منگل، 18 ستمبر، 2012

What massive stones; what magnificent buildings!


Mohammad  Asif  Reyaz
It was September 2- 2012, after offering my morning prayer, I was gazing at the vast open sky. While gazing at the sky a strange thought cross my mind that in spite of being so great and vast it is not falling on anybody’s head. And if it somehow happens to fall the whole humanity will be wipe out.

Now I started thinking that a day is to come when everything on this earth will be destroyed. Even this strong and massive sky will be torn apart. As described in Quran:

“When the sky breaks apart .And when the stars fall scattering and when the seas are erupted. And when the graves are scattered and soul will then know what it has kept forth and kept back”.
 (82-1-3)

The day is to come when God will bring this existing world to an end and will take His creature to another world that is Akhrah. Here the mankind will either live in absolute ecstasy or in abject agony and pain. As described in Bible:

"Then the king told the attendants, 'Tie him hand and foot, and throw him outside, into the darkness, where there will be weeping and gnashing of teeth”.
Matthew 22-13

Imagine a desert where you are all alone and there is nothing but sand and only sand all around you, how will you react? Certainly you will come across such an agony and pain that you will prefer death over life.
One day God will destroy the sky. He will remove the mountain on the earth. He will destroy everything, the earth, the sea, the Sun, the stars the Moon everything around you and me. On that day the earth will be made as plain as deserts. That day man will see the death in his eyes. On that day according to Quran some people will say I wish that I were dust.
 (78- 40)

In Quran it has been described;
“And they ask you about the mountains so say; my lord will blow them away with blast. And He will leave the earth a level plain. You will not see therein a depression or an elevation. That day everyone will follow the call of the caller with no deviation there from and all voices will be stilled before the most Merciful. So, you will not hear except whisperer of footsteps”. (20-105-8) 

 God created the sky and if He would not have created it, no body was there to bring it to its existence.  And again it is He who will destroy it. Nobody is there so power full to destroy the same.
Man is so deeply engrossed in this earthly world that he has forgotten his creator. Although this world is no longer to stay here. It is destined to come to an end. It is stated in Bible;

“As he was (Jesus) leaving the temple, one of his disciples said to him, "Look, Teacher! What massive stones! What magnificent buildings!"
And Jesus said unto them, See ye not all these things? Verily I say unto you, there shall not be left here one stone upon another that shall not be thrown down.
King James Bible (Cambridge Ed.)

