جمعرات، 8 اگست، 2013

The message of Eid

عید کا پیغام
مسلمانوں کی اصل دوعید یں ہیں۔ ایک عید الفطراوردوسری عید الضحی۔ رمضان کے مہینہ میں ایک ماہ تک روزہ رکھنے کے بعد مسلمان جوتہوارمناتے ہیں اسےعیدالفطرکہاجاتاہے۔ مسلمان قمری کیلینڈر کے حساب سےعید مناتے ہیں اسی لئےعید کا تعین چاند پرہوتا ہے۔ رمضان کے پورے مہینہ میں روزہ رکھنے کے بعد مسلمان آسمان کی طرف سراٹھا کرچاند دیکھتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کا معاملہ آسمان سے وابستہ ہے۔ انھیں اپنے ہرمعاملہ میں خدائی احکام کی طرف دیکھنا ہے۔ انھیں دنیا کابن کرنہیں رہناہے۔ انھیں آخرت کا بن کررہنا ہے۔ اسی طرح انہیں نیچے کی طرف نہیں دیکھنا ہےانھیں اوپر کی طرف دیکھنا ہے۔
عید سے پہلے ضروری ہے کہ مسلمان صدقہ اورفطرہ نکال کرعید گاہ میں آئیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسم نے فرمایا  جو فطرہ نہ نکالے وہ میری عیدگاہ میں نہ آئے۔
صدقہ فطرکاحکم: صدقہ فطرہرمسلمان پرفرض ہے حضرت عمر رضى الله عنه سے روايت ہے۔
"رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نےصيام رمضا ن سے فارغ ہونے پرہرمسلمان پرصدقہ فطرفرض قرارديا خواہ کوئی آزاد ہو ياغلام‘مرد ہو يا عورت ‘ چھوٹا ہو يا بڑا“۔(متفق علیہ)

عید کی نمازسے قبل مسلمان فطرہ نکالتے ہیں۔ یہ اس بات کاعملی اظہارہے کہ اس دنیا میں مسلما نوں کودینے والی کمیونٹی بن کررہناہے۔ انھیں ہرحا ل میں اپنا ہاتھ اونچارکھنا ہے۔ انھیں اس زمین پرخیرامت بن کررہنا ہے۔ انھیں اپنے خول میں نہیں جینا ہے۔ انھیں اپنے خول سے نکل کرباہرکے ماحول میں قدم رکھنا ہے اورمعذوروں اورحاجتمندوں کی ہرممکن مدد کرنا ہے۔ صدقہ فطرکا ایک عظیم پہلو یہ بھی ہے کہ سماج کا ہرشخص عید کی خوشیوں میں شامل ہوجائے۔
عید کی نمازکے لئے روانہ ہوتے ہوئے مسلمان تکبیر کہتے ہیں۔ وہ تکبیریہ ہے :  اَللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ .اَللّٰہ اَکبَرُ اللّٰہُ اَکبَرُ وَلِلّٰہِ الحَمدُ
"یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ ساری تعریف اللہ ہی کےلئے ہے۔"
اس کلمہ میں ہردوسری چیز کی نفی ہے۔ یعنی مال بڑانہیں ہے۔ عہدہ بڑا نہیں ہے۔ کنبہ اورقبیلہ بڑا نہیں ہے، جس پرکہ آدمی اتراتا اورتکبرکرتا ہے۔ یہ کلمہ مسلمانوں کے اندر یہ اسپریٹ پیدا کرتی ہے کہ اللہ بڑا ہے۔ اللہ بڑا کی سوچ انسان میں عجزاورانکساری پیدا کرتی ہےاوریہی چیزخدا وند کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔ انسان جب بولتا ہے کہ اللہ بڑاہےتوگویا وہ اسی وقت اپنی ذات کی تصغیرکررہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کوغروراورتکبرکی نفسیات سے نکال رہا ہوتا ہے۔ یہ کلمہ مسلمانوں کو یاد دلا تا ہے کہ انھیں تکبراورسرکشی کی روش نہیں اپنا ناہے۔ انھیں عجزاورانکساری کی روش پرچلناہے۔
مسلمان عید گاہ میں پہنچ کرعید کی دورکعت نمازپڑھتے ہیں۔ پھرایک دوسرے سے بغل گیرہوتے ہیں اوردوست واحباب کو سوئیاں یا مٹھائیاں کھلاتے ہیں۔ وہ بچوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ عمل اس بات کا اعلان ہے کہ مسلمانوں کوحقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی پورا خیال رکھنا ہے انھیں سماج اورسوسائٹی کا ہوکررہنا ہے۔ انھیں اپنے ملک وہ ملت کی تعمیر میں اپنا کردارادا کرنا ہے۔  

