status symbols among Indians.

M.P Mohanty
مسلمانوں کی ذلت اوررسوائی کی وجہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ سوسائٹی میں وہ اپنی افادیت کھوچکے ہیں۔ وہ دینے والی کمیونٹی کی جگہ لینی والی کمیونٹی بن کررہ گئے ہیں۔ مسلمان جب تک اس پوزیشن کو نہیں بدلیں گے، سماج میں ان کی پوزیشن بدلنے والی نہیں، چا ہے ان کے علما فتویٰ پرفتویٰ جاری کریں یا ان کے لیڈران ہنگامے پر ہنگامہ کھڑا کریں، عملاً کچھ بدلنے والا نہیں۔ ان کی موجودہ حالت اسی وقت بدل سکتی ہے جبکہ وہ سماج میں اپنی افادیت ثابت کردیں۔ جب تک وہ لوگوں کواپنے بیٹا جیسا پیار نہیں دیں گے وہ سماج کے باپ بھی بننے والے نہیں۔ 

جمعہ، 11 اپریل، 2014

पहले देखिये कि आग किस चीज़ से भड़की है



मोहम्मद आसिफ़ रियाज़
मिसाइल मैन के नाम से मशहूर ए.पी.जे. अब्दुल कलाम की नई पुस्तक 2013 में प्रकाशित हुई है. इस पुस्तक का नाम “माइ जरनी” (My Journey) है. उन्होंने इस पुस्तक में कई महत्वपूर्ण व दिलचस्प घटनाओं का ज़िक्र किया है. यहां उन घटनाओं में से एक का उल्लेख कर रहा हूँ. उन्होंने लिखा है कि जब वह अपने दोस्त सुधाकर के साथ पेलोड तैयारी प्रयोगशाला में रॉकेट के लिए पेलोड तैयार कर रहे थे तो उसी बीच एक खौफ़नाक घटना हुई. हुआ यह कि हम सोडियम और थरमाईट को मिलाते समय काम में इतने विलीन हो गए कि विज्ञान का एक सरल सिद्धांत भूल गए, वह यह कि अगर शुद्ध सोडियम में पानी का एक बूंद भी चला जाए तो धमाके के साथ आग भड़क उठेगी.

हुआ यह कि गर्मी का मौसम था, और तपिश बहुत ज़्यादा थी. हम प्रयोगशाला में पेलोड की जाँच करने पहुंचे तो सुधाकर ने अपना चेहरा झुका कर पेलोड को देखना चाहा. उसके चेहरे से पसीना टपक रहा था, जैसे उसका पसीना सोडियम पर पड़ा एक धमाके के साथ आग भड़क उठी.
सुधाकर ने अपने हाथ से प्रयोगशाला का शीशा तोड़ दिया और हमें धक्का देकर बाहर निकाल दिया. अब वह लहूलुहान हो चुका था. हम लोग बाहर खड़े होकर बड़ी बेबसी के साथ अपनी आँखों के सामने प्रयोगशाला को जलता हुआ देख रहे थे. हम उस पर पानी डाल नहीं सकते थे क्योंकि आग सोडियम से लगी थी, पानी डालने से ज़्यादा भड़क उठती.

It was a fire due to sodium , so using water would not help. Rather, it would add to the devastation. (My Journey: 97)

मानव जीवन में अक्सर समस्याएं पैदा होती रहती हैं. कभी एक प्रकार की समस्या उत्पन्न होती है तो कभी दूसरे प्रकार की समस्या. आदमी को हर समस्या का समाधान निकालना पड़ता है. लेकिन अगर कोई व्यक्ति हर समस्या को एक ही तरीका से हल करना चाहे तो वह समस्या को और अधिक जटिल बना देगा. वह उसे सुलझाने कि बजाय और उलझा देगा. हर समस्या एक अलग प्रकार के समाधान की मांग करती है. समस्या के समाधान से पहले व्यक्ति को देखना पड़ता है कि समस्या की आग किस चीज से भड़की है. यदि समस्या की आग सामान्य प्रकार की आग है तो उसे पानी से बुझाया जाएगा और अगर वह आग सोडियम से भड़की है तो उसे पानी से बचाया जाएगा, क्योंकि पानी सोडियम की आग को कई गुना अधिक भड़का देता है.