ہفتہ، 15 ستمبر، 2012

God oriented man, wealth oriented man

دنیا دار لوگ اوردیندار لوگ

محمد آصف ریاض
اکثر یہ بات سامنے آتی رہتی ہے کہ مذہبی لوگ غربت و افلاس اور جہالت کے خاتمہ کے لئے کام نہیں کرتے۔ وہ معیشت کی ترقی کے لئے کام نہیں کرتے وہ صرف روحانیت پر توجہ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ باقی چیزیں خود بہ خود ہوجائیں گی۔
اسلامی معیشت کے چند ماہرین کا بھی یہی خیال ہے۔ مثلاً محمد نجات اللہ صدیقی نے اپنی کتاب
 Indian Muslims in the 21st Century
میں لکھا ہے:
The time and again I have found that the religiously oriented do not accept the priority of poverty eradication, removal of illiteracy or of any economic programme as they think that priority must attach to moral and spiritual matters.
اس معاملہ میں اصل بات ترجیحات کی ہے۔ اگرکوئی آدمی واقعی دین دار ہے تو اس کی سوچ آخرت اوری اینٹڈ ہوجائے گی ۔ وہ ہر چیز کا نقشہ آخرت کو سامنے رکھ کر بنائے گا۔ وہ گھاٹے اور فائدہ کا حساب اس بات سے لگا ئے گا کہ اس نے آخرت کے لئےکیا حاصل کیا۔ اس کی ساری انرجی آخرت پر صرف ہو گی ۔ اس کا دیکھنا، سوچنا، زمین پر چلنا پھرنا سب آخرت کے لئے ہوگا ۔ اس طرح کے لوگ فطری طور پر دنیا کی دوڑ میں پچھڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ آدمی ایک ہی وقت میں دین اور دنیا دونوں حاصل نہیں کرسکتا۔ بائبل میں ہے:
New American Standard Bible (©1995)
"No one can serve two masters; for either he will hate the one and love the other, or he will be devoted to one and despise the other. You cannot serve God and wealth.
قرآن میں بتا یا گیا ہے کہ اللہ نے کسی سینے میں دو دل نہیں رکھے ہیں(33-4)
دینداروں کے برعکس دنیا دار لوگ گھاٹے اور فائدہ کا حساب دنیا کی کامیابی سے لگاتے ہیں۔ ان کی ساری بھاگ دوڑ صرف دنیا کمانے کے لئے ہوتی ہے۔ اس طرح کے لوگ صرف ڈالر کمانا جانتے ہیں۔ یہ لوگ نہ دین کے ہوتے ہیں اور نہ دنیا کے۔ یہ لوگ صرف ڈالر کے ہوتے ہیں۔
ایسے لوگوں کا فوکس صرف پسہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو بھی اسی کام میں لگاتے ہیں۔ مثلاً وہ اپنے بچوں کو پڑھنے کے لئے اس فیلڈ میں ڈالیں گے جس میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے مواقع ہوں۔ اگر انھیں لگا کہ دین کے راستے سے بھی پیسہ کمایا جا سکتا ہے تو بلا شبہ وہ اپنے بچوں کو دین کے میدان میں بھی اتار دیں گے۔ البتہ اس ساری بھاگ دوڑ کا مقصد صرف ایک ہوگا ۔ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:
" جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوں ہم ایسے لوگوں کو اسی دنیا میں دے دیتے ہیں اور یہاں انھیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ہاں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں۔"(11-15-16)
غربت کا خاتمہ، جہالت کا خاتمہ، ویلفیئر سوسائٹی ، قومی فلاح، ملت کی ترقی، وغیرہ وہ  نام ہیں جو دنیا دار لوگ اپنی دنیا چماکانے کے لئے رکھ لیتے ہیں۔ یہ لوگ دوسروں کی غربت کے نام پر اپنی دنیا بناتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو دین کے خانے میں ڈالنا نادانی پر جہالت کا اضافہ ہے۔
 
 

جمعہ، 14 ستمبر، 2012

Man with power – Man with no power

کتنا طاقتور ہے انسان _کتنا کمزور ہے انسان

محمد آصف ریاض
انسان کتنا طاقتور ہے اس کا اندازہ مجھے کل(13sep-20012)  دہلی میٹرو پر سوار ہوتے ہوئے ہوا۔ میں یہ دیکھ کرحیران رہ گیا کہ انسان نے دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ کس طرح آگ کو بھی اپنے قابو میں کرلیاہے۔ مثلاً میٹرو بجلی سے چلتی ہے۔اور بجلی کیا ہے؟ آگ ہے آگ۔ لیکن انسان نے حیرت انگیز طور پر اس آگ پر قابو پا لیا ہے۔ ایک میٹرو کو دوڑانے کے لئے جو بجلی استعمال ہوتی ہے اتنی بجلی لاکھوں  لوگوں کو جلادینے کے لئے کافی ہے۔ لیکن انسان نے اس آگ کوایک پتلی سی تار(Wire) میں بند کردیا ہے۔ جس طرح کسی جن کو بوتل میں بند کیا جا تا ہے اسی طرح انسان نے گویا آگ کے پہاڑ کوایک پتلی سی وائرمیں بند کردیا ہے۔ اس تار سے ٹریںیں کرنٹ پاتی ہیں اور لاکھوں انسانوں کو لے کر ادھر سے ادھر بھاگتی پھرتی ہیں۔ یہ دیکھ کر مجھے انسان کی طاقت کا علم ہوا۔ انسان نے آگ پر قابو پا لیا ہے۔ وہ پہاڑوں پر قابو پا چکا ہے۔ وہ پرندوں سے زیادہ رفتار میں آسمان میں دوڑ رہا ہے۔ وہ زمین پر ہوا کی رفتار میں بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔ یہ سب دیکھ کر میں نے انسان کے پاور کو جانا۔
کتنا کتنا کمزور ہے انسان
اسٹیفن ہاکنگ (born 8 January 1942) موجودہ دور کے بہت بڑے برٹش سائنسداں ہیں۔ انھوں نے دنیا کو ایک نئی تھیوری سے واقف کرا یا ہے۔ اس تھیوری کا نام سنگل اسٹرنگ تھیوری ہے۔ انھوں نے بتا یا ہے کہ کا ئنات کی ہر چیز اس طرح ایکٹ کر رہی ہے جیسے ہر چیز واحد ڈور میں بندھی ہو۔ مسٹرہاکنگ کیمبرج یونیورسٹی میں 1979 سے 2009 کے درمیان لوکیسین پروفیسر رہے۔ ان کی کتاب A brief History of Time  پاپولر سائنس میں اب تک کی بہترین کتاب سمجھی جاتی ہےاور یہ بسٹ سیلر ہے۔ ہاکنگ نے قیاس آرائی کی ہے کہ بلیک ہول سے بھی ریڈی ایشن خارج ہوسکتا ہے۔ اس قیاس آرائی کوسائنسی دنیا میں اسٹیفن ریڈی ایشن کا نام دیا گیا ہے۔
 
