جمعرات، 14 مئی، 2015

علم اور مسلمان


علم اور مسلمان
مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگرانھیں جوتا خریدنا ہو تو وہ سب سے اچھا جوتا خریدیں گے۔ اگرانھیں کپڑا خریدنا ہو تو وہ سب سے قیمتی کپڑا خریدیں گے۔ وہ لکژری میں دوسری قوموں کو پیچھے چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔ البتہ جب انھیں کتاب خریدنی ہو تو وہ  اس معاملہ میں سب سے بڑے بخیل بن جائیں گے۔
مسلمان جب ایک زندہ قوم تھے تو ان کے یہاں ہرگھرمیں ایک لائبریری ہواکرتی تھی۔ اب لائبریری کی جگہ ان کے گھروں میں بڑے بڑے ٹیلی ویژن ہوتے ہیں، اب کسی گھرمیں کوئی لائبریری نہیں ہوتی ۔ ٹیلی ویژن توغیر مسلموں کے گھروں میں بھی ہوتے ہیں لیکن اس فرق کے ساتھ کہ ان کے یہاں لائبریریاں بھی ہوتی ہیں، تاہم مسلمانوں کا معاملہ بالکل ہی الگ ہے، ان کے یہاں صرف ٹیلی ویژن ہوتے ہیں لائبریریاں نہیں ہوتیں۔
مسلمان ہرچیزپرخرچ کریں گے لیکن اگرپڑھائی پرخرچ کرنا ہو تو وہ سب سے بڑے بخیل بن جائیں گے۔ اگرآپ انھیں پڑھائی پر خرچ کرنے کی ترغیب دیں توایسا معلوم ہوگا کہ گویا آپ گدھے کوتالاب کی طرف کھینچ رہے ہیں۔
مسلمانوں کا حال دیکھ کرمجھے اکثربیربل کا ایک واقعہ یاد آجا تا ہے۔
کہا جا تا ہے کہ ایک مرتبہ کسی بات پر ناراض ہوکراکبر نے بیربل کو نوکری سے نکال دیا۔ بیربل نئی نوکری کی تلاش میں ایک نواب کے پاس پہنچا اوراس سے نوکری کی درخواست کی۔ بیربل سے مل کرنواب بہت خوش ہوا۔ اس نے کہا کہ مسٹر بیربل آپ تو بہت پڑے لکھے انسان ہیں تو ایسا کیوں نہیں کرتے کہ آپ میرے بچوں کو پڑھا دیں! بیربل نے کہا کہ مجھے کوئی قباحت نہیں ہے۔ میں آپ کے بچوں کو پڑھانے کے لئے تیار ہوں البتہ یہ تو بتائیں کہ آپ مجھے کیا دیں گے ؟  20 درہم، نواب نے جواب دیا ۔ بیربل نے پوچھا کہ جناب یہ تو بتایئے کہ آپ اپنے کوچوان کو کتنا دیتے ہیں؟ اس نے کہا کہ 100 درہم ۔ بیربل نے جواب دیا کہ پھرآپ اپنے بچوں کو کوچوان بنا لیجئے انھیں پڑھا کیوں رہے ہیں؟
مسلمانوں کا حال یہی ہے۔ مسلمان اپنے بچوں کو کوچوان بنا رہے ہیں اور ہنگامہ کرتے ہیں کہ سماج میں انھیں برابری کا مقام حاصل نہیں ہے۔ انھیں حاشیہ پر ڈالنے کی سازش کی جا رہی ہے، انھیں پست کردیا گیا ہے، وہ دلتوں سے پیچھے ڈھکیل دئے گئے ہیں ، وغیرہ۔
علم پرخرچ کرنا درحقیقت ایک علامتی خرچ ہے۔ انسان بڑی محنت و مشقت سے کماتا ہے وہ اپنے جسم کا ایک ایک قطرہ خون نچوڑ کرکچھ پیسے جمع کرتا ہے، پھر ان پیسوں کو علم کی طلب پر لگا تا ہے تو گویا  وہ اس بات کا ظاہرہ ہوتا ہے کہ آدمی علم کے معاملہ میں حساس ہے۔ علم کے حصول پرخرچ کرنا گویا ایک علامتی قربانی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ مسلمان اس علامتی قربانی کے لئے بھی تیارنہیں ہیں۔ افسوس ہے اس قوم پرجسے بتا یا گیا ہے کہ اس کی نجات علم میں ہے پھر بھی وہ علم سے گریزاں ہے، وہ ہر چیز کی طلب میں لیکن علم کے معاملہ میں وہ اندھا بہرا بنا ہوا ہے۔
حدیث میں ہے: من يريد الدنيا فعليه بالعلم ومن يريد الاخره فعليه بالعلم ومن يريدهما معا فعليه بالعلم
"جوکوئی دنیا کا طالب ہو تو چاہئے کہ وہ علم حاصل کرے ، جو کوئی آخرت کا طالب ہوتو چاہئے کہ وہ علم حاصل کرے اورجو دنیا اور آخرت دونوں کا طلبگار ہو تو اسے چاہئے کہ علم حاصل کرے۔"