समस्या के समाधान से पहले आदमी को ज़रूर जानना चाहिए कि समस्या किस बात से पैदा हुई है. अगर कोई व्यक्ति समस्या की वास्तविकता को जाने बिना उसे हल करना चाहे तो बहुत मुमकिन है कि आग सोडियम से भड़की हो और वह उसे पानी से बुझा रहा हो.

No more confusion



کنفیوزن نہیں

محمد آصف ریاض

پانچ جنوری 2014 کو دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹا ئمزآف انڈیا میں ایک خبرشائع ہوئی تھی۔ یہ خبرانگریزی زبان کے بارے میں تھی ۔ اس میں بتا یا گیا تھا کہ جو لوگ اچھی انگریزی بولتے ہیں وہ انگریزی نہ بولنے والوں کے مقابلہ میں 34 گنا زیادہ کماتے ہیں۔ اس رپورٹ کی سرخی یہ تھی :
English edge: Those who speak the language fluently ‘earn 34% more than others
رپورٹ میں بتا یا گیا تھا کہ اترپردیش اوربہار سمیت نارتھ سینٹرل علاقہ میں محض 25 فیصد لوگ ہی انگریزی پڑھتے ہیں۔ اس کے بر عکس جنوبی ہندوستان میں 75 فیصد لوگ انگریزی پڑھتے ہیں۔ ( مجھے اس رپورٹ کو پڑھ کر یہ پتہ نہیں چل سکا کہ نارتھ کے لوگ انگریزی نہیں پڑھنے کی وجہ سے غریب ہیں یا غریبی کی وجہ سے انگریزی نہیں پڑھتے )۔
بہرحال یہ ایک تحقیقی رپورٹ تھی۔ اسے سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈیبیٹس ان ڈیولپمنٹ پالیسی کے ڈاکٹر ابو صالح شریف اور نیشنل کونسل فار اپلائیڈ اکونامک ریسرچ نئی دہلی کے امت شرما نے تیارکیا تھا۔ رپورٹ کا ایک اقتباس یہ تھا :
"جولوگ روانی سے انگریزی بولتے ہیں وہ انگریزی نہیں بولنے والوں سے 34 فیصد زیادہ کماتے ہیں اور جو لوگ ہلکی پھلکی انگریزی بولتے ہیں وہ انگریزی نہیں بولنے والوں سے 13 فیصد زیادہ کماتے ہیں"
"Men who speak English fluently earn wages about 34% higher and men who speak a little English earn wages about 13% higher than those who don't speak any English," the report said. Jan 5, 2014
میں نے اس سروے رپورٹ کو اپنی کتاب " مظفر نگر کیمپ میں" نقل کیا ہے۔ مظفر نگر کے ایک عالم اس کتاب کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں۔ انھوں نے مجھے ایک میٹنگ میں مدعو کیا۔  وہاں تعلیم کی اہمیت اور خاص طور سے جدید علوم کی اہمیت پر بات چیت ہوئی۔
اس میٹنگ میں ایک صاحب بیٹھے تھے انھوں نے انگریزی پراعتراض کیا اورکہنے لگے کہ اس قسم کی رپورٹیں انگریزوں کی سازش ہیں ۔ اس طرح کی سازش کے ذریعہ وہ اپنی زبان و ثقافت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
میں نے انھیں بتایا کہ سب سے پہلے آپ اپنے ذہن کو صاف کیجئے۔ آپ یہ جانئے کہ آپ اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں رہ کرآپ اٹھارہویں صدی کی بیوقوفی نہیں کر سکتے۔ اٹھارہویں ، انیسویں  اور بیسویں صدی تک کیا ہوا تھا؟ مسلمان انگریزی زبان کے بارے میں کنفیوزڈ ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ ملک کے ہندوؤں سے بہت زیادہ پچھڑ گئے تھے۔ انگریزی میں پچھڑنے کی وجہ سے وہ زندگی کے تمام دوسرے شعبوں میں بھی پچھڑگئے تھے۔ وہ عملاً مزدوروں کا کنبہ بن کر رہ گئے تھے۔ اس بات کو سب سے پہلے سر سید نے سمجھا اور انھوں نے مسلم نوجوانوں کو انگریزی پڑھا نا شروع کیا، یہاں تک کہ انھوں نے مسلم نوجوانوں کوبرٹش حکومت میں ہندوؤں کے برابر کھڑا کردیا۔ اس صورت حال کی تفصیل جاننے کے لئے پڑھئے معروف مصنف رفیق زکریا کی کتاب "ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کا عروج "۔