ہاکنگ موٹر نیورون بیماری (motor neurone disease)میں مبتلا ہیں اور پوری طرح ا پاہج ہوچکے ہیں۔ وہ چل پھر نہیں سکتے۔ وہ وھیل چیئر پر بے بسی کا مجسمہ بن کر بیٹھے رہتے ہیں۔ وہ اپنی وھیل چیئر پربے بسی کے عالم میں بیٹھ کرگویا انسان  کو یہ بتاتے ہیں کہ انسان کتنا کمزور ہے۔انھیں دیکھ کر میں نے انسان کی کمزوری کو جانا۔
انسان کی کمزوری کی ایک مثال راجیش کھنہ کی زندگی میں بھی ہے۔ راجیش کھنہ جب اپنے پروفیشن کے عروج پر تھے تو انھوں نے کہا تھا: میں خدا کے بعد سب سے بڑی ہستی ہوں:
Being on the top Rajesh Khanna once said, is a feeling of being next to God.
راجیش کھنہ کی موت69  سال کی عمر میں 18 جولائی   2012کواس حالت میں ہوئی کہ وہ مسلسل بیماری کی وجہ سے ہڈی کا ڈھانچہ بن چکے تھے۔
سچائی یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان دو حقیقتوں کے ساتھ جیتا ہے۔ ایک حقیقت اس کی کمزوری ہے اور دوسری حقیقت اس کی طاقت۔ عقلمند آدمی وہ ہے جو ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ نکالتا ہے۔ وہ طاقت اور بے طاقتی کے درمیان توازن کو باقی رکھتا ہے۔
انسان کی اصل حقیقت بے طاقتی ہے کیونکہ انسان چاہے کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہو ایک دن وہ بے بسی کا نمونہ بن کر مر جاتاہے۔ اس کی بادشاہت، اس کی آل اولاد، اس کا کنبہ، قبیلہ اور اس کی اپنی دنیا اسے مرنے سے نہیں بچا سکتی۔ موت کے ہاتھ کے سامنے ہر انسان بے بس اور کمزور ہے۔ انسان کویہاں جو طاقت ملی ہوئی ہے وہ محض اس لئے ہے تاکہ انسان اس کا استعمال کر کے آخرت کی دنیا کی تیاری کرے۔ وہ دنیا جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے اور جہاں انسان کو ہمیشہ رہنا ہے۔ اس وزڈم کو قرآن میں اس طرح سمجھا گیا ہے۔
" آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنا پورا اجر قیامت کے دن پانے والے ہو۔ کامیاب در اصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا تو یہ محض ایک فریب ہے"(3-185)

