جمعہ، 19 اکتوبر، 2012

Seeking lesson from lather

جھاگ کا سبق

محمد آصف ریاض

پانی میں اشتعال پیدا کرنے سے جھاگ اٹھتا ہے۔ لیکن یہ جھاگ ہمیشہ باقی نہیں رہتا۔ باقی رہنے والی چیز پانی ہے۔ پانی پر"جھاگ" ایک وقتی چیز ہوتی ہے، جسے ہوائیں بہت جلد اڑالے جاتی ہیں۔ پانی سے زمین پر زندگی قائم ہے۔ اگر زمین سے پانی غائب ہوجائے تو زمین کی ساری مخلوق ختم ہوجائے۔ پانی زندگی کی علامت ہے۔ رحیم کہتا ہے۔ "رحیمن پانی راکھئے، بن پانی سب سون۔"

خدا نے پانی پیدا کیا اور اس کے ساتھ ہی اس نے جھاگ بنایا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جھاگ کا کوئی کام نہیں ہے؟ کیا خدا نے جھاگ کو یوں ہی کھیل اور تماشا کے طور پر پیدا کر دیا؟ نہیں بالکل نہیں! خدا کا یہ کام نہیں کہ وہ کھیل اور تماشا بنائے۔ اس نے جھاگ پیدا کیا تاکہ ہم اس سے سبق حاصل کریں۔

جس طرح پانی کا ایک کام ہے۔ اسی طرح جھاگ کا بھی ایک کام ہے۔ پانی میں اشتعال پیدا کرنے سے جھاگ پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی انسان کو مشتعل کرنے سے اس کے اندر سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے جسے"غصہ" کہا جا تا ہے۔ غصہ بھی جھاگ ہے۔

غصہ ایک فطری چیز ہے۔ جس طرح اشتعال کے بعد پانی کے اندر سے جھاگ کا نکل آنا فطری عمل ہے، اسی طرح کسی غیر فطری بات پر کسی انسان کا غضبناک ہو اٹھنا بھی ایک فطری عمل ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہےجب کوئی شخص غصہ کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالے۔ وہ غصہ کو جھاگ بنا کر اڑانے کے لئے تیار نہ ہو۔

جس طرح پانی جھاگ کو اپنا حصہ نہیں بناتا اسی طرح انسان کو بھی غصہ کو اپنی شخصیت کا حصہ نہیں بنانا ہے ۔ یہی جھاگ کا سبق ہے۔

جھاگ اسی لئے ہے کہ ہوائیں اسے اڑا لے جائیں اور غصہ بھی اسی لئے ہے کہ اسے بہت جلد جھاگ کی طرح اڑا دیا جائے۔

انسان کو ایسا نہیں کرنا ہے کہ وہ غصہ کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالے۔ جس طرح پانی جھاگ کو اپنا حصہ نہیں بنا تا اسی طرح کسی انسان کوغصہ کو اپنی شخصیت کا حصہ نہیں بنانا ہے۔ غصہ ایک فطر عمل ہے لیکن غصہ کو شخصیت کا حصہ بنا لینا ایک غیر فطری عمل ہے۔ اگر انسان غصہ کو جھاگ کی طرح اڑانے کے بجائے،اسے ہمیشہ کے لئے اپنی شخصیت کا حصہ بنالے، تو زمین حسد، کینہ، بغض،عداوت، نفرت اور فساد سے بھر جائے گی۔

زمین اس چیز سے خالی ہوجائے گی،جسے لوگ محبت،صلہ رحمی،رواداری،شفقت اور رفاقت کا نام دیتے ہیں۔ خدا نے جھاگ پیدا کیا تاکہ ہم یہ جانیں کہ ہمیں غصہ اور احساس نفرت کوجھاگ بنا کر اڑادینا ہے۔ یہی جھاگ کا سبق ہے۔


