جمعرات، 26 ستمبر، 2013

And he got a better of me in argument

اس نے مجھے بات چیت میں دبا لیا ہے

قرآن میں حضرت دائود کے حوالے سے ایک نہایت سبق آموزواقعہ بیان ہواہے۔ وہ واقعہ یہ ہے:
"جب وہ دائودکےپاس پہنچےتووہ انھیں دیکھ کرگھبراگیا۔ انھوں نےکہاکہ ڈ ریئے نہیں ہم دوفریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پرزیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کےساتھ فیصلہ کردیجئے۔ بےانصافی مت کیجئےاورہمیں راہ راست دکھایئے۔ یہ ہمارابھائی ہےاس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اورمیرے پاس صرف ایک ہی دنبی ہے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالےکردے اوراس نےگفتگومیں مجھےدبا لیاہے۔" (38:22-23)
حقیقت یہ ہے کہ اس زمین پردوقسم کےلوگ بستے ہیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ ہیں جوزمین پرسادہ زندگی گزارتے ہیں۔ دوسرے قسم کے لوگ وہ ہیں جوبہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔
پہلےقسم کےلوگ وہ ہیں جوزمین پربے ضررزندگی گزارتے ہیں۔ اگران سے کوئی غلطی سرزد ہوجائےتووہ فوراًاس کا اعتراف کرلیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ انھیں خداوند کی طرف سےجوملاہےاس پرراضی ہوتے ہیں۔ وہ ھل من المزید, کے طالب نہیں ہوتے۔ وہ دوسروں کےمال پراپنی نگاہ نہیں گڑاتے۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ کام کوئی اورکرے اوروہ اس کا کریڈٹ لےجائیں۔
اس کےبرعکس دوسرے قسم کے لوگ وہ ہیں جوبہت زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ جب وہ غلطی کریں گےتواعتراف نہیں کریں گے۔ وہ اپنی غلطی کوخوبصورت الفاظ میں جسٹی فائی کریں گے۔ وہ جھوٹے الفاظ بول کراپنے کم کوزیادہ بنانےکی کوشش کریں گے۔ وہ اپنی چرب زبانی سے دوسروں کودبالے جائیں گے۔ ان کا معاملہ ( عزنی فی الخطاب) یعنی اس نے مجھے گفتگو میں دبا لیا ہے ،کا معاملہ ہوتاہے۔ وہ اکثرکسی شریف انسان کوگفتگومیں دبا لیتے ہیں۔
اس دنیا میں انسان کے لئے یہ موقع ہے وہ اپنے فریق کوبات چیت میں دبا لے۔ لیکن یہ موقع کسی انسان کوصرف اسی دنیا میں حاصل ہے۔ خدا وند کے یہاں کسی کویہ موقع نہیں ملےگا کہ وہ اپنی خطابت کی دھوم مچاکرلوگوں کودبالے۔ خدا وند کے یہاں ایسے لوگوں کی زبان داغ دی جائے گی۔ ان کا جھوٹ ان کے منھ پرماردیاجائےگا۔ آدمی وہاں دیکھے گا کہ جو شخص دنیا میں سب سے زیادہ بولتا تھا،وہاں سب سے زیادہ چپ ہے۔ یہاں کا ہوشیار وہاں کا سب سے بڑا بودا نظر آئے گا۔ یہاں کا سب سے زیادہ ہنسنے والا وہاں کا سب سے زیادہ رونے والا ہوگا۔
قرآن میں بتا یا گیا ہے:
   فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿٨٢﴾
پس انھیں چاہئے کہ بہت کم ہنسیں اورروئیں زیادہ بدلےمیں اس کے جو وہ کرتے تھے۔( 9:82)
Let them laugh a little: much will they weep: a recompense for the (evil) that they do
آدمی کیوں چرب زبانی کرتا ہے؟ صرف اس لئے کہ وہ یہ گمان رکھتا ہے کہ اسے خدا وند کے یہاں جواب دہ نہیں ہونا ہے۔ حالانکہ کہ آدمی دیکھتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد خدا وند کے یہاں پہنچا دیا جاتا ہے۔ قرآن میں خبردارکردیا گیا ہے کہ لوگ جس بات کو لےکربے خبر ہیں اورزمین پرسرکشی کررہے ہیں وہ بات ہوکررہنے والی ہے یعنی خدا وند کے یہاں انسان کو اپنے قول و فعل کے لئے جواب دہ ہونا ہے:
"وہ آنے والی آگئی۔ تیرے رب کے سوا اس کوکوئی کھولنے والا نہیں۔ تم اس بات پرتعجب کرتے ہو، تم ہنستے ہواورروتے نہیں تم سرکش لوگ ہو، پس اب اپنے رب کوسجدہ کرواوراس کی عبادت کرو۔" 53: 57-62))

