بدھ، 31 اگست، 2016

اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکتا ہے لیکن مالدار خدا کی جنت میں داخل نہیں ہوگا


اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکتا ہے لیکن مالدار خدا کی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا

محمد آصف ریاض


انجیل میں ہے کہ ایک شخص نے مسیح سے پو چھا؛ استاذ مجھےبتا ئیے کہ وہ کون سے بھلے کام ہیں جن کے ذریعہ میں ہمیشگی کی زندگی پالوں؟

مسیح نے جواب دیا یہی کہ " قتل نہ کرو، زنا اور بدکاری سے بچو، چوری نہ کرو، جھوٹی گواہی سے بچو، اور یہ کہ اپنے ماں باپ کا احترام کرو، اور اپنے پڑوسیوں سے اسی طرح سلوک کرو جس طرح کا سلوک تم خود اپنے ساتھ کرتے ہو ۔"

“‘Do not murder, do not commit adultery, do not steal, do not bear false witness, honor your father and mother, and love your neighbor as yourself.

یہ سن کر اس شخص نے جواب دیا؛ استاذ، یہ وہ کام ہیں جو میں پہلے سے ہی کرتا ہوں! تب مسیح نے کہا کہ جائو، جو کچھ تمہارے پاس ہے انھیں خدا کی راہ میں خرچ کردو۔ یہ سن کر وہ شخص بہت اداس ہوا اور اداسی کے ساتھ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا کیونکہ اس کے پاس بہت سا مال تھا۔ 

تب مسیح نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو میں کہتا ہوں " مالدارکا خدا کی جنت میں داخلہ بہت مشکل ہے۔ دیکھو؛ میں پھر کہتا ہوں کہ ایک اونٹ سوئیں کے ناکے سے گزر سکتا ہے، لیکن مالدار خدا کی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔"

23Then Jesus said to His disciples, “Truly I tell you, it is difficult for a rich man to enter the kingdom of heaven. 24Again I tell you, it is easier for a camel to pass through the eye of a needle than for a rich man to enter the kingdom of God.” 

انجیل میں یہ الفاظ پڑھ کر مجھے حیرانی ہوئی ۔ مجھے لگا کہ مالدار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اورکسی شخص کے غیر جنتی ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ مالدار ہے۔ یہ بات مجھے سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ آخر مالدار ہونا اتنا بڑا گناہ کیوں ہے کہ ایک "اونٹ تو سوئی کے ناکے سے گزر سکتا ہے لیکن مالدارخدا کی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا"! بہت غورو خوض کے بعد میں ایک نتیجے پر پہنچا۔

انجیل میں جو بات بیان ہوئی ہے بلا شبہ الفاظ کے اعتبار سے وہ ایک پر اسرار بات معلوم پڑتی ہے لیکن اپنی روح کے اعتبار سے وہ حقیقت پر مبنی ایک بیان ہے۔ وہ حقیقت واقعہ کا ایک تمثیلی اعلان ہے۔

سب جانتے ہیں کہ کوئی شخص خود بخود مالدار نہیں ہوجاتا۔ مالدار بننے کے لئے آدمی کو بہت زیادہ مشقت کر نی پڑتی ہے۔ مالداری کےحصول کے لئے آدمی کو رات دن محنت کرنی پڑتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنا تن من دھن لگا دیتا ہے تب جاکر وہ صورت پیدا ہوتی ہے جسے ہم مالداری کہتے ہیں۔

اب ذرا غور کیجئے؛ آدمی کے پاس محدود توانائی ہے۔ اس کے پاس سوچنے سمجھنے کے لئے ایک ہی دل اور دماغ ہے۔ آدمی اگر ایک کام کرے تو وہ دوسرا کام نہیں کر سکتا، آدمی اگر ایک بات سوچے تو اسی وقت وہ دوسری بات نہیں سوچ سکتا۔ انسان کی اس محدودیت کا اعلان قرآن میں ان الفاظ میں ہوا ہے" خدا نے کسی سینے میں دو دل نہیں رکھا"۔

آدمی کے پاس محدود وسائل ہوتے ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص اپنےسارے وسائل کو دنیا کی طلب پر صرف کردے تو ظاہر ہے کہ اس کے پاس جنت کے حصول کے لئے کوئی اثاثہ نہیں بچے گا، تب خود بخود وہ صورت پیدا ہوگی جو کسی شخص کو جنت سے محروم کردے گی۔ اسی صورت حال کا اظہار انجیل میں ان الفاظ میں ہوا ہے کہ "اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکتا ہے لیکن مالدارخدا کی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا"!

