جمعہ، 9 نومبر، 2012

The fire flare up before it extinguishes

ہر آگ بجھنے سے پہلے بھبھکتی ہے

محمد آصف ریاض
سیریا میں مارچ 2011 سےاسد حکومت کے خلاف بغاوت جاری ہے۔ اس بغاوت میں اب تک تقریباً 40,000  لوگ مارے جا چکے ہیں اور پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ ملک چھوڑ کر ترکی، اردن اور دوسرے پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پرمجبور ہیں۔ حلب سمیت ملک کے مختلف علاقوں پرجمہوریت پسند باغیوں کا قبضہ ہوچکا ہے۔ اسد حکومت دمشق کے اطراف تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے رسیا ٹوڈے ٹیوی نیٹورک کوایک انٹر ویو دیتے ہوئے یہ دھمکی دی ہے:
" مجھے نہیں لگتا کہ مغربی ممالک سیریا میں مداخلت کریں گے، اگر انھوں نے ایسا کیا تو کوئی نہیں جانتا کہ پھر کیا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھ پرحملہ ہوا تو دنیا کو اتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی کہ دنیا اس کا تحمل نہیں کر سکتی۔"
"I do not think the West is going to intervene,but if they do so, nobody can tell what is next. I think the price of this invasion if it happened is going to be more than the whole world can afford"
Press TV 9, 2012

اسد کی یہ دھمکی در اصل سعودی عرب، ترکی اور قطر سمیت ان ممالک کے لئے ہے جو سیریا میں جمہوری حکومت کے خواہاں ہیں۔
ایک دانشور نےاسد کی مذکورہ دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
ہر آگ بجھنے سے پہلے بھبھکتی ہے۔ اور وہ صرف اس لئے بھبھکتی ہے تاکہ اس کا بجھنا یقینی ہوجائے۔ اس معاملہ میں اسد کا کوئی استثنا نہیں ہے۔ وہ بھی بجھنے کے لئے بھبھبک رہے ہیں۔

جمعرات، 8 نومبر، 2012

Every stone will be thrown down


بر تر زندگی کا کمتر استعمال

محمد آصف ریاض
فتح اللہ گولن ترکی کے ایک عظیم مصلح اور اسلامی اسکالر ہیں۔ دعوہ اسلامی اور انسانی  بہبود کے میدان میں انھوں نے ہمالیائی کارنامہ انجام دیا ہے۔ گولن تحریک کے تحت وہ دنیا بھر میں تقریباً آٹھ سو تعلیمی ادارے چلاتے ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اسلام، امن، اور اسپریچولیٹی پر ان کے سینکڑوں مضامین قومی اور بین القوامی زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ وہ ترکی میں نئی نسل کے لئے اسلامی ہیرو کی حیثیت رکھتے ہیں۔
فتح اللہ کی انگریزی تصنیف پرلس آف وزڈم  { Pearls of wisdom } میرے ہاتھوں میں ہے۔  یہ ایک قابل قدر کتاب ہے۔ یہ اس لائق ہے کہ ہر شخص اسے پڑھے۔ اس کتاب میں گولن کے حکیمانہ اور فلسفیانہ کلمات بھرے پڑے ہیں۔ اس کتاب میں زندگی کے تمام پہلوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ گولن نے اپنی اس کتاب میں پوری زندگی کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔
تاہم اس میں چند باتیں وہ بھی ہیں جن سے میں اتفاق نہیں کرتا۔ مثلاً گولن نے ایک جگہ لکھا ہے:
" عظیم ممالک میں درویش کی کٹیا اور یہاں تک کہ قبورپر آویزاں کتبے بھی اس طرح سجے سجائے ہوتے ہیں کہ کوئی دیکھ کر ان کا گرو ویدہ ہو جائے۔عظیم الشان قوم کے شاندار عبادت خانے اور قبور بھی ان کی عظمت اور ان کے لطیف احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔"
“In great and magnificent nations dervish lodges and even gravestone are ornamented. One can read a nation’s concepts of beauty and art on its places of worship and its tombstone.”
Pearls of wisdom— page 190
By Fethullah Gulen
میں ان خیالات کو صحیح نہیں سمجھتا۔ عالیشان کھنڈرات اورعالیشان قبور اس لئے نہیں ہوتے کہ آپ ان سے اپنے لئے کبریائی اور عظمت کی غذا حاصل کریں۔  عالیشان قبوراور کھنڈرات صرف اس بات کی علامت  ہیں کہ قوم نے اپنی عظیم الشان زندگی پتھر پر پتھر جمع کرنے میں ضا ئع کردی۔
قبور اس لئے نہیں ہوتے کہ آپ انھیں سجائیں اور لوگ اس سے آپ کے لطیف احساسات و جذبات کی خبر پائیں۔ قبور تو اس لئے ہوتے ہیں کہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں۔ وہ یہ جانیں کہ کل جو شخص زمین پر انہی کی طرح سر گرم عمل تھا آج کیسا بے بس ہوگیا ہے۔
آدمی عظیم الشان محل کو جانتا ہے، لیکن وہ اپنی عظیم الشان زندگی کو نہیں جانتا۔ اگر وہ اپنی عظیم الشان زندگی کو جانتا تو اسے پتھر پر پتھر جمع کرنے میں ضائع نہ کرتا۔ بائبل میں انسان کی اس نفسیات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
  "اورجب وہ ہیکل سے نکلا تو اس کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا استاذ دیکھ کیسے کیسے پتھر ہیں اور کیسی  کیسی عمارتیں۔ مسیح نے جواب دیا، تو ان عمارتوں کو دیکھتا ہےسن کوئی پتھرپر پتھر باقی نہ رہے گا جو گرا یا نہ جائے گا۔" (Mark 13)