منگل، 24 ستمبر، 2013

Never make a negative decision in the low time

بیس سال کی کڑی مشقت کے بعد

محمد آصف ریاض

کل دہلی میں ایک صاحب سےملاقات ہوئی۔ بہت زمانہ کےبعد یہ ملاقات ہوئی۔ آج سے تقریباً سات سال قبل جب میں پٹنہ یونیورسٹی کاطالبعلم تھا توخدابخش لائبریری میں ان سےملاقات ہوتی تھی۔ وہ بہت خاموش طبیعت کےآدمی ہیں۔ ملاقات کےدوران انھوں نےبتا یا کہ اب وہ ریٹائرہوچکےہیں اوردہلی- پٹنہ کے درمیان اپناوقت گزاررہے ہیں۔ انھوں نے بتا کہ ان کے بچوں نےدہلی میں اپنا مکان بنا لیاہے۔ ان کے کئی بچے ہیں۔ ایک بچہ دہلی میں واقعہ ایک فرانسیسی کمپنی میں مینیجرہے، دوسرادبئی میں واقع ایک بڑی کمپنی میں کام کرتاہے، بیٹی امریکہ میں رہتی ہے۔ ایک بیٹا ملیشیا میں جاب کرتا ہے۔ انھوں نے بتا کہ ان کے سارے بچے کامیاب زندگی گزاررہے ہیں۔ سبھوں نے دہلی میں مکان بنا لیا ہے۔ پچھلے دنوں ان کا ایک بیٹا لیبیاسےواپس آیا ہےاوراس نےدہلی میں ہی رہناشروع کردیا ہے۔ انھوں نےبتا یا کہ ان کےایک بیٹےنے پچھلے دنوں دہلی میں ایک کارخریدی ہےجس کی قیمت بیس لاکھ روپے ہے۔ مطلب یہ کہ اب انھیں پیسہ کی کوئی کمی نہیں رہ گئی ہے۔
میں نےان سے پوچھا کہ یہ سب کیسےممکن ہوا؟ آپ نےاپنے بچوں کی پرورش کس اندازمیں کی کہ سب کامیاب ہیں اور بہترین زندگی گزاررہے ہیں؟ میرے اس سوال پرانھوں نےکہانی کے پیچھے چھپی کہانی کودوہرانا شروع کیا۔
بیس سال کی خاموش مشقت کے بعد
"میں پٹنہ میں جاب کرتا تھا۔ میری تنخواہ بہت زیادہ نہیں تھی۔ سات بچوں کی پرورش میرے لئے بہت سخت جان معاملہ تھا۔ حالت یہ تھی کہ میری تنخواہ پورے ماہ تک نہیں چلتی تھی۔ تنخواہ کے پیسہ سے پندرہ دن تک گھرچلتا تھااورپندرہ دن قرض پرکام چلتا تھا۔ یہ صورت حال ایک دودن یاایک دوماہ باقی نہیں رہی۔ یہ صورت حال پورے "بیس سال" تک باقی رہی۔ میں تنخواہ اٹھاتااوراپنا قرض چکا دیتا تھاپھر پندرہ دن کےبعد قرض مانگنےکی ضرورت پڑجاتی تھی۔ سارے بچے پڑھ لکھ رہےتھےاس لئے پیسہ کی ضرورت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی۔ بیس سال تک میں خاموشی کےساتھ اپنے بچوں کی تربیت کرتارہایہاں تک کہ بچوں نے اپنی پڑھائی لکھائی مکمل کی اوربہترین ملازمت میں آگئے۔ آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ" بیس سال" کی مشقت اورصبرکی کمائی ہے۔
برے وقت میں کوئی منفی فیصلہ مت کرو
یہ کہانی ایک شخص کی کہانی معلوم پڑتی ہے۔ تاہم اگرآپ دوسرے لوگوں کی زندگی میں جھانک کردیکھیں توآپ کواسی قسم کی کہانی ہر جگہ مل جائے گی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں ہرکامیابی کےپیچھے "بیس سال" کی کڑی جدوجہد چھپی ہوتی ہے۔ یہاں کی ہرطربناک کہانی اپنے اندرایک المناک کہانی رکھتی ہے۔ اگرآپ واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو دونوں قسم کی کہانیوں کوسنئے، صرف ایک قسم کی کہانی آپ کو گمراہ کرسکتی ہے۔
امریکی مفکررابرٹ ایچ- شولر(Robert H. Schuller ) "پیدائش 16, 1926 " نے اسی بات کوان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
"موسم سرما میں کسی مرجھائے ہوئےدرخت کو مت کاٹو۔ برے وقت میں کوئی منفی فیصلہ مت لو۔ جب خراب موڈ میں رہو توکوئی اہم فیصلہ مت کرو۔ انتظارکرو، صبرکرو۔ دیکھو، طوفان گزرجائےگا اورموسم بہارپھرسے سایہ فگن ہوگا۔"

 “Never cut a tree down in the wintertime. Never make a negative decision in the low time. Never make your most important decisions when you are in your worst moods. Wait. Be patient. The storm will pass. The spring will come”.