قرآن میں اسی بات کا اعلان ان الفاظ میں ہوا ہے

بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿١٦﴾ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ ﴿١٧﴾

"مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔"

أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ﴿١﴾ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ﴿٢﴾

"زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے"

آدمی اگر دنیا سے دل لگا لے اور اسی کے بارے میں سوچے اور محنت کرے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آدمی جنت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے، اور جو شخص جنت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو جو اس کے لئے مشقت نہ اٹھائے اسے جنت ملنے والی نہیں ہے۔ 

انجیل کے اس بیان کو آپ انجیل کے ایک دوسرے بیان سے سمجھ سکتے ہیں۔ انجیل میں ہے:

"No one can serve two masters. Either you will hate the one and love the other, or you will be devoted to the one and despise the other. You cannot serve both God and money.
Matthew 6:24

"کوئی بھی شخص اپنے دو مالکان کو خوش نہیں کر سکتا۔ یا تو تم ایک سے نفرت کرو گے اور دوسرے سے محبت؛ یا تم ایک کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دو گے اور دوسرے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھو گے۔ تم خدا اور مال دونوں سے محبت نہیں کر سکتے۔"

منگل، 16 اگست، 2016

زندگی دھارے سے نہیں، بھائی چارے سے چلتی ہے

زندگی دھارے سے نہیں، بھائی چارے سے چلتی ہے

محمد آصف ریاض

ایک روز میں ایک وکیل کے گھرٹھہرا، تو دیکھا کہ گھر والوں کے درمیان ان کے معاملات ٹھیک نہیں ہیں۔ وہ باہر جیتے ہوئے انسان معلوم پڑتے تھے لیکن گھر والوں میں وہ ہارے ہوئے انسان معلوم پڑ رہے تھے۔ میں نے بہت غور کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ ایک شخص جو دوسروں کے معاملات ٹھیک کرانے کی گارنٹی لیتا ہے، وہ خود اپنے معاملات میں بے ٹھیک بنا ہوا ہے؟
مجھے تجسس ہوا۔ میں نے یہ جاننا چاہا کہ ایک کامیاب وکیل اپنے گھر والوں میں ناکام کیوں ہے؟ وہ جو باہر سب کے معاملات ٹھیک کرانے کی گارنٹی لیتا ہے، وہ اپنے معاملات میں اس قدر بےٹھیک کیوں ہے؟
اس حقیقت کے ادراک کے لئے میں نے ایک اور وکیل سے ملاقات کی ۔ میں اس کے گھر ٹھہرا تو دیکھا کہ گھروالوں اوراحباب کے درمیان اس کے معاملات بہت بہتر ہیں۔ میں سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہے کہ ایک وکیل اپنے گھر والوں میں ہارا ہوا، انسان معلوم پڑتا ہے اور دوسرا جیتا ہوا انسان۔
تھوڑی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ پہلا وکیل ہرچیزکو قانون کی نگاہ سے دیکھتا ہے، وہ ہر چیز میں 'دھارا' تلاش کرتا ہے جبکہ دوسرا وکیل ہرمسئلہ کا عملی (pragmatic)  حل چاہتا ہے۔
دوسرے وکیل کی کامیاب زندگی کا رازاس حقیقت کے ادراک میں پوشیدہ تھا: " زندگی دھارے سے نہیں ، وہ محبت، حسن سلوک، اور بھائی چارے سے چلتی ہے۔"
اسی بات کوایک معروف امریکی مفکرمارک ٹیون نے ان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی ہے:
" کمترانسان قانون کے ذریعہ قابو میں کیا جا تا ہے، جبکہ برتر لوگ حسن سلوک سے جیتے جاتے ہیں" مارک ٹیون
“Laws control the lesser man... Right conduct controls the greater one.”