کنفیوزن
کسی معاملہ میں انسان کا مشتبہ ہوجانا ایک فطری امر ہے۔ مثلاً کسی انسان کے سامنے کوئی معاملہ آئے یا اسے کوئی آئیڈیا دیا جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ اس آئیڈیا کے بارے میں اشتباہ کا شکار ہوجائے۔ وہ آئیڈیا کے منظراور پس منظر کو لے کر کشمکش میں مبتلا ہوجائے۔ کنفیوزن کا معاملہ ایک فطری معاملہ ہے۔ کنفیوزن انسان کے اندر فائنڈنگ اسپرٹ پیدا کرتا ہے۔ کنفیوزن آدمی کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ کسی معاملہ میں فیصلہ لینے سے پہلے خوب تحقیق کر لے۔ کنفیوزن انسان کوایک آئیڈیا سے دوسرے آئیڈیا تک لے جاتا ہے تاکہ انسان کسی معاملہ میں صحیح نتیجہ تک پہنچ سکے ۔ کنفیوزن رومی کے لفظوں میں انسان کو دو ونگس فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اڑ سکے۔
“God turns you from one feeling to another and teaches by means of opposites so that you will have two wings to fly, not one”
کنفیوزن اگرانسان کو کسی نتیجہ پرپہنچا ئے تو وہ ایک اچھی چیزہے اوراگر وہ انسان کو کہیں نہ پہنچائے تو ایک  بری چیز ہے۔ کنفیوزن اگرآپ کو ناکارگی پرآمادہ کرے تو وہ ایک منفی رویہ  ہے، اوراگروہ آپ کو تحقیق و تفتیش پرابھارے تووہ ایک مثبت رویہ ہے، اورانسان اس دنیا میں جو کچھ پاتا ہے وہ اپنے مثبت رویہ سے پاتا ہے ناکہ منفی رویہ سے۔ کنفیوزن کو تسلسل دینا گویا زخم کو کینسربنانا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ جیسے ہی اسے کسی معاملہ میں کنفیوزن ہوتو وہ تحقیق و تفتیش کے ذریعہ جلد سے جلد اپنے کنفیوزن کو دور کرے۔ وہ کنفیوزن کے ساتھ نہ جئے کیوں کہ کنفیوزن نکمے پن کا دوسرا نام ہے۔
اس بات کوسمجھانے کے لئے میں آپ کو ایک عرب خاتون کی مثال دوں گا۔ ایک ترک نژاد عرب خاتون نے عرب  ذہنیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: "اگر آپ کسی عرب سے کہیں کہ تم  یہ کام کرو، تو وہ آپ کو جواب دے گا کہ جو کام سب کر رہے ہیں اسے میں کیوں کروں ؟ پھر آپ اسے کوئی نیا کام بتائیں تواس کا جواب ہوگا  جو کام کوئی نہیں کر سکتا وہ میں کس طرح کر سکتا ہوں۔؟
ہرچند کے مذکورہ خاتون  رائٹر نے ایک مخصوص ذہنیت کو عرب ذہنیت بتایا ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ ایک مسلم ذہنیت ہے۔ اگرآپ کسی مسلمان سے کہیں کہ وہ کام کرو تو آپ کو جواب دے گا  کہ وہ کام تو سب کر رہے ہیں تو پھر میں کیوں کروں؟ اب آپ اسے کوئی دوسرا کام بتائیں، وہ جواب دے گا وللہ جو کام کوئی نہیں کر سکتا وہ میں کس طرح کر سکتا ہوں؟
کنفیوزن انسان کو کسی منزل تک نہیں پہنچاتا۔ وہ انسان کو ذہنی بیماری میں مبتلا کردیتا ہے۔ اورجو شخص ذہنی بیماری میں مبتلا ہو وہ کسی کام کا نہیں ہوسکتا۔
البرٹ آئسٹائن کا قول ہے کہ "ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی کام کو کرنے کے لئے پرفکٹ وسائل کا تقاضا کرتے ہیں اور اپنے مقصد کے بارے میں کنفیوزڈ رہتے ہیں۔"