بدھ، 7 نومبر، 2012

Arise to help me; look on my plight!


دعا کیا ہے
محمد آصف ریاض
کل شب کو میں خوشونت سنگھ کی کتاب دی انڈ آف انڈیا  (The end of India)پڑھ رہا تھا۔ میں اس کے لاسٹ چیپٹرمیں تھا۔ میری بیٹی مدیحہ جو ابھی صرف دوسال کی ہے وہ میرے پاس بیٹھی تھی۔ وہ پہلے مجھ سے "ابو" کہہ کر گویا ہوئی لیکن چونکہ میں پڑھنے میں مصروف تھا،اسے نظر اندازکیا۔ اس نے دوبارہ مجھے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور پھر" ابو، ابو" کہہ کر مخاطب ہوئی اس بار بھی میں نے اسے نظر اندازکیا۔
اب اس نے اپنا لہجہ بدل دیا۔ اب وہ "باپ" کہہ کر گویا ہوئی لیکن اس بار بھی میں نے اسے نظر انداز کیا۔ اب اس نے ایک اور انداز اختیار کیا اور اس بار وہ اس طرح مجھ سے مخاطب ہوئی۔ " آصف ریاض، آصف ریاض"---
اس باراس نے مجھے میرے نام سے پکاراتھا۔ اس بارمیں اسے نظر انداز نہیں کر سکا۔ میں ہنس پڑا اوراسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔
دعا کیا ہے؟
دعا کسی لگے بندھے الفاظ کی ادائیگی کانام نہیں ہے۔ خدا سے والہانہ احساسات و جذبات کے اظہار کا نام ہے دعا۔  دعا یہ ہے کہ آدمی اپنے رب کو ایک نام سے پکارے اور جب اس کی مراد پوری نہ ہوتو وہ اپنے رب کو ایک اور انداز میں پکارے اور جب اس سے بھی اس کی مراد پوری نہ ہو تو اپنے رب کو ایک اورانداز میں پکارے۔
حضرت آدم کی دعا کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:
"آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیں اور اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔" }البقرہ {38
وہ دعا کیا تھی؟ قرآن میں یہ دعا اس طرح وارد ہوئی ہے: ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب، ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم یقیناً نقصان والے ہوجائیں گے۔"
ابن کثیر نے حضرت آدم کی دعا سے متعلق کئی روایات نقل کی ہیں۔ ان میں ایک روایت اس طرح ہے۔
ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت آدم نے فرمایا کہ خدا یا، کیا تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہ کیا؟ اور مجھ میں اپنی روح نہ پھوکی؟ میرے چھینکنے پر یر حمک اللہ نہ کہا؟ کیا تیری رحمت غضب پر سبقت نہ لے گئی؟ کیا میری پیدائش سے قبل یہ خطا میری تقدیر میں نہ لکھی تھی؟