بدھ، 4 ستمبر، 2013

He raised the heavens and set up the measure

اس نےآسمان کواونچاکیااورترازورکھدی

محمد آصف ریاض
قرآن میں بیان ہواہےکہ خداوندنےآسمان کوبنایا،اس کواونچاکیااورترازورکھ دی۔ )رحمٰن آیت 12-13)
خداوند عدل اورانصاف کی دنیا قائم کرناچاہتاہے۔ وہ چاہتاہےکہ اس کا بندہ ہرحال میں عدل کی روش پرقائم رہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ یقیناًہم نےاپنے رسولوں کودلیلوں اورترازوکےساتھ بھیجاہے۔
اوپرکی آیت میں ترازوکا ذکرآسمان کی بنلدی کےساتھ آیاہے۔ یعنی"آسمان کواونچا کیااوترازورکھدی" میں سوچ رہا تھا کہ آسمان کی بلندی کےساتھ ترازوکا کیا تعلق ہے۔ کیوں ایسا ہوا کہ خدا وند نےآسمان کےساتھ ترازوکا ذکرکیا۔ بہت غورکرنے پراس معاملہ میں مجھے تین باتیں سمجھ میں آئیں۔
اول یہ کہ آسمان میں کوئی کجی نہیں ہے۔ وہ بہت بیلینس اورتوازن کےساتھ کھڑاہے۔ وہ کسی طرف جھکا ہوانہیں ہے۔ اگروہ ایسا ہوتا توہمارے سرپرگرپڑتا۔ خداوند چاہتا ہےکہ انسان اسی طرح عدل قائم کرے۔ وہ انصاف کےمعاملہ میں کسی رجحان کا شکارہوکرکسی طرف جھک نہ جائے۔ وہ ترازوکوبالکل سیدھااوربیلینسڈ رکھے۔ آسمان کانہایت توازن کےساتھ کھڑاہونا گویا لفظ عدل اورترازوکاعملی اظہارہے۔آسمان کوتوازن کےساتھ کھڑاکرکےخداوند بندوں کوعملاً دکھارہاہےکہ وہ اسی طرح  زمین پرتراوزوکورکھاہوادیکھناچاہتاہے۔ وہ اسی طرح زمین پرعدل قائم ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔  
آسمان کےساتھ ترازو یعنی عدل کو بریکیٹ کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ آسمان کا سنبھالے رکھناایک نہایت دشوارامرہے۔ یہ صرف خداہےجوآسمان کوسنبھالے ہوئےہے۔ اوراگروہ گرجائے توخداوند کےسواکوئی اورہے بھی نہیں جواسے سنبھال سکے۔ چنانچہ فرمایا "قسم ہے آسمان کی اوراس کے بنانےکی"91:5) (
جس طرح آسمان کا قائم رکھنا ایک دشوارترین امرہے۔ اسی طرح زمین پرعدل کو قائم کرنا بھی ایک مشکل ترین امرہے۔ عدل کے قیام میں کئی بارایساہوتاہے کہ آدمی کوخود اپنےگلے پرچھری چلانی پڑتی ہے۔ کئی بارخود اپنی آل اولاد اس عدل کے تقاضے کی زد میں آجاتی ہے۔ کئی باراپنے ہی کنبہ اورقبیلہ کےخلاف فیصلہ سنانا پڑتا ہے۔ سب سے بڑھ کریہ کہ فیصلہ پلٹنے کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنےخلاف جانے والے فیصلہ پرقائم ہونا پڑتا ہے۔ یہ اتنا سخت اورعظیم کام ہےجیسے کسی نے اپنے ہاتھوں سےآسمان کواٹھالیاہو۔اسی لئےترازوکا ذکرخدا وند نےآسمان کےساتھ کیا کیونکہ دونوں اپنی عظمت اورشان میں یکساں ہیں۔ جتنا عظیم کام آسمان کا کھڑا کرنا ہے اتنا ہی عظمت والا کان زمین پرعدل اورانصاف کوقائم کرنا ہے۔ اسی لئے فرمایا" آسمان کوبلند کیااورترازورکھ دی"۔

سوم یہ کہ آسمان کی بلندی اس کی عظمت اورعلو شان کو بتاتی ہے۔ اسی طرح زمین پرعدل قائم کرنے والا بھی آسمان کی طرح عظیم اوربلند ترہوکرابھرتاہے۔ دوسرے لفظوں میں کہاجا سکتا ہےکہ جتنا عظیم آسمان ہےاتنی ہی عظمت والا زمین پروہ شخص ہے جس نے زمین پرعدل کوبغیرکسی رجحان کے نہایت توازن کے ساتھ قائم کیا، جس نے ترازو کوسیدھا رکھا اوراس میں کسی قسم کی کجی نہیں کی جس طرح آسمان میں کوئی کجی نہیں ہے۔ اسی لئے انصاف اور ترازو کو خداوند نے آسمان کے ساتھ بریکیٹ کیا۔