A perfection of means, and confusion of aims, seems to be our main problem.

Albert Einstein

بدھ، 9 اپریل، 2014

Worship God and do not associate parters with him



بتوں کے نام پر

محمد آصف ریاض
خدانےانسان کوآدم کے ذریعہ اس زمین پرپھیلایا۔ آدم پہلے انسان اورنبی اور رسول تھے۔ انھوں نے اپنے بچوں کو توحید کی تعلیم دی۔ انھوں نے اپنے بچوں کو وہی بتا یا جو بعد میں نوح ، ابراہیم ، موسی ، عیسی اور پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسم نے اپنی قوم کو بتا یا تھا۔ وہ یہ کہ اے قوم، خدا کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا۔ " تم لوگ اللہ کی بندگی کرو اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو"
) سورہ النساء4: 36)
انسان اول آدم کا اثران کے بچوں پربہت گہرا تھا۔ آپ کی قوم نے ایک خدا کی عبادت کی اورشرک کی برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھا۔ لیکن یہ صورت حال بہت دیر تک قائم نہ رہ سکی اور بعد کی نسلوں میں بگاڑ پیدا ہوگیا۔ انھوں نے خدا کے ساتھ دوسرے ناموں کو بھی ملانا شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ وہ شرک کی بیماری میں مبتلا ہوگئے۔
تاہم شرک کی بیماری میں مبتلا ہونے کے با وجود سچے خدا کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوئی۔ اولاد آدم کا دل کبھی بھی شرک پر راضی نہ ہوا ۔ انھیں ہمیشہ حقیقی خدا کی تلاش رہی۔ وہ خدا جو ان کی فطرت میں سمایا ہوا تھا ، وہ خدا جس کے بارے میں انھوں نے اپنے باپ آدم سے سن رکھا تھا۔
حقیقی خدا کے بارے میں انسان کی طلب نے سماج کے سربرآوردہ لوگوں کو اندر سے ہلا دیا۔ انھوں نے انسان کی اس فطری طلب کواپنے خلاف ایک خطرہ سمجھا۔ انھیں لگا کہ اگر لوگوں کو واحد اورحقیقی خدا مل گیا تو وہ بدل جائیں گے۔ انھیں اپنی زندگی جینے کا سلیقہ آجائے گا۔ حقیقی خدا کو پا کروہ کسی کے محتاج نہیں رہیں گے۔ حقیقی خدا کو پانے کے بعد لوگ وہی بات کہیں گے جو سچی اوراچھی ہو۔ وہ انصاف کا تقاضا کریں گے۔ وہ اچھائی کا حکم لگائیں گے اور لوگوں کو برائی اور سرکشی سے روکیں گے۔
اس صورت حال سے نبرد آزما ہونے کے لئے سماج کے امرا اور رؤسا نے ایک تدبیر اختیارکی۔ فوری طورپر انھوں نے کچھ کٹ پتلیاں تیار کرائیں اور انھیں  خدا بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کردیا تاکہ لوگوں کو سچے خدا سے کاٹ دیا جائے۔