جواب ملا ہاں۔ یہ سب میں نے کیا ہے، تو فرمایا خدا یا، میری توبہ قبول کر کے مجھے پھر جنت مل سکتی ہے؟ جواب ملا ہاں۔ یہی وہ کلمات یعنی چند باتیں تھیں جو آپ نے خدا سے سیکھ لیں۔
} تفسیر ابن کثیرصفحہ {103  
دعا اپنے رب کے آگے آہ و زاری کا نام ہے۔ دعا اپنے رب کو اس انداز میں پکارنے کا نام ہے کہ وہ اپنے بندے کو نظر انداز نہ کر سکے۔ دعاخدا کو اس کی پوری خدائی کے ساتھ پکارنے کا نام ہے۔ دعا خدا کی رحمت کو پرووک (Provoke) کرنے کا نام ہے۔
مجھے اپنا ایک تجربہ یاد آتا ہے؟ اس وقت میں بنارس میں رہتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔ میں ظہر کی نمازپڑھ کرفا رغ ہوا تو خدا سے اس طرح گویا ہوا۔
خدایا، تیرا بندہ آج بھوکا رہے گا کیونکہ تو نے آج اس کے لئے کھانے کا کوئی انتظام نہیں کیا۔
نمازکے بعد میں مسجد سے نکل رہا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص پیچھے دوڑا ہوا آتاہے۔ وہ اپنے بیٹے کی فیس جمع کرنے آرہا تھا۔ میں اس کے بیٹے کو پڑھا تا تھا لیکن کئی ماہ سےاس نے ٹیوشن فیس جمع نہیں کیا تھا۔ نماز کے بعد اس نے مجھے ٹیوشن فیس دیا۔
یہ ہے دعا۔ دعا یہ ہے کہ آدمی اپنے رب کو اس والہانہ انداز میں پکارے کہ اس کا رب اسے اگنور نہ کر سکے۔ خدا کے آگے مکمل خود سپردگی کانام ہےدعا۔ اسی لئے حدیث میں دعا کو مخ العبادہ کہا گیا ہے۔
بائبل میں حضرت دائود کی دعا اس طرح نقل ہوئی ہے۔
خدا یا مجھے میرے دشمن سے نجات د ے، ان لوگوں سے میری حفاظت فرما جو میرے خلاف کھڑے ہیں۔ مجھے بدکاروں سے نجات دے،اور خون کے پیاسوں سے میری حفاظت فرما۔ دیکھ میرے معاملہ میں وہ کس طرح جھوٹ گڑھتے ہیں۔ یہ متشدد لوگ میرے خلاف سازش رچتے ہیں،حالانکہ خدا یا، میں نے ان کا کچھ بگاڑا نہیں اور نہ ہی کوئی گناہ کیا۔ میں نے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا یا پھر بھی وہ مجھے مارنے کے لئے تیار ہیں۔ خدایا،آپ میری مدد کو اٹھئے، مصیبت میں میری دستگیری کیجئے۔  
Deliver me from my enemies, O God;
protect me from those who rise up against me.
2Deliver me from evildoers
and save me from bloodthirsty men.
3See how they lie in wait for me!
Fierce men conspire against me
for no offense or sin of mine, O Lord.
4I have done no wrong, yet they are ready to attack me.
Arise to help me; look on my plight!
Psalm 59
New International Version 1984         