منگل، 30 جولائی، 2013

From Ur to Kedarnath

عراق کے شہر ار سے اترا کھنڈ کے کیدارناتھ تک

محمد آصف ریاض
جون کےمہینہ میں ہندوستان کی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں تباہ کن سیلاب آیا۔ ہرطرف تباہی کامنظرتھا۔ آسمان سے بجلیاں گررہی تھی۔ پہاڑکی چٹانیں کھسک رہی تھیں۔ بادل پھٹ رہے تھےاوربستیاں غرق ہورہی تھیں۔ اس سیلاب کی زد میں آکرہزاروں لوگ مارے گئے۔ درجنوں بستیاں غرق آب ہوئیں۔ سیلاب کا حملہ اتنا شدید اورمنصوبہ بند تھا کہ آدمی کے لئے جان پچانا مشکل تھا۔ سیلاب نے شہرکی مورچہ بندی کررکھا تھااورگائوں اورشہروں کےتقریباً پانچوسوراستےکاٹ دئےتھے۔ کوئی شخص نہ باہرنکل سکتاتھا اورنہ اندرداخل ہوسکتا تھا۔ لوگ جان بچانے کے لئے پہاڑوں پرچڑھ رہےتھےاوروہاں آسمان کا پانی انھیں نگل رہا تھا پھرجب وہ بھاگ کرزمین پرآتےتویہاں انھیں زمین کا پانی غرق کررہا تھا۔ اس سیلاب کی زد میں آکراترکاشی، کیدارناتھ اوررودرپریاگ کےعلاقے پوری طرح تباہ ہوگئے۔
کیدارناتھ
کیدارناتھ کومندروں کاشہرکہاجاتاہے۔ یہاں ہندوستان اوردنیابھرکےعقیدتمند آتےرہتے ہیں۔ یہ شہرسیلاب کی زد میں آکرپوری طرح تباہ ہوگیا۔ ہزاروں لوگ مارے گئےاورتقریباً تمام دیوی دیوتااس سیلاب میں غرق ہوگئے۔ البتہ ان میں کا ایک بڑابچ گیا۔ یعنی کیدارناتھ مندرکا بت محفوظ رہا۔ لیکن اس حالت میں کہ وہاں سینکڑوں ٹن ملبہ جمع تھا۔
لوگوں کا تبصرہ
لوگوں نےاس تباہ کن واقعہ پرکئی قسم کےتبصرے کئے۔ کچھ لوگوں نے اسے ریج آف مائونٹین یعنی پہاڑ کاغصہ کہا تو کچھ لوگوں نے اسے ریج آف نیچر کا نام دیا۔ کچھ لوگوں نے اس کے لئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ لیکن حیرت انگیزبات یہ ہے کہ کسی نے بھی اس ہولناک واقعہ کے لئے دیوتائوں کوذمہ دارنہیں ٹھہرایا۔ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ چونکہ اس تباہ کن حملہ میں سب سے بڑے دیوتابچ گئے ہیں اس لئے ان کا دیوتا ہونا ثابت ہوا۔

میراجواب
دیوتااس لئے نہیں بچ گئے کیونکہ وہ اپنے آپ کوبچانے کی صلاحیت رکھتےتھے۔ اگروہ اپنے اندراس کی صلاحیت رکھتے تووہ ضروراپنے شریک دیوتائوں کوبھی بچا لیتےاوروہ انھیں بھی بچالیتے جوان کی پرستش کے لئے ملک کے دوردرازعلاقوں سے مصیبت  اٹھاکرآئے تھے، جن میں بچے بوڑھے اورعورتیں سبھی شامل تھے۔ اوراگر اسی بڑے دیوتانےسب کوڈوبایا تویہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی دیوتااپنے ہی شریک اورفولورکوتباہ کردے۔ کوئی بادشاہ اپنےہاتھوں سے اپنی بادشاہت کوتباہ نہیں کرتا۔ پھردیوتا خود اپنے ماتحت  دیوتائوں کوکیوں تباہ کرنے لگے؟
ان میں کا سب سے بڑا اس لئے بچا لیا گیا تا کہ آپ ان سے پوچھیں کہ اے دیوتا، جب لوگ ڈوب رہے تھے اوران پر زمین وآسمان کی طرف سے تابڑ توڑحملے ہورہےتھےتوآپ کہاں تھے؟ لوگوں کی بات چھوڑئے، جب خود آپ کے شریک دیوتاڈوب رہے تھے توآپ انھیں بچانے کے لئے کیا کررہے تھے؟
دیکھئے وہ کیا جواب دیتے ہیں؟ وہ کوئی جواب نہیں دیں گے۔ کیونکہ وہ بت  ہیں  وہ دیوتا نہیں  ہیں۔ وہ آپ کی اچھائی برائی کے مالک نہیں ہیں۔ اگروہ آپ کی اچھائی اوربرائی کےمالک ہوتے تووہ ضروراپنی اورآپ کی مدد کوآتے۔

عراق کے شہرارمیں ابراہیم کاواقعہ
آج سے چارہزارسال قبل عراق کا قدیم شہراربھی اتراکھنڈ کی طرح دیوی دیوتائوں کا شہربناہواتھا۔ یہاں لوگ دوردرازسے بتوں کی پوجاکرنےآتے تھے۔ یہاں ہرسال میلہ لگایا جا تا تھا۔ اوریہ لوگوں کے لئے کمائی کا ایک بہترین ذریعہ بن گیا تھا۔ حضرت ابراہیم کے والد بھی بت بناتے تھے اورانھیں شہروں میں فروخت کرکے پیسہ کماتے تھے۔ ابراہیم نےانھیں سمجھا یا اورکہا کہ آے میرے باپ جنھیں آپ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں وہ دیوتا کیوں ہوگئے؟
ابراہیم نےلوگوں کوسمجھا ناشروع کیا کہ یہ دیوتاجنھیں تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے ہووہ تمہاری اچھائی اوربرائی کے مالک نہیں ہیں۔ لیکن برسوں کی کنڈیشننگ کی وجہ سے لوگوں کے دماغ میں بتوں کاخوف بیٹھ گیاتھا۔ حضرت  ابراہیم نے اس خوف کوختم کرنے کےلئے ایک دن چند چھوٹے بتوں کوتوڑدیا اوران میں جوبڑاتھا اسے سلامت چھوڑدیا تاکہ  لوگوں  پر بتوں  کا بت  ہونا  کھل جائے۔ لوگوں نے پوچھا، تم نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے اے ابراہیم؟
ابراہیم نے جواب دیا مجھ سے کیوں پوچھتے ہوبتوں کے بڑے ابھی باقی ہیں ان سے پوچھ لو۔ لوگوں نے کہا کہ یہ بت ہیں ابراہیم یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے جواب دیا پھران کی پرستش کیوں کرتے ہوجونہ بولتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ ہی تمہارے کام آسکتے ہیں۔ پہلے تو لوگ شرمندہ ہوئے پھران کے بڑوں نے انھیں مشتعل کیا کہ اپنے بتوں کی مدد کروانھیں بچائو۔ لوگوں نے ابراہیم کی بات پرسنجیدگی سےغورکرنے کے بجائے اپنے بڑوں کی بات کو پکڑ لیا اور ابراہیم کوجلانےکا منصوبہ بنانے لگے۔
حضرت ابراہیم خدا کے بھیجےہوئے پیغمبرتھے۔ عراق کے شہرارمیں خدا وند نے ابراہیم کومداخلت کے لئے چنا تھا۔خدا وند ابراہیم کےذریعہ سے لوگوں کے دل و دماغ کو بدلناچاہتا تھالیکن بجائے اس کے کہ لوگ اپنا دل دماغ بدلتےاورابراہیم کےسنجیدہ پیغام پرغوروخوض کرتے انھوں نے نعرہ لگانا شروع کردیا کہ بتوں کی مدد کرواورابراہیم کوجلا دو۔