جمعرات، 18 اکتوبر، 2012

I too possess an empire


دعوہ امپائر 

محمد آصف ریاض
دعوہ ورک دنیوی اعتبار سے کوئی فائدے کا کام نہیں ہے۔ یہ بہت ہی صبرو تحمل اورآزمائش کا کام ہے۔ اس میں "کل" کی امید میں "آج" کو قربان کرنا پڑتا ہے، "مستقبل" کی امید میں "حال" کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ اس کام میں آخرت کی امید میں دنیا کو گنوانا پڑتا ہے۔ یہ وہ کام ہے جس کے لئے نہ ملی ہوئی چیز کی طلب میں ملی ہوئی چیز کو قربان کرنا پڑتا ہے۔
اس دنیا میں ایسے بہت کم لوگ ہیں جو نہ ملی ہوئی چیز کی طلب میں ملی ہوئی چیز کو قربان کرنے پر راضی ہوجائِں، جو مستقبل کی طلب میں خوبصورت حال کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوں، جو آخرت کی طلب میں دنیا کو قربان کرنے پرراضی ہوں۔ اتنی بڑی قربانی کے لئے بہت کم لوگ تیار ہوتے ہیں اسی لئے سچے داعیوں کی تعداد بھی اس دنیا میں بہت کم رہی ہے۔

دعوہ ورک وہ کام ہے جسے کرنے کے بعد انسان اپنے ہی لوگوں کے درمیان گمنام ہوکررہ جاتا ہے۔ وہ دنیا کی دوڑ میں پچھڑ جاتا ہے اوراپنے سماج میں حقیر ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ والےمادی اعتبار سے بڑے بڑے امپائرکے مالک ہوجاتے ہیں، ان امپائر کو دیکھ کر لوگ داعی کی طرف انگلی اٹھانے لگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ توایک ناکام آدمی ہے۔ اگر کامیاب آدمی ہوتا تو اس کے پاس بھی کوئی امپائرہوتا۔یہاں تک کہ داعی کے گھر والے بھی اس کی صلاحیتوں پر انگلی اٹھانے لگتےہیں۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں میں داعی سب سے زیادہ حقیر نظر آنے لگتاہے۔ چنانچہ لوگ اس کی بات پر کان بھی نہیں دھرتے۔
ایسی حالت میں داعی اندر سے ہلادیا جاتا ہے۔ اب اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنا کام ترک کرکے لوگوں کی روش اپنا ئے اوردوسروں کی طرح کوئی دنیوی امپائر کھڑا کرکے آخرت کے امپائر سے ابدی طور پر دستبردار ہوجائے، یا پھر پورے ماحول میں اپنے آپ کو "آئی ایم نو باڈی" بنانے پر راضی کرے۔
اب اگر داعی دوسرے آپشن کولیتاہے۔ یعنی وہ اپنے آپ کو I am nobody} { بنانے کے لئے تیار ہوجا تا ہے تو پھر یہاں سے اس کے لئے خدائی نصرتیں اترنی شروع ہوتی ہیں۔

سخت آزمائش سے گزارنے کےبعد خدا خصوصی طور پراس کی اعانت فرماتا ہے۔ مثلاً اس کو چیزوں کی صحیح سمجھ دے دیتا ہے۔ اسے کتاب اور حکمت کا علم دے دیتا ہے۔ اسی کی زبان ایسی رواں اور سشتہ کردیتا ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو اس کی بات لوگوں کا دل چیر کے اس کے اندر سماجاتی ہے۔ اس کی بات لوگوں کے دلوں میں اس طرح سرایت کرنے لگتی ہےجیسے پانی ہر چیز میں سرایت کرجا تا ہے۔
اب کسی کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ کوئی داعی کی بات کا انکار کردے۔ سوائے اس کے کہ کوئی شخص آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھنے کی قسم کھا لے یا کان رکھتے ہوئے نہ سننے کی قسم کھا لے یا دل اور دماغ رکھتے ہوئے نہ سوچنے اور سمجھنے کی قسم کھالے۔
داعی جب اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے تب جاکر اس کے لئے وہ دن آتا ہے جب وہ دنیا میں اپنا ایک امپائر کھڑا کرسکے یعنی دعوہ امپائر۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر وہ کہنے لگتا ہے کہ میرا بھی ایک امپائر ہے۔

