بدھ، 11 مئی، 2016

آپ کی ہر بات ریکارڈ کی جا رہی ہے

آپ کی ہر بات ریکارڈ کی جا رہی ہے

محمد آصف ریاض
آٹھ مئی 2016 کودہلی میں واقع ایک میگزین کےآفس میں جانےکا موقع ملا۔ وہاں موجود صحافیوں سے بات چیت ہوئی ۔ یہ بات چیت بہت خوشگوارماحول میں ہوئی ۔ تمام لوگوں نے میری باتیں بغورسنیں۔ وہاں میری بات ریکارڈ کی جا رہی تھی ۔ جب میں اپنی بات کہہ چکا تومجھے خیال آیا کہ کہیں میں کوئی غلط بات تو نہیں کہہ گیا؟ جب گھرواپس آیا تو ہربات اپنی بیوی سے دہرا یا،اوراس سے پوچھا کہ میں نے کوئی بات غلط تو نہیں کہہ دی؟ کیونکہ وہاں میری ہربات ریکارڈ کی جا رہی تھی۔ کیمرے کی وجہ سے میرے اوپرایک قسم کا دبائوتھااورمیں اپنی باتیں بہت سوچ سمجھ کہہ رہا تھا۔
اب میں سوچنے لگا کہ دنیا کی ریکارڈنگ انسان کو کس قدرحساس بنا دیتی ہے۔ کیمرے کے سامنے جب بولنا ہو تو انسان بولنے سے پہلے بھی سوچتا ہے اوربولنے کے بعد بھی۔ وہ ایک مرتبہ نہیں ہزارمرتبہ سوچتا ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ وہ بول رہا ہے وہ اس کے خلاف شہادت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اس دنیا میں ایک اور ریکارڈنگ ہے جس سے انسان غافل ہے۔ وہ اس قدر خفیہ ہے کہ انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا اوراس کی ہر بات ریکارڈ کر لی جاتی ہے۔
قرآن میں ہے کہ انسان بولتا بھی نہیں کہ لکھنے والا اس کو لکھ لیتا ہے۔ " یقیناً تم پرنگہبان عزت والے ، لکھنے والے مقرر ہیں، وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو"۔
وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ ﴿١٠﴾ كِرَامًا كَاتِبِينَ ﴿١١﴾ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ﴿١٢﴾
آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ بول رہا ہے۔ وہ بے تکان بولتا جا رہا ہے، نہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے اور نہ بولنے کے بعد! کیوں؟ اس لئے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں ہے۔ کہیں کوئی کیمرہ نہیں ہے جو اس کی کہی ہوئی بات کوشہادت (evidence) کے طور پر استعمال کر سکے۔
کاش! انسان یہ جان لیتا کہ وہ جہاں بھی ہو جو کچھ بھی کرتا یا بولتا ہو، اس کا ہر قول ہر فعل خدا کے یہاں ریکارڈ میں ہے۔ قرآن میں ہے۔ "چاہے تم کوئی بات پکارکرکہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات کوبھی جانتا ہے 20: 7))
( اورتم جہاں کہیں بھی ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے اورجو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے ) الحدید / 4
( کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی آسمانوں وزمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ ہی زیادہ مگر وہ جہاں بھی ہوں وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا بیشک اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے والا ہے ) المجادلۃ / 7
کاش ، اگرانسان یہ جان لیتا کہ اس کا ہرقول اورہرفعل ایک خدائی کیمرے میں محفوظ کیا جا رہا ہے، تو وہ بولنے کا تحمل نہیں کرتا۔ اس کا حال یہ ہوجا تا کہ وہ بولتا کم اورسوچتا زیادہ ۔
بلال ابن حارث کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسم نے فرمایا۔ آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے ، وہ اس کو زیادہ اہم نہیں سمجھتا ۔ مگر اللہ اس پر اپنی ناراضگی اس وقت تک کے لئے لکھ لیتا ہے جبکہ وہ اس سے ملے گا۔
روایات میں آتا ہے علقمہ تابعی نے کہا کہ بلال ابن حارث کی حدیث نے مجھے بہت سی بات بولنے سے روک دیا۔

(رواہ ابن ماجہ و الترمذی )  

پیر، 9 مئی، 2016

کامریڈ ، میں مرنا نہیں چاہتا، تم مجھے مرنے مت دو

کامریڈ ، میں مرنا نہیں چاہتا،  تم مجھے مرنے مت دو

محمد آصف ریاض
آسمان پانی برساتا ہے اورزمینیں اپنی شادابیاں اگل دیتی ہیں۔ یہ شادابیاں دیکھنے والوں کوبھلی معلوم پڑتی ہیں۔ آدمی اپنے ارد گرد ان شادابیوں کو دیکھ کرخوش ہوتا ہے اوریہ سوچنے لگتا ہے کہ اب زمین سے یہ شادابیاں کبھی ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ اب یہ گل اوربوٹے کبھی مرنےوالے نہیں ہیں۔ اب ان ندیوں اورآبشاروں کی روانی میں کوئی خلل پیدا ہونے والا نہیں ہے۔ اب ان پھولوں کی مسکراہٹ کو کوئی چھینے والا نہیں ہے۔
تاہم ایک وقت آتا ہے جب آدمی اسی خطہ زمین سے دوبارہ گزرتا ہے اوراس باروہ یہاں ایک برعکس دنیا کا نظا رہ کرتا ہے۔ وہ زمینیں جوکل تک شادابیاں اگل رہی تھیں، وہ آج بیان بیان نظرآتی ہیں۔ آدمی یہ دیکھ کرحیران رہ جا تا ہے کہ کل تک جہاں ایک دنیا آباد تھی، جہاں پھول کھلے تھے، پودے پروان چڑھ رہے تھے، پتیاں باد سرسرکے ساتھ جھوم رہی تھیں، جہاں پرندے خوبصورت نغمے سنا رہے تھے، وہ دنیا یکایک برباد ہوچکی ہے۔ جہاں کل تک ہر طرف زندگی رقص کر رہی تھی، اب وہاں ہرطرف خوفناک ریگستانی سناٹاہے۔
یہ ایک تمثیل ہے جس سے انسانی زندگی کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔ آدمی ماں کے پیٹ سے نکل کرزمین پرآباد ہوتا ہے، پھروہ زمین پرطاقت حاصل کرتا ہے، وہ کم عمری سے جوانی کی طرف بڑھتا ہے،رفتہ رفتہ وہ مال اوراولاد والا بن جا تا ہے۔ اب اس کے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ اس نے زمین پرکنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اب اس کی دنیا کبھی اجڑنے والی نہیں ہے۔ اب اس کی طاقت میں کوئی کمزوری پیدا ہونے والی نہیں ہے۔
لیکن تبھی انسان پرایک تجربہ گزرتا ہے جواس کی تمام خوش گمانیوں الٹ دیتا ہے۔ وہ صدماتی