خداوند کا پیغام
عراق کے شہرارمیں خداوند نے اپنے پیغمبرکے ذریعہ مداخلت کرایا اوراب چونکہ کوئی پیغمبرآنے والا نہیں اس لئے خدا وند نے کیدارناتھ میں خود برارہ راست مداخلت کوضروری سمجھااوران میں ایک بڑے کوچھوڑکرسارے دیوی دیتائوں کوغرق کردیا تاکہ لوگ اس بڑے سے پوچھیں کہ اگرتم دیوتا تھے تواس تباہی کے وقت کیاکررہے تھے؟ تم نہ اپنا بچائوکرسکے اورنہ ہمارے بچوں کاتوپھرتم دیوتا کس طرح ہوسکتےہو؟ ہم تمہاری پرستش سے باز آئے۔ ابراہیم کے واقعہ سے خدا وند کا منشا یہی تھا اورکیدار ناتھ کے واقعہ سے بھی خدا وند یہی چاہتا تھا۔
لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ لوگوں نے نہ ارکےواقعہ سےکوئی سبق لیااورنہ کیدارناتھ واقعہ سے کچھ سیکھا۔ وہاں بھی لوگوں نے بتوں کی تباہی کے بعد یہی نعرہ لگایاکہ بتوں کی مدد کرواورانھیں پھرسےان کی پوزیشن پرلائواوریہاں بھی لوگ یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ بتوں کوان کی پوزیش پرایستادہ کروان کی مدد کرو۔
توجوخود اپنی پوزیشن طے نہیں کرسکتےاوراپنی پوزیشن کے لئے آپ کے محتاج ہیں،وہ آپ کے دیوتا کس طرح ہوسکتے ہیں؟ بتائوجوپوزیشن طے کرنے والاہے وہ بڑاہےیاجس کی پوزیشن طے کی جارہی ہے وہ؟ صحیح بات یہ ہے کہ بتوں کی پرستش انسان کی خود اپنی تذلیل ہے۔

پیر، 8 جولائی، 2013

Self help


اپنے دانہ کوپودا بنا ئیں اورپوداکوتناوردرخت


محمد آصف ریاض

جون 2013 کی شام ایک نوجوان ملاقات کے لئےآئے۔ وہ پٹنہ کےرہنے والے ہیں اورنوئیڈا میں گزشتہ پندرہ سالوں سے رہ رہے ہیں۔ ان کی عمرتیس سال سے زیادہ ہوچکی ہے لیکن اب تک وہ کوئی قابل قدرکارنامہ انجام نہیں دے سکے ہیں۔

بات چیت کے دوران انھوں نے اپنے گھروالوں کی شکایت کی۔ ان کاکہنا تھا کہ گھروالوں نے ان کی مدد نہیں کی اس لئے وہ ناکام ہوگئے۔ میں انھیں پہلے سے جانتا ہوں ۔ میں نے انھیں بتایا کہ آپ کے دوسرے بھائیوں کی بھی مدد نہیں کی گئی تھی لیکن وہ توکامیاب ہوگئے۔ میری اس بات پروہ سٹپٹا کررہ گئے۔

آدمی کو چاہئے کہ وہ کسی معاملہ میں کوئی عذرپیش نہ کرے ہرچند کہ اس کے پاس بیان کرنےکےلئےبہترین عذرہو
Do not use any excuse even if you have a good one

میں نےانھیں بتایاکہ اس دنیا میں مدد اسی کوملتی ہےجویہ ثابت کرسکےکہ اگراس کی مدد کی گئی تووہ مدد کرنے والے کومزید اضافہ کے ساتھ لوٹائے گا۔ میں نے انھیں بتایاکہ آپ اپنے عمل سے اپنی افادیت ثابت نہ کرسکے بلکہ الٹا آپ نے لوگوں پریہ تاثرچھوڑاکہ اگرآپ کی مدد کی گئی تومدد کرنے والے کوشرمندگی اٹھانی پڑے گی۔