بدھ، 12 ستمبر، 2012

Man does not live on bread alone


روٹی اچھی ہے یا خدائی کلمہ

محمد آصف ریاض
+91-9990431086
12 ستمبر2012 کی صبح میں قرآن شریف کی تلاوت کر رہا تھا۔ جب میں سورہ الزمر کی اس آیت پر پہنچا" کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کو برے عذاب کی سپر بنائے گا،اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ چکھو مزہ اس کمائی کا جو تم کرتے تھے۔ ان سے پہلے والوں نے جھٹلا یا تو ان پر عذاب وہاں سے آگیا جدھر ان کا خیال بھی نہ تھا۔ تو اللہ نے ان کو دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا یااور آخرت کا عذاب اور بڑا ہے،کاش یہ لوگ جانتے"۔ الزمر39-24-26
آدمی کے پاس سب سے قیمتی چیزاس کا چہرہ ہے۔ جب اس پر کسی قسم کا کوئی حملہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے چہرہ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن خدا کے عذاب کے سامنے انسان اس قدر بے بس ہوجائے گا کہ وہ اپنے چہرہ کو عذاب کے سامنے رکھ دے گا۔
میں اس ہلا دینے والے خدائی بیان پر تفکر کر رہا تھا کہ تبھی میری بیوی نے پکار کرکہا کہ ناشتہ نکل گیا ہے،کھا لیجئے۔ میں نے دھیان نہیں دیا۔ پھر اس نے کہا کہ "روٹی ٹھنڈی ہوجائے گی"۔ یہ جملہ سن کرمجھے غصہ آگیا اور میری زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل پڑے: "روٹی اچھی ہے یا خدائی کلمہ"۔
آدمی رات دن کھانے کمانے میں لگا رہتا ہے۔ زمین پر اس کی ساری بھاگ دوڑ کمانے کھانے کے لئے ہوتی ہے۔ وہ اپنے جسم کی پرورش کرتا رہتا ہے اور اپنی روح کو بھول جا تا ہے۔ حالانکہ انسان کا جسم مٹ جانے والا ہے اور روح باقی رہنے والی ہے۔ انسانی جسم کے خلیوں(Cells)  کا ہر پل مرنا انسان کو اسی سچائی سے واقف کرا تا ہے۔ لیکن انسان روح کو بھول کرجسم کی پر ورش میں لگا رہتا ہے جس سے اسے کچھ فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔
کبیر کہتا ہے:
پانی بیچ بتا شا سنتو- تن کا یہی تما شا ہے
اک دن جینا دو دن جینا  -جینا برس پچاساہے
انت کال بیسا سو جینا- پھر مرنے کی آسا ہے
جوں جوں پائوں دھرو دھرنی میں - توں توں یم نیراتاہے
یعنی زمین پر انسان جیسے جیسے قدم رکھتا ہے ویسے ویسے موت اس کے قریب چلی آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں زمین پر پڑنے والا انسان کا ہر قدم موت کی طرف بڑھا ہوا قدم ہوتا ہے لیکن انسان اسے نہیں جانتا۔
انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ صرف جسم کی غذا کو جانتا ہے وہ روح کی غذا کو نہیں جانتا۔ وہ روٹی، دال، سیب، انار اور انگور کو جانتا ہے وہ خدائی کلمہ کو نہیں جانتا۔ انسان اگر خدائی کلمہ کے ذائقہ کو جان لے تو وہ ہر دوسرے قسم کے ذائقہ کو بھول جائے۔
خدا کا منصوبہ
خدا نے ہرچیز کو معجزہ ٘کے ساتھ پیدا کیا تاکہ انھیں دیکھ کر انسان کےاندر سنس آف آ ) (Sense of awe پیدا ہوجائے۔ مثلاً زمین پھاڑ کر ننھے پودوں کا نکلنا، پھر اس پر رنگ بے رنگے پھولوں کا کھلنا، انسان کو حیرانی میں ڈال دیتا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہو رہا ہے کہ ایک ہی مٹی ہے، پھر سارے درخت ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں لیکن سب کے پھول الگ ہیں سب کے پھل الگ ہیں اور سب کا ذائقہ بھی الگ ہے۔ جب انسان خدا کی معجزاتی تخلیق کو دیکھ کراس قسم کی سوچ میں ڈوب جا تا ہے تو یہ سوچ اس کے لئے روحانی غذا کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ اس غذا سے انسان کو وہ توانائی ملتی ہے جسے کام میں لاکر انسان خدا کی طرف اپنا سفر شروع کرتا ہے۔
 بائبل میں ہے: آدمی صرف کھانے پر زندہ نہیں رہتا بلکہ وہ اس خدائی حکم پر زندہ رہتا ہے جو اس کے لئے آسمان سے اترتا ہے۔
Jesus answered, "It is written: 'Man does not live on bread alone, but on every word that comes from the mouth of God.'"