بتوں کی پرستش سے اس رولنگ کلاس پرکوئی زد نہیں پڑرہی تھی۔ کیونکہ بت انسان سے تبدیلی کا تقاضا نہیں کرتے، بت انسان کو ڈسپلن نہیں سکھاتے، بت انسانوں پر ذمہ داریاں عائد نہیں کرتے، بت نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں اورنا بنا سکتے ہیں، لہذا بتوں کو کٹ پتلی بنا کر آگے بڑھا یا گیا۔ ان بتوں کے پیچھے وقت کے کرپٹ اور چالاک لوگ کھڑے ہوگئے اور بتوں کی طرف سے خود بولنے لگے۔ بتوں کے نام پر وہ اپنی ہرالٹی سیدھی بات سماج سے منوانے لگے۔ بتوں کے ذریعہ انھیں یہ موقع ملا کہ وہ انسان کو کئی طبقات (Varna) میں بانٹ دیں۔ مثلا برہمن، کاشتریہ، ویشیہ، شودر، خدا کا بیٹا، چنے ہوئے لوگ، وغیرہ۔
انیسویں صدی کےمعروف دلت مفکراورادیب، مہاتما جیوتی بائو پھولے (11 April 1827 – 28 November 1890)  اس صورت حال کا ذکر اپنی کتاب غلامی گری (Salavery) میں بہت ہی کربناک انداز میں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
"شودر اور اتی شودرغلامی کو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ بہتر انداز میں سمجھتے ہیں کیونکہ انھیں غلامی کا براہ راست تجربہ ہے۔ شودروں کو برہمنوں نے فتح کیا اورانھیں غلام بنا لیا۔"
"the Shudra and Ati-Shudra would understand slavery better than anyone else because they have a direct experience of slavery as compared to the others who have never experienced it so; the Shudras were conquered and enslaved by the Brahmins.”
بتوں کے نام پر لوگوں کو سورن اور شودر کے نام پر بانٹا گیا۔ اسی تقسیم کی بنیاد پربڑے بڑے منادرتعمیر کئے گئے، اسی پرکلرجی کلاس تیارہوا، اسی پر رولنگ کلاس کو کھڑا کیا گیا۔ اگرآپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ بت پرستی اورشرک کو ہمیشہ رولنگ کلاس نے سپورٹ کیا۔ یہاں تاریخ سے میں چند ناموں کا ذکر کروں گا۔  قرآن میں ان ناموں کا ذکر اس طرح آیا ہے، فرعون، نمرود، ہامان ، قارون وغیرہ۔ یہ کون لوگ تھے؟ یہ سب حکمراں اور قوم کے سربر آوردہ لوگ تھے۔ یہاں میں چند مثالیں دوں گا جس سے پتہ چل جائے گا کہ کس طرح وقت کے بڑوں نے بتوں کی پشت پناہی کی۔
ابراہیم نےجب لوگوں کو بت پرستی اور جھوٹے معبودوں کی پرستش سے روکا تو پھر یہ  رولنگ کلاس بھڑک اٹھا۔ قرآن کا ارشاد ہے: "ابراھیم نے کہا کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کران چیزوں کو پوج رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پرقادر ہیں اور نہ نقصان؛ تف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کر رہے ہو۔ کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟
نمرود اور اس کی قوم نے کہا" جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے معبودوں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔ تو انھوں نے ابراہیم کو پکڑ کر آگ میں ڈال دیا۔ قرآن میں اس کا بیان اس طرح ہوا ہے۔ ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈی ا ور سلامتی بن جا ابراہیم پر۔ 21: 66- 69 ))
اسی طرح موسیٰ نے جب لوگوں کو بت پرستی اور شرک سے پاک کرنا چاہا توانھیں شروع میں کوئی شخص نہ ملا۔ قرآن کا ارشاد ہے۔"موسیٰ کواس کی قوم سے چند نوجوانوں کےعلا وہ کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اورخود اپنی قوم کے حکمرانوں کے ڈر سے کہ کہیں ان کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ " فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد سے باہر ہوجا تا تھا۔ " (: 10: 83)
موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل تھی اور یہ بت پرستی سے اجتناب کر تی تھی۔ چنانچہ  فرعون انھیں سخت قسم کی اذیت دیتا تھا۔ کیونکہ اسے ملک پر اقتدار حاصل تھا۔ قرآن کا ارشاد ہے:"اورقوم کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ کو اوران کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں اوروہ آپ کو اورآپ کے معبودوں کو ترک کرتے رہیں: فرعون نے جواب دیا "میں ان کے بیٹوں کو قتل کرائوں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا،ہمارے اقتدارکی گرفت ان پر بہت مضبوط ہے۔"7: 127))
اسی طرح جب مکہ میں پیغمبراسلام نے لوگوں کوایک خدا کی طرف بلا یا تو مکہ کا رولنگ کلاس" قریش" بھڑک اٹھا اوراس کا سردارابوجہل محمد کے قتل کے درپے ہوگیا یہاں تک کہ پیغمبراسلام کو مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرنا پڑا۔
آپ نے دیکھا کہ کس طرح کلرجی کلاس اوررولنگ طبقہ بتوں کی پرستش کو اسٹیبلش کرنے کے لئے کوشاں تھا۔  کیوں؟ اس لئے کہ یہ بت ان کے پرپزکی فیڈنگ کر رہے تھے۔ وہ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ انھیں یہ موقع دے رہے تھے کہ وہ بتوں کے نام پر سماج میں جو چاہیں کریں۔ انھیں معلوم تھا کہ بت ان کے کاموں میں مداخلت کرنے والے نہیں ۔ اور نہ ہی وہ کسی کا کام بنا سکتے یا بگاڑ سکتے ہیں۔
اس بات کو سمجھانے کے لئے میں آپ کو ایک مثال دوں گا جس سے آپ کوسمجھ میں آجائے گا کہ رولنگ کلاس نے بت پرستی کو کیوں رواج دیا اور کیوں اس کی پشت پناہی کر تے رہے؟
ایک مثال
مان لیجئے کہ ایک حکومت ہو جوکسی خاص کمیو نٹی کو کوئی حق دینے کے خلاف ہو۔ لیکن عدالت نے مداخلت کی اور یہ حکم جاری کیا کہ آپ کو اس خاص کمیونٹی سے کسی ایک کو وزیر بنانا ہوگا۔ اب جبکہ لوگوں کا دبائو بڑھا توحکومت کے لئے نا گزیر ہوگیا کہ وہ عدالت کے حکم کی نا فرمانی کرے ۔ چنانچہ اس نے ایک راستہ نکالا۔ اس نے مذکورہ سماج میں سے ایک نہایت ناکارہ انسان کواٹھا یا اوراسے وزیر بنا دیا تاکہ وہ وزیر ان کے ہاتھوں میں کٹ پتلی بنا رہے، وہ وزیر رہتے ہوئے بھی عملاً کچھ نہ کر سکے، جیسے بت ، کہ وہ بت رہتے ہوئے بھی عملاً کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
اسی طرح بت پرستی نے زور پکڑا۔ لوگوں کو حقیقی خدا سے محروم رکھنے کے لئے وقت کے بڑوں نے  جھوٹے بت تراشے ۔ انھیں سجا سنوار کر لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ کیونکہ یہ بات رولنگ کلاس کے فیور میں تھی۔  بت خود بول نہیں سکتے تھے اس لئے رولنگ کلاس کو یہ موقع ملا کہ وہ پیچھے سے اس کے نام پر بولیں۔ یعنی بتوں کے نام پر کل بھی فراڈ کیا گیا اور بتوں کے نام پر آج بھی فراڈ کیا جا رہا ہے۔ یہ کھیل بہت پرانا ہے اورا سے آج تک کھیلا جا رہا ہے۔
اسلام کا موقف
اسلام بت پرستی کے خلاف ہے۔ کیونکہ بت پرستی کے راستہ سے سماج میں ہرقسم کی برائی داخل ہوتی ہے۔ مثلاً ایک شخص لوٹ پاٹ کرے اوربتوں پرکچھ چڑھا دے، ایک شخص فراڈ کرے اور بتوں کو دودھ سے نہلا دے،ایک شخص بتوں کے نام پر اپنے آپ کو خدا بنا لے، ایک شخص بدکاری کرے اور کہے کہ  مسیح نے کفارہ ادا کر دیا ہے، ایک شخص زمین پر منمانی کرے اور کہے کہ اسے منمانی کا حق ہے کیوں کہ وہ خدا کا چنا ہوا ہے۔ اسلام ان تمام چیزوں کو خارج کرتا ہے۔ وہ ہر شخص کو ایک خدا کے سامنے جوابدہ بنا تا ہے۔ اسلام میں خدا کے سامنے سب برابر ہیں ایک عام آدمی بھی اورایک بادشاہ بھی۔ اسلام میں انسان کا تعلق براہ راست خدا سے ہے بیچ میں کوئی میڈل مین نہیں۔