کسان اور دانہ

کسان دانے کی مدد کرتا ہے۔ لیکن کب؟ جبکہ دانا اپنے آپ کوپوداکی شکل میں نمودارکرنےاورکسان پریہ تاثرچھوڑنے میں کامیاب ہوجائے کہ اگراس کی مدد کی گئی تووہ کسان کے لئے پھل لائے گا، اسے سایہ دے گا، اس کے لئے آکسیجن تیارکرے گا اوراسے زندگی کاسامان فراہم کرائے گا۔ پودے کی اس یقین دہانی کے ساتھ ہی کسان ایکٹیوہوجاتا ہے۔ وہ اس کے لئے پانی کااہتمام کرتاہے۔اس کی صفائی کااہتمام
 کرتاہے، اسے کوئی بیماری نہ لگ جا ئے اس کے لئے دواﺅں کا انتظام کرتا ہے۔ وہ اس کی نگرانی کرتا ہے اوراسے درخت بننے میں ہرممکن مدد فراہم کرتاہے۔ وہ اس پرجان اور مال لگاتاہے۔ وہ اس کی پر ورش کرتا ہے۔

لیکن یہ مدد پودے کواس وقت ملتی ہےجبکہ پودااپنے کسان پراپنی افادیت کوثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے اورجب کوئی پودا اپنی افادیت ثابت نہیں کر پاتاتواس پودا کے متعلق کسان کاردعمل بالکل دوسراہوتا ہے۔ یعنی کسان اسے اکھاڑکردور پھینک دیتا ہے۔

کسان بیج لگاتاہے اوروہ بیج پودے کی شکل میں نمودارہوتا ہے تواس کی قدرکی جاتی ہے اوراگروہ بیج پودا کی شکل میں نمودارنہ ہوتوکسان پوری کھیتی پرہل چلا دیتا ہے اورپھرنیا بیج لگاتاہے۔

 یہی حال کسی انسان کا ہے۔ اگرانسان دانےکی طرح اپنی افادیت ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے توضروراس کی قدرکی جائے گی اوراگروہ ناکام ہوجائے توبعید نہیں کہ ناکارہ دانے کی طرح اس پربھی ہل چلا دیاجائے۔

کسان کی مدد کے حصول کے لئے دانے کواپنی افادیت ثابت کرنی پڑتی ہے، اسی طرح کسی کی مدد پانے کے لئے انسان کواپنی افادیت کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ کسی سے مدد کے حصول کااس دنیا میں یہی عملی تقاضاہے جولوگ اس عملی تقاضے کوپورانہ کرسکیں ان کاانجام اس دانے کی طرح ہوگاجواپنے آپ کوپودا نہیں بناپاتا اوراکھا ڑکر پھینک دیاجاتاہے۔ ایسے لوگوں کونہ گھرسے مدد ملتی ہے اورنہ باہرسے۔
یادرکھئے،جس طرح ناکارہ دانے کی مدد نہیں کی جاتی اسی طرح ناکارہ لوگوں کی بھی مدد نہیں کی جاتی۔ مدد تو صرف اسی کی ہوتی ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں، جو اپنے دانہ کو پودا بناتے ہیں اور پودا کو تناوردرخت۔