منگل، 6 نومبر، 2012

The hereafter


آخرت کی دنیا

محمد آصف ریاض
سقراط نے جب دیوتاﺅں پر ایمان لانے سے انکار کردیا تو اسے زہردے کر مار دیا گیا۔ اسی طرح جب گلیلیو نے
 (Geocentric View) کی جگہ   (heliocentric) نظریہ پیش کیا تو اسے نظر بند کردیا گیا یہاں تک کہ 1642میں وہ اسی حالت میں مرگیا ۔
 گلیلیو نے دنیا کو پہلی بار بتا یا کہ زمین جامد نہیں ہے بلکہ یہ سورج کے گرد چکر کاٹتی ہے۔ گلیلیو کے اس نظریہ پر مذہبی طبقہ بھڑک اٹھا۔ کلیساﺅں اور یہود کے معبد خانوں میں زلزلہ برپا ہو گیا کیونکہ (Psalms)زبور داو میں لکھا ہوا تھا کہ زمین جامد ہے۔ اس نے زمین کی بنیاد ڈالی اور اب یہ کبھی بھی حرکت نہیں کر سکتی
 He set the earth on its foundations; it can never be moved.
Psalm 104:5
New International Version (NIV)
گلیلیو دنیا کو ایک گریٹر دنیا کی خبر دے رہے تھا لیکن دنیا نے اس کی بات ماننے سے انکار کردیا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لوگوں نے گلیلیو کو ہلاک کردیا لیکن کیا اس کی ہلاکت سے وہ سچائی بھی ہلاک ہوگئی جس کی وہ تبلیغ کر رہا تھا؟
بڑے بڑے سائنسدانوں کو دنیا نے صرف اس لئے مار دیا کیوں کہ وہ دنیا کو ایک ایسی خبر دے رہے تھے جس سے دنیا نا آشنا تھی۔ عربی کا ایک قول ہے الناس اعدا ماجہلو” لوگ ہر اس چیز کے دشمن بن جاتے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔
لوگوں کا حال یہ تھا کہ لوگ کسی بھی نئی خبر پر بھڑک جاتے تھے۔ سائنسداں حضرات چونکہ اپنے وقت سے اوپر اٹھ کر سوچتے تھے اس لئے لوگ یا تو انھیں مار دیتے تھے یا ان کی بات ماننے سے انکار کر دیتے تھے۔
سائنس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ توہمات  کی دنیا تھی۔  لوگ تہمات میں پڑ کر زمین ،آسمان، سورج اور چاند کی پوجا کرتے تھے۔ اسلام نے آکر اسے ختم کیا اور سائنس کا وہ دروازہ جوتوہمات کی وجہ سے صدیوں سے بند پڑا تھا اسلام نے اسے سبھوں کے لئے چوپٹ کھول دیا۔
 تہمات کی وجہ سے ریسرچ کا سا را کام ٹھپ پڑگیا تھا کیونکہ جو چیز آبجکٹ آف ورشپ بنی ہوئی تھی وہی چیز آبجکٹ آف انوسٹیگیش نہیں بن سکتی تھی۔
 جب کوئی چیز دیوتا ہوجائے تو پھر لوگ اس پر تجربہ کس طرح کر سکتے تھے؟ مثلاً اگر گائے پر تجربہ کرنا ہو تو آپ اس پر تجربہ نہیں کر سکتے کیونکہ ہندو سماج میں گائے پوجنی ہے۔
اسلام نے آکر ان توہمات کو توڑا لوگ چاند ،سورج زمین اور آسمان کی پوجا کرتے تھے اسلام نے ان کی عظمت کو توڑ دیا اور بتا یا کہ تمہارا خدا ایک ہے اور باقی تمام چیزیں تمہارے لئے بنائی گئی ہیں تا کہ تم انہیں کام میں لاﺅ اور خدا کا شکر ادا کرتے رہو۔ اب یہ ہوا کہ لوگ چاند پر پاﺅ رکھنے لگے زمین کو انوسٹیگیٹ کر نے لگے دریاﺅں میں دوڑنے لگے۔ اسلام نے سائنٹفک ریسرچ کا دروازہ پوری طرح کھول دیا۔ رفتہ رفتہ دنیا ترقی کرتی گئی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ آدمی چاند پر جا رہا ہے، ہواﺅں میں اڑ رہا ہے، اور پانی پر سواری کر رہا ہے۔
اسلام نے دنیا کو یہیں پرلاکر روک نہیں دیا بلکہ دنیا کو ایک اور دنیا کی بشارت دی۔ اسلام نے بتا یا کہ اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہے جس کی خوبصورتی ہماری اس دنیا سے بلین ٹائمز زیادہ ہے۔ جہاں کا پانی ہماری دنیا کے پانی سے بلین ٹائمز زیادہ شفاف ہے۔ جہاں کی ہوائیں آلودہ نہیں ہیں۔ جہاں کسی کو غم نہیں ہوگا جہاں انسان ہمیشہ رہے گا۔ جہاں کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ اس دنیا کا نام آخرت ہے۔
آخرت کی دنیا
اسلام لگاتار ایک نئی دنیا کی بشارت سنا رہا ہے تاکہ اہل علم آگے آئیں اور اس نئی دنیا کی تیاری میں لگ جائیں۔ لیکن لوگ اسلام کی اس آواز پر کان بند کئے ہوئے ہیں۔ لوگ اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لوگ اس طرح کی خوشخبری سنانے والوں کو پاگل دیوانہ کہہ رہے ہیں۔ لوگ اس آواز پر اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں۔ لیکن کیا ان کے اندھے اور بہرے بن جانے سے وہ دنیا برپا نہ ہوگی؟
کیا گلیلیو کو ماردینے سے اس کی سچائی کو بھی ماردیا گیا ؟ کیا لوگوں کے انکار کرنے سے زمین نے گردش کرنا چھوڑ دیا؟ نہیں ہر گز نہیں