ہفتہ، 13 اگست، 2016

آخر کار خدائی عذاب کا کوڑا برسا

آخر کار خدائی عذاب کا کوڑا برسا

محمد آصف ریاض

تیرہویں صدی میں جب مسلمان ان عیسائی ممالک میں داخل ہوئے جنھیں آج یوروپ کہاجا تا ہے تو اس وقت وہاں کے حالات کیا تھے؟ یوروپ میں اس وقت کے حالات کو جاننے کے لئے ایک روسی مبصر کا تبصرہ پڑھئے۔
 اس تبصرہ کو پروفیسرتھامس آرنالڈ نےاپنی کتاب دی اسپریڈ آف اسلام (Spread of Islam in the world) میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے۔
" قانون کے خوف کے بغیر کسی سلطنت کی حالت اس گھوڑے کی طرح ہے جو بے لگام ہو۔ قسطنطین اوراس کےاسلاف نے اپنے امرا اور رئوسا کو اس بات کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی کہ وہ رعایا کو دبائیں اور ان کا استحصال کریں، ان کی عدالت میں انصاف نام کی کوئی چیزنہیں تھی۔ ان کے قلوب عزم اور حوصلے سے خالی تھے۔ ان کے ججوں کا حال یہ تھا کہ وہ بے گناہوں کے خون پسینہ کی کمائی پراپنا خزانہ بھرتے تھے۔ یونانی فوج صرف اپنی پوشاک میں عظیم الشان نظرآتی تھی۔ عوام اپنی حکومت سے بغاوت کرنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتےتھے۔ فوجیوں کا حال یہ تھا کہ وہ میدان جنگ سے بھاگنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے۔ آخرکاران نا اہل حکمرانوں پرخدانےعذاب کا کوڑا برسایا اور محمد کواٹھا جن کے سپاہ  میدان جنگ میں مسکراتے تھےاور جن کی عدالت میں انصاف کا خون نہیں بہا یا جا تا تھا۔      
   “ Without the fear of the law an empire is like a steed without reins. Constantine and his ancestors allowed their grandees oppress the people, there was no more justice in their law courts, no more courage in their hearts,  the judges amassed treasures from the tears and blood of the innocent,  the Greek soldiers   were proud only of the magnificent of their dresses. The citizens did not blushed of being traitors , the soldiers were not ashamed to fly.
At length  the Lord poured out  his thunder on these unworthy rulers, and raised up Mohammad whose warriors delight in battle, and whose judges do not betray  their trust.”
Spread of Islam in the world : page No 148   

اب جبکہ یوروپی طاقتیں مسلم دنیا میں داخل ہوچکی ہیں تو وہاں کے حالات جاننے کے لئے روسی وزیر اعظم دیمتری میدودیوکا یہ تبصرہ پڑھیں۔
روسی وزیراعظم دیمتری میدودیو نے 12 فروری 2016 کو ایک اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا: " اس طرح کی جنگ میں فوری کامیابی ناممکن ہے۔ خاص طور سےعرب دنیا میں جہاں ہر شخص ہر شخص کے خلاف لڑ رہا ہے۔"


“It would be impossible to win such a war quickly, especially in the Arab world, where everybody is fighting against everybody."

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ جب مسلمان اچھے تھے تو ان کے حالات بھی اچھے تھے، جب وہ یہود اور نصاریٰ کی طرح بگڑ گئے تو ان کے حالات بھی بگڑ گئے۔ روسی مبصر کے الفاظ میں " آخر کار ان نا اہل حکمرانوں پرخدائی عذاب کا کوڑا برسا"۔ حقیقت ہے کہ آدمی ہمیشہ اپنے اعمال کا ہی نتیجہ پاتا ہے جب مسلمانوں کے اعمال بھلے تھے تو اس کے نتائج بھی بھلے تھے جب ان کے اعمال بگڑ ے تو نتائج بھی بگڑ گئے۔ ٹھیک کہا گیا ہے جیسا عمل ویسا نتیجہ!  