پیر، 12 اگست، 2013

My God is God of flowers


پھولوں کا خدا

پھولوں میں ایک پھول وہ ہے جسےدس بجیاکہتےہیں۔ یہ پھول گلابی رنگ کاہوتاہے،اوربہت ہی حسین ہوتاہے۔ اس پھول کودس بجیا اس لئےکہتے ہیں کیوں کہ یہ ٹھیک دس بجے کھلتاہے۔
اس دس بجیا پھول کودیکھ کرمجھے قرآن کی یہ آیت یادآگئی۔"سورج اورچاند کے لئےایک حساب ہے" یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ زمین سورج کےگردچکرکاٹتی ہے۔ زمین کےاسی روٹیشن کی وجہ سےرات اوردن کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرزمین کےروٹیشن کاتوازن بگڑجائےتوہماری رات اورہمارے دن کاحساب بگڑجائے گا۔ زمین اپنے محورپرفی گھنٹہ  1,674.4کلومیٹرکی رفتارسے بغیرتھکے ہوئےدوڑتی ہے تاکہ وہ ہمارے لئےدن اوررات پیدا کرسکے۔
جس طرح رات اوردن کی تخلیق کوممکن بنانےکےلئے پوری زمین اپنے کام پرلگی ہوئی ہےاورایک اندازے سے اپنے محورپرگردش کررہی ہے۔ اسی طرح ایک پھول کوپھول بنانےکے لئے پوری کائنات سرگرم عمل ہےتب جاکرہمیں وہ چیزمل رہی ہےجسے ہم پھول کہتے ہیں۔ مثلاً ہوا، پانی، سورج اورموافق ٹمپریچروغیرہ، یہ سب مل کرایک مشترک عمل کرتے ہیں تب جاکرہمیں وہ چیزملتی ہے جسے ہم پھول کہتے ہیں۔
میراخدا پھولوں کاخدا ہے
جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہےاورجب سے اس زمین پرپھول کھل رہے ہیں، وہ سب خدا وند کےکھلائے ہوئے ہیں۔ آج تک کسی انسان نےکوئی پھول نہیں کھلا یا۔ ہرشخص کاغذ کے پھول کھلارہا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ حقیقی پھول کھلانے کے لئے زمین وآسمان، سورج چانداورآب وہواسب کوبیک وقت ایک مشترک عمل پرلگا نا ہوگااوریہ کام کسی انسان کےبس میں نہیں ہے.  یہ کام صرف اورصرف خدا کے لئے ہی ممکن ہے۔ کسی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ زمین وآسمان کومتحرک کردے اوراس کے ذریعہ سے کوئی با معنی تخلیق وجود میں لا سکے۔ یہ صرف خدا وند ہے جوایک پھول کوکھلانےکےلئے پورے یونیورس کومتحرک کرسکتا ہےاوروہ ایسا ہرآن کررہاہے۔ یہ اس کی قدرت کی نشانی ہے۔ قرآن میں ہے ان اللہ علی کل شئی قدیر، یعنی بے شک اللہ ہرچیزپرقادرہے۔ زمین پرکسی پھول کا کھلنا گویا قرآن کے اسی بیان کاعملی اعلان ہے۔
آدمی اگرسنجیدہ ہواورپوری سنجید گی کےساتھ کسی پھول کوکھلتا مسکراتا ہوادیکھےتووہ پکاراٹھے گا: میراخدا پھولوں کا خدا ہے۔ میراخداخوشبوکاخدا ہے، میراخدارنگوں کا خدا ہے۔ میراخدا زمین وآسمان کاخدا ہے۔ میراخدا پورے یونیورس کاخدا ہے۔
My God is God of flowers, my God is God of scent, my God is God of colours, and my God is God of the entire Universe

قرآن میں اسی حقیقت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا آسمان کی چھت بنائی،اوپرسے پانی برسایا اوراس کے ذریعہ سے ہر طرح کی پیدا وار نکال کرتمہارے لئے رزق بہم پہنچایا پس جب تم یہ جانتے ہوتو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل مت ٹھہرائو" 2:22) (