پیر، 5 نومبر، 2012

You have only mother


میری ایک ماں ہے !

محمد آصف ریاض
اگر کسی بچے کو یہ بتا یا جائے کہ اس کی کئی مائیں ہیں۔ کوئی ایک عورت اس کی ماں نہیں ہے، تو اس کا  رد عمل کیا ہوگا؟
بلا شبہ وہ بچہ ان تمام ماﺅں سے بے تعلقی کا اظہار کرے گا۔ اس کے اندر کسی ایک کے لئے بھی پیار کا وہ دریا ابال نہیں کھائے گا جو کسی ایک ماں کے لئے کسی انسان کے دل میں فطری طور پر موجزن ہوتا ہے۔ وہ کئی ماﺅں کی موجودگی میں کسی سنٹرل پوائنٹ تک نہیں پہنچ پائے گا۔ وہ ایک ماں کے غائبانے میں اس چیز کو کھو دے گا جسے مرکزیت "سنٹرل پوائنٹ" کہا جا تا ہے۔
ماں کیا ہے؟
ماں کسی آدمی کی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ماں کسی انسان کے لئے سنٹرل پوائنٹ کا درجہ رکھتی ہے۔ ماں کو کھو دینے کا سادہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی مرکزیت کو کھودیا۔
 ہر مرد اورعورت کو اللہ نے ایک ماں دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے ایک سنٹرل پوائنٹ دیا ہے۔ اسی مرکزی محور کے درمیان انسان کی زندگی ناچتی ہے۔ انسان اپنے دکھ تکلیف میں اسی کی طرف پلٹتا ہے۔ اپنے بھائیوں اور اہل خاندان کے درمیان تنازعات کے دوران وہ اسی مر کز کی طرف لوٹتا ہے۔ انل امبانی اور مکیش امبانی کے درمیان تنازعات کا خاتمہ ان کی ماں کوکیلا بن امبانی نے کرا یا تھا۔ کسی انسان کو اپنی ماں کے پاس وہ سب کچھ ملتا ہے جو اسے کسی دوسری جگہ نہیں مل سکتا۔ ماں کے ساتھ انسان کا رشتہ اتنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے اپنی جان کی بازی بھی لگا سکتا ہے۔ اور یہی صورت کسی بچے کے لئے کسی ماں کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن اگر کسی انسان کو یہ بتا یا جائے کہ اس کی کئی مائیں ہیں تو وہ اس جذبہ کو کھو دے گا جو وہ اپنی حقیقی ماں کے لئے  وہ اپنے اندر فطری طور پر پاتا ہے۔
ایک خدا اور کئی خدا
جو نفسیاتی فرق ایک ماں والے اور کئی مائوں والے بچوں کے درمیان ہوتا ہے، وہی فرق ایک خدا اور بہت سارے خداﺅں کے ماننے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔ کئی خداﺅں کو ماننے والوں کے دل میں کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی خدا کے لئے اپنی اندر پیار اور احترام کا جذبہ نہیں پاتا۔ وہ ان سے بے تعلق بنا رہتا ہے۔ وہ کئی خداﺅں میں کسی کو بھی خاطر میں نہیں لا تا۔ کئی خدا ﺅں کو ماننے کے بعد انسان اس چیز کو کھو دیتا ہے جسے سنٹرل پوائنٹ  کہا جا تا ہے، جس کے گرد انسان کی زندگی چکر کاٹتی ہے اور جسے انسان اپنا سب کچھ سمجھتا ہے۔
جس طرح کوئی بچہ کئی ماﺅں کو قبول نہیں کرتا اور وہ ان سے بے تعلق ہوجاتا ہے، اسی طرح انسان کئی خداﺅں کو قبول نہیں کرتا۔ وہ ان کے لئے اپنے دل میں کوئی فیلنگ نہیں رکھتا۔
ہر مرد اور عورت کو خدا نے ایک ماں دیا ہے اور ہر شخص اپنی اس ماں کو پہچانتا ہے۔ اسی طرح ہر مرد اور عورت کو ایک خدا نے پیدا کیا ہے، اسے ہر حال میں اپنے اس خدا کو پہچاننا ہے۔
آدمی پر فرض ہے کہ جب اسے عقل ہو تو وہ سماج سے کٹ کر اپنے ایک خدا کی تلاش میں نکل جائے۔ وہ حقیقی خدا کی تلاش میں کوئی عذر قبول نہ کرے۔ وہ یہ جانے کہ جس طرح کسی شخص  کی کئی مائیں نہیں ہو سکتیں اسی طرح کسی انسان کے لئے کئی خدا نہیں ہو سکتے۔

