پیر، 25 نومبر، 2013

Too much politics is harming Indian Muslims


ہندوستانی مسلمان حد سے زیادہ سیاسی انہماک کی قیمت چکا رہے ہیں

محمد آصف ریاض
بدرالدین طیب جی (1906-1844) کانگریس کے پہلے مسلم صدرتھے۔ آپ کا تعلق ممبئی کے ایک با اثرمسلم گھرانے سے تھا۔ آپ 1887 میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدرمنتخب ہوئے۔ 1895 میں طیب جی نے کانگریس اوردیگرتمام سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیارکر لی کیونکہ اس سال وہ ممبئی ہائی کورٹ کے جج بنا دئے گئے تھے۔ طیب جی مسلمانوں کی تعلیمی اورسماجی خدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔  ممبئی میں انجمن اسلام کا قیام ان کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھاجاتاہے۔
زندگی کے آخری ایام میں انھیں یہ دیکھ کر وحشت ہونے لگی تھی کہ پورا ہندوستان تعلیمی، معاشی اور سماجی میدان کو چھوڑکرسیاسی میدان میں اترآیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
"مجھے یہ دیکھ کر وحشت سی محسوس ہونے لگتی ہے کہ ہندوستان کے نوجوانوں نے اپنی توجہات کو خالصتاً سیاست پر مرکوز کردیا ہے اور انھیں تعلیم اور سماجی اصلاح کی زیادہ  پرواہ  نہیں ہے۔ میں ان لوگوں میں سے ایک ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری بہتری اور ترقی اس امر میں پو شیدہ نہیں ہے کہ ہم اپنی تمام تر توجہات کو ایک ہی سمت میں مرکوز کردیں ۔ ہمیں تو چاہئے کہ آج ہم جتنی محنت اپنی سیاسی حالت کو سدھارنے کے لئے کر رہے ہیں اسی کے ساتھ ساتھ اتنی ہی محنت اپنی تعلیمی اورسماجی حالت کوسدھارنے کے لئے بھی کریں۔ اگر ہمارے ہم وطنوں کی بہت بڑی تعداد جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی رہے تو خواہ ہم مل جل کر ایک نمائندہ  قسم کی حکومت کے لئے کتنی ہی جد جہد کیوں نہ کرلیں اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔"
) ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کا عروج ، ڈاکٹر رفیق زکریا، صفحہ 464 (
بدرالدین طیب جی ایک دانا اوردور اندیش لیڈرتھے۔ انھوں نے اپنی دور اندیشی سے سمجھ لیا تھا کہ ہندوستانی قوم سیاست میں حد سے زیادہ انہماک کی وجہ سے زندگی کے دوسرے میدان میں بری طرح پچھڑ جائے گی اور واقعتاً وہی ہوا۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ آزادی کے ساٹھ سال بعد بھی ہم یہ اعلان کررہے کہ 26 روپے کمانے والا غریب نہیں ہے اور حالت یہاں تک پہنچی ہے کہ ہمیں اپنی ساٹھ فیصد آبادی کو رائٹ ٹو فوڈ دینا پڑرہا ہے۔
اب تاریخ سے ایک مثال لیجئے۔ ہندوستان کی آزاد ی کے بہت بعد جاپان امریکہ کی غلامی سے آزاد ہوا۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے جاپان دنیا کے بازار پر چھا گیا اورامریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کرابھرا۔ یہاں تک کہ امریکہ میں اس طرح کی کتابیں نظرآنے لگیں کہ کیا امریکہ جاپان کے پاکٹ میں ہے؟
Is America in Japan's pocket?
جاپان ہندوستان سے آگے کیوں نکل گیا ؟ کیونکہ جاپانی سیاست میں اس طرح منہمک نہیں ہوئے جس طرح ہندوستانی منہمک نظر آتے ہیں۔ جاپانیوں نے اپنی توانائی کو سیاست کے بجائے معیشت اورتعلیم کے فروغ پرصرف کیااورنتیجہ کار کامیاب ہوئے۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ
ہندوستان میں مسلمانوں کی سماجی، معاشی اورتعلیمی حالت پر سروے کرنے والی سچرکمیٹی ،اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کرتی ہے کہ ہندوستانی مسلمان تعلیمی، معاشی، سماجی اورحفظان صحت کے میدان میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں۔ یہ کیوں ہوا؟ کیا یہ حکومت نے کرادیا؟ نہیں، ہرگزنہیں۔
کوئی حکومت اتنی طاقتور نہیں کہ وہ اپنے ہی ملک کو پیچھے لے جائے۔ یہ اس لئے ہوا کیوں کہ ہندوستانی مسلمانوں نے بحیثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا۔ نیز یہ کہ وہ حد سے زیادہ سیاست میں منہمک ہوگئے۔ ان کا حال یہ ہے کہ ان کا پڑھا لکھا بھی سیاست میں سرگرم ہے اور جاہل بھی۔ ان کے سیکولرلوگ بھی سیاسی دھوم مچا رہے ہیں اورمذہبی لوگ بھی۔ ان کے مالدار لوگ بھی سیاست کے میدان میں اتر آئے ہیں اورفقرا بھی ۔ مسلمانوں میں جسے بھی دیکھئے ہر ایک کسی نہ کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں ملوث ہے اور یہی ان کی بربادی کا سبب ہے۔
اب میں آپ کو آج کی دنیا سے ایک مثال دوں گا جس سے پتہ چل جائے گا کہ سیاست میں حد سے زیادہ انہماک کس قدر خطرناک ہوتاہے۔