جمعرات، 3 اپریل، 2014

Water will not help, if fire broke out due to Sodium


پہلے دیکھئے کہ آگ کس چیز سے بھڑکی ہے

محمد آصف ریاض
میزائل مین کے نام سے مشہوراے پی جےعبد الکلام کی ایک نئی کتاب 2013 میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نام مائی جرنی My Journey ) ) ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے کئی  اہم اور دلچسپ واقعات نقل کئے ہیں۔ یہاں ان واقعات میں سے ایک کا ذکرکیا جا تا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ جب وہ اپنے دوست سدھا کرکے ساتھ  پے لوڈ پری پریشن لیبو ریٹری میں راکٹ کے لئے پے لوڈ تیار کر رہے تھے تو اس دوران ایک خوفنا ک واقعہ پیش آیا۔ ہوا یہ کہ سوڈیم اور تھرمائٹ کے مکس کے وقت ہم لوگ کام میں اس قدر منہمک تھے کہ ہم سائنس کا ایک سادہ اصول  بھول گئے وہ یہ کہ اگر خالص سوڈیم می پانی کا ایک قطرہ بھی چلا جائے تو دھماکہ کے ساتھ آگ بھڑک اٹھے گی۔
ہوا یہ کہ گرمی کا موسم تھا۔ اور تپش بہت شدید تھی۔ ہم لوگ لیبوریٹری میں پے لوڈ کو چیک کر نے کے لئے پہنچے توسدھاکر نے اپنے چہرے کو جھکا کرپے لوڈ کو دیکھنا چاہا۔ اس کے چہرے سے پسینہ ٹپک رہا تھا جیسے ہی اس کا پسینہ سوڈیم  پر پڑا ایک دھماکہ کے ساتھ  آگ بھڑک اٹھی۔
سدھاکر نے اپنے ہاتھ سے لیبوریٹری کا شیشہ توڑ دیا اور ہمیں دھکا دے کر باہر نکال دیا۔ اب وہ لہولہان ہوچکا تھا۔ ہم لوگ باہر کھڑے ہوکر بڑی بے بسی کے عالم میں اپنی آنکھوں کے سامنے لیبوریٹری کو جلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ ہم اس پر پانی نہیں ڈال سکتے تھے کیوں کہ آگ سوڈیم سے لگی تھی پانی ڈالنے کی صورت میں وہ مزید بھڑک اٹھتی۔
It was a fire due to sodium , so using water would not help. Rather, it would add to the devastation. :( My Journey , 97)
انسانی زندگی میں اکثرمسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی ایک قسم کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو کبھی دوسرے قسم کا مسئلہ۔ آدمی کو ہرمسئلہ کا حل نکالنا پڑتا ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص ایسا کرے کہ ہر مسئلہ کو ایک ہی انداز میں حل کرنا چاہے تو وہ مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ وہ اسے سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دے گا۔ ہر مسئلہ ایک الگ قسم کے حل کا تقاضا کرتا ہے۔ مسئلہ کے حل سے پہلے انسان کو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ مسئلہ کی آگ کس چیز سے بھڑکی ہے۔ اگر مسئلہ کی آگ عام قسم کی آگ ہے تو اسے پانی سے بجھا یا جائے گا اور اگر وہ آگ سوڈیم سے بھڑکی ہے تواس پر پانی نہیں ڈالاجائے گا کیونکہ پانی سوڈیم کی آگ کو مزید کئی گناہ زیادہ بھڑکا دیتا ہے۔
مسئلہ کے حل سے پہلے آدمی کو ضرور جاننا چاہئے کہ مسئلہ کس چیز سے پیدا ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص مسئلہ  کی حقیقت کو جانے بغیر اسے حل کرنا چاہے تو بہت ممکن ہے کہ آگ سوڈیم سے بھڑکی ہو اور وہ اسے پانی سے بجھا رہا ہو۔