جمعرات، 11 اگست، 2016

یہ پتھر کے ہاتھی ہیں جو بیٹھ جاتے ہیں تو کبھی اٹھتے نہیں

یہ پتھر کے ہاتھی ہیں جو بیٹھ جاتے ہیں تو کبھی اٹھتے نہیں
محمد آصف ریاض
دسمبر2015 کو ہندوستان ٹائمزلیڈرشپ سمٹ میں این ڈی ٹیوی کی صحافیہ برکھا دت نے ملائم سنگھ یادوکے بیٹے اوراتر پردیش کے وزیراعلیٰ جناب اکھلیش یادوکا انٹرویولیا۔ انھوں نے مسٹریادو سے پوچھا کہ کیا آپ بھی بہارکی طرح مایا وتی کے ساتھ کوئی اتحاد قائم کرسکتے ہیں؟
جناب اکھلیش یادو نے برکھا دت کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ " مایا وتی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ ان کی پسند یہ ہے کہ شہرمیں ہر طرف پتھرکے ہاتھی لگ جائیں۔ وہ ہر طرف ہاتھی لگا رہی ہیں۔ ان ہاتھیوں کا حال یہ ہے کہ " جوکھڑے ہیں وہ کبھی بیٹھے نہیں، اورجو بیٹھے ہیں وہ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔"
ہاتھیوں سے متعلق اکھلیش یادو کا جواب سن کرسا معین ہنسنے لگے اورانھوں نے خوب تالیاں بجائیں۔ درحقیقت اکھلیش یادو یہ کہنا چاہ رہے تھےکہ مایاوتی کوریاست کی ترقی سے کوئی مطلب نہیں ہے،انھیں صرف ہاتھی لگانے سے مطلب ہے اوروہ بھی پتھر کے ہاتھی، جو کسی کام کے نہیں ہوتے۔
یہ تو ہوا یوپی کے اکھلیش یادوکا بیان، اب ذرا گجرات کے ہاردیک پٹیل کا بیان لیجئے۔ ہاردک پٹیل نے اپنے ایک بیان میں  وزیراعظم مودی پرنشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ " پھترکے پٹیل بناتے ہو، ذرا دیکھو کہ پٹیل دل میں بھی کہیں بستا ہے؟"
اکھلیش یادواورہاردیک پٹیل کا بیان سن کرمیں سوچنے لگا کہ آدمی سیاسی باتوں کی وضاحت میں کتنا ہوشیارہے۔ وہ اپنی بات کہنے کےلئے ٹھیک وہی الفاظ چن لیتا ہے جوحقائق سے بالکل قریب ہوں۔ لیکن وہی آدمی الہامی سچایوں کے ادراک میں ایسا بودا بن جاتا ہے جیسے اسے کوئی سمجھ ہی نہ ہو۔
مثلا اگرآپ ان سے پوچھیں کہ یہ بت جنھیں آپ پوجتے ہیں ان کا معاملہ بھی تو پھتر کے ہاتھیوں جیسا ہے، جھنیں ایک بار بیٹھا دیا جائے تو وہ کبھی کھڑے نہیں ہوتے، اورجنھیں کھڑا کردیا جائے تو وہ کبھی بیٹھتے نہیں تو پھر وہ دیوتا کس طرح ہوسکتے ہیں؟ وہ پھتر کی مورتیں قابل پرستش کس طرح ہو سکتی ہیں؟
اس قسم کے سوال پرآپ بہت ہوشیارآدمی کو بھی بہت بودا پائیں گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ آدمی وہی سمجھتا ہے جو اس کا کنسرن ہو، چونکہ انسان کا کنسرن دنیا ہے اس لئے وہ دنیا کی باتوں کو خوب سمجھ لیتا ہے، وہ آخرت کی باتوں کو نہیں سمجھ پاتا کیونکہ وہ اس کا کنسرن نہیں ہے۔
آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ آسمان دیکھ کربتا دیتا ہے کہ آج بارش ہوگی، اوربارش ہوتی ہے، وہ ہوائوں کے رخ کو دیکھ کربتا دیتا ہے کہ آج گرمی پڑے گی، اورگرمی پڑتی ہے۔ آدمی اپنی سمجھ کےاعتبارسے اتنا ہوشیارہے کہ وہ آسمان و زمین میں چھپی سچائیوں کوسمجھنے میں ذرا بھی دیرنہیں کرتا، لیکن وہی آدمی آخرت کی کھلی نشانیوں کوسمجھنے میں ایسا بودا بن جا تا ہے، جیسے اسے کوئی سمجھ ہی نہ ہو۔       
کاش انسان جانتا کہ فیصلے کے دن انسان اپنے علم کی کمی کے لئے خدا کے آگے جواب دہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ خدائی معاملات میں اپنی غیرسنجیدگی کے لئے پکڑا جائے گا۔ 