جمعرات، 8 اگست، 2013

The message of Eid

عید کا پیغام
مسلمانوں کی اصل دوعید یں ہیں۔ ایک عید الفطراوردوسری عید الضحی۔ رمضان کے مہینہ میں ایک ماہ تک روزہ رکھنے کے بعد مسلمان جوتہوارمناتے ہیں اسےعیدالفطرکہاجاتاہے۔ مسلمان قمری کیلینڈر کے حساب سےعید مناتے ہیں اسی لئےعید کا تعین چاند پرہوتا ہے۔ رمضان کے پورے مہینہ میں روزہ رکھنے کے بعد مسلمان آسمان کی طرف سراٹھا کرچاند دیکھتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کا معاملہ آسمان سے وابستہ ہے۔ انھیں اپنے ہرمعاملہ میں خدائی احکام کی طرف دیکھنا ہے۔ انھیں دنیا کابن کرنہیں رہناہے۔ انھیں آخرت کا بن کررہنا ہے۔ اسی طرح انہیں نیچے کی طرف نہیں دیکھنا ہےانھیں اوپر کی طرف دیکھنا ہے۔
عید سے پہلے ضروری ہے کہ مسلمان صدقہ اورفطرہ نکال کرعید گاہ میں آئیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسم نے فرمایا  جو فطرہ نہ نکالے وہ میری عیدگاہ میں نہ آئے۔
صدقہ فطرکاحکم: صدقہ فطرہرمسلمان پرفرض ہے حضرت عمر رضى الله عنه سے روايت ہے۔
"رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نےصيام رمضا ن سے فارغ ہونے پرہرمسلمان پرصدقہ فطرفرض قرارديا خواہ کوئی آزاد ہو ياغلام‘مرد ہو يا عورت ‘ چھوٹا ہو يا بڑا“۔(متفق علیہ)

عید کی نمازسے قبل مسلمان فطرہ نکالتے ہیں۔ یہ اس بات کاعملی اظہارہے کہ اس دنیا میں مسلما نوں کودینے والی کمیونٹی بن کررہناہے۔ انھیں ہرحا ل میں اپنا ہاتھ اونچارکھنا ہے۔ انھیں اس زمین پرخیرامت بن کررہنا ہے۔ انھیں اپنے خول میں نہیں جینا ہے۔ انھیں اپنے خول سے نکل کرباہرکے ماحول میں قدم رکھنا ہے اورمعذوروں اورحاجتمندوں کی ہرممکن مدد کرنا ہے۔ صدقہ فطرکا ایک عظیم پہلو یہ بھی ہے کہ سماج کا ہرشخص عید کی خوشیوں میں شامل ہوجائے۔
عید کی نمازکے لئے روانہ ہوتے ہوئے مسلمان تکبیر کہتے ہیں۔ وہ تکبیریہ ہے :  اَللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ .اَللّٰہ اَکبَرُ اللّٰہُ اَکبَرُ وَلِلّٰہِ الحَمدُ
"یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ ساری تعریف اللہ ہی کےلئے ہے۔"
اس کلمہ میں ہردوسری چیز کی نفی ہے۔ یعنی مال بڑانہیں ہے۔ عہدہ بڑا نہیں ہے۔ کنبہ اورقبیلہ بڑا نہیں ہے، جس پرکہ آدمی اتراتا اورتکبرکرتا ہے۔ یہ کلمہ مسلمانوں کے اندر یہ اسپریٹ پیدا کرتی ہے کہ اللہ بڑا ہے۔ اللہ بڑا کی سوچ انسان میں عجزاورانکساری پیدا کرتی ہےاوریہی چیزخدا وند کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔ انسان جب بولتا ہے کہ اللہ بڑاہےتوگویا وہ اسی وقت اپنی ذات کی تصغیرکررہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کوغروراورتکبرکی نفسیات سے نکال رہا ہوتا ہے۔ یہ کلمہ مسلمانوں کو یاد دلا تا ہے کہ انھیں تکبراورسرکشی کی روش نہیں اپنا ناہے۔ انھیں عجزاورانکساری کی روش پرچلناہے۔
مسلمان عید گاہ میں پہنچ کرعید کی دورکعت نمازپڑھتے ہیں۔ پھرایک دوسرے سے بغل گیرہوتے ہیں اوردوست واحباب کو سوئیاں یا مٹھائیاں کھلاتے ہیں۔ وہ بچوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ عمل اس بات کا اعلان ہے کہ مسلمانوں کوحقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی پورا خیال رکھنا ہے انھیں سماج اورسوسائٹی کا ہوکررہنا ہے۔ انھیں اپنے ملک وہ ملت کی تعمیر میں اپنا کردارادا کرنا ہے۔  