سید شہاب الدین (پیدائش 1935 ) ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان ایک بڑا سیاسی نام ہے۔ وہ کئی بڑے عہدے پر فائز رہے اور رکن پارلیمنٹ بھی منتخب ہوئے۔ وہ شاہ بانو کیس اور بابری مسجد شہادت کے معاملہ میں ہندوستانی مسلمانوں کے ہیرو بن گئے اور پھر پوری طرح سیاست میں غرق ہوگئے۔ سیاست میں حد سے زیادہ انہماک کی وجہ سے وہ کوئی سماجی، معاشی یا تعلیمی کام انجام نہیں دے سکے۔ ان کی پوری توانائی محض سیاسی شورشرابے میں صرف ہو گئی۔ وہ قوم کو کوئی ایسی چیز نہ دے سکے جو قوم کے لئے کار آمد ہو۔ وہ خود بھی مایوس ہوئے اور قوم بھی ان سے مایوس ہوئی۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ سیاست میں حد سے زیادہ منہمک ہوگئے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے پچھڑنے کا سبب بھی یہی ہے یعنی  سیاست میں حد سے زیادہ انہماک ہے۔

بدھ، 13 نومبر، 2013

Loin culture and Cow culture


شیر کلچر اور گائے کلچر

محمد آصف ریاض
اس دنیا میں ایک کلچروہ ہے، جسے ہم لاین  Loins)) کلچرکہتے ہیں۔ لاین کلچردرحقیقت دہشت اوردرندگی کا کلچرہے۔ شیرجب تک جنگل میں ہے تب تک ٹھیک ہے۔ جنگل سے نکلتے ہی وہ لوگوں کے لئے درد سر بن جاتا ہے۔ شیرکا جنگل سے نکل کرآبادی کی طرف آنا کسی کے لئے بھی پسند یدہ نہیں۔ اگرکوئی شیرآبادی کی طرف غلطی سے بھی آجا ئے تو لوگ اسے گھیرکرمار دیتے ہیں۔
اس کے برعکس خدا وند کی اس دنیا میں ایک اورکلچر رائج ہے۔ اسے کائو cow)) کلچرکہتے ہیں۔ گائے زندگی کی علامت ہے۔ گائےانسان کے لئے زندگی کا سامان پیدا کرتی ہے۔ وہ انسانیت کی پرورش کرتی ہے۔ گائے گھاس بھوس کو حیرت انگیزطورپر دودھ میں بدل کرانسانیت کوفائدہ پہنچاتی ہے۔ وہ ہرجگہ ویلکم کی جاتی ہے۔ وہ اگرجنگل میں رہے تب بھی پسندیدہ اوراگرجنگل سے آبادی میں آجائے تب بھی پسندیدہ ۔ وہ شیرکی درندگی کے برعکس سراپا امن اور خوشحالی کی علامت ہے۔
شیراورگائے کے درمیان اس واضح فرق کے باوجود لوگوں کا حال یہ ہے کہ لوگ اعلانیہ یا غیراعلانیہ طور پرشیر کلچرکواپنا ئے ہوئے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ انھیں لگتا ہے کہ گائے بن کرانھیں کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔
انسان کے سامنے دو راستے
قرآن میں بتا یا گیا ہے" اور ہم نے دکھا د ئے اس کو دونوں راستے۔" 90-10)) خدا وند نے جنت اورجہنم کی شکل میں ایک ابدی دنیا بنائی ہے۔ اس ابدی دنیا میں بسانے کے لئے خدا وند کو منتخب افراد درکار ہیں۔ انھیں مطلوبہ افراد کے انتخاب کے لئے خدا وند نے اس موجودہ  دنیا کی تخلیق کی اور انسان کو اس بات کی کامل آزادی دی کہ وہ چاہے تو برائی کا راستہ اپنا ئے اور چاہے تو بھلائی کا۔ وہ چاہے تو جنت میں اپنے لئے جگہ بنائے اور چاہے تو جہنم میں۔
خدا وند نے ان دونوں راستوں کو گائے اور شیر کے ذریعہ عملی طور پر ثابت کردیا تاکہ انسان کے پاس اس معاملہ میں کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اس نے شیرپیدا کیا اور گائے کی تخلیق کی۔ شیرشرکی علامت ہے اورگائے سراپا خیر خواہی اور امن کی علامت۔ خدا وند چاہتا ہے کہ انسان گائے سے اپنے لئے سبق لے اورگائے کلچرکو اپنائے۔ وہ لوگوں کے لئے سراپا رحمت بن جائے۔ وہ برائی کے جواب میں بھلائی کرے۔ جس طرح گائے گھاس بھوس کو دودھ میں کنورٹ کر دیتی ہےاسی طرح وہ ہرنگیٹی ویٹی کو پوزیٹی ویٹی میں تبدیل کردے۔ قرآن میں خدا وند نے لکھ دیا ہے:
"نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کروپھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہوجائے گا جیسا دلی دوست"41: 34) )
گائے کی خوبصورت تخلیق کے ذریعہ خدا وند براہ راست طورپرانسان کوامن اورخیرخواہی کی تعلیم دے رہا ہے۔ گائے کے ذریعہ خدا وند اپنے بندوں کو بتا رہا ہے کہ اسے اپنی جنت میں بسانے کے لئے وہ لوگ درکار ہیں جو گائے کلچر کو اپنانے والے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ کوئی بھی اس کلچر کو اپنانے کے لئے تیار نہیں۔
ہندووں کا حا ل یہ ہے کہ وہ گائے کو محض پوجا کی چیز سمجھتے ہیں، اور مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ گائے کو محض کھانے کی چیز سمجھتے ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی گائے سے وہ روحانی سبق حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں جس کے لئے خدا وند نے گائے کی تخلیق کی ہے۔