بدھ، 17 اکتوبر، 2012

Circumcision is banned in Delhi


دہلی کے فلاحی اداروں نے ختنہ پرعملاً پابندی نافذکی

محمد آصف ریاض
 ستمبر 2012 کو میں نے اپنے بیٹا یحی کا ختنہ کرایا۔ اس کے ختنہ کے لئے میں نے دہلی میں واقع دو مسلم اسپتالوں سے رابطہ کیا۔ ان میں ایک کانام مجیدیہ اسپتال ہے، جو ہمدرد کے تحت کام کام کرتا ہے۔ دوسرا اسپتال وہ ہے جسے ایک اسلامی جماعت چلاتی ہے اور یہ دہلی کے اوکھلا علاقہ میں واقع ہے۔ مجیدیہ میں میں نے اپنے بھائی رہبر کو فیس جاننے کے لئے بھیجا تو پتہ چلا وہاں ایک ختنہ پر 6000 روپے خرچ آتا ہے۔ دوسرا اسپتال جسے ایک اسلامی جماعت چلاتی ہے وہاں پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ایک ختنہ پر 5000 روپے خرچ آ ئے گا۔
میں نے کہا کہ یہ توعملاً ختنہ پر پابندی لگانا ہے۔ پابندی کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی چیز کو اتنا منہگا کردیا جائے کہ وہ عملاً عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوجائے۔ مثلاً۔
اوبامہ نے ایک بل لایا تھا۔ اس بل کے مطابق امریکی اور باہری ملازمین کے لئے تنخواہ برابر کر دی گئی تھی۔ یعنی اگر ایک ٹیچر امریکی ہے اور وہ ماہانہ د س ہزار ڈالر پاتا ہے تو دوسرا ٹیچر جو بنگہ دیشی ہے اسے بھی دس ہزار ڈالر دیا جائے گا۔ اس فیصلہ کے مطابق امریکی اور باہری ملازمین دونوں مساوی تنخواہ پارہے تھے۔
اس فیصلہ پر ری پبلیکن نے ہنگامہ کیا تو اوبامہ نے چپکے سے ایک ری پبلکن کو بتا یا کہ جب برا بر تنخواہ دینی پڑے گی تو امریکی کمپنیاں باہر والوں کوجاب نہیں دیں گی۔ یہ ابھی باہری لوگوں کو اس لئے جاب دیتی ہیں کیوںکہ وہاں انھیں کم تنخواہ پر ملازمین مل جاتے ہیں۔ اب جب دونوں کو برابر پیسہ دینا ہوگا تو وہ ملازمین کو ڈھونڈنے بنگلہ دیش کیوں جائیں گی، وہ امریکیوں کو ہی جاب دیں گی؟ یعنی اس فیصلہ کے تحت اوبامہ نے باہری ملازمین کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے عملاً روک دیا تھا۔
یہی کام یہ فلاحی ادارے کر رہے ہیں۔ یہ ختنہ تو کرتے ہیں لیکن عملاً اتنا مہنگا کر تے ہیں کہ عام آدمی اپنے بچوں کا ختنہ نہیں کرا سکتا۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ عملاً ختنہ پر پابندی لگا رہے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ آپ کو یہاں آنے کے لئے کون کہتا ہے؟ آپ باہر جائیں۔ باہر 200 روپے میں بھی ختنہ ہوجاتا ہے تو میں نے کہا کہ میں یہی پوچھنے کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں کہ جو کام باہر دو سو روپے میں ہوتا ہے، وہ آپ کے یہاں 5000 روپے میں کیوں ہوتا ہے؟
ان کے مطابق باہر دو سو روپے میں ختنہ کراکر آپ اپنے بچوں کو نامرد بنانے کا رسک لیں اور اگر ان کے اسپتال میں ختنہ کراناچاہتے ہیں تو آپ کو ان کے حساب سے  پے کرنا ہوگا جو آپ کے بس میں نہیں۔
 یعنی آپشن دو ہے ایک یہ کہ آپ اپنے بچوں کا ختنہ نہ کرائیں دوسرا یہ کہ کرائیں تو اسے نامرد بنانے کا رسک لیں۔