بدھ، 26 جون، 2013

Seeing God with Bird’s- eye view


برڈس آئی یو اوروارمس آئی ویو کے بعد اب کوئی عذر باقی نہ رہا

 محمد آصف ریاض
سولہ جون 013 2  کو دہلی میں بہت بارش ہوئی۔ رات دن بارش ہوتی رہی۔ میں اپنے گھر کے ونڈوپربیٹھا بارش کی بوندوں کوآسمان سے اترتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ اسٹریٹ لائٹ روشن تھی۔ لائٹ پربارش کی بوندیں موتی کی طرح ٹپک رہی تھیں۔ اس درمیان ہم نے دیکھا کہ بہت سے پتنگے دیوانہ وار روشنی پر لپک رہے تھےاورطوفانی بارش انھیں اٹھا کردور پھینک رہی تھی۔ بارش کے بہاﺅمیں وہ ادھرادھربہہ جاتے اورتھوڑی دیرکےبعد روشنی پرجان نچھاور کرنے کے لئے پہنچ جاتے تھے۔ یہ سلسلہ مسلسل جاری تھا۔
پتنگے روشنی کو وارمس آئی ویو (worm's-eye view) سے دیکھتے ہیں۔ وہ برڈس آئی ویو(Bird's-eye view) سے نہیں دیکھتے کیونکہ ان کے پاس برڈس آئی ویوکی صلاحیت نہی ہوتی۔
وارمس آئی ویو کیا ہے اور برڈس آئی ویو کیا ہے؟
وارمس آئی ویو کسی چیز کوبہت قریب سے یا نیچے سے دیکھنے کا نام ہے۔
A worm's-eye view is a view of an object from below, as though the observer were a worm
اس کے برعکس’ برڈس آئی ویو‘ کسی چیزکواوپر سے دیکھنے یا تصورکرنے کا نام ہے۔ اسی لئے اسے ایریئل ویو بھی کہتے ہیں۔ برڈس آئی ویو کے تحت ہروہ چیزآتی ہے جسے ہم تخیلات کے ذریعہ محسوس کرتے ہیں۔
A bird's-eye view is an elevated view of an object from above
میں سوچ رہا تھا کہ پتنگے"برڈس آئی ویو" یعنی تخیل کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ کسی چیزکے بارے میں تصورنہیں کرسکتے، اس لئے ہرچیزکو نزدیک سے یعنی وارمس آئی ویوسے دیکھتے ہیں۔
اس کے برعکس انسان کو لیجئے۔ انسان وارمس آئی ویو سے بھی دیکھتا ہے اور برڈس آئی ویو سے بھی ۔ وہ کسی چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اورجن چیزوں کو وہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ پاتا وہ ان کے بارے میں تصورکرسکتا ہے۔
انسان کے اندر یہ دونوں صلاحیتیں کیوں ہیں؟
انسان کو وارمس آئی ویودیا گیا ہے تاکہ انسان کسی چیزکوتجربے میں لاکر دیکھے۔ لیکن انسان ہرچیزکوتجربے میں نہیں لاسکتا اس لئے اسے برڈس آئی ویو یعنی تخیل کی صلاحیت بھی دی گئی ہے تاکہ جس چیزکو وہ تجربہ کے ذریعہ دیکھ نہیں سکتا وہ اس کے بارے میں تخیل سے کام لے۔
ایک مثال
سائنسدانوں کاماننا ہے کہ بلین سال قبل مارس پرپانی تھا توکیاانھوں نے پانی کو دیکھ لیا؟ نہیں،انھوں نے پانی کونہیں دیکھا۔ جوکچھ دیکھا گیا ہے وہ ریگزار (pebbles ) ہیں۔ سائنس دانوں کومارس پرریگزارنظرآئے۔انھوں نے ان ریگزاروں کاموازنہ زمین پرندیوں کے کنارے پائے گئے ریگزاروں سے کیاتو معلوم ہواکہ یہ پتھرایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ وہ اس طرح رونڈ کٹے ہوئے تھے کہ سائنسداں اس نتیجہ پرپہنچے کہ اس طرح کے پتھرصرف پانی میں ہی کٹ سکتے ہیں۔ چنانچہ تخیل یعنی برڈس آئی ویو کے ذریعہ سائنسداں اس نتیجہ پر پہنچے کہ مارس پرپانی تھا اوروہ پانی رواں تھا۔
From finding a trail of evidence supporting the presence of water on Mars a few billion years ago, Curiosity’s discovery of sub-rounded or rounded pebbles provides definitive proof that the red planet once had a river.
( دی ہندو 6جو ن 2013)
مزیدجاننےکےلئے پڑھئے:
http://www.thehindu.com/opinion/editorial/a-river-ran-through-it/article4785198.ece
مارس پرپائے گئے ریگزاروں کودیکھ کرسائنسدانوں نے اپنے برڈس آئی ویو یعنی قوت تخیل کوکام میں لایا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ مارس پرکبھی پانی تھا۔حالانکہ انھوں نے پانی کونہیں دیکھا تھا۔
خدا وند انسان سے یہی چاہتا ہے
خداوند نےانسان کی تخلیق کی اوراس کی زندگی کودوحصوں میں منقسم کردیا۔ پری ڈیتھ پریڈ اورپوسٹ ڈیتھ پیریڈ۔ یعنی موت سے پہلے کی زندگی اورموت کے بعد کی زندگی۔
موت سے پہلے کی زندگی کوآدمی وارمس آئی ویوکے ذریعہ سمجھتا ہے یعنی وہ اس کو تجربہ کی سطح پرجانتا ہے۔ اورموت کے بعد کی زندگی کوانسان برڈس آئی ویو کے ذریعہ سمجھتا ہے، یعنی قوت تخیل کے ذریعہ۔ خدا وند نے جانا کہ جوآنکھ وہ اپنے بندہ کودے رہا ہے اس آنکھ  سے اسکے لئے ممکن نہیں کہ وہ اپنے خدا وند کوپہچان لےاس لئے اس نےبرڈس آئی ویو کی شکل میں ایک دوسری آنکھ دی یعنی سوچنے اورتخیل کرنے کی صلاحیت دی۔ انسان سے مطلوب ہے وہ اس صلاحیت کو کام میں لاکراپنے رب کو پہچانے۔
جس طرح سائنسدانوں نےریگزاروں کودیکھ کرمارس پرپانی کے ہونے کو سمجھ کراسے تسلیم کرلیا،اسی طرح انسان کویہ کرنا ہے کہ وہ مردہ زمین پر زندہ سبزوں کواگتا ہوا دیکھ کر یہ سمجھ لے کہ مرنے کے بعد اسی طرح انسان کا جینا ہوگا۔ جس طرح انسان کا جسم کیلشیم، نمکیات اورآیرن جیسے کمپوننٹس سے مل کرتیارہوا ہے اور سب جانتے ہیں کہ اپنی ابتدائی حالت میں یہ اجزا بے جان تھے ،پھر خدا وند نے ان بے جان اجزاکو جمع کرکے انسان کی تخلیق کی توجوخدا وندغیرجاندارکوجانداروجود میں تبدیل کررہا ہے کیا وہ انسان کومرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پرقادرنہ رہا؟
 اسی طرح سبزہ کودیکھئے ۔ سبزہ پانی ، مٹی اوردوسرے اجزا سے وجود میں آتے ہیں۔ اپنی ابتدائی حالت میں سبزہ سبزہ نہیں ہوتا۔ خدا وند غیر سبزہ کو سبزہ بنا تا ہے تو جوخدا غیر سبزہ کوسبزہ بنا رہا ہے کیا وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں رہا؟
حقیقت یہ ہے کہ موت کے بعد حیات کو جاننے کے لئے برڈس آئی ویودرکار ہے اور یہ صلاحیت خدا وند نے ہرانسان کودیا ہے تاکہ انسان کواپنے خداوند اورموت کے بعد حیات پریقین آجائے۔
قرآن میں اسی بات کو اس طرح سمجھا یا گیا ہے:
جواللہ تعالیٰ کا ذکرکھڑے اوربیٹھے اوراپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اورآسمان وزمین کی پیدائش میں غوروفکرکرتے ہیں اورکہتے ہیں اے ہمارے پروردگار تو نے یہ سب بے فائدہ نہیں بنایاتوپاک ہے، پس توہمیں آگ کےعذاب سے بچالے"(3:191(