جمعہ، 8 نومبر، 2013

Power of human resources

انسانی وسائل کی طاقت
محمد آصف ریاض
انسانی آبادی کا انفجارکسی قوم کے لئے طاقت کی علامت ہے۔ لیکن کچھ لوگ اسے" بھیڑ" کا نام دیتے ہیں۔ آبادی کوبھیڑکا نام دینا ایک قسم کی دیوانگی ہے۔ آبادی کوصرف وہی لوگ بھیڑ کا نام دیتے ہیں جو آبادی کی طاقت سے واقف نہیں یا جوآبادی کے استعمال کو نہیں جانتے۔
اگربارش ہو اور بہت زیادہ ہو، تو وہ شخص جو پانی کے استعمال کو نہیں جانتا، وہ گھبرا جائے گا ۔ وہ اسے اپنے لئے ایک مسئلہ سمجھ لےگا۔ اس کے برعکس وہ شخص جو پانی کے استعمال کوجانتا ہو وہ خوش ہوگا، وہ اسے اچھی طرح استعمال کرکے اپنے لئے خوشحالی کے سامان پیدا کر لے گا۔ ایک ہی چیز ایک قوم کے لئے عذاب ہے تو دوسری قوم کے لئے عین رحمت۔
زیادہ آبادی کا ہونا کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ زیادہ آبادی کا مطلب ہے۔ زیادہ دل ، زیادہ دماغ ، زیادہ طاقت، زیادہ جوش ، زیادہ عزم ، زیادہ حوصلہ ، زیادہ مسائل اور زیادہ حل۔
یوروپ کا سبق
'ایجنگ پاپولیشن' نے یوروپ کومعاشی لحاظ سے بوڑھا کردیا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ تجارت کے میدان میں مسلسل پچھڑتے جا رہے ہیں۔ افرادی قوت کی کمی  کی وجہ سے وہاں اب تجارت کی جگہ نوکری کا چلن زور پکڑ رہا ہے، حالانکہ کوئی قوم محض نوکری کے بل پردنیا میں کوئی قابل ذکر مقام حاصل نہیں کرسکتی۔
اس صورت حال پراپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک یوروپی اخبار لکھتا ہے:
"یوروپ دنیا میں ایک مشکل مقام پر کھڑا ہے۔ ترقی پذیرمعیشتیں نوجوان نسل رکھتی ہیں اور وہاں آبادی میں  مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس کی بدولت انھیں مستقبل کی درکار صلاحیتیں حاصل ہورہی ہیں۔ آگے چل کراس کا خمیازہ یوروپ کو بھگتنا پڑے گا۔ یوروپ کے مقابلے کی صلاحیت اس سے متاثر ہو گی اورایک ایسی دنیا پراس کا اثر صاف دکھائی دے گا جس کا جھکائو ایشیا کی طرف ہے۔"
Europe in a difficult position in a world where other emerging economies still have relatively younger and growing populations, which means a growing pool of future talents. In the long run, this could affect Europe's competitiveness and relevance in a world whose centre of gravity is shifting towards Asia.
European Voice. Com
اب ایک تاریخی مثال لیجئے۔ پرتگال کا شہری واسکو ڈیگا ما یوروپ کا پہلا شخص تھا جس نے ہندوستان کا راستہ دریافت کیا۔ جب وہ چودھویں صدی میں ہندوستان کے راستے کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوا تو اس نے پرتگال کو اس بات پرآمادہ کیا کہ وہ اس بحری راستے پر قبضہ کر لے۔ پرتگال کی حکومت نے واسکو ڈیگاما کی رائے پرعمل کرتے ہوئے ہندوستان آنے والے بحری گزرگاہ پرقبضہ جما لیا اور وہاں سے ترک، ایرانی اور ہندوستانی بحری بیڑوں کو بھگا دیا۔ لیکن اس کے با وجود پرتگال ہندوستان پرقبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا بلکہ برطانیہ اور فرانس اس پر بازی لے گئے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ تمام حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے پرتگال کے پاس انسانی قوت نہیں تھی۔ اس وقت پرتگال کی آبادی محض 20 لاکھ  تھی اوراسی لئے پرتگال پچھڑ گیا اوراس کے رقیب برطانیہ فرانس اوردوسرے یوروپی ممالک آگےنکل گئے۔ مزید جاننے کے لئے پڑھئے۔ (تاریخ تحریک آزادی ہند، جلد اول؛ مصنف ؛ ڈاکٹر تارا چند)
اب ایک مثال اپنے ملک سے لیجئے؛ ہندوستان کی خود ساختہ ہندو تنظیم آر ایس ایس نے آبادی کے معاملہ کو بڑی زور شور سے اٹھا تے ہوئے ہندوئوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی آبادی کو بڑھائیں۔ ہندوستان اکسپریس میں شائع اس رپورٹ کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں۔
RSS joint general secretary Dattatreya Hosabale said on Saturday that Hindu families should adopt a three-child norm to prevent "demographic imbalance" in society.  Sat, 9 Nov 2013
"آرایس ایس جنرل سکریٹری دتیریا ہوسیبل نے سنیچر کے روزکہا کہ جغرافیائی عدم توازن کو روکنے کے لئے ہندو خاندان کو تین بچوں کی پالیسی پرعمل کرنا چاہئے۔"
اب رہی بات ہندوستانی مسلمانوں کی توہندوستانی مسلمان زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح اس شعبہ میں بھی اپنے پچھڑے پن کا ثبوت دے رہے ہیں۔ حالانکہ ہندوستان جیسے عظیم الشان جمہوری ملک میں یہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