اتوار، 4 نومبر، 2012

A shift in priorities

ترجیحات کا بدلنا

محمد آصف ریاض
اکتوبر 2012 کو میں دہلی کے اوکھلا واقع جماعت اسلامی ہند کے دفتر گیا ہواتھا۔ جماعت اسلا می ہند نے اپنے دفاتر کے لئے محل نماں، نہایت عالی شان عمارت تعمیر کی ہے۔ لوگ اس عمارت کو وھا ئٹ ہائوس کہتے ہیں۔ اس عمارت کو دیکھ کر مجھے بائبل کے یہ الفاظ یاد آگئے۔
"اورجب وہ ہیکل سے نکلا تو اس کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا استاذ دیکھ کیسے کیسے پتھر ہیں اور کیسی  کیسی عمارتیں۔ مسیح نے جواب دیا، تو ان عمارتوں کو دیکھتا ہےسن کوئی پتھرپر پتھر باقی نہ رہے گا جو گرا یا نہ جائے گا۔"
As he was leaving the temple, one of his disciples said to him, “Look, Teacher! What massive stones! What magnificent buildings!”
 “Do you see all these great buildings?” replied Jesus. “Not one stone here will be left on another; everyone will be thrown down.”
Mark 13
بائبل کے ان الفاظ کے ساتھ ہی مجھے قرآن کی وہ آیات یاد آگئیں جس میں قوم عاد اور ثمود کی تباہی کا ذکر ہے، جو زمین پر اور پہاڑوں پر بڑے بڑے محل تعمیر کیا کرتی تھیں۔
"اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں بھی عطا کیں، تاہم وہ ان سے رو گردانی ہی کرتے رہے۔ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے بے خوف ہوکر۔ آخر انھیں بھی صبح ہوتے ہوتے چنگھاڑ نےدبوچ لیا۔ "  {15: 81-83}
زمین پر محل نماں عمارتوں کی تعمیر کوئی سادہ واقعہ نہیں ہوتا۔
 اس کا مطلب ہوتا ہے {A shift in priorities} یعنی ترجیحات کا بدل جانا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قوم نے تقوی کے محل کی تعمیر سے اپنا فوکس ہٹا لیا ہے۔ اب اس کا فوکس اینٹ اور پتھر کا محل ہوگیا ہے۔ اس نے جنت کو بھلا دیا ہے۔ کیونکہ ہر چیز کی ایک قیمت ہے اور خدا کی جنت کی قیمت یہ دنیا ہے۔
جنتی انسان جنت کے اندر پیدا نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ اسی دنیا میں پیدا کیا جائے گا۔ ہر انسان جو اس زمین پر بسا یا گیا ہے اسے اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دینا ہے کہ وہ جنت میں بسائے جانے کا استحقاق رکھتا ہے۔ ہر شخص کو یہاں ٹسٹ سے گزرنا ہے۔ اس ٹسٹ میں کامیاب ہونے والوں کو خدا ابدی جنت میں بسائے گا۔ اور جو ناکام رہا، جس نے اپنی زندگی اینٹ اور پتھر جمع کر نے میں صرف کر دی خدا اسے جہنم میں ڈال دے گا جہاں وہ ابد تک کے لئے روتا اور دانت پیستا رہے گا۔
زمین پر اینٹ اور پتھر کے محل کی تعمیر کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کو خدا نے جو زندگی کا نقشہ دیا تھا انسان نے اسے رد کر کے اس کے مقابلہ میں اپنا ایک الگ نقشہ تیار کیا۔ اس نے خدائی گائڈ لائن کو چھوڑ کر خود اپنا گائڈ لائن تیار کیا۔
اس کا مطلب ہے خدا سے بغاوت کرنا اور کوئی قوم خدا سے بغاوت کر کے خدا کی زمین پر نہیں بس سکتی۔ چنانچہ عاد کو مٹا دیا گیا، ثمود  اور اہل مدین کو مٹا دیا گیا۔ اور انھیں ایسا مٹا یا گیا جیسے وہ کبھی بسے ہی نہ تھے۔
"اور ان کے بڑوں نے جنھوں نے اس کی قوم میں سے انکار کیا تھا، کہا کہ شعیب کی پیروی کرو گے تو برباد ہوجائوگے۔ پھر ان کو زلزلہ نے پکڑ لیا، پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے منھ پڑے رہ گئے، جنھوں نے شعیب کو جھٹلا یا تھا گویا وہ کبھی اس بستی میں بسے ہی نہیں تھے۔ جنھوں نے شعیب کو جھٹلا یا وہی گھاٹے میں رہے۔  اس وقت شعیب ان سے منھ موڑ کر چلا اور کہا، "اے میری قوم میں تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا چکا اور تمہاری خیر خواہی کر چکا۔ اب میں کیا افسوس کروں منکروں پر۔" {7:88-93}