منگل، 30 جولائی، 2013

From Ur to Kedarnath

عراق کے شہر ار سے اترا کھنڈ کے کیدارناتھ تک

محمد آصف ریاض
جون کےمہینہ میں ہندوستان کی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں تباہ کن سیلاب آیا۔ ہرطرف تباہی کامنظرتھا۔ آسمان سے بجلیاں گررہی تھی۔ پہاڑکی چٹانیں کھسک رہی تھیں۔ بادل پھٹ رہے تھےاوربستیاں غرق ہورہی تھیں۔ اس سیلاب کی زد میں آکرہزاروں لوگ مارے گئے۔ درجنوں بستیاں غرق آب ہوئیں۔ سیلاب کا حملہ اتنا شدید اورمنصوبہ بند تھا کہ آدمی کے لئے جان پچانا مشکل تھا۔ سیلاب نے شہرکی مورچہ بندی کررکھا تھااورگائوں اورشہروں کےتقریباً پانچوسوراستےکاٹ دئےتھے۔ کوئی شخص نہ باہرنکل سکتاتھا اورنہ اندرداخل ہوسکتا تھا۔ لوگ جان بچانے کے لئے پہاڑوں پرچڑھ رہےتھےاوروہاں آسمان کا پانی انھیں نگل رہا تھا پھرجب وہ بھاگ کرزمین پرآتےتویہاں انھیں زمین کا پانی غرق کررہا تھا۔ اس سیلاب کی زد میں آکراترکاشی، کیدارناتھ اوررودرپریاگ کےعلاقے پوری طرح تباہ ہوگئے۔
کیدارناتھ
کیدارناتھ کومندروں کاشہرکہاجاتاہے۔ یہاں ہندوستان اوردنیابھرکےعقیدتمند آتےرہتے ہیں۔ یہ شہرسیلاب کی زد میں آکرپوری طرح تباہ ہوگیا۔ ہزاروں لوگ مارے گئےاورتقریباً تمام دیوی دیوتااس سیلاب میں غرق ہوگئے۔ البتہ ان میں کا ایک بڑابچ گیا۔ یعنی کیدارناتھ مندرکا بت محفوظ رہا۔ لیکن اس حالت میں کہ وہاں سینکڑوں ٹن ملبہ جمع تھا۔
لوگوں کا تبصرہ
لوگوں نےاس تباہ کن واقعہ پرکئی قسم کےتبصرے کئے۔ کچھ لوگوں نے اسے ریج آف مائونٹین یعنی پہاڑ کاغصہ کہا تو کچھ لوگوں نے اسے ریج آف نیچر کا نام دیا۔ کچھ لوگوں نے اس کے لئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ لیکن حیرت انگیزبات یہ ہے کہ کسی نے بھی اس ہولناک واقعہ کے لئے دیوتائوں کوذمہ دارنہیں ٹھہرایا۔ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ چونکہ اس تباہ کن حملہ میں سب سے بڑے دیوتابچ گئے ہیں اس لئے ان کا دیوتا ہونا ثابت ہوا۔

میراجواب
دیوتااس لئے نہیں بچ گئے کیونکہ وہ اپنے آپ کوبچانے کی صلاحیت رکھتےتھے۔ اگروہ اپنے اندراس کی صلاحیت رکھتے تووہ ضروراپنے شریک دیوتائوں کوبھی بچا لیتےاوروہ انھیں بھی بچالیتے جوان کی پرستش کے لئے ملک کے دوردرازعلاقوں سے مصیبت  اٹھاکرآئے تھے، جن میں بچے بوڑھے اورعورتیں سبھی شامل تھے۔ اوراگر اسی بڑے دیوتانےسب کوڈوبایا تویہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی دیوتااپنے ہی شریک اورفولورکوتباہ کردے۔ کوئی بادشاہ اپنےہاتھوں سے اپنی بادشاہت کوتباہ نہیں کرتا۔ پھردیوتا خود اپنے ماتحت  دیوتائوں کوکیوں تباہ کرنے لگے؟
ان میں کا سب سے بڑا اس لئے بچا لیا گیا تا کہ آپ ان سے پوچھیں کہ اے دیوتا، جب لوگ ڈوب رہے تھے اوران پر زمین وآسمان کی طرف سے تابڑ توڑحملے ہورہےتھےتوآپ کہاں تھے؟ لوگوں کی بات چھوڑئے، جب خود آپ کے شریک دیوتاڈوب رہے تھے توآپ انھیں بچانے کے لئے کیا کررہے تھے؟
دیکھئے وہ کیا جواب دیتے ہیں؟ وہ کوئی جواب نہیں دیں گے۔ کیونکہ وہ بت  ہیں  وہ دیوتا نہیں  ہیں۔ وہ آپ کی اچھائی برائی کے مالک نہیں ہیں۔ اگروہ آپ کی اچھائی اوربرائی کےمالک ہوتے تووہ ضروراپنی اورآپ کی مدد کوآتے۔