پیر، 6 اپریل، 2015

میں مرنا نہیں چاہتا تم مجھے مرنے سے بچالو

میں مرنا نہیں چاہتا تم مجھے مرنے سے بچالو

محمد آصف ریاض
ان دنوں پت جھڑکاموسم ہے۔ اس موسم کوموسم خزاں بھی کہتے ہیں۔ اس موسم میں فطری طورپرایسا ہوتا ہےکہ درخت کے پرانے پتے جھڑنے لگتے ہیں اورنئے پتے ان کی جگہ لےلیتے ہیں۔
کل جب میں درختوں کے درمیان سے گزررہا تھا تودرخت کے بہت سے پرانے پتے جھڑ رہے تھے اوران کی جگہ بہت سے نئے پتے درختوں پرابھررہے تھے۔ انھیں دیکھ کرمیں تھوڑی دیرکے لئے ٹھہرکرسوچنے لگا کہ خدا کی کائنات میں کوئی چیزآزاد نہیں ہے۔ یہاں ہرچیزایک محدود آزادی کےساتھ کام کررہی ہے۔ یہاں کی ہرچیزآسمانی نظام کے تحت بندھی ہوئی ہے۔ یہاں کسی کے لئے یہ موقع نہیں کہ وہ خدا کے نقشہ کوہٹا کراپنے نقشہ کے مطابق زندگی گزارسکے۔ درختوں کے بس میں نہیں ہے کہ وہ ان ٹوٹتے ہوئے پتوں کوگرنےسے بچالیں،اورنہ ہی کسی انسان کے بس میں ہے کہ وہ انھیں زمین پر گرنے سے روک لے۔
یہی حال اس دنیا کا ہے۔ یہاں کسی کا گرنا ہے اورکسی کا ابھرنا، کسی کا ابھرنا ہے اور کسی کا گرنا۔ اس دنیا میں ہرروزبہت سےانسان آتے ہیں، اوربہت سےانسان چلے جاتے ہیں۔ وہ یہاں کمزوری کے بعد طاقت پاتے ہیں، ناکامی کے بعد کامیابی حاصل کرتے ہیں اورپھرایک مدت گزارکرموت کی کھائی میں ٹھیک اسی طرح گرادئے جاتے ہیں جس طرح خزاں کے موسم میں درختوں کے پتے زمین پرگرا دئے جاتے ہیں۔
جس طرح کوئی درخت اپنے پتوں کوگرنے سے نہیں بچا پاتا، اسی طرح کوئی انسان اپنے مرنے والوں کو بھی نہیں بچا پاتا۔ ایک آدمی طاقت پاتا ہے اورکمزوری کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے، ایک آدمی شہرت پاتا ہےاورگمنامی کی طرف دھکیل دیا جا تا ہے۔ ایک آدمی مال جمع کرتا ہے اورمفلسی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ ایک آدمی اپنے لئے خوشیاں حاصل کرتا ہے اورحسرت و یاس کی کھائی میں گرا دیا جاتا ہے۔
انسانی سرگرمیوں کو دیکھئے تومعلوم پڑتا ہے کہ انسان ہرچیزپرقدرت حاصل کر چکا ہے، وہ اپنی عقل کے ذریعہ زمین و آسمان پرچھا چکا ہے۔ وہ ہرروز آگے کی طرف بڑھ رہا ہے، وہ اپنی سرگرمیوں میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ ایک وقت میں اسے یہ لگنے لگتا ہے کہ اسےہرچیز پرکنٹرول حاصل ہو چکا ہےاوراب اسے کسی خدا کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ چیخ اٹھتا ہے کہ "ہرکام چل رہا ہے خدا کے بغیر بھی"۔
لیکن آنے والا وقت بتاتا ہے کہ انسان کی تما م سرگرمیاں موت کی طرف تھیں، وہ صرف اس لئے تھیں کہ شاخ پرتروتازہ ہوکر ایک موسم میں جھڑ جائیں۔ انسان پرموت کا گزرنا بتاتا ہے کہ انسان اپنے تمام تراختیارات کے ساتھ بہت ہی بےاختیار مخلوق ہے۔
ہیگو شاویز( وفات،5 مارچ  2013 ) سائوتھ امریکہ کے بہت بڑے لیڈر تھے۔ ان کے حامیوں کا دنیا بھرمیں بہت بڑا جتھا تھا۔ وہ آئرن مین کہے جاتے تھے۔ لیکن جب موت آئی تو بڑی بے چارگی کی حالت میں آئی۔ ان کے معاون نے بتا یا کہ وہ موت سے قبل کچھ بولنے کی کوشش کررہے تھے ، میں نے جب کان لگا یا تو وہ کہہ رہے تھے:
" میں مرنا نہیں چاہتا، برائے کرم تم مجھے بچا لو، مجھے مرنے مت دو"
'I don't want to die, please don't let me die'
Daily Mail, 7 March 2013
درختوں سے پتوں کا جھڑنا صرف اس لئے ہے کہ انسان اس سے اپنے لئے سبق حاصل کرے، وہ جانے کے جس طرح پتے اپنی تمام ترشادابیوں کے ساتھ زمین پرگرا دئے جاتے ہیں، اسی طرح انسان بھی اپنی تمام ترسرگرمیوں کے ساتھ موت کی کھائی میں گرا دیا جائے گا۔
قرآن میں اسی حقیقت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
"اب اگرتم کسی کے محکوم نہیں ہواوراپنے اِس خیال میں سچّے ہو، تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اورتم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے، اُس وقت اُس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟ اُس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اُس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگرتم  کو نظر نہیں آتے۔ 56: 83- 87