جمعہ، 2 نومبر، 2012

A reference to God


کائنات : ایک خدائی ریفرنس
محمد آصف ریاض
 نیوٹن کو تلاش تھی پاور آف گریوی ٹیشن کی لیکن پا ور آف گریوی ٹیشن کسی کو نظر نہیں آسکتا تھا چنانچہ اسے کوئی پوائنٹ آف ریفرنس درکار تھا جو بتائے کہ گریوی ٹیشن ہے۔ چنانچہ وہ اس معاملہ پر بہت زیادہ سوچ رہا تھا تبھی ایسا ہوا کہ اس کے آگے ایک سیب گرگیا۔ اب اسے لگا کہ اس کے سوال کا جواب مل گیا۔ یعنی زمین میں پاور آف گریوی ٹیشن ہے،جس نے سیب کو اپنی طرف کھینچ لیا ۔اسی طرح اس نے ٹیلی اسکوپ سے اجرام سماوی کا مشاہدہ کیا تو پا یا کہ مون کے گرد سٹا لائٹ چکر کاٹ رہے ہیں۔ اور خود مون ارتھ کا چکر کاٹ رہا ۔ اسی طرح اس نے دیکھا کہ زمین سورج کے گرد ناچ رہی ہے اور سورج گلیکسی کے گرد چکر کاٹ رہا۔ یہ سب دیکھ کر اسے یقین آگیا کہ یونیورس میں پاور آف گریوی ٹیشن ہے۔ گریوی ٹیشن بذات خود کیا چیز ہے،اسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا البتہ اس کے  {  {Cause and effectکو دیکھ کریہ مان لیا گیا ہے کہ گریوی ٹیشن ہے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیں اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب’ وقت کی مختصر تاریخ {A brief history of time}
قوت کشش کیا ہے؟ اسے آج تک کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ قوت کشش کی صورت کیا ہوتی ہے ۔اس کی ماہیت کیا ہوتی ہے؟
 انسان قوت کشش کو نہیں دیکھ سکتا تھا تو خدا نے قوت کشش تک پہنچنے کے لئے انسان کو ایک پوائنٹ آف ریفرنس دیا۔ یعنی زمین کو سورج کے گرد نچایا اور چاند کو زمین کے گرد گردش کرایا۔
اسی طرح انسان خدا کو اپنی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا تھا تو کوئی تو چیز ہوتی جو انسان کو خدا تک پہنچا نے کے لئے پوائنٹ آف ریفرنس کا کام کرتی۔ چنانچہ خدا نے یونیورس کی تخلیق کی ۔ اس نے انسانوں کو رہنے کے لئے زمین بنایا۔ درخت اگائے۔ نہریں جاری کیں۔ انسان کے کھانے کا انتظام کیا۔ جنگلات اگائے۔ حیوانات کی تخلیق کی۔ پرندوں کو آسمان پر اڑا یا۔
زمین پھاڑ کر پودے کا نکلنا بتا تا ہے کہ خدا ہے۔ آسمان پر پرندو ں کا پرپھیلائے اڑنا بتا تا ہے کہ خدا ہے۔ دن میں رات کا داخل ہونا اور رات میں دن کا داخل ہونا بتا تا ہے کہ خدا ہے۔ زمین پر پودے کا اگ آنا اور پھر پتوں پر کلوروفل کاچڑھنا اور پھر اس کا سبز ہونا اور پھرزرد ہوکر زمین پر گرجا نا بتا تا ہے کہ خدا ہے۔ خود انسان کی اپنی تخلیق بتا رہی ہے کہ خدا ہے۔