بدھ، 22 جون، 2016

خدایا، مجھے ناخلف جانشینوں میں سے نہ بنانا اور مجھے شہوات دنیا سے بچانا


خدایا،  مجھے ناخلف جانشینوں میں سے نہ بنانا اورمجھے شہوات دنیا سے بچانا
محمد آصف ریاض
آج 21 جون 2016 ہے، اوررمضان کی 15 ویں تاریخ ۔ آج رات 3 بجے نیند ٹوٹی تو صوم کی نیت سے سحری کھالی۔ سحری کے بعد بسترپرلیٹ گیا۔ نیند آرہی تھی چنانچہ بسترپرلیٹا رہا۔ اسی درمیان قریب کی ایک مسجد سے اذان کی آوازآئی۔ موذن پکار رہا تھا حی علی الصلواۃ، آئو نماز کی طرف ، حی علی الفلاح آئو کامیابی کی طرف، الصلات خیرمن النوم، یعنی نمازنیند سے بہتر ہے۔
موذن کی پکار مسلسل کانوں میں گونج رہی تھی لیکن میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں بسترسے نہ اٹھو ں اور نماز کو جانے دوں۔ مجھے نیند آرہی تھی اور دل سونا چاہ رہا تھا۔
میں بستر پربدستورپڑارہا، اسی درمیان قرآن کی سورہ مریم کی ایک آیت یاد آگئی۔ اس آیت میں حضرت اسماعیل اورحضرت ادریس کا ذکرہوا ہے اورانھیں نبی اور رسول بتا یا گیا ہے اوربتا یا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروالوں سے کہتے تھے کہ " نماز پڑھو اورزکاۃ دو۔"
"اورکتاب میں اسماعیل کا ذکرکرو، وہ وعدے کا سچا تھا اوررسول نبی تھا۔ وہ اپنے گھر والو سے کہتا تھا نماز پڑھو اور زکاۃ دو،وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ انسان تھا، اور کتاب میں ادریس کا ذکر کرو وہ ایک سچا انسان اورنبی تھا اوراسے ہم نے بلند مقام پراٹھا یا تھا۔" 19: 55 – 1957))
قرآن میں ان معززانبیا کی تعریف کے بعد بتا یا گیا ہے کہ " پھران کے بعد نا خلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنھوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور خواہش نفس کی پیروی کی؛ توعنقریب وہ اپنے کئے کا مزا چکھیں گے۔" (19:59)
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا
قرآن کی یہ آیت کہ " پھران کے بعد نا خلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنھوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور خواہش نفس کی پیروی کی؛ توعنقریب وہ اپنے کئے کا مزا چکھیں گے "۔  جب میرے ذہن میں یہ آیت آئی  تو میری آنکھیں کھل گئیں اورمیں اندر سے سہم گیا۔ یہ آیت ایک قسم کی خدائی وارننگ تھی۔ اس واضح خدائی وارننگ کے بعد میں نماز چھوڑنے کا تحمل نہیں کرسکا۔ میں سوچنے لگا کہ نماز نہ پڑھنا بلا شبہ ایک گناہ ہے لیکن نماز سے متعلق واضح خدائی احکام کے با وجود نماز کو ترک کردینا گویا گناہ کے اوپرسرکشی کا اضافہ ہے اورخدا گناہ کومعاف کردیتا ہے لیکن وہ سر کشی کو کبھی معاف نہیں کرتا۔
میں خاموشی سے بستر سے اٹھا اورمسجد کے لئے روانہ ہوگیا۔ نماز پڑھی اورنمازکے بعد خدا سے یہ دعا کی : خدایا، مجھے نا خلف جا نشینوں میں سے نہ بنا نا، اورمجھے شہوا ت دنیا سے بچانا۔

بدھ، 1 جون، 2016

پیغمبر ناصح ناکہ پیغمبر فاتح


پیغمبر ناصح ناکہ پیغمبر فاتح

محمد آصف ریاض

انجیل میں حضرت یحییٰ کی زبان سے ایک بشارت آئی ہے۔ وہ بشارت اس طرح ہے: "لوگو، میں تمہیں پانی سے پاک کرتا ہوں، لیکن وہ آنے والا آرہا ہے، وہ مجھ سے بہت زیادہ زورآور طاقت والا ہے، مجھ میں یہ سکت نہیں کہ میں اس کی جوتیاں بھی اٹھا سکوں، وہ جب آئے گا تو تمہیں 'آگ' سے پاک کرے گا۔"

“I baptize you with water for repentance, but he who is coming after me is mightier than I, whose sandals I am not worthy to carry. He will baptize you with the Holy Spirit and fire.