ہفتہ، 28 مارچ، 2015

ہندو تاریخ سے ایک سبق

ہندو تاریخ سے ایک سبق

محمد آصف ریاض
ہندوستان جب 1947 میں آزاد ہوا تو فطری طورپریہ ملک ان لوگوں کے ہاتھوں میں آیا جو یہاں کےقدیم باشندے تھے۔ یہ لوگ ہندو تھے اورمختلف قبائل اورگروہوں میں منقسم تھے۔
محمد غوری نے 1192 میں ہندوستان پرحملہ کیا اورترائن کی جنگ میں ہندو راجا پرتھوی راج چوہان کوشکست د ینے میں کامیابی حآصل کی۔ پنجاب اورموجودہ ہریانہ کوجیتنے کے بعد 1193 میں غوری بڑی تیزی سے صوبہ بہارکی طرف بڑھا، یہاں اس کا سامنا بودھ راجائوں سے ہوا تاہم یہاں بھی وہ کامیابی کا پرچم لہرانے میں کامیاب ہوگیا۔ اب وہ صوبہ بنگال کی طرف بڑھا اوربہت جلد بنگال کو بھی اس نے زیر کر لیا، اس طرح ہندوستان میں غوری سلطنت کا قیام عمل میں آیا۔
1192 میں ہندوستان میں مسلمانوں کی جوتاریخ شروع ہوئی تھی وہ 1857 میں آخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفرکی انگریزوں کے ہاتھوں شکست کے ساتھ ختم ہوگئی۔ اس دوران ملک کے ہندوں کو مسلسل 8 سوسالوں تک مختلف قسم کی تبدیلیوں سے گزرنا پڑا۔ مثلاً مغل دوریعنی سولہویں صدی میں ہندوئوں کواچانک ایک نئی زبان سیکھنی پڑی۔ یہ زبان فارسی تھی۔ زبان کی تبدیلی کا واقعہ قوموں کی زندگی میں کوئی سادہ واقعہ نہیں ہوتا۔ یہ بہت بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ زبان کی تبدیلی قوموں کی زندگی کا نقشہ بگاڑ دیتی ہے۔
اس بات کو سمجھے کے لئے آپ اتنا سمجھ لیں کہ جب 1857 میں انگریزاس ملک کے حکمراں ہوئے تو انھوں نے فارسی کو دفتری زبان سے معزول کردیا ۔ انگریزوں کے اس عمل سےاچانک سارے مسلم انٹیلیکچوئلس بے زبان ہو کر رہ گئے۔ تمام امرا، شرفا، اورفقہا اچانک بے روزگارہوگئے۔ زبان کی تبدیلی نے پوری قوم کوایک ایسی گھاٹی میں اتار دیا جہاں وہ صرف اپنے آپ کو جانتے تھے، وہ باہری دنیا سے واقف نہیں تھے۔ وہ دوسروں سے انٹریکشن نہیں کر سکتے تھے۔ وہ دوسری دنیا سے پوری طرح کٹ گئے تھے۔ اب وہ جدید افکارکو پڑھ نہیں سکتے تھے کیوں کہ جدید افکارکو نئی زبان میں پیش کیا جا رہا تھا اورمسلمان اس نئی زبان سے واقف نہیں تھے۔
زبان کی تبدیلی نے مسلمانوں کومعاشی، سماجی اورسیاسی طورپراپاہج بنا کررکھ دیا تھا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابھی جو قوم ہیروبنی ہوئی تھی اچانک وہ زیرو بن گئی ۔ تب سرسید نے مسلمانوں کو نئی زبان یعنی انگریزی سکھانے کا بیڑا اٹھا یا۔ لیکن صورت حال کو دوبارہ  پٹری پر لانے میں کئی صدیاں لگ گئیں۔ صورت حال یہ ہے کہ مسلمان آج بھی اس رولنگ زبان میں پچھڑے ہوئے ہیں، نتیجہ کار دنیا کے دوسرے میدان میں بھی پچھڑ گئے ہیں، مثلا معاشی ، تعلیمی ، سماجی اور سیاسی میدان میں وہ ایک پسماندہ قوم بنے ہوئے ہیں۔
مسلمانوں کے بر عکس ہندوئوں کی زندگی میں بارباربھونچال آیا۔ پہلے ان کی زبان سنسکرت تھی، پھرانھوں نے بہت جلد فارسی سیکھ لی اوراپنے آپ کو سماجی ، معاشی ، تعلیمی اور سیاسی طورپر(Irrelevant )  ہونے سے بچالیا۔ اسی طرح انگریزوں کے دورمیں جب فارسی کوختم کیا گیا توانھوں نے فوراً انگریزی زبان کوسیکھنا شروع کردیا اوربہت جلد وہ اس نئی زبان کو سیکھنے میں کامیاب ہوگئے۔
انگریزی سیکھ کرہندوئوں نے انگریزحکومت میں بڑے بڑے عہدے حاصل کئے۔ پڑھئے رفیق زکرکیا کی کتاب؛ (ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کا عروج؛ یا مولانا آزاد کی سوانح India wins freedom)
مختصریہ کہ ملک کے ہندئوں کوباربارہلا دینے والے حالات کا تجربہ ہوا، بارباران کی قومی زندگی تہہ وبالا ہوئی تاہم باربارانھوں نے حالات پرکنٹرول حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ باربارحالات نےانھیں بے معنی بنانے کی کوشش کی اورباربارانھوں نے حالات کے رخ کوموڑدیا۔ انھوں نے ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا اورفطری طورپر وہ مسلمانوں سے آگے نکل گئے۔
ہرکامیابی کا رازصبراورجہد مسلسل میں چھپا ہے،اسی راستے سے ملک کے ہندو کامیاب ہوئے ہیں اوراسی راستے سے ملک کے مسلمان کامیاب ہوں گے۔

بدھ، 25 مارچ، 2015

کوئی رات اتنی طاقتور نہیں کہ وہ صبح کے امکان کو تباہ کردے

کوئی رات اتنی طاقتور نہیں کہ وہ صبح کے امکان کو تباہ کردے

محمد آصف ریاض
احمد فراز( وفات 2008 ) ایک پاکستانی شاعرہیں۔ ان کی نظم کا ایک مشہورشعریہ ہے۔
کہ رات جب کسی خورشید کوشہید کرے
توصبح اک نیا سورج تلاش لاتی ہے
ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ رات صبح پراپنی تاریکی اڑھا دیتی ہے، بظاہرایسا معلوم پڑتا ہے کہ اب یہ تاریکی جانے والی نہیں ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ تاریکی صبح کے امکان کو ہمیشہ کے لئے ختم کردے، صبح کا حال یہ ہےکہ وہ دوسرے ہی دن اپنے لئے ایک نیا سورج تلاش لیتی ہے اورپھر ایک نئی آب و تاب کے ساتھ نمودارہوجاتی ہے۔
یہی حال انسانی زندگی کا ہے۔ انسانی زندگی میں ہمیشہ اتارچڑھائو آتا رہتا ہے، اوریہ اتارچڑھائو کبھی ابدی نہیں ہو تا، یہ وقتی ہوتا ہے۔ یہ اتارچڑھائواہل علم کے لئے ایک چیلنج ہوتا ہے، وہ جیسے ہی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ہاتھ سے ایک موقع نکل گیا، وہ فوراً اپنے لئے ایک دوسراموقع پیدا کرلیتے ہیں، جیسے ہی انھیں یہ لگتا ہے کہ ایک امکان استعمال ہونے سے رہ گیا، وہ اپنے لئے ایک دوسرا امکان تلاش لیتے ہیں، جیسے ہی انھیں لگتا ہے کہ ان کے لئے ایک راستہ بند ہوگیا ، وہ اپنے لئے ایک دوسرا راستہ پیدا کرلیتے ہیں۔
امیتابھ بچن بالی ووڈ کے معروف اداکار ہیں۔ انھوں نے اپنی اداکاری سے خوب شہرت پائی اورخوب پیسہ کمایا۔ لیکن عمرکے تقریباً آخری حصہ میں پہنچ کر وہ دیوالیہ ہوگئے، لیکن انھوں نے اپنا عزم نہیں کھویا، اور کون بنے گا کروڑ پتی میں اپنی ایکٹنگ کی مہارت دکھا کر انھوں نے اپنی کھوئی ہوئی دولت اور شہرت کو پھر سے حاصل کرلیا۔  
معروف برٹش فلاسفربرنارڈ ولیم (وفات 2003) کا ایک قول ہے: " کوئی رات یا کوئی مشکل ایسی نہیں جوصبح کی روشنی یا امید کو شکست دے دے۔"
 There was never a night or a problem that could defeat sunrise or hope
قرآن میں رات اوردن کو ایک نشانی بتا یا گیا ہے۔ رات کی آمد یہ بتا تی ہے کہ انسانی زندگی حسرت و یاس سے خالی نہیں، اور دن یہ بتا تا ہےکہ بہت جلد زندگی کی صبح نمودارہونے والی ہے۔

لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا چاہتے ہیں

لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا چاہتے ہیں
محمد آصف ریاض
علامہ اقبال (9 November 1877 – 21 April 1938) اردو کے بہت مشہورشاعرہیں۔ تحریک پاکستان کے بانیوں میں شمارکئے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے بارے میں ان کا خیال بہت جارحانہ تھا ۔ اقبال کا ایک شعر ہندوستان کے بارے میں ان کی سوچ کواجا گرکرتا ہے۔
ملا کوجو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
یعنی یہ کہ ہندوستان میں لوگوں کو نماز کی اجازت ہے تو یہ نادان لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام آزاد ہے۔ اقبال کی نظر میں ہندوستان دارالحرب تھا۔ ان کے ذہن میں جونمازتھی وہ سادہ معنوں میں نماز نہ تھی بلکہ وہ اپنے ذہن میں نماز پلس قتال کا خاکہ رکھتے تھے۔ اس لئے اس بات پر مطمئن نہ تھے کہ انھیں سادہ طور پرنمازکی اجازت حاصل ہو۔ وہ ہندوستان میں قتال اورخوں ریزی کی آزادی چاہتے تھے اوراسی لئے پاکستان کی تحریک میں شامل ہوگئے کیوں کہ یہاں انھیں اپنی خود ساختہ نماز کی آزادی ملتی ہوئی نظرآرہی تھی۔
بہرحال اقبال وہ آزادی دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہے، اور1938 میں یعنی قیام پاکستان سے ٹھیک 9 سال پہلے وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس کے بعد پاکستان بن گیا اوراسلام آباد وجود میں آگیا۔
اقبال کی موت سے 7 سال قبل یعنی 1931 میں پاکستان میں ایک اورشاعر پیدا ہوا۔ اس کانام احمد فراز تھا۔ احمد فراز 2008 میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انھوں نے پاکستان کے بارے میں اپنا دل دہلا دینے والا تجربہ پیش کیا۔ وہ لکھتے ہیں:
میرا اس شہرعداوت میں بسیرا ہے جہاں
لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا چاہتے ہیں
کاش اقبال اپنے پاکستان کو دیکھنے کے لئے زندہ ہوتے؛ جہاں قتال تو موجود ہے لیکن نماز کا کہیں وجود نہیں۔

منگل، 24 مارچ، 2015

خدایا، اس بندہ عاجز کا مواخذہ مت کرنا

خدایا، اس بندہ عاجز کا مواخذہ مت کرنا

محمد آصف ریاض
 کل مارچ 2015 کی 23 تاریخ تھی۔ رات دیرسے بسترپرگیا توایک خیال دل میں گزرا۔ میں سوچنے لگا کہ جب میں دنیا میں آیا تھا تواپنی خوشی سے نہیں آیا تھا۔ یہاں روتے ہوئے بہت ہی بے بسی کےعالم میں آیا تھا، اوراب زندگی کا ایک حصہ گزارلیا تو جانے کی تیاری ہے۔
میں اس دنیا سے جانا نہیں چاہتا، یہاں کی رونقیں، بچوں کی سرگوشیاں، رشتہ داروں کا پیار، احباب کی بھیگی آنکھیں مجھے جانے سے روک رہی ہیں، لیکن جانا تو بہرحال پڑے گا۔ جب میں یہاں آیا تھا تب بھی میرے بس میں کچھ نہیں تھا اوراب جبکہ جانے کی تیاری ہے تب بھی میرے بس میں کچھ نہیں ہے۔ پہلا حکم بھی خدا کا تھا اورآخری حکم بھی خدا کا ہے۔
میں اپنی اس عجزکو سوچ کررونے لگا۔ اسی درمیان میرے منھ سے ایک چیخ نکلی؛ خدایا، تواپنے بندہ عاجزکا مواخذہ مت کرنا۔ یہ تیرا بندہ بے بسی کےعالم میں یہاں آیا اوراسی بے بسی کے عالم میں یہاں سے جا رہا ہے۔ خدا یا، اس بندہ کے بس میں پہلے بھی کچھ نہیں تھا اوراب بھی کچھ بھی نہیں ہے، پہلا حکم بھی آپ ہی کا تھا اورآخری حکم بھی آپ ہی کا ہے۔ خدایا تو اپنے اس بندہ عاجز کو بھلا دے، معاف فرما۔
اوراس کے بعد مجھے ابراہیم کی یہ دعا یاد آگئی: خدایا، "مجھے اس دن رسوانہ کرجبکہ سب لوگ زندہ کرکے اٹھائےجائیں گے، جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا اورنہ اولاد، بجزاس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضورحاضر ہوا ہو۔"   (سورہ الشعرا 26:87-89 )

پیر، 23 مارچ، 2015

گھوڑے کے آگے گاڑی مت باندھئے

گھوڑے کے آگے گاڑی مت باندھئے

محمد آصف ریاض
آج مارچ 2015 کی 22 تاریخ ہے۔ ایک نوجوان ملنے کے لئے آئے ہیں ۔ ان کا نام ندیم ہے ۔ وہ بہارکے رہنے والے ہیں لیکن ان کی تعلیم مغربی بنگال میں ہوئی ہے،اوروہ وہیں بس گئے ہیں۔ ان دنوں وہ جاب کی تلاش میں دہلی آئے ہوئے ہیں۔ بات چیت کے دوران انھوں نے مغربی بنگال کے بارے میں بہت سی باتیں بتائیں۔ میں نے ان سے وہاں کے مسلمانوں کے بارے میں پوچھا توان کا جواب بہت ہی مایوس کن تھا۔
انھوں نے بتا یا کہ وہاں مسلمانوں میں تعلیم کی بہت کمی ہے اوروہ اخلاقی طورپربہت ہی زیادہ بگڑے ہوئے لوگ ہیں۔ اپنا ایک تجربہ بیان کرتے ہوئے انھوں نےکہا کہ ایک مرتبہ انھیں ایک بزنس کے سلسلے میں بنگلہ دیش سے ملحق ایک مسلم بنگالی علاقہ میں جانےکا اتفاق ہوا۔ یہاں ایک کمپنی اپنا اسکریپ فروخت کر رہی تھی ۔ ایک بنگالی مسلمان نذورل نے مجھےاس کی اطلاع دی۔ ایک ہندومارواڑی دوست کولے کر میں وہاں گیا۔ نذرول نے ہم لوگوں کی بڑی آئو بھگت کی۔ اس نے بڑا لمبا سلام کیا اوربولا کہ ندیم بھائی تم تواپنے ہو، تم تو مسلمان ہو۔ اس دوران ان میں کا کوئی آدمی آتا اورہمارا منھ دیکھ کرسلام کرتا۔ وہ کہتا سلام وعلیکم ورحمۃ اللہ، بھالو باچی، آمی بھالو باچی ۔ پھردوسرا بھی اسی طرح اپنے کلمات دہراتا۔  
ایسے ہی کئی لوگ سامنے آئے سبھوں نے لمبےاندازمیں سلام کیا۔ ہمیں مچھلی بھات کھلا یا گیا۔ اس کے بعد ہم نے کہا کہ اب کام کی بات کی جائے،اسی درمیان نذورل نے میرے ہم سفرمارواڑی دوست کا موبائل اپنے ہاتھ میں لے لیا اوراسے چھو کرکہنے لگا کتنا بھالو باچی یعنی کتنا اچھا لگ رہا ہے۔ میں نے مذاق کے اندازمیں کہا کہ آپ ہی کا ہے۔ اس کے بعد اس نے اس موبائل کو اپنے پاس رکھ لیا پھراپنے بیٹے شفیقول کو بلا یا ۔ شفیقول یہ موبائل لے جا۔ ہم لوگ تھوڑی دیرخاموش رہے پھرکہا کہ بھیا مذاق ہوگیا اب موبائل واپس کر دو۔ وہ موبائل 30 ہزار کا تھا۔ اس نے جواب دیا ہمیں 'بوکا' سمجھا ہے۔ ہم نے تم کوکھلا یا پلا یا اوراپنا تین گھنٹہ دیا اورتو موبائل مانگتا ہے! تمہیں یہاں سے زندہ جا نا ہے کہ نہیں؟ ہم نے اسے یاد دلا یا کہ بھائی میں مسلمان ہوں تم بھی مسلمان ہو۔ ہمیں ہمارا موبائل دے دو اس نے کہا ، مسلمان ! مسلمان ہے تو کیا؟ گلہ کاٹ دوں گا۔ یہاں سے نکل جا۔ میرا ہندو دوست بہت ڈر گیا اوراس نے اشارہ کیا کہ موبائل چھوڑ دو یہ لوگ گاڑی بھی چھین سکتے ہیں۔ ہمیں بھی حالات کا اندازہ ہوگیا اورہم لوگ کسی طرح وہاں سے جان بچاکر بھاگے۔
پولیس اسٹیش میں معاملہ درج کرانا چاہا توانسپکٹر نے یہ کہہ کر معاملہ درج کرنے سے انکار کردیا کہ اس طرح کے معاملات یہاں ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ ہم رپورٹ درج نہیں کر سکتے۔ ندیم صاحب نے بتا یا کہ اگرآپ کی جیب میں 100 روپے ہوں اور بنگالی خاص کرسرحدی بنگالیوں کو پتہ چل جائے تو وہ آپ کو بغیر لوٹے نہیں چھوڑیں گے، یہاں تک کہ وہ آپ کے قتل سے بھی باز نہیں آئیں گے۔ یہ سن میں مبہوت رہ گیا۔
بنگال میں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد ہے ۔ لیکن ریاست کی ترقی میں مسلمانوں کا رول صفر ہے۔ بہت سی مسلم سیاسی پارٹیاں بنگال کو اپنا سیاسی امپائر بنانا چاہتی ہیں لیکن انھیں کوئی کامیابی نہیں مل رہی ہے اور نہ ہی انھیں کوئی کامیابی ملنے والی ہے۔ کیونکہ ان کا نقطہ آغاز ہی غلط ہے۔ جو قوم اتنی بگڑی ہوئی ہو کہ سوروپے کے لئے لوگوں کی جان لینے سے بھی باز نہ آئے وہ قوم حکمرانی کس طرح کر سکتی ہے، خدا ایسا تو نہیں کہ وہ اس طرح کے لوگوں کو حکمراں بنا کر اہل زمین پر ظلم کرے۔

سماجی اوراخلاقی ایمپائربنانے سے پہلے سیاسی ایمپائرکی تعمیرکا خواب دیکھنا دیوانگی کی حد تک غلط ہے۔ یہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے کے مترادف ہے، اورکوئی بھی شخص گھوڑے کےآگے گاڑی باندھ کراپنا سفرمکمل تو دور شروع بھی نہیں کر سکتا۔