To realise God use your common sense


کا ئنات کا پیچیدہ اور منظم نظام بتا رہا ہے کہ خدا ہے؟

محمد آصف ریاض
درختوں  کواگرسورج کی روشنی نہ ملے تووہ  ضیائی تالیف نہیں کرسکتے اورمرجائیں گے۔ درخت اپنا کھانا سورج کی انرجی سے تیارکرتے ہیں۔ اس پورے عمل کو سائنس کی زبان میں ضیائی تالیف کہاجاتا ہے۔ درخت کے پتے سورج کی روشنی سے کھانا تیارکرتے ہیں، وہ فضائوں سے کاربن ڈائی ایکسائیڈ اٹھاتے ہیں درخت کی جڑیں زمین کے اندرسے پانی کھینچ کرلاتی ہیں، اوراس طرح ضیائی تالیف کا عمل مکمل ہوتا ہے۔ یعنی زمین وآسمان کا پورا نظام ہم آہنگ ہوکرکام کرتا ہے تب جاکرزمین پروہ چیز پیدا ہوتی ہے جسے ہم درخت کہتے ہیں۔
اسی درخت سے انسان کھانے پینے کی اشیا حاصل کرتا ہے۔ اسی سے درخت سے پھل ، پھول، رنگ اور خوشبو حاصل کئے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ درخت فضائوں سے زہریلی گیس جیسے کاربن ڈائی ایکاسائیڈ کو اپنے اندر جذب کرکے ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں اوراسی آکسیجن پر ہماری زندگی کا انحصار ہے۔
اگردرخت نہ ہوں، توزمین  بنجر ہوجائے گی۔  فضا ئوں سے پرندے معدوم ہوجائیں گے۔ جنگل حیوانات سے خالی ہوجائیں گے۔ درخت نہ ہوں تو سمندر میں مچھلیاں اوردوسری مخلوقات مرجائیں گی۔ درخت کی عدم موجودگی میں زمین پرانسان کا وجود ختم ہوجائے گا۔ درخت نہیں تو زمین پر زندہ مخلوق کا تصور نہیں۔
درخت زندہ مخلوق کے لئے گویا لائف لائن ہیں۔ اس لائف لائن کے ختم ہوتے ہی زمین اپنی تمام رنگینیوں اورسرگرمیوں کے ساتھ ویران ہوجائے گی۔
خدا وند نے درخت کودرخت بنانے کے لئے زمین و آسمان پرایک محکم نظام تیارکر رکھا ہے۔ یہ نظام نہایت محکم انداز میں ہم آہنگ ہوکرکام کرتا ہے، تب جاکر ہمیں وہ چیز حاصل ہوتی ہے جسے ہم درخت  کہتے ہیں اورجس سے زمین پرزندگی قائم ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کائنات میں یہ نظام خود بخود کام کررہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگراتنا زیادہ پیچیدہ اوربا معنی نظام خود سے کام کرسکتا ہے تو پھر زمین و آسمان پر کون سا کام ہے جو خود بخود  نہیں ہوسکتا؟ اگرزمین و آسمان خود کار نظام کے تحت کام کر رہے ہیں تو پھر زمین پراتنا ہنگا مہ کیوں ہے؟ اتنی مشینیں کیوں ہیں؟ اتنے دماغ ہر وقت کیوں مصروف کار رہتے ہیں؟
انسان کی بھاگ دوڑ اوراس کی سرگرمیاں بتا رہی ہیں کہ یہاں چیزیں خود بخود وجود میں نہیں آرہی ہیں  بلکہ انہیں ظہورمیں لایا جا رہا ہے۔ آسمان پر کوئی جہازاڑتا ہے تو کوئی اس کو اڑانے والا ہوتا ہے۔ زمین پرریلیں دوڑ تی ہیں تو کوئی اس کو دوڑانے والا ہوتا ہے۔ ٹیوی پرانسان بولتا ہے تو کوئی اس کو مینیج کرنے والا ہوتا ہے۔ اسکرین  پر کوئی چیز دکھتی ہے تو کوئی اسے دکھانے والا ہوتا ہے ۔ مشینیں چلتی ہیں تو کوئی انھیں چلانے والا ہوتا ہے۔ یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ کائنات کا نظام خود بخود کام نہیں کر رہا ہے بلکہ کوئی ہے جو اسے چلا رہا ہے۔
اسی بات کو قرآن میں اس طرح سمجھا یا گیا ہے: بلا شبہ آسمان و زمین کی تخلیق میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔
خدا وند کی معرفت کے حصول کے لئے جو چیز انسان کو درکار ہے وہ اس کا کامن سنس ہے۔ اگر انسان اپنے کامن سنس کو کام میں لائے تو اسے اس حقیقت کے اعتراف میں کچھ دیر نہیں لگے گی کہ بلا شبہ کائنات کا نظام خوبخود نہیں چل رہا ہے بلکہ اسے چلایا جا رہا ہے اور وہ چلانے والا خدا ہے۔ 