خدا وند چاہتا ہے کہ انسان زمین وآسمان کی تخلیق پرغورکرے اوراپنے خدا وند کوپہچانے ۔ لیکن یہ کام وارمس آئی ویو سے ممکن نہیں تھا،اسی لئے خدا وند نے انسان کوسوچنے اورتخیل کرنے کی انوکھی صلاحیت دی یعنی اسے برڈ س آئی ویودیا۔ آدمی پرلازم ہے کہ وہ اپنی اس صلاحیت کوکام میں لاکراپنے خدا وند کوپہچانے اورموت کے بعد حیات پرایمان لائے کیونکہ اب اس کے پاس کوئی عذرباقی نہیں رہا۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے خدا وند کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں دی گئی تھی۔

جمعہ، 7 جون، 2013

Hero generation and zero generation

پیسہ سے پہلے ہیروجنریشن پیدا ہوتی ہےاورپیسہ کے بعد زیرو
محمد آصف ریاض
میری پیدائش پٹنہ ایک گاﺅں حضرت سائیں میں ایک متوسط گھرانے میں ہوئی۔ میرے والد ایک کسان آدمی تھے اورعملی طورپرکاشت پرہی زندگی کا انحصارتھا۔ انھوں نے ہم لوگوں کی پڑھائی پردھیان دیا، لیکن پڑھائی کے معاملہ میں جبرسے کام نہیں لیا۔ ہم لوگ چھہ بھائی اورتین بہنیں ہیں۔
میں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا، اور پٹنہ میں ہی ڈاکٹرریحان غنی کی ادارت میں نکلنے والے روزنامہ پندارمیں صحافت کے پیشہ سےوابستہ ہوگیا۔ بعد میں دہلی سے نکلنے والے سنڈے انڈین میگزین کا اسسٹنٹ ایڈیٹربنا۔
میرا، ایک بھائی گورمنٹ اسکول میں ٹیچرہوگیا۔ بڑے بھائی نے اپنا بزنس شروع کردیا۔ ایک چھوٹے بھائی نائب ریاض نے ایروناٹکیل انجینئرنگ کی اوراندراگاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ دہلی میں جیٹ ایئرویزکا ملازم ہوگیا۔ سب سے چھوٹا بھائی رہبرمیرے ساتھ دہلی میں رہتاہے اوروہ میڈیکل کی تیاری کررہاہے۔
پچھلے دنوں انجینئرنائب ریاض کی جاب دبئی کی امارات ایئرلائن میں ہوگئی۔ امارات مشرق وسطی کی سب سے بڑی ایئرلائن ہے۔ اس کی تین ہزارفلائٹ ہرہفتہ دنیا بھر کے77 ممالک کے لئے اڑان بھرتی ہے۔ امارات درحقیقت امارات گروپ کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس گروپ میں 68,000 ملازمین کام کرتے ہیں۔ یہ کمپنی دبئی حکومت کی ملکیت ہے۔ امارات میں جاب ہونے کے بعد نائب ریاض کی تنخواہ کافی بڑھ گئی۔ اب تک وہ کچھ والے نہیں تھے اوراچانک سب کچھ والے ہوگئے۔ ابھی وہ محض چھبیس سال کے ہیں۔
سب سے چھوٹے بھائی رہبرنے اسی سال انٹرمیڈیٹ کا امتحان دیا ہے، وہ امتحان میں امتیازی نمبرسے کامیاب ہواہے۔ وہ پٹنہ گیا ہوا تھا۔ وہاں سے فون کرکے اس نے بتا یا کہ وہ میڈیکل کی تیاری کرنا چاہتاہے۔ اس کے لئے دہلی میں کوئی کوچنگ سینٹر تلاش کردیاجائے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔
تھوڑی توقف کے بعد وہ کہنے لگا کہ اگرکمپٹیشن نہیں نکلا توہم " ڈونیشن پرداخلہ لے لیں گے۔
ابھی تک وہ اپنی محنت پرمیڈیکل نکالنا چاہ رہے تھے، وہ کمپٹیشن فائٹ کرناچاہتے تھے، لیکن پیسہ آتے ہی وہ اچانک ہمت ہارگئے،اورکمپٹیشن کی جگہ ڈونیشن کی بات کرنےلگے۔
ڈونیشن کی بات سن کرمیں سوچنے لگا کہ پیسہ آدمی کوایک دم سے کتنا نیچے گرادیتا ہے۔ وہ آدمی کو کسی لائق نہیں رہنے دیتا۔ وہ انسان سے اس کی قوت مزاحمت چھین لیتا ہے۔ وہ آدمی کواس لائق نہیں رہنے دیتا کہ وہ میدان میں اترکرکسی کامقابلہ کرے اوراپنے بل پرکامیاب ہو۔ میرے تجربہ نے مجھے بتایا:
" پیسہ سے پہلے ہیروجنریشن پیداہوتی ہے اورپیسہ کے بعد زیرو۔

Make yourself a machine where waste is converted into energy

زندگی کاعمل صعوبت پرردعمل کا نام ہے


محمد آصف ریاض

 2جون 2013 کو پٹنہ کے ایک نوجوان ملنے کے لئے آئے۔ ان کا نام احمد ہے۔ وہ دہلی کے جامعہ نگرعلاقہ شاہین باغ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے ابھی حال ہی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بی ایڈ کیا ہے۔ وہ فیزکس کے طالبعلم ہیں اورفزکس میں ایم ایس سی کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔

ملاقات کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ ان دنوں کا فی دبائو میں ہیں۔ ان پرگھر کی ذمہ داریاں آ گئی ہیں اور وہ پیسہ نہیں کما پارہے ہیں۔ وہ اپنی ذمہ داریوں سے گھبرائےہوئے تھے۔

میں نے انھیں بتا یا کہ ایسا نہی ہے کہ آپ پرزیادہ ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں۔ یہ ذمہ داریاں آپ کواس لئے زیادہ لگ رہی ہیں کیونکہ آپ ابھی اپنے اندرچھپی امکانی صلاحیت کونہیں جانتے۔ ابھی آپ نے اپنے آپ کو دریافت نہیں کیا ہے۔ جس دن آپ اپنی امکانی صلاحیت کوجان لیں گےاسی دن سے آپ کویہ ساری ذمہ داریاں کم نظر آنے لگیں گی۔

میں نے انھیں بتا یا کہ آپ پیسہ نہیں کماپارہے ہیں تو بہت زیادہ فکرکی بات نہیں ہے کیوں کہ آپ اس کی جگہ علم کما رہے ہیں۔ البتہ اگرآپ دونوں نہیں کما رہے ہیں تویہ فکرکی بات ہے۔

میں نے انھیں بتایا کہ کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی وقت میں وہ علم بھی
 کما ئے اور پیسہ بھی۔ ایک وقت میں آدمی ایک ہی چیزکما سکتا ہے، یاتو وہ پیسہ کمائے گا یاعلم۔

ایک مثال

میں نے انھیں بائبل کی ایک مثال دی۔ بائبل میں ہے۔
" کوئی بھی شخص ایک ہی وقت میں دومالکان کوخوش نہیں رکھ سکتا۔ چاہے تووہ ایک سے محبت کرے گا،اوردوسرے سے نفرت۔ سنو، تم ایک ہی وقت میں مال اورخداوند دونوں کوحاصل نہیں کرسکتے"

New International Version (©2011)
"No one can serve two masters. Either you will hate the one and love the other, or you will be devoted to the one and despise the other. You cannot serve both God and money.
Matthew 6:24

آدمی کے لئے بہت مشکل ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں دونوں چیزوں کوحاصل کر لے۔ وہ مال والا بھی ہوجائے اورعلم والا بھی۔ آدمی کوایک چیز کے لئے ایک چیز کی قربانی بہرحال دینی پڑتی ہے۔
دبائو ایک فطری امرہے۔ ہرآدمی پردبائوآتا ہے۔ اگرآدمی پردبائونہ آئے تواس کی چھپی ہوئی صلاحتیں ظاہر نہیں ہوں گی۔ آدمی کی خوابیدہ صلاحتیں اسی وقت جاگتی ہیں جب کہ اس پردبائوہو۔
میں نے انھیں بتا یا کہ آپ اپنے آپ کو وہ مشین بنائے جہاں فضلات آکر انرجی میں تبدیل ہوجاتےہیں۔

{Make yourself a machine where waste is converted into energy}

نادان آدمی دبائوکو دبائوسمجھتا ہے۔ وہ اسے چیلینج کے طور پرنہیں لیتا اورتباہ ہوجا تا ہے۔ اس کے برعکس ہوشیار آدمی ہردبائوں کوچیلینج کے طورپرلیتا ہےاوراسے کامیابی کی طرف بڑھنے کا ایک زینہ بنا لیتاہے۔

کسی دانشور نے اسی بات کواس طرح سمجھا یا ہے۔

"صعوبت کی ایک مناسب مقدارزندگی کے لئے ضروری ہے۔ زندگی کا عمل در اصل صعو بت پر ردعمل کا نام ہے"

The optimum amount of stress was necessary for life. The process of living is a process of reacting to stress.

اسی بات کو قرآن میں اس طرح سمجھا یا گیا ہے۔

لقد خلقنا الانسان فی کبد
یعنی ہم نے انسان کومشکل میں پیدا کیا۔ انسان کی تشکیل اس اندازمیں ہوئی ہے کہ اسے صعوبتوں کا تجربہ گزرتا رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو توانسان مردہ ہوجائے۔ وہ دنیا میں کوئی قابل قدرکارنامہ انجام نہ دے سکے۔