 26 جون 2012 کو جرمنی کے ایک کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ختنہ سے بچے کے جسم کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس فیصلہ کے پیش نظرجرمن میڈیکل اسوسی ایشن نے ملک بھر کے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ ختنہ کرنا بند کردیں۔ اس فیصلہ پر جرمنی سمیت پوری دنیا کے مسلمان بر ہم ہوگئے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے بھی اس مسئلہ پر کافی ہنگامہ کیا اور اسے اسلام کے خلاف ایک حملہ قرار دیا ۔ لیکن عملاً وہ خود ختنہ پر پابندی لگا رہے ہیں۔ لیکن ان کے اس فیصلہ پر کوئی ہنگامہ نہیں کرتا کیوں کہ یہ سب کچھ فلاح اور قوم کے نام پر کیا جا رہا ہے۔
جرمن والے جو کچھ کر رہے تھے وہ بچے کے حقوق اور انسانی حقوق کے نام پر کر رہے تھے لیکن یہ ہندوستانی اسپتال والے جو کچھ کر رہے تھے وہ اسلام اور قوم کے نام پر کر رہے تھے۔ کیونکہ یہ دونوں ادارے فلاحی ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور قوم سے اسی کے نام پر فنڈ بھی جمع کرتے ہیں۔
یہ ناپ تول کا معاملہ ہے
میرے نزدیک یہ معاملہ ناپ تول میں کمی اور زیا دتی کا معاملہ ہے۔ یہ وہی جرم ہے جس میں کبھی قوم شعیب مبتلا  ہوگئی تھی اورقرآن کے تاریخی بیان کے مطابق اسی جرم کی پاداش میں پوری قوم کو تباہ کردیا گیا تھا۔
قرآن کا تاریخی بیان اس سلسلے میں ملاحظہ فرمائیں: " ائے برادران قوم ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھا ٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔" {11: 85}
"انھوں نے جواب دیا کہ اے شعیب کیا تمہاری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دا دا کرتے آئے ہیں یا یہ کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑ دیں؟ بس تو ہی تو ایک عالی ظرف اور راست باز آدمی رہ گیا ہے؟"  {11: 87}
"آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیب اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس حرکت پڑے رہ گئے۔ گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے۔ سنو، پھٹکارہےمدین کوجس طرح پھٹکار ہوئی تھی ثمودکو۔" {11: 94-95}
ناپ تول میں کمی اور زیادتی کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی آدمی ترازو سے کوئی چیز تولے۔ اس آیت کا استنباط ہر اس معاملہ پر ہوگا جس میں آدمی اپنے فائدہ کے لئے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر کمی اور زیادتی کرتا رہے۔
"پھٹکار ہے مدین کوجس طرح پھٹکار ہوئی تھی ثمود کو۔" یہ بہت سخت جملہ ہے۔ میں اتنا سخت بیان نہیں دوں گا کیونکہ اس کاحق صرف خدا وند کو ہے اور ہمارے لئے ایسا کرنا گویا ایک ایسے میدان میں قدم رکھنا ہے جو انسان کا میدان نہیں۔ البتہ میں وہ بات ضرور کہوں گا جو حضرت شعیب نے اپنی قوم سے کہا تھا:
"ائے برادران قوم ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھا ٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔" {11: 85}

I don’t know how to sit and do nothing


میں بیکار بیٹھنا نہیں جانتا

محمد آصف ریاض

خوشونت سنگھ ایک بڑے رائٹر ہیں۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی لکھنے پڑھنے میں لگائی ہے۔ وہ دنیا میں بھر میں بہت زیادہ پڑھے جانے والے کالم نویس ہیں۔ اب وہ زندگی کے آخری ایام میں ہیں۔ ان کی عمر 97 سال ہوچکی ہے لیکن اس عمر میں بھی وہ ہر ہفتہ دو مضامین لکھتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے انھوں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے اور اب وہ موت کا انتظارکر رہے ہیں۔ ان کا یہ قول بہت مشہور ہوا۔ "میں نہیں جانتا کہ بے کار کس طرح بیٹھا جا تا ہے۔"
I don’t know how to sit and do nothing

یہی کسی فاتح کی اسپرٹ ہوتی ہے۔ کسی فرد یا قوم کی کامیابی کا راز یہی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اسی وقت سرخروئی کے مقام پر فائز ہوتی ہے جب کہ اس کے اندر اس طرح کے افراد موجود ہوں جو بیٹھنا نہیں جانتے، جواپنی زندگی کے آخری ایام بھی اپنے مشن پر لگادیں۔ جو اپنے مشن کو کامیابی سے ہمکنار کر نے کے لئے اپنی ہڈیوں کو گلا دیں۔ اس عظیم اسپرٹ کے بغیر کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا جا سکتا، نہ سائنس کے میدان میں اور نہ دعوت دین کے میدان میں۔

علامہ ابن تیمیہ {1263-1328}  ایک عظیم اسلامی اسکالر اور مفکر گزرے ہیں۔ انھیں کئی کئی بار جیل میں ڈالا گیا۔ آپ نے جیل کے اندر کئی کتابیں لکھیں جو بہت مشہور ہوئیں۔ آپ کے "طلب علم" کا حال یہ تھا کہ آپ دن رات پڑھتے رہتے تھے اور جب کوئی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی تو بہت سوچتے، اور جب اس سے بھی کام نہیں چلتا تو جنگل کی طرف نکل جاتے اور اس طرح دعاکرتے تھے: "یامعلم ابراہیم علمنی"۔ اے ابراہیم کو علم سکھا نے والے مجھے بھی علم سکھا۔

ابن تیمیہ کی تقریباً ایک ہزار کتابیں ہیں جو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ انھیں بجا طور پر شیخ الاسلام کہا جا تا ہے۔ معروف اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خان نے انھیں اپنے وقت کا مجدد قرار دیا ہے۔

مولانا وحید الدین خان پیدائش   { January 1,1925} بہت بوڑھے ہوچکے ہیں لیکن آج بھی وہ نہایت پابندی کے ساتھ ہر سنڈے کو اپنے اسپریچوئل کلاس سے گھنٹوں خطاب کرتے ہیں ۔ وہ اس عمر میں بھی پورا " الرسالہ" خود سے لکھتے ہیں۔ تذکیر القران کے نام سے ان کی تفسیر بھی شائع ہوچکی ہے، اس کے علاوہ ان کی سینکڑوں کتابیں ہیں۔ دعوہ ورک میں ان کے کنٹریبوشن کو نظر انداز کرنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ میں نے کئی بار اپنی میگزین کے لئے اردو اور انگریزی میں ان سے مضامین لکھوائے ہیں ۔انھوں نے ہمیشہ وقت سے پہلے اپنے مضامین ارسال کئے ۔ان کا "بڑھاپا" ان کے کام میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

اسی طرح کی ایک مثال مفسرقرآن مولانا فاروق خان صاحب کی بھی ہے۔ آنجناب بھی کافی بوڑھے ہوچکے ہیں لیکن علم کا شوق آج بھی آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا ۔ سوربھ قرآن کے نام سے ہندی میں آپ کی تفسیر شائع ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ حدیث پر بھی آپ نے بہت کام کیا ہے ۔ فی الحال’ حقیقت نبوت ‘ نامی کتاب پر آپ کام کر رہے ہیں۔ طلب علم نے آپ کو اس طرح سرگرم اور متحرک رکھا ہے کہ عملی طور پر یہ ثابت کرتے رہتے ہیں کہ میں بیکار بیٹھنا نہیں جانتا:
 I don’t know how to sit and do nothing

منگل، 16 اکتوبر، 2012

There is only one language, the language of heart


مجھے اس فلسفی سے اتفاق نہیں


محمد آصف ریاض

شاہ ولی اللہ (February 21, 1703 – August 20, 1762) ایک عظیم مصنف اور مفکر تھے۔انھیں محدث دہلوی بھی کہا جا تا ہے۔ انھوں نے درجنوں کتابیں لکھیں. ان کی ایک کتاب کانام" لبدور البازغہ" { The rising moons } ہے ۔ فلسفہ سے متعلق یہ ایک بہترین کتاب ہے۔