عراق کے شہرارمیں ابراہیم کاواقعہ
آج سے چارہزارسال قبل عراق کا قدیم شہراربھی اتراکھنڈ کی طرح دیوی دیوتائوں کا شہربناہواتھا۔ یہاں لوگ دوردرازسے بتوں کی پوجاکرنےآتے تھے۔ یہاں ہرسال میلہ لگایا جا تا تھا۔ اوریہ لوگوں کے لئے کمائی کا ایک بہترین ذریعہ بن گیا تھا۔ حضرت ابراہیم کے والد بھی بت بناتے تھے اورانھیں شہروں میں فروخت کرکے پیسہ کماتے تھے۔ ابراہیم نےانھیں سمجھا یا اورکہا کہ آے میرے باپ جنھیں آپ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں وہ دیوتا کیوں ہوگئے؟
ابراہیم نےلوگوں کوسمجھا ناشروع کیا کہ یہ دیوتاجنھیں تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے ہووہ تمہاری اچھائی اوربرائی کے مالک نہیں ہیں۔ لیکن برسوں کی کنڈیشننگ کی وجہ سے لوگوں کے دماغ میں بتوں کاخوف بیٹھ گیاتھا۔ حضرت  ابراہیم نے اس خوف کوختم کرنے کےلئے ایک دن چند چھوٹے بتوں کوتوڑدیا اوران میں جوبڑاتھا اسے سلامت چھوڑدیا تاکہ  لوگوں  پر بتوں  کا بت  ہونا  کھل جائے۔ لوگوں نے پوچھا، تم نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے اے ابراہیم؟
ابراہیم نے جواب دیا مجھ سے کیوں پوچھتے ہوبتوں کے بڑے ابھی باقی ہیں ان سے پوچھ لو۔ لوگوں نے کہا کہ یہ بت ہیں ابراہیم یہ بولتے نہیں۔ ابراہیم نے جواب دیا پھران کی پرستش کیوں کرتے ہوجونہ بولتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ ہی تمہارے کام آسکتے ہیں۔ پہلے تو لوگ شرمندہ ہوئے پھران کے بڑوں نے انھیں مشتعل کیا کہ اپنے بتوں کی مدد کروانھیں بچائو۔ لوگوں نے ابراہیم کی بات پرسنجیدگی سےغورکرنے کے بجائے اپنے بڑوں کی بات کو پکڑ لیا اور ابراہیم کوجلانےکا منصوبہ بنانے لگے۔
حضرت ابراہیم خدا کے بھیجےہوئے پیغمبرتھے۔ عراق کے شہرارمیں خدا وند نے ابراہیم کومداخلت کے لئے چنا تھا۔خدا وند ابراہیم کےذریعہ سے لوگوں کے دل و دماغ کو بدلناچاہتا تھالیکن بجائے اس کے کہ لوگ اپنا دل دماغ بدلتےاورابراہیم کےسنجیدہ پیغام پرغوروخوض کرتے انھوں نے نعرہ لگانا شروع کردیا کہ بتوں کی مدد کرواورابراہیم کوجلا دو۔

خداوند کا پیغام
عراق کے شہرارمیں خداوند نے اپنے پیغمبرکے ذریعہ مداخلت کرایا اوراب چونکہ کوئی پیغمبرآنے والا نہیں اس لئے خدا وند نے کیدارناتھ میں خود برارہ راست مداخلت کوضروری سمجھااوران میں ایک بڑے کوچھوڑکرسارے دیوی دیتائوں کوغرق کردیا تاکہ لوگ اس بڑے سے پوچھیں کہ اگرتم دیوتا تھے تواس تباہی کے وقت کیاکررہے تھے؟ تم نہ اپنا بچائوکرسکے اورنہ ہمارے بچوں کاتوپھرتم دیوتا کس طرح ہوسکتےہو؟ ہم تمہاری پرستش سے باز آئے۔ ابراہیم کے واقعہ سے خدا وند کا منشا یہی تھا اورکیدار ناتھ کے واقعہ سے بھی خدا وند یہی چاہتا تھا۔
لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ لوگوں نے نہ ارکےواقعہ سےکوئی سبق لیااورنہ کیدارناتھ واقعہ سے کچھ سیکھا۔ وہاں بھی لوگوں نے بتوں کی تباہی کے بعد یہی نعرہ لگایاکہ بتوں کی مدد کرواورانھیں پھرسےان کی پوزیشن پرلائواوریہاں بھی لوگ یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ بتوں کوان کی پوزیش پرایستادہ کروان کی مدد کرو۔
توجوخود اپنی پوزیشن طے نہیں کرسکتےاوراپنی پوزیشن کے لئے آپ کے محتاج ہیں،وہ آپ کے دیوتا کس طرح ہوسکتے ہیں؟ بتائوجوپوزیشن طے کرنے والاہے وہ بڑاہےیاجس کی پوزیشن طے کی جارہی ہے وہ؟ صحیح بات یہ ہے کہ بتوں کی پرستش انسان کی خود اپنی تذلیل ہے۔

پیر، 8 جولائی، 2013

Self help


اپنے دانہ کوپودا بنا ئیں اورپوداکوتناوردرخت


محمد آصف ریاض

جون 2013 کی شام ایک نوجوان ملاقات کے لئےآئے۔ وہ پٹنہ کےرہنے والے ہیں اورنوئیڈا میں گزشتہ پندرہ سالوں سے رہ رہے ہیں۔ ان کی عمرتیس سال سے زیادہ ہوچکی ہے لیکن اب تک وہ کوئی قابل قدرکارنامہ انجام نہیں دے سکے ہیں۔