پانی کے قطرہ سے انسان کا وجود میں آنا بتا تا ہے کہ خدا ہے۔ ماں کے پیٹ میں تین تاریکیوں کے اندر پانی کا خون بننااور پھر اس کا لوتھڑا بن جا نا اور پھر اس لوتھڑے کا گوشت بننا اور پھر اس کا کان آنکھ ناک دل اور دماغ میں تبدیل ہوجا نا بتا تا ہے کہ خدا ہے۔ گائے کا دودھ دینا بتا تا ہے کہ خدا ہے۔ بغیر ستون کے آسمان کا کھڑا ہونا بتا تا ہے کہ خدا ہے۔
خدا نےجانا کہ انسان کو جو آنکھ وہ دے رہاہے انسان اس آنکھ سے خدا کو نہیں دیکھ سکتا۔ چنانچہ اس نے ضروری سمجھا کہ وہ اپنے بندے کو کوئی پوائنٹ آف ریفرنس دے۔ تاکہ وہ عقل کی سطح پر یہ جان سکے کہ خدا ہے۔ تو خدا نے انسان کو عقل دی اور اس کے سامنے وسیع و عریض کائنات کو پھیلا دیا۔ تاکہ انسان خدا تک پہنچنے کے لئے اسے پوائنٹ آف ریفرنس بنائے۔
 انسان کو اس کائنات میں الجھ کر نہیں رہنا ہے۔ اسے اسٹیفن ہاکنگ کی طرح کائنات کی مکمل توضیح کی تلاش میں نہیں بھٹکنا ہے۔ اسے خدا کی مکمل معرفت کی تلاش میں سرگرداں ہونا ہے۔
 اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی کتاب  A brief history of timeمیں لکھا ہے کہ (ہمارا نشانہ کائنات کی مکمل توضیح ہے۔ ہم اس سے کم پر راضی نہیں ہوسکتے)۔
(Our goal is nothing less than a complete description of the universe we live in.)
 میرے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ کائنات اس لئے نہیں بنائی گئی ہے کہ انسان اس کی مکمل تو ضیح کرتا پھرے۔ کائنات کی مکمل توضیح کسی بھی حال میں ممکن نہیں ہے۔ مثلا کائنات کی 90 فیصد چیزیں Dark matter کی شکل میں ہیں ان کی توضیح کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے۔ کائنات کا ڈارک میٹر میں ہونا بتا رہا ہے کہ خدا کا منشا یہ نہیں ہے کہ انسان "کائنات کی توضیح" کرتا پھرے۔ خدا کا منشا یہ ہے کہ انسان جو کچھ بھی دیکھے اس کے ذریعہ وہ اپنے خالق تک پہنچ جائے۔ یہ کائنات خالق کی معرفت کے لئے ایک پوائنٹ آف ریفرنس کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ اس کا استعمال بھی اسی مقصد کے لئے ہونا چاہئے۔
اس دنیا میں انسان کو اپنے خالق کی مکمل معرفت کے لئے کوشاں ہونا ہے ناکہ کائنات کی توضیح کے لئے۔