 اس کتاب میں شاہ ولی اللہ نے انسانی زندگی کے تمام پہلوں کو ٹچ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً کوئی سماج کس طرح وجود میں آتا ہے، حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے، حاکم کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے، رعایا کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے، معیشت کیا چیز ہوتی ہے، تعلیم و تربیت کو کس طرح فرغ دیا جا سکتا ہے، ہم آہنگی کیا چیز ہوتی ہے، عدلیہ اور قضا سے کیا تقاضا کیا جاتا ہے، جنگ سے کس طرح بچا جائے اور کس طرح جنگ کی جائے، خدا کا نام ، خدا کی صفات، خدا کے ننانوے اسما، قرآنی آیات کی تفصیل، تقدیر پر ایمان لانا، انسانی زندگی کےحقائق، زندگی اور موت، آخرت، جنت اور جہنم ، فرشتہ اور شیطان، اس طرح کے تمام موضوعات اس کتاب میں موجود ہیں۔

بلاشبہ یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ہر اس شخص کو یہ کتاب پرھنی چاہئے جسے فلسفہ میں تھوڑی بہت دلچسپی ہو۔

میں نے اس کتاب کو پڑھا۔ یہ کتاب واقعتا ایک اچھی کتاب ہے لیکن مجھے اس کتاب کی تمام مشمولات سے اتفاق نہیں۔ مثلاً اس کتاب کا ایک باب " Teacher of People" کے نام سے ہے ۔ اس باب میں شاہ ولی اللہ نے بتایا ہے کہ کسی استاذ کو کیسا ہونا چا ہئے۔ ان کے مطابق ایک اچھے استاذ کی پہچان یہ ہے کہ اس کے اندرزور کلام پایا جاتا ہو۔ ان کے لفظوں میں:
 His greater inclination should be the employment of eloquence it has direct appeal to the mind
{Teacher of people p-90}

مجھے اس بات سے اتفاق نہیں۔ آدمی زور کلام سے صرف خطابت کی دھوم مچا سکتا ہے۔ وہ ہنگامہ کھڑا کر سکتا ہے۔ وہ بھیڑ اکٹھی کر سکتا ہے لیکن وہ اس کے ذریعہ کوئی سنجیدہ اور تعمیری کام انجام نہیں دے سکتا۔

سنجیدہ اور تعمیری کام کے لئے وہ زبان درکارہے جسے فطرت کی زبان کہا جاتا ہے۔ اوریہی وہ زبان ہے جسے دل کی زبان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کسی دانشور نے کہا ہے:صرف ایک ہی زبان ہے اور وہ زبان دل کی زبان ہے۔

There is only one language , the language of heart

اتوار، 14 اکتوبر، 2012

it is not Erdoğan, it is Kılıçdaroğlu who is playing the sectarian card.

Reading into the mind of Kemal Kılıçdaroğlu, a Turkish social democrat politician and the main opposition leader.

Mohammad Asif Reyaz

Turkish opposition leader Kılıçdaroğlu is strongly against any intervention in Syria. Every now and then he keeps slamming Prime Minister Recep Tayyip Erdoğan for his support to the Syrian opposition. He never leaves a chance to criticize the government on the issue of Syria. He seems to be strictly against war with Syria. He is putting himself to be a champion of peace with regards to the Syrian conflict.

Addressing his parliamentary group meet On 13, October, 2012, he said:
“We don’t want war. We don’t want our sons’ blood to be shed in Arabian deserts. [...] We have marked a historic event by saying ‘no’ to the motion [authorizing the military for cross-border operations].

Again speaking at a public event in the southern province of Hatay, Kılıçdaroğlu said, "When we woke up one morning, we saw that Syria had become our number-one foe. As if we intended to create a foe, not a friend from the beginning" Foreign Minister Davutoglu calls his policy "zero problems with neighbors," but Kılıçdaroğlu pointed out that Turkey has ended up with no friendly neighbors today. He added that “Turkish policies regarding Iraq and Iran are also misguided.”