ہفتہ، 26 اکتوبر، 2013

Muslims awaiting a turning point




مسلمان خواب سے جاگ کر کھائی میں چھلانگ لگارہے ہیں

محمد آصف ریاض
وسعت اللہ خان ایک پاکستانی صحافی اورادیب ہیں۔ العربیہ نے 22 اکتوبر 2013 کو ان کا ایک مضمون روزنامہ ایکسپریس سے لے کرشائع کیا ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے: یہ ترک اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ اس مضمون میں مصنف نے ایک بوڑھے ترک کے حوالے سے لکھا ہے کہ "غلاموں کو بات بات پرغصہ آتا ہے کیوں کہ یہی ان کی واحد ملکیت ہوتی ہے۔" مضمون نگار کے لفظوں میں:
"یہ بات فروری دو ہزارتین کی ہے۔ میں پرانے استنبول میں گھومتے گھومتے نیلی مسجد کے سائے میں ایک چھوٹے سے باغ کی بنچ پر تھک ہار کے بیٹھ گیا۔ میرے برابر میں ایک ترک بزرگ بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ کچھ دیربعد انھوں نے رسمی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ پر نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا کہ کیسے ہو؟ میں نے کہا تھک گیا ہوں مگر مزہ آرہا ہے۔ پھر گفتگو شروع ہوگئی۔ یہ بزرگ کسی مقامی کالج میں تاریخ پڑھاتے پڑھاتے حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے۔ پوچھنے لگے ہمارا شہر کیسا لگا ؟ میں نے کہا کہ پچھلے تین روز سے گھوم رہا ہوں لیکن اب تک سڑک پر کوئی ایسا راہگیر نہیں دیکھا جس کا منہ لٹکا ہوا ہو یا کوئی کسی سے دست و گریباں ہوگیا ہو یا کم ازکم گالم گلوچ پر ہی اتر آیا ہو۔ کیا آپ کے ہاں لوگوں کو غصہ نہیں آتا حالانکہ اس شہر میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔
بڑے میاں نے عینک کے پیچھے سے مجھے بغور دیکھا اور پھر مسکرا دئیے۔ کہنے لگے تم کہاں کے ہو ؟ میں نے کہا پاکستان سے۔ پھر پوچھا پاکستان میں پیدا ہوئے یا انڈیا میں ؟ میں نے کہا والدین انڈیا میں پیدا ہوئے اور میں پاکستان میں۔ بڑے میاں نے کہا کہ تمہارا سوال بہت مزے کا ہے کہ ترکوں کو بات بے بات غصہ کیوں نہیں آتا ؟ ایسا نہیں کہ ہمیں غصہ نہیں آتا لیکن ہر وقت نہیں آتا۔ اس کی ایک وجہ شائد یہ ہو کہ ہم کبھی من حیث القوم غلام نہیں رہے۔غلاموں کو بات بات پر غصہ آتا ہے کیونکہ غصہ ہی ان کی واحد ملکیت ہے اور اس غصے کا ہدف بھی وہ خود ہی ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں میں اپنی بات کہہ پایا یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔
بڑے میاں کی بات سن کے مجھے سکون سا آ گیا اور یوں لگا جیسے کوئی برسوں کی پھانس دل سے نکل گئی۔ لیکن ان کے جاتے ہی مجھے یہ سوچ کرغصہ آ گیا کہ یہ ترک آخر اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں۔۔۔"