منگل، 11 ستمبر، 2012

Do you not understand?


کیا تم سمجھ نہیں رکھتے؟

محمد آصف ریاض

انسانی جسم خلیوں (Cells ) کا مجموعہ ہے۔ خلیوں کی اینٹ سے انسانی جسم کی تعمیر ہوئی ہے۔ ان خلیوں کی تعداد انسانی جسم میں ایک اندازے کے مطابق 100 ٹریلین سے زیادہ ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ انسانی جسم کے ہر خلیہ میں جینیاتی اطلاعات(Genetic Information)  موجود ہوتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہر خلیہ اپنے اندر ایک عظیم کتاب رکھتا ہے۔ یہ کتاب اتنی ضخیم ہے کہ اگر اس کے 'کیمیکل لیٹر س' کو 'ڈی کوڈ' کرکے کاغذ پر لکھا جا ئے تو( Encyclopedia - Britannica ) جیسی 32 کاپیاں تیار ہوجائیں گی۔ حالانکہ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا  25,000 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف ایک خلیہ میں جو اطلاعات ہیں، اگر انھیں کاغذ پر لکھاجائے تو لاکھوں صفحات درکار ہوں گے۔

انسانی جسم کی اصل ایک خلیہ پر ہوتی ہے، پھر یہ خلیہ 'ری پروڈکشن' کے خاص مرحلے سے گزرتاہے۔ ری پرو ڈکشن کے مرحلے سے گزرتے ہوئے ہرخلیہ اپنی کتاب کی نقل یعنی (DNA) کی فوٹو کاپی دوسرے خلیہ کو دے دیتا ہے۔

 خلیہ کے ری پر ڈکشن کے سارے عمل کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس نگراں کا نام(Enzymes)  ہے۔ انزائم ری پرو ڈکشن کے دوران پورے عمل کی نگرانی کرتا ہے، اور یہ دیکھتا ہے کہ ڈی این اے کی فوٹو کاپی میں کہیں کوئی غلطی تو نہیں رہ گئی ہے، کوئی لیٹر غائب تو نہیں ہے۔ اگر کہیں کوئی غلطی رہتی ہے تو انزائم اس کی اصلاح کردیتا ہے۔ ڈی این اے نامی یہ کتاب انسان کو جینیاتی اطلاعات فراہم کرتی ہے۔ اس کتاب میں عضویات کے متعلق احکام لکھے ہوتے ہیں۔ انزائمس ڈی این میں لکھے احکام کو پڑھ کر اس کے احکام کے مطابق فی سیکنڈ لاکھوں پروٹین تیار کرتے ہیں۔ پھر پروٹین کو جسم کے ان حصوں میں پہنچایا جاتا ہے جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً مردہ خلیات کو زندہ خلیوں سے بدلا جا تا ہے اور پرانے 'بلڈ سیل' کو نئے 'بلڈ سیل' میں تبدیل کر دیا جا تا ہے۔ اور یہ سب اس عظیم کتاب میں لکھے احکام کے مطابق ہوتا ہے جسے سائنس کی زبان میں ڈی این اے کہا جا تا ہے۔
 امریکہ سے لے کر چین اور دنیا بھر کے دوسرے بڑے بڑے سائنسداں
( DNA) میں پوشیدہ )3-billion) کیمیکل لیٹرس کو ڈی کوڈ کر نے کی کوشش میں لگے ہیں۔
یہ کائنات اتفاقی نہیں ہے
انسانی جسم میں خلیوں اور ڈی این اے کا محکم نظام بتا رہا ہے کہ یہ کائنات  اتفاقی نہیں ہے، اور زمین و آسمان کی تخلیق کسی (Coincidence)  کا نتیجہ نہیں ہے۔
اگر آپ اپنی میز پر کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی تحریر پائیں تو کیا آپ یہ سمجھ لیں گے کہ ہواچلی اور اس نے قلم اور کاغذ کو میز پر پہنچا دیا اور پھر یہ تحریرخود بخود وجود میں آگئی؟ نہیں آپ ایسا ہر گز نہیں سوچ سکتے !