Kılıçdaroğlu is so furious with the government’s approach to the Syrian conflict that in one of his statements he called the Foreign Minister Ahmet Davutoglu an "idiot."
He did not even spare the Prime Minister Erdoğan, calling him traitor and accusing him for putting the country into a danger of war.

On CNNTürk late on Oct. 8 Kılıçdaroğlu accused Davutoğlu of favoring Sunnis in Syria’s crisis.
Wait, Wait, Wait, it is not easy to understand the mind of Kılıçdaroğlu. He is a man with complex personality. He cancels more than he reveals. His all hue and cry is not for sake of Turkey but for the sake of Assad regime in Syria.


Very few people know that Kılıçdaroğlu belongs to an Alawite sect. And since he is an Alwite, he finds himself religiously obligated to save Alawite regime in Syria. If you go deep into the water you will find that it is not Erdoğan, it is Kılıçdaroğlu who is playing the sectarian card.
Till now more than 30,000 innocent Syrian citizen most of them women and children have been killed in Assad’s onslaught, but Kılıçdaroğlu prefers to remain silent. He only speaks when he finds that Alawites regime in danger.

This is a clear indicator of the fact that, if a man is not fully aware of the situation and does not know the background and leaning of the people involved in the matter and he takes things superficially, can easily be misled. He will take falsehood as truth and dishonesty as honesty. He will go astray and will never come to the right conclusion.

To reach a right conclusion, it is imperative for a man to be well versed with the situation. Knowing every aspect of the situation is a must to arrive at the right conclusion. Without this one cannot arrive at a decisive conclusion.