عیسائی حضرات اس بشارت کوحضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں جبکہ مسلم علما اسے پیغمبراسلام سے وابستہ کرکے دیکھتے ہیں۔
مسلم علما اس بشارت کے ذریعہ یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا پیغمبراسلام ایک 'آتشیں پیغمبر' تھے جنھوں نے آتے ہی دنیا کے نقشے کو بدل دیا اورقیصروکسریٰ کی دیواریں ہلاکررکھ دیں وغیرہ۔
ہمارے زیادہ ترعلما انجیل کی بشارت کو اسی انداز میں لیتے ہیں۔ وہ پیغمبراسلام کو' پیغمبرناصح' کی جگہ 'پیغمبر فاتح' Muhammad the conqueror )) بنا کرپیش کرتے ہیں۔ حالانکہ کوئی پیغمبرفاتح نہیں ہوتا وہ تو ناصح اورامین ہوتا ہے۔ چنانچہ خود ایک پیغمبرکی زبان سے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں۔ "انا لکم ناصح امین" یعنی میں تمہارے لئے خیرخواہی چاہنے والا امانت دار ہوں۔
پیغمبرناصح ناکہ پیغمبرفاتح
پیغمبرناصح کو پیغمبرفاتح قراردینے کی وجہ سے مسلمانوں میں وہ سوچ پیدا ہوئی جس کے نتیجہ میں مسلم سماج میں جہادی ایکٹیوزم نے زورپکڑا۔ یہ سوچ مسلمانوں میں اٹھارہویں صدی میں اس وقت ابھری جبکہ 1799 میں بحرمتوسط  Mediterranean Sea ) ) میں مغربی طاقتوں نے ترکوں کے عظیم بحری بیڑہ naval fleet))  پرحملہ کرکے اسے مکمل طور پر تباہ کردیا۔ اور دوسری طرف اسی سال ہندوستان میں برٹش فوج نے سلطان ٹیپوکی فوج کو مکمل شکست دے دی۔ اس کے بعد برٹش جنرل نے فاتحانہ انداز میں یہ اعلان کیا کہ 'آج سے ہندوستان ہمارا ہے'۔
 Today India is ours))
اٹھارہویں اورانیسویں صدی میں یوروپی طاقتوں کے ہاتھوں یکے بعد دیگرے چوٹ کھانے کے بعد نام نہاد مسلم دانشوروں نے مسلم نوجوانوں کو یہ بتا نا شروع کردیا کہ انجیل میں پیغمبر اسلام کوfire  سے تعبیرکیا گیا ہے۔  اور فائر طاقت یعنی Might  کی علامت ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو پھرسے فتوحات کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے، یہیں سے القائدہ، طالبان، داعش، حزب اللہ جیسی تخریبی طاقتیں ابھریں اورانھوں نے اسلام کی شبیہ کو پوری طرح مسخ کرکے رکھ دیا۔ انھوں نے مذہب امن کو مذہب فساد کےہم معنی بنا دیا۔
انجیل کی بشارت
اب آ ئیے، انجیل کی اس بشارت کی تعبیرکرتے ہیں۔ انجیل میں ' فائر'کا ذکرتمثیلی معنوں میں ہے۔ یہاں فائرکے معنی آگ نہیں ہے بلکہ کسوٹی ہے۔ آپ کسی سنارکے پاس جائیں اوراسے اپنا سونا دکھائیں وہ اس سونے کوآگ میں ڈال کر بتا دے گا کہ سونا کتنا خالص ہے اور اس میں کتنی ملاوٹ ہے۔ آگ خالص سونے کو ملاوٹ سے پاک کر دیتی ہے۔ وہ فضلہ کو جھاگ بنا کر اڑا دیتی ہے۔
تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً تمام نبیوں اوررسولوں کے ساتھ ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان کے لائے ہوئے کلمات کے ساتھ اپنے کلمہ کو ملا دیا اورایک بات کو دوسری بات سے بدل دیا۔ یہ سلسلہ پوری تاریخ میں چلتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو برپا کیا اورانھیں ایک ایسی کسوٹی دی جوحق کو باطل سے چھانٹ کرالگ کر دینے والی تھی۔ اسی کسوٹی کو انجیل میں فائر یعنی آگ سے تعبیرکیا گیا " میں پانی سے پاک کرتا ہوں اور وہ آگ سے پاک کرے گا " اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم میری لائی ہوئی کتاب میں ترمیم و تحریف کردیتے ہو لیکن دیکھو، وہ جو آنے والا آرہا ہے تم اس کے ساتھ ایسا نہیں کرسکو گے کیونکہ اس کے پاس ایک 'کسوٹی' ہوگی یعنی ایک ایسی کتاب جس کے ذریعہ سے وہ جھوٹ کو سچ سے الگ کر دے گا۔
وہ کسوٹی کیا ہے؟
وہ کسوٹی قرآن ہے۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جوحق کو باطل سے الگ کرنے والی ہے۔ کوئی اس کتاب میں تحریف نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اس پرآگے سے یا پیچھے سے آسکتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے:
"یہ بڑی باوقعت کتاب ہے ، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے اللہ کی طرف سے"۔ (الفصلت: 41،42)
آگے فرمایا:  نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
دوسری جگہ فرمایا:  وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
اورکہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔

آدمی اگر گہرا مطالعہ کرے اور تفکر سے کام لے تو اسے یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ انجیل میں تمثیل کی زبان میں قرآن کو فائریعنی آگ کہا گیا اورآگ اس لئے کہا گیا کیوں کہ آگ ایک کسوٹی ہے جو چیزوں کو ملاوٹ سے پاک کر دیتی ہے اور قرآن بھی یہی کرتا ہے کہ وہ حق کو باطل سے الگ کردیتا ہے۔ تو واضح ہو ا کہ انجیل میں آگ کا ذکر پیغمبراسلام کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ تمثیل کی زبان میں قرآن کے لئےاستعمال ہوا ہے۔ اور یہاں ہمارے علما سے تعبیر کی غلطی ہوئی ہے۔ 

ہفتہ، 14 مئی، 2016

اگر آپ کے پاس تخلیقی ذہن ہے توکوئی آپ کو روک نہیں سکتا

اگر آپ کے پاس تخلیقی ذہن ہے توکوئی آپ کو روک نہیں سکتا

محمد آصف ریاض
بہارکے دربھنگہ ضلع کے رہنے والے ایک نوجوان جمیل شاہ کی یہ خواہش تھی کہ وہ بالی ووڈ کے بڑے ستاروں کےساتھ کام کرے۔ وہ انھیں دیکھے اوران کے ساتھ رقص کرے۔ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لئے جمیل شاہ پہلےدہلی آئے پھریہاں سے بنگلورگئے اوراس کے بعد فلمی نگری ممبئی پہنچ گئے۔
وہ بیک گرائونڈ ڈانسربن کربڑے بڑے فنکاروں کے ساتھ ڈانس کرنا چا ہتے تھے۔ لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ وہ ایک غریب آدمی تھے۔ اسی درمیان ان کی ملاقات معروف ڈانس گروسندیپ سپارکرسے ہو ئی۔ سپارکرنے بغیرفیس لئےجمیل کوڈانس سکھا نا شروع کردیا۔ لیکن اس دوران ایک اورمسئلہ کھڑا ہوگیا۔ رقص کے جوتے بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ ان جوتوں کو خریدنے کے لئے دس ہزار سے لے کرلاکھوں روپے تک خرچ کرنا پڑتا ہے اورجمیل کے لئے اتنا پیسہ جٹانا آسان نہیں تھا۔ عام طور پر ڈانسراپنے جوتے انگلینڈ سے امپورٹ کرتے ہیں۔ جمیل انگلینڈ سے جوتے امپورٹ نہیں کرسکتے تھے،چناچہ انھوں نے ڈانسروں کے جوتوں کا گہرا مشاہدہ کیا اوراسی قسم کا ایک جوتا بنا کراپنے گرو سندیپ سپارکرکو دکھا یا۔
یہ جوتا فلم انڈسٹری میں زیادہ ترلوگوں کو پسند آیا اور پھر 2007 سے جمیل نے با ضابطہ طور پر جوتے بنانے کا کام شروع کردیا۔ جمیل کہتے ہیں کہ سب سے پہلے انھوں نے ڈینو موریا کے لئے، پھر پرینکا چوپڑا کے لئے، دھوم تھری میں عامرخان کے لئے، زندگی نہ ملے گی دوبارہ میں ریتک روشن کے لئے، ان کے علا وہ عالیہ بھٹ، کاجول، اجئے دیوگن، سلمان خان، رنبیر کپور، قطرینہ کیف، سری دیوی اور بہت سے دوسرے ستاروں کے لئے جوتے بنائے۔ اب حال یہ ہے کہ انھوں نے جوتوں کا کاروبار شروع کردیا ہے اور زیادہ تر فلمی ستارے انگلینڈ  کے بجائے انھیں سے  جوتا خریدنا پسند کرتے ہیں کیونکہ ان کے جوتے اچھے بھی ہوتے ہیں اور بہت سستے بھی۔
ایک اور اسٹوری