بوڑھے ترک نے جس چیزکوغلامی کا معاملہ قراردیا ہے درحقیقت وہ ڈی جنریشنdegeneration) ) کامعاملہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین پرکوئی قوم ایسی نہیں جوڈی جنریشن کےعمل سے نہ گزری ہو۔ اور جب بھی کوئی قوم ڈی جنریشن کے عمل سے گزرتی ہے تو اس کے اندر فطری طور پر بے صبری، بےعملی، بے عزمی اورغصہ کی نفسیات کا پیدا ہوجاتی ہے۔ خدا وند کے اس آفاقی قانون کو قرآن میں احسن تقویم اوراسفل سافلین یعنی "ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا پھرہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پلٹا دیا۔" (سورہ التین) کی اصطلاح میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ زمین پرکسی قوم کی پہلی نسل عزم و حوصلہ ، صبر و استقامت اورجہد مسلسل کی بنیاد پراٹھتی ہے۔ پھراس کے بعد دوسری نسل آتی ہے جو اپنے آبا کی عظمت کی بحالی کو یقینی بناتی ہے۔ پھرتیسری اورچوتھی نسلیں اٹھتی ہیں جواپنے آبا کی قربانیوں پربڑے بڑے پرفخرمحلات تعمیرکرتی ہیں۔ وہ جہد مسلسل کی جگہ عیش وعشرت کی زندگی کوترجیح دیتی ہیں۔ وہ پدرم سلطان بود کی نفسیات میں جیتی ہیں۔ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ سنجیدہ گفتگو کی جگہ انھیں ہو ہلہ کی باتیں زیادہ پسند آتی ہیں۔ پھریہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ ان کےاندرسے قوت فکروعمل اٹھ جاتی ہے اور وہ زمین پرایک بے وزن قوم بن کررہ جاتی ہیں، جسے بوڑھے ترک نے 'غلامی' سے تعبیر کیا ہے۔
اس معاملہ کی زندہ مثال آج کے مسلمان ہیں۔ ڈی جنریشن degeneration) ) کا مرحلہ دراصل پستی کا مرحلہ ہے اورآج کے مسلمان اسی پستی کے مر حلے سے گزررہے ہیں۔ اسی لئے ان کے یہاں بات بات میں غصہ پھوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ ان کے بولنے والے جوشیلی تقریریں کرتے ہیں اورلکھنے والے الفاظ کا جنگل اگاتے ہیں۔ ان کے یہاں تاریخ سے زیادہ کہانیوں پر یقین کیا جا تا ہے۔ ڈی جنریشن کا عمل ایک فطری امرہے جو سب کے ساتھ پیش آتا ہےاس سے کوئی قوم مستثنی نہیں یہاں تک کہ ترک بھی نہیں۔ یہود کے ساتھ بھی یہ ہوا ہے عیسائی بھی اس عمل سے گزرے ہیں اورآج امت مسلمہ بھی اس عمل سے گزر رہی ہے۔
علاج
ڈی جنریشن کے اس عمل سے (جسے ترک بوڑھے نے غلامی کا نام دیا ہے) پوری امت کو باہرنکالنے کے لئے سنجیدہ اورعملی جد جہد کی ضرورت ہے۔ ابھی تک یہ ہورہا ہے کہ پوری قوم کو ماضی کی داستانیں سنا کر جگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن خوبصورت ماضی اورحال کی پستی کے درمیان جو وسیع خلا ہے اسے پاٹنے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ پوری قوم حال سے نکلنے کی جد جہد میں عظیم الشان ماضی کی طرف چھلانگ لگا دیتی ہے اورخلا طویل ہونے کی وجہ سے وہ بیچ کی کھائی میں گرجاتی ہے۔ یعنی وہ خواب سےجاگ کر کھائی میں چھلانگ لگا رہے ہیں۔ ہمیں حال اور ماضی کے درمیان اسی کھائی کو پاٹنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو ہم بار بار اپنی قوم کوعظیم الشان ماضی کی طرف بلائیں گے اور وہ بار بار ماضی اور حال کے درمیان واقع کھائی میں چھلانگ لگا دے گی۔ یہی افغانستان میں ہوا، یہی الجیریا میں ہوااور یہی غلطی  فلسطین اور دوسرے اسلامی ممالک میں دہرائی جا رہی ہے۔
صبرکا فارمولہ
مسلمانوں کی شاندارماضی اورمکروہ حال کے درمیان جوکھائی ہے اسے پاٹنے کے لئے جس چیزکی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ صبر ہے۔ صبر کرنا گویا کسی حساس معاملہ میں عمل کے مواقع کو پالینا ہے۔ اگرقوم صبرکی طاقت سے واقف ہوگئی تو پھر وہ خواب سے اٹھ کر شاندار ماضی کی طرف چھلانگ لگا کرکھائی میں گرنے کی غلطی نہیں کرے گی بلکہ وہ اس کھائی کو پاٹنے کی کوشش کرے گی جس میں اب تک پوری قوم گرتی رہی ہے۔ اور بلا شبہ اس کھائی کے پٹتے ہی پوری قوم اپنی عظمت رفتہ کو پانے میں کامیاب ہوجائے گی۔
 قران میں صبر کے اس آفاقی فارمولہ کو اس طرح واضح کیا گیا ہے: " زمانے کی قسم، انسان بے شک خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، اور نیک عمل کرتے رہے،اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔"103: 1-3) )
ایک اور جگہ فرمایا " ولربک فصبر اوراپنے رب کے لئے صبرکرو"
اور جگہ فرمایا :" اے ایمان والو نماز اور صبر کے ذریعہ  مدد طلب کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"(2:153)