جمعہ، 12 اکتوبر، 2012

Devine Sharbat


خدائی شربت

محمد آصف ریاض
کل میری طبیعت کچھ اچھی نہیں تھی۔ میں نے تلاوت کلام پاک کے بعد اپنی اہلیہ سے کہا کہ وہ میرے لئے ایک گلاس شربت تیار کرے۔ اس نے میرے لئے ایک گلاس شربت تیار کیا۔ وہ بہت سادہ شربت تھا۔ اسے پانی چینی اور لیمون سے تیار کیا گیا تھا۔ یہ اتنا اچھا تھا کہ میں اسے ایک ہی گھونٹ میں پی گیا۔ اب میں سوچنے لگا کہ یہ شربت "مین میڈ" تھا یا " گوڈ میڈ"؟ اسے انسان نے تیار کیا تھا یا اللہ نے؟ میرے علم نے مجھے بتا یا کہ اسے اللہ  نے تیار کیا تھآ۔
میں لیمون، پانی اور چینی کی تخلیق پر غور کرنے لگا کیونکہ انھیں اجزا سے مل یہ شربت  تیار ہوا تھا۔ لیمون درخت میں تیار ہوتا ہےاور درخت اپنا کھانا ضیائی تالیف یعنی {Photosynthesis} کے عمل کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔
درخت سورج سے انرجی حاصل کرتا ہے اور زمین سے پانی لیتا ہے۔ وہ فضا سے کاربن ڈائی ایکسائڈ کو اٹھا کر سوگر اور آکسیجن میں تبدیل کردیتا ہے۔
 Leaves are the food factories of a tree. Using energy from the sun, which they capture with a green pigment called "chlorophyll," leaves convert the carbon dioxide and water into oxygen and sugar (food) through the process of photosynthesis. The gases needed for and generated by photosynthesis enter and exit through tiny holes called "stomata" on the under surface of the leaves. Water vapor also exits through the stomata in the process of transpiration. 
زمین وآسمان کی پوری فضا ایکٹیو ہوتی ہے تو ہمیں لیمون اور گننا حاصل ہوتا ہے۔ درخت کے لئے ضروری ہے کہ آسمان پر سورج نکلے۔ لیکن اگر اس کی روشنی زمین پر برابر پڑتی رہے تو زمین پر زندگی پروان نہیں چڑھ سکتی۔ زمین پر موجود تمام جاندار کی موت ہوجائے گی۔ اس صورت حال سے بچنے کے لئے خدا نے ایک الٹی میٹ نظام تیار کیا۔ اس نے زمین کو چوبیس گھنٹے میں اس کے ایکسس پر نچا دیا، جس کی وجہ سے زمین پر کہیں دن ہوتا ہے اور کہیں رات ہوتی ہے۔ اگر صرف دن ہوتا یا صرف رات ہی ہوتی تب بھی زمین پر درختوں کا اگنا ممکن نہیں تھا۔
 خدا پوری زمین کو سورج کے گرد 1000 میل فی گھنٹے کی رفتار سے نچا رہا ہے تاکہ انسان کے لئے دن ہو اور رات ہو اور تاکہ زمین پر زندگی یقینی بنے۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ایک لیمون اور گننا کی تخلیق کے لئے خدا کتنے بڑے نظام کو چلا رہا ہے۔
 اسی طرح پانی کو لیجئے۔ زمین کا 70 فیصد حصہ پانی سے بھراہواہےلیکن یہاں پینے کے لائق پانی صرف 1 فیصد ہے۔ باقی پانی سالٹی ہے۔ یعنی نمک سے بھراہوا۔ اس پانی کو نمک سے پاک کیا جا سکتا ہے لیکن یہ اتنا مہنگا ہے کہ انسانیت اس پر آنے والی لاگت کو برداشت نہیں کر سکتی۔
About 70% of the earth’s surface is covered with water. Ninety-seven percent of the water on the earth is salt water. Salt water is filled with salt and other minerals, and humans cannot drink this water. Although the salt can be removed, it is a difficult and expensive process.
Two percent of the water on earth is glacier ice at the North and South Poles. This ice is fresh water and could be melted; however, it is too far away from where people live to be usable.
Less than 1% of all the water on earth is fresh water that we can actually use. We use this small amount of water for drinking, transportation, heating and cooling, industry, and many other purposes.
خدا وند پانی کی فراہمی کے لئے بھی الٹی میٹ انتظام فرمارہا ہے۔ اس خدائی انتظام کے تحت سورج اپنی ہیٹ سمندر پر مارتا ہے۔ سورج کی ہیٹ سے نمک بھاری ہونے کی وجہ سے نیچے رہ جاتا ہے اور پانی ہلکا ہونے کی وجہ سے فضاِئوں میں اڑ جا تا ہے۔ بادل اس پانی کو اٹھائے پھرتا ہے اور خدا کے حکم کے مطابق اسے برسا دیتا ہے اس کام میں ہوائیں اس کی مدد گار ہوتی ہیں۔
 یعنی جو پانی ہم پیتے ہیں اس کو پانی بنانے کے لئے خدا زمین وآسمان کو پوری طرح ایکٹیو کئے ہوئے ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ زمین اپنے اندر پانی کو سمیٹ کر رکھتی ہے اور وہ انسان کو لوٹا دیتی ہے اگر وہ خود اس کو پی جا ئے تو انسان سخت مشکل میں پڑجائے گا۔
ایک گلاس شربت پراس پورے غورو فکر سے گزرنے کے بعد میرا سینہ شکر خدا وندی سے بھر گیا۔ مجھے لگا کہ وہ ہاتھ جس نے مجھے شربت پلا یا وہ کسی انسان کا ہاتھ نہیں تھا وہ در اصل خدا کا ہاتھ تھا۔ 

خدا وند براہ راست اپنے ہاتھوں سے انسان کو کھلا تا اور پلاتا ہے تاکہ انسان اس کا شکرادا کرے لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ اس زمین پر ناشکروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جو چیز خدا کو اپنے بندے سے مطلوب تھی وہی چیزانسان سے کہیں کھو گئی ہے۔ یعنی ، شکر،عجز،انکساری اور منعم کے آگے گریہ زاری کا جذبہ۔
قرآن کا ارشاد ہے:" وہ اللہ ہے جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے اس سے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہوں تو شمار نہیں کر سکتے، حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکراہے۔ 14:34