میز پررکھی ہوئی ایک چھوٹی سی تحریر آپ کو بتاتی ہے کہ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے، تو کیا DNA نامی اس عظیم کتاب کو آپ ایک اتفاقی واقعہ کہہ کر ٹال جائیں گے! نہیں، ہرگز نہیں، آپ ایسا نہیں کرسکتے۔
"اور ہم نے آسمان اور زمین کواور جو کچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا یا۔ اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تواپنے ہی پاس کرلیتے۔ مگر ہم باطل پر حق کو مارتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتا ہے" (سورہ انبیا، آیت نمبر 16-18)۔
 
دوہرا انتظام
خدا نے جب انسان اور کائنات کی تخلیق کی تو اس کی رہنمائی کے لئے ایک محکم نظام تیار کیا۔ انسان کا جسم صحیح انداز میں کام کرے اس کے لئے اس نے ڈی این اے تیار کیا۔ اس کتاب میں انسانی عضویات سے متعلق تفصیلات درج کردیں۔ یہ کام انسانی جسم کی نگرانی کے لئے کیا گیا۔ لیکن صرف یہی کافی نہیں تھا۔
 انسان کو ایک اور کتاب کی ضرورت تھی، جو اس کو بتاتی کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے! صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے! خدا نے انسان کی تخلیق کیوں کی! انسان کی تخلیق سے خدا کی منشا کیا ہے! زمین و آسمان کی تخلیق کیوں کر ہوئی! آسمان پر پرندوں کو اڑنا کس نے سکھا یا! پانی میں مچھلیوں کو چھلانگ لگا نا کون بتا تا ہے! انسان کو دل و دماغ کیوں دیا گیا ہے! کان اور آنکھیں کس لئے ہیں!

انسان کی اس ضرورت کی تکمیل کے لئے خدا نے قرآن اتارا، اوراس میں انسان کی زندگی کے بارے میں تمام تفصیلات درج کردیں۔ قرآن میں ہے؛
"لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے، جس میں تمہارا ہی ذکر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟" (سورہ الانبیا، آیت نمبر 10)

We have bestowed upon you a book that mentions you. Do you not understand?

پیر، 10 ستمبر، 2012

Spirit of Islam and Form of Islam


مشینی عبادت ، علما، دین اور روح دین

محمد آصف ریاض
کل میں نظام الدین جا رہا تھا۔ گاڑی میں ایک شخص پر نظر پڑی۔ وہ ایک مشینی قسم کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا۔ اس کی زبان پر کوئی کلمہ جاری تھا اور ہر کلمہ پر وہ اس مشینی انگوٹھی کے بٹن کو دبا تا جا تا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہواکہ وہ آٹو میٹک تسبیح پڑھ رہا ہے۔

میں سوچنے لگا کہ مشین کے اس دور میں عبادت بھی مشینی ہوگئی ہے۔ لوگ گن گن کر تسبیح پڑھتے ہیں۔ اور گن گن کر قرآن ختم کر تے ہیں۔ وہ اپنی عبادت کا باقاعدہ رجسٹر تیار کرتے ہیں تاکہ وہ خدا کے سامنے اسے فخرسے پیش کر سکیں۔
لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ خدا کا فرشتہ اس کام کے لئے پہلے سے لگا ہوا ہے جو ہر آدمی کا رجسٹر نہایت باریک بینی سے تیار کر رہا ہے۔

قرآن میں ہے"ہم یقیناً ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں،جو کچھ افعال انھوں نے کئے ہیں ہم سب کچھ لکھتے جارہے ہیں، اور جو کچھ افعال انھوں نے پیچھے چھوڑے ہیں ہم انھیں بھی ثبت کر رہے ہیں۔ ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے۔ (36-12)
دوسری جگہ ارشاد ہے "حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں، ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔(82-10-12)
میں سوچنے لگا کہ خدا کا فرشتہ ہر آدمی کا رجسٹر تیار کر رہا ہے لیکن لوگوں کو اس کی خبر نہیں۔ نہ باریش لوگوں کو اس بات سے واقف ہیں اور نہ بے ریش لوگ۔ نہ مدرسہ کے فارغین اس بات کو جانتے ہیں اورنہ اسکول وکالج کے فارغین کو اس کی خبر ہے۔