منگل، 4 جون، 2013

Believing in man and not believing in God

آدمی اپنے جیسے انسان پریقین کرتا ہے،اوروہ خداوند پریقین نہیں کرتا

محمد آصف ریاض
ایک آدمی زمین پرپتھرکے بڑے بڑے ستون بناتاہے۔ پھروہ ان پرلوہے کی بڑی بڑی پٹریاں بچھاتاہےاوران پر(میٹرو)کودوڑادیتاہے۔ ٹرین لوگوں کواٹھائے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتی رہتی ہے۔ اب سے لوگوں کی سیکورٹی کاخیال آتاہے۔ وہ ایک پوری فوج تیارکرتا ہے اوراسے لوگوں کے تحفظ پرمعمورکردیتا ہے۔ پھراسے لوگوں کی نگرانی کاخیال آتا ہے اوروہ اسٹیشن اورٹرین پرخفیہ کیمرے نصب کردیتا ہےتاکہ ہرچیزاس کی نگرانی میں رہے۔
اب اگرکسی شخص کوبتایاجائے کہ اسٹیشن پرخفیہ کیمرہ نصب ہے توکوئی اس سے انکارنہیں کرتاہرآدمی سمجھتاہے کہ ٹرین یااسٹیشن پروہ جوکچھ بھی کررہا ہے، اسے دیکھا جارہاہے۔ اس کی نگرانی کی جارہی ہے۔ اس کا کوئی عمل انتظامیہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ٹرین پرنصب کیمرہ کی خبرپرہرشخص یقین کرتاہے سوائےجنگلی اوربدولوگوں کے،جواپنی جہالت کی وجہ سےنہیں سمجھ پاتے کہ اتنا بڑاکام کس طرح ہوسکتاہے؟
خدا وند کا منصوبہ
اسی طرح خداوند نے زمین کی تخلیق کی۔ اس پرانسان کوبسایا۔ اس کے اندرسے اس کے کھانے پینے کاساراسامان نکالا۔ اس نے اونچے اونچے پہاڑبنائے، اورآسمان کواونچا اٹھایا۔ اس پرسورچ اورچاند کورکھ دیا۔
 اب اس نے انسان کی نگرانی کے لئے ایک اورکام کیا،وہ یہ کہ فرشتوں کوہرانسان کے ساتھ لگا دیا تاکہ وہ اس کارپورٹ کارڈتیارکریں،اوراس کی نگرانی کرتے رہیں۔ پھر اس نے آگے بڑھ کرکائنات میں ہرطرف ربانی کیمرہ نصب کرادیا اوربراہ راست ہرچیزکی نگرانی کرنے لگا۔
تاہم، جب یہ بات لوگوں کو بتائی جاتی ہے تولوگ اسے ماننے کے لئے تیارنہیں ہوتے۔ وہ پہلی خبر کو مانتے ہیں اوردوسری خبرکوجھٹلادیتےہیں۔ وہ انسان کے اختیارات کوجانتے ہیں اورخداوندکے اختیارات کو نہیں جانتے۔
بڑے بڑے ستون اوران پردوڑتی ہوئی بڑی بڑی ٹرینیں انسان کے اندراحساس عجب پیداکرتی ہیں۔ انسان انھیں دیکھ کراس قدرمتاثرہوتا ہے کہ جب اسے بتایاجاتاہے کہ ٹرین چلانے والے نے مسافرین کی نگرانی کے لئے خفیہ کیمرہ لگارکھا ہے اورسب کی نگرانی کررہاہے توکسی کواس خبرپرشک نہیں ہوتا۔ ہرشخص اس خبرکومان لیتا ہے کیوں کہ اسے لگتا ہے جوشخص اتنی بڑی چیزکومینیج کررہا ہے وہ ایک کیمرہ کو بھی مینیج کرسکتاہے۔
لیکن جب یہی بات خداوند کے بارے میں انسان کوبتا ئی جاتی ہے تووہ اس پریقین نہیں کرتا۔ حالانہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ ایک ایسی زمین پررہ رہا ہے جواس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں ہے،اوروہ اس کی مٹی سے کرشماتی طورپرکھانے پینے کے سامان بھی نکالتاہے۔وہ اپنےاوپربہت اونچا عظیم الشان آسمان کودیکھتاہے۔ وہ اس پرروشن سورج اورچاندستاروں کو دیکھتا ہے، وہ پہاڑوں، صحرا، اورسمندرکو دیکھتا ہے،لیکن یہ چیزیں اسے متاثرنہیں کرتیں۔ وہ خدا وند کے اس عظیم الشان انفراسٹرکچرکوفارگرانٹیڈ لیتا ہے۔اسی لئے اسے ربانی کیمرہ پریقین نہیں آتا۔
ربانی کیمرہ
حالانکہ اس کائنات میں ربانی کیمرہ کا ہونا اتنا ہی یقینی ہے جتنا کہ کسی میٹرواسٹیشن پرکسی انسانی کیمرہ کانصب ہونا۔ اور انسانی کیمرہ کبھی چوک بھی سکتا ہے اور ربانی کیمرہ کبھی چوک بھی نہیں سکتا۔
جس طرح سورج اپنے وقت پر نکلتا اور ڈوبتا ہے، جس طرح رات اپنے وقت پر آتی ہے اور دن اپنے وقت پر نکلتا ہے اوراپنے کام میں وہ نہیں چوکتا،اسی طرح ربانی کیمرہ بھی آن ڈیوٹی ہے، اور وہ اپنے کام میں نہیں چوکتا۔
آسمان پرسورج، چاند، اورستاروں کا ہونا تمثیل کی زبان میں اس بات کا اعلان ہے کہ اسی طرح انسان کے اوپر خدائی کیمرہ بھی کام کررہا ہے اورایک دن آئے گاجب انسان کے سامنے اس کا ریکارڈ کھول کررکھ دیا جائے گا۔ تب وہ کہے گا ہائے یہ کیسی کتاب ہے کہ اس میں توکوئی بات ایسی نہیں جو درج ہونے سے رہ گئی ہو (18:49)
قرآن میں بتا یا گیا ہے:
"ہم نے ہرچیزکولکھ کرشمارکررکھا ہے" (78:29)
But we have recorded everything in a Book
بائبل میں ہے:
"کوئی پوشیدہ چیزایسی نہیں جوکھول نہ دی جائے گی اورکوئی چھپی ہوئی چیزایسی نہیں جسے منکشف نہ کردیا جائے گا"
For there is nothing covered, that shall not be revealed; neither hid, that shall not be known
 Luke12:2))
 آہ،کیا حال ہوگا انسان کا، جب وہ ربانی کیمرہ میں خود اپنی تصویر کو دیکھے گا اور اس دن حسرت و یاس کے سوا،اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوگا۔