مسلمانو نےاگرصبرکرنا سیکھ لیا تو وہ کھائی میں گرنے سے بچ جائیں گے اورصبر کی وجہ سے انھیں کھائی کو پاٹنے کی مہلت بھی مل جائے گی۔ میرے خیال میں مسلمانوں کے لئے عظمت رفتہ کو پانے کا یہی واحد راستہ ہے، اس کے علاوہ ان کے لئے اورکوئی راستہ نہیں۔ اب تک یہ ہو رہا ہے کہ مسلمان خواب سے جاگ کر کھائی میں چھلانگ لگا رہے ہیں کیوں کہ ان کے اندر منزل کو پانے کی جلدی ہے۔ وہ حب عاجلہ میں پڑے ہیں۔ اگر وہ صبر کریں تو خواب سے جاگ کر کھائی میں کودنے کے بجائے وہ کھائی کو پاٹنے کے عمل میں لگ جائیں گے اور یہی عمل ان کے لئے ٹرننگ پوائنٹ (turning point) ہوگا۔ تاریخ داں جانتے ہیں کہ عیسائیوں اور دوسری قوموں کی عظمت کا راز بھی یہی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ انھوں نے جبری صبرکے اصول کو اپنا یا اورمسلمانوں کو اصولی طور پرصبرکےاس فارمولہ کواپنانا ہے۔ 

منگل، 8 اکتوبر، 2013

Learning from leaves

درخت پر پھیلے پتوں کا سبق
محمد آصف ریاض

پتے جب درخت پر ہوتے ہیں تو وہ درخت کے لئے زندگی کا سامان تیار کرتے ہیں۔ وہ سورج کی شعائوں کوجذ ب کر کے درخت کے لئے کھا نا پکاتے ہیں۔ درختوں کے اس عمل کو ضیائی تالیف (Photosynthesis) کہا جا تا ہے۔ درخت کے پتے کاربن ڈائی ایکسا ئیڈ کو جذب کر کے اسے آکسیجن میں تبد یل کرتے ہیں، وہ درخت کو طاقتور بنانے میں اہم کردارادا کرتے ہیں۔
Capture the sunlight from the Sun in order for the plant to make food. The process for the plant to make food is called Photosynthesis.
The leaves allow carbon dioxide to pass into it and oxygen and water vapours to pass out from the leaves. Which makes the food for the plant, then makes the plant healthy and stronger۔
پتے در خت کے لئے زندگی کا سامان تیار کرتے ہیں اورجب وہ اپنا کام کرچکے ہوتے ہیں تو نہایت خاموشی کے ساتھ زمین پر گرجاتے ہیں۔
تاہم یہ پتے زمین پرگرنے کے بعد اپنی سرگرمیاں ترک نہیں کردیتے بلکہ یہاں بھی درخت کے لئے وہ اپنی قربانیاں جاری رکھتے ہیں۔ مثلاً وہ درخت کے لئے کھاد بن جاتے ہیں اور زمین کی زرخیزی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو مٹا کراپنی جان کی قیمت پردرخت کو تناور اورعظیم الشان بناتے ہیں۔

قوم اگر درخت ہے تو افراد اس کے پتے
یہی کام کسی انسان کو اپنی قوم کے ساتھ کرنا ہے۔ 'قوم اگر درخت ہے تو افراد اس کے پتے'۔ قوم کے تمام افراد پر یہ لازم ہے کہ وہ قوم کوعظیم الشان بنانے کے لئے اپنا سرگرم کردار ادا کریں اورجب ان کا کردار ختم ہوجائے تو خاموشی کے ساتھ پتوں کی طرح پیچھے ہٹ کراپنی گمنامی کی قیمت پرقوم کوطاقت پہنچا ئیں۔
کوئی درخت اپنے پتوں کے بل پرتناور اورعظیم الشان بنتا ہے، اسی طرح  کوئی قوم اپنے افراد کے بل اور ان کی قربانیوں پر طاقتور اور عظیم الشان بنتی ہے۔ یہی پتوں کا سبق ہے۔
افراد کو قوم کی سرفرازی کے لئے ہمہ وقت سرگرم عمل رہنا ہے اور جب انھیں لگے کہ ان کا رول اب ختم ہو چکا ہے تو نہایت خاموشی کے ساتھ انھیں پیچھے ہٹ جانا ہے۔ فوج جب مورچے پر ہوتی ہے تو نہایت سر گرم کردار ادا کرتی ہے اور جب مورچہ پر اس کا کردار ختم ہوجا تا ہے تو وہ خاموشی کے ساتھ بیریک میں واپس آجاتی ہے۔
یہ درحقیقت قربانی اورڈسپلین کا معاملہ ہے۔ کوئی قوم اپنے افراد سے عظیم الشان بنتی ہے۔ اگرکسی قوم کے افراد قربانی کے جذبہ اور ڈسپلین سے خالی ہوں تووہ قوم پودا ہی رہے گی وہ کبھی بھی عظیم الشان درخت نہیں بن سکتی۔ مسلمان آج ایک عظیم الشان قوم نہی ہیں کیوں کہ ان کے اندر نہ ڈسپلین ہے اور نہ ہی قربانی کا وہ جذبہ جو درخت کے تئیں پتوں کے اندر پا یا جا تا ہے۔
خدا وند درختوں پرپتوں کو اگا رہا ہے اور پھر وہ انھیں  نیچے گرا دیتا ہے تاکہ انسان انھیں دیکھ کرسبق حاصل کرے۔ لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ انسان کتابوں میں لکھی تحریروں کو توجانتا ہے،وہ کائنات میں پھیلی آفاقی تحریروں کو نہیں جانتا۔