اس قدر واضح قرآنی فرمان سے بے خبری کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے اور وہ ہے دین کی روح سے بے خبری۔ اور اس بے خبری کے لئے ذمہ دار ہیں ہمارے علما۔ یہ علما ہیں جنھوں نے دین کے فارم کوہی عین دین سمجھ لیا ہے۔ ان کی پوری تبلیغ، دین کے ظاہری فارم کے ارد گرد گھومتی رہتی ہے ۔ مثلاً وہ اس بات سے لوگوں کو واقف کراتے ہیں کہ نماز کے لئے ہاتھ باندھو توکہاں رکھو۔ اسی طرح کسی نے کہا اپنے کپڑوں کو گھٹنوں کے اوپر رکھو پھر اس بات پر بحث جا ری ہے کہ اوپر ہو تو کہاں تک ہو۔ اسی طرح حجاب کو عین دین سمجھا گیا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم لڑکیاں یہاں تک کہ علما کی لڑکیاں جنس اور بنڈی تو خوب شان سے پہنتی ہیں لیکن حجاب پر ہنگامہ کر تی ہیں ۔ یہی وہ فروعی باتیں ہیں جن پرکبھی یہود کے علما اصرار کرتے تھے ۔ جس پر تنقید کر تے ہوئے حضرت عیسی علیہ سلسلام نے یہ تاریخی جملہ استعمال کیا تھا: " مچھر کو چھانٹتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو"۔
اس بے خبری کی ایک بڑی وجہ مدرسے کا موجودہ تعلیمی نظام بھی ہے۔ موجودہ تعلیمی نظام میں فقہی اور فروعی باتوں پر تو خوب زور دیا جا تا ہے لیکن تدبر قرآن پر کوئی زور نہیں دیا جا تا۔ حالانکہ مومنین سے یہی چیز مطلوب ہے۔ چنانچہ قرآن میں بار بار یادہانی کرائی گئی ہے کہ کیا تم اس کتاب پر غور نہیں کر تے۔
"کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔" (4-82)

کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں۔(47-24)
خطابت کی دھوم

مدرسوں میں تدبر قرآن کی جگہ خطابت کی دھوم مچائی جاتی ہے۔ مثلاً ہر مدرسہ میں ہفتہ میں ایک دن تقریری پروگرام ہوتا ہے۔ اس میں طلبا کو بتا یا جا تا ہے کہ کس طرح وہ اپنی جوشیلی تقریر سے محفل  کو لوٹ سکتے ہیں۔ اب کچھ مدرسوں میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے ۔ پہلے یہ لوگ عربی اور اردو میں محفل کو لوٹتے تھے اب بدلتے ہوئے حالات میں انھیں انگریزی میں محفل لوٹنے کا سلیقہ بتا یا جا رہا ہے ۔
حد یث شریف میں بتا یا گیا ہے کہ یہ دین اجنبی تھا پھر ایک وقت آئے گا جب یہ اجنبی بن جائے گا سو اجنبیوں کے لئے خوشخبری ہے ۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: بدأ الإسلام غريبا وسيعود غريبا كما بدأ فطوبى للغرباء
اس کا مطلب کیا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانے میں ظاہری طور پر بہت سے مسلمان زمین پر پھیلے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے اندر دین بہت کم ہوگا۔ یعنی اسپرٹ والا اسلام تقریباًختم ہوچکا ہوگا۔ آج ہر طرف یہی صورت نظر آ رہی  ہے۔

تاجر کا سبق
ایک مفسر قرآن نے اپنی تحریر میں ایک تاجر کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایک بار ان کی ملاقات ایک تاجر سے ہوئی ۔ انھوں نے تاجر سے پوچھا کہ آپ اپنی تجارت کو چمکانے کے لئے کیا کیا کرتے ہیں ۔ تاجر نے بتا یا کہ وہ سفر کرتے ہیں، کلائنٹس سے ملتے ہیں۔ وہ ملازمین رکھے ہوئے ہیں ۔انھیں وقت پر تنخواہ دیتے ہیں۔ وہ خود اپنی شاپ میں دیر تک بیٹھتے ہیں ۔ بزنس کو بڑھانے کے لئے لوگوں کے ساتھ مٹینیگیں کر تے ہیں۔ رات دیر تک مصروف رہتے ہیں۔ مفسر قرآن نے اس سے پوچھا یہ ساری جدو جہد آپ کس لئے کرتے ہیں ۔ تاجر نے جواب دیا زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے ۔ مفسر نے پوچھا کہ اگر تمام جدو جہد کے باوجود آپ اپنی آمدنی نہ بڑھا سکیں تو؟ تاجر نے کہا کہ پھر میں سمجھوں گا کہ میری تمام محنت رائیگاں گئی۔
یہی حال دین کا ہے دین میں روزہ ہے ، دین میں نماز ہے، دین میں حج ہے ، دین میں زکوات ہے ، دین میں نوافل ہیں ، دین میں صدقہ ہے ، دین میں حجاب ہے، دین میں قربانی ہے ، دین میں جہاد ہے، لیکن سب کا حاصل صرف ایک ہے وہ یہ کہ آدمی کے اندر تقوی کی اسپرٹ پیدا ہوجائے۔ اگر یہ سب کر کے تقوی کی اسپرٹ پیدا نہیں ہوتی  تو آدمی سمجھ لے کہ اس کی ساری جد و جہد بے کار گئی۔ کیونکہ قرآن میں ہے:
 
" نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون مگر اسے تمہارا تقوی پہنچتا ہے۔(22-37)

"اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہےکہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو۔ اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے"(7-26)

ہفتہ، 8 ستمبر، 2012

A call that went into oblivion


Mohammad  Asif Reyaz

On September 3, 2012 my child who out of curiosity was fiddling around with gas-stove, succumbed to burn injuries. He began howling in pain. His mother suggested I should arrange some ice immediately to provide groaning child immediate relief. I had just begun to contemplate where to arrange ice from, suddenly I heard an agonising sound – “ Barf ladijie abbu  Bahut lahar raha hai,” he shouted helplessly.

This call of my son had piercing effect on my heart. I rushed to my neighbour and brought ice. After the ice was rubbed, my son got some relief.

The heart piercing call of my son, reminded me the same kind of event that occurred almost 15 years ago. This was a call of my father. He was seriously ill. His both Kidneys had gone defunct. He was on bed and struggling for his life.

On those days of agony and pain I used to sit beside my father and mourn and weep.  Some time he used to say God, give me a chance. But this cry of my father went into oblivion. We tried our best to save him but in vain.  Unki Sari pukaar Sada b Sahra hokar Rah gai. “His call went into oblivion”.

What does Sada b Sahra means? When you call in desert where there is no body to listen you, and where your call goes into oblivion that call is called in Urdu_ Sada b Sahra.

Now I think that, here in this world every body’s call is proving to be a call of desert. Where there is no body to listen.

How vulnerable is a man! When he was born he was symbol of helplessness and again when he dies he becomes symbol of vulnerability.

When a child takes birth he is so weak and feeble that one can throw him in fire or anywhere in the sea. He will find no strength to defend himself. The same situation occurs when a man dies. Although he finds himself surrounded by his entire clan and relatives but he receives no help from any side.

Everybody is there, the sons, the brothers, the sisters, mother and even father, but nobody helps. It is not that nobody wants to help; it is that nobody had power to help. The man dies in acute helplessness. He comes to this world as being vulnerable and departs from here in the same way. This is the reality of a man, but alas! nobody remembers it.

 When a man comes to power he corrupts the systems. He lives with egos. He thinks that he can bring the earth into ruins and destroy the sky with his mighty hands. But at the end he is confronted with opposite reality. This situation inQu’ran  has been described thus,

"Then who do you not intervene when the soul of the dying person reaches his throat? And you at the moment are looking on, but we are nearer to him than you, but you see not."
(Quran 56:83-85)