ہفتہ، 29 مارچ، 2014

We should listen more than we say



 جتنا بولئے اتنا سنئے

محمد آصف ریاض
برناڈ شا کا  قول ہے: " تمہارے پاس ایک سیب ہے اور ہمارے پاس بھی ایک سیب ہے، تم اپنا سیب مجھے دیتے ہو اور میں اپنا سیب تمہیں دیتا ہوں، تب بھی ہم لوگوں کے پاس ایک ایک سیب ہی رہتا ہے۔ لیکن سوچو کہ تمہارے پاس ایک آئڈیا ہو اور ہمارے پاس بھی ایک آئڈ یا ہو۔ تم اپنا آئڈ یا مجھےدیتے ہو اور میں اپنا آئڈیا تمہیں دیتا ہوں، تو اب ہم لوگوں کے پاس دو دو آئڈیاز ہو جاتے ہیں۔
"If you have an apple and I have an apple and we exchange these apples then you and I will still each have one apple. But if you have an idea and I have an idea and we exchange these ideas, then each of us will have two ideas.”
 George Bernard Shaw
آدمی کے پاس دو آئڈیازکب ہوتے ہیں؟ جب کہ آدمی دو طرفہ تباد لہ خیال کے عمل سے گزرے۔ جب وہ خود بھی کہے اور دوسروں کو بھی کہنے کا موقع دے۔ دوآئڈیا زآدمی کودو طرفہ تبادلہ خیال کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ وہ کسی سے بات کرے توصرف اپنی ہی بات کرے اور فریق ثانی کو بولنے کا موقع نہ دے توگویا وہ دوسروں کی جھولی میں اپنے سیب کو یکطرفہ طور پر ڈال رہا ہے۔ وہ اپنے لئے کچھ بھی نہیں بچا رہا ہے۔ وہ گھاٹے کا سودہ کررہا ہے۔

آدمی کو چاہئے کہ وہ ہرگزگھاٹے کا سودہ نہ کرے ۔ وہ ہر گز ایسا نہ کرے کہ اپنے سارے آئڈیاز تو دوسروں کو دے دے اور دوسروں سے کچھ بھی حاصل نہ کرے۔آدمی اگر ایسا کرے کہ وہ اپنی کہے اور دوسروں کی نہ سنے، تو وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے، وہ دوسروں کا نقصان نہیں کرتا۔ اگر آپ اپنے ایک آئڈیا کو دو آئیڈیا زبنانا چاہتے ہیں تو جتنا بولئے اتنا سنئے ۔اور اگر آپ اپنے آئڈیاز کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں تو جب بھی کسی سے بات کیجئے تو خود کم بولئے اور دوسروں کو زیا دہ بولنے دیجے۔ کیونکہ جو زیادہ بول رہا ہوگا وہ آپ کی جھولی میں زیادہ سیب ڈال رہا ہوگا، یعنی وہ زیادہ آئڈیازآپ کو دے رہا ہوگا۔ آدمی نہ بول کرنہیں پچھتاتا ہے جتنا کہ وہ بول کر پچھتا تا ہے۔
معروف یونانی مفکر زینون رواقی( Zeno of Citium)  کا معروف قول ہے: ہمارے پاس دو کان ہیں اور ایک زبان۔ اس لئے ہمیں کم بولنا چاہئے اور زیادہ سننا چاہئے۔"
“We have two ears and one mouth, so we should listen more than we say.”
 Zeno of Citium