ایک اردواخبارمیں جمیل کی اس اسٹوری کوپڑھ کرمجھے ایک اوراسٹوری یاد آگئی۔ یہ اسٹوری میں نے How to make wealth   نامی ایک کتاب میں پڑھی تھی۔  یہ اسٹوری چرچ کے ایک ملازم کے بارے میں تھی۔ ایک شخص چرچ میں نوکری کرتا تھا۔ لیکن ایک بارایسا ہوا کہ وہاں کا پادری بدل گیا۔ اس نے ایک نیا قانون لایا ۔ اس نے کہا کہ تین مہینے کا وقت دیا جا تا ہے چرچ کے وہ ملازمین جو انگریزی نہیں جانتے وہ انگریزی سیکھ لیں، جو لوگ انگریزی نہیں سیکھ پائیں گے انھیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔
تین مہینے بعد پادری نے تمام ملازمین کو بلا یا اوران سے انگریزی کے بارے میں پوچھ تاچھ شروع کی۔ پیسٹرنے کہا کہ میں اب تک انگریزی نہیں سیکھ سکا ہوں۔ پادری نے جواب دیا تو پھرآج سے آپ کوئی اورنوکری ڈھونڈھ لیں۔ پیسٹرپریشان ہوا۔ وہ چرچ سے اداس ہوکرنکل گیا۔ لیکن اس کی عادت تھی کہ جب وہ بہت مشکل میں ہوتا تھا توسگریٹ پیتا تھا۔ آج بھی اسے سگریٹ کی طلب ہوئی۔ اور یہ طلب بہت شدید تھی۔ لیکن بہت دورتک پیدل چلنے کے با وجود اسے سگریٹ کی کوئی دکان نہیں ملی۔ یہیں اس کے ذہن میں ایک آئڈیا آیا ۔ اس نے سوچا کہ اس کی طرح کتنے لوگ ہوں گے جن کی جیب میں پیسہ ہوگا، اوروہ سگریٹ پینا چاہتے ہوں گے لیکن کوئی سگریٹ بیچنے والا نہیں ہوگا۔ چنانچہ پیسٹر نےفیصلہ کیا کہ وہ چرچ کے قریب ہی ایک سگریٹ کی دکان کھولے گا۔ اوراس نے دوسرے ہی دن چرچ کے قریب سگریٹ کا ایک اسٹال لگا لیا۔ یہ اسٹال کامیاب ثابت ہوا، پھراس نے کئی اوراسٹالس لگوائے ، اس طرح اس نے پورے امریکہ میں سگریٹ کا بزنس پھیلا دیا اور خوب پیسہ کمایا۔
کہا جا تا ہے کہ ایک مرتبہ بینک کا ایک مینیجراس سے ملنے آیا۔ اس نے پوچھا کہ سر! آپ جانتے ہیں کہ ہمارے بینک میں آپ کے کتنے پیسے ہیں؟ پیسٹر نے جواب دیا میں نہیں جانتا، البتہ ہمارا منشی جانتا ہوگا۔ اس نے پوچھا کہ آپ کیوں نہیں جانتے؟ پیسٹرنے جواب دیا "میں پڑھا لکھا نہیں ہوں" ! مینیجر نے حیرانی سے پوچھا۔ سر، ذرا سوچئے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو کیا ہوتے؟ پیسٹر نے قدرے اطمینان سے کہا" چرج کا ایک نوکر۔"
اصل بات یہ ہے کہ یہ دنیا امکانات کی دنیا ہے۔ اورکسی امکان کو واقعہ وہی لوگ بنا سکتے ہیں جواپنےاندر تخلیقی ذہن رکھتے ہوں۔ جو بہت سوچتے ہوں اورکریٹیو مائنڈ کے ساتھ سوچتے ہوں، جو ڈرینڈ سیٹر ہوں نہ کہ ٹرینڈ فولور۔ اس دنیا میں کامیابی کا صرف اور صرف ایک ہی راز ہے اور وہ ہے؛ محنت، محنت اور تخلیقی ذہن کے ساتھ محنت۔
کسی دانشورکا  قول ہے: " اگر آپ کے پاس تخلقی ذہن ہے توکوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔"

  When you have a creative mind it doesn't stop going))