جمعرات، 26 ستمبر، 2013

No disappointment

مایوسی نہیں

محمد آصف ریاض
تین جولائی2013  کومصری جنرل عبد الفتح السیسی نےمصرکے پہلے جمہوری صدرمحمد مرسی کوایک فوجی بغاوت کے ذریعہ معزول کرکےانھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ مرسی کی گرفتاری کے بعد مصرکی پہلی جموری حکومت کاخاتمہ ہوگیا۔  فوجی بغاوت کے دوسرے ہی دن سعودی عرب کویت اورمتحدہ عرب امارات نے بارہ بلین ڈالرسےمصری فوج کی مدد کی۔ بارہ بلین ڈالرکی خطیررقم پاکرسیسی کاحوصلہ کافی بڑھ گیا اوراس نےجمہوریت پسندوں کواپنی گولیوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ نتیجہ کارپورا ملک خون خرابےمیں مبتلاہوگیا۔ دنیا بھرمیں جمہوریت کی ڈینگ ہانکنےوالے یوروپ اورامریکہ نےمصری جمہوریت کا گلا گھونٹنےمیں اہم کرداراداکیااورفوجی بغاوت کوبغاوت کہنےسےانکارکردیا۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ عرب حکمراں اپنے خزانے کا دروازہ سیسی پرکھولے ہوئے تھے اورفوجی بغاوت کی ہرممکن پشت پناہی کررہےتھےدبئی کےشاہ محمد بن راشد آل مکتوم کی بیٹی مہرالمکتوم اپنےضمیرکی آوازکودبا نہ سکیں اورانھوں نے سوشل میڈیا فیس بک پراپنے والد کی تصویرکے نیچے اپنےخیال کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ الفاظ تحریر کردی:
"میرے باپ مجھےمعاف کرنا،لیکن سچائی یہ ہےکہ مصرمیں ہونے والی خوں ریزی کا سبب ہماراپیسہ ہے"
, “I’m sorry, father, but the reason for the bloodshed [in Egypt] is our money.”
http://www.hurriyetdailynews.com/
August/18/2013
اس واقعہ کو پڑھ کرمجھے قرآن کاایک واقع یادآگیا۔ قرآن کی سورہ یٰسین میں بستی والوں کا ذکرہواہے۔ اس میں بتایاگیا ہےکہ خداوند نےبستی والوں کی طرف دورسولوں کوبھیجا لیکن بستی والوں نےانھیں جھٹلادیاتوخداوند نےتیسرے سےان کی مدد کی لیکن انھوں نےاس تیسرے کوبھی جھٹلادیاتب قرآن کےبیان کےمطابق دورشہرسےایک شخص دوڑاہواآیااوراس نےکہا"اے میری قوم کےلوگو،رسولوں کی پیروی کرو، پیروی کروان لوگوں کی جوتم سے کوئی اجرنہیں چاہتےاورٹھیک راستے پرہیں۔" (36:20-21)
اس واقعہ سے پتہ چلتاہےکوئی سماج چاہےبرائی اورسرکشی کےکسی مقام پرپہنچ جائے،تب بھی اس میں کچھ باضمیر،حوصلہ مند اورصالح انسان باقی رہتے ہیں جواپنی فطری صلاحیت کی بنا کرسچائی کوپانےمیں کامیاب ہوجاتےہیں اوروہ اس کا برملا اظہارکرنے سے بھی نہیں گھبراتے۔ ایسے لوگ پہلے بھی تھےاورآج بھی ہیں۔

یہ درحقیقت امید کامعاملہ ہے۔ آدمی کوایسا ہرگزنہیں کرناچاہئے کہ وہ کسی سماج سے مجموعی طورپرمایوس ہوجائے۔ کسی سماج سے آپ کواس وقت تک پرامید رہنا ہےجب تک کہ اس سماج کےآخری آدمی کی رائے سامنےنہ آجائے۔ اوریہ کام صرف صبرسے ہوسکتا ہے۔اسی لئے قرآن میں صبرکوبہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ صبرکے ذریعہ کسی آدمی کووہ مطلوبہ انسان مل جاتے ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنےمشن کومنزل تک پہنچاسکتا ہے۔ صبردرحقیقت انھیں پاکیزہ صفت انسانوں کوبولنےکاموقع دیناہے۔