بات چیت کے دوران انھوں نے اپنے گھروالوں کی شکایت کی۔ ان کاکہنا تھا کہ گھروالوں نے ان کی مدد نہیں کی اس لئے وہ ناکام ہوگئے۔ میں انھیں پہلے سے جانتا ہوں ۔ میں نے انھیں بتایا کہ آپ کے دوسرے بھائیوں کی بھی مدد نہیں کی گئی تھی لیکن وہ توکامیاب ہوگئے۔ میری اس بات پروہ سٹپٹا کررہ گئے۔

آدمی کو چاہئے کہ وہ کسی معاملہ میں کوئی عذرپیش نہ کرے ہرچند کہ اس کے پاس بیان کرنےکےلئےبہترین عذرہو
Do not use any excuse even if you have a good one

میں نےانھیں بتایاکہ اس دنیا میں مدد اسی کوملتی ہےجویہ ثابت کرسکےکہ اگراس کی مدد کی گئی تووہ مدد کرنے والے کومزید اضافہ کے ساتھ لوٹائے گا۔ میں نے انھیں بتایاکہ آپ اپنے عمل سے اپنی افادیت ثابت نہ کرسکے بلکہ الٹا آپ نے لوگوں پریہ تاثرچھوڑاکہ اگرآپ کی مدد کی گئی تومدد کرنے والے کوشرمندگی اٹھانی پڑے گی۔


کسان اور دانہ

کسان دانے کی مدد کرتا ہے۔ لیکن کب؟ جبکہ دانا اپنے آپ کوپوداکی شکل میں نمودارکرنےاورکسان پریہ تاثرچھوڑنے میں کامیاب ہوجائے کہ اگراس کی مدد کی گئی تووہ کسان کے لئے پھل لائے گا، اسے سایہ دے گا، اس کے لئے آکسیجن تیارکرے گا اوراسے زندگی کاسامان فراہم کرائے گا۔ پودے کی اس یقین دہانی کے ساتھ ہی کسان ایکٹیوہوجاتا ہے۔ وہ اس کے لئے پانی کااہتمام کرتاہے۔اس کی صفائی کااہتمام
 کرتاہے، اسے کوئی بیماری نہ لگ جا ئے اس کے لئے دواﺅں کا انتظام کرتا ہے۔ وہ اس کی نگرانی کرتا ہے اوراسے درخت بننے میں ہرممکن مدد فراہم کرتاہے۔ وہ اس پرجان اور مال لگاتاہے۔ وہ اس کی پر ورش کرتا ہے۔

لیکن یہ مدد پودے کواس وقت ملتی ہےجبکہ پودااپنے کسان پراپنی افادیت کوثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے اورجب کوئی پودا اپنی افادیت ثابت نہیں کر پاتاتواس پودا کے متعلق کسان کاردعمل بالکل دوسراہوتا ہے۔ یعنی کسان اسے اکھاڑکردور پھینک دیتا ہے۔

کسان بیج لگاتاہے اوروہ بیج پودے کی شکل میں نمودارہوتا ہے تواس کی قدرکی جاتی ہے اوراگروہ بیج پودا کی شکل میں نمودارنہ ہوتوکسان پوری کھیتی پرہل چلا دیتا ہے اورپھرنیا بیج لگاتاہے۔

 یہی حال کسی انسان کا ہے۔ اگرانسان دانےکی طرح اپنی افادیت ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے توضروراس کی قدرکی جائے گی اوراگروہ ناکام ہوجائے توبعید نہیں کہ ناکارہ دانے کی طرح اس پربھی ہل چلا دیاجائے۔

کسان کی مدد کے حصول کے لئے دانے کواپنی افادیت ثابت کرنی پڑتی ہے، اسی طرح کسی کی مدد پانے کے لئے انسان کواپنی افادیت کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ کسی سے مدد کے حصول کااس دنیا میں یہی عملی تقاضاہے جولوگ اس عملی تقاضے کوپورانہ کرسکیں ان کاانجام اس دانے کی طرح ہوگاجواپنے آپ کوپودا نہیں بناپاتا اوراکھا ڑکر پھینک دیاجاتاہے۔ ایسے لوگوں کونہ گھرسے مدد ملتی ہے اورنہ باہرسے۔
یادرکھئے،جس طرح ناکارہ دانے کی مدد نہیں کی جاتی اسی طرح ناکارہ لوگوں کی بھی مدد نہیں کی جاتی۔ مدد تو صرف اسی کی ہوتی ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں، جو اپنے دانہ کو پودا بناتے ہیں اور پودا کو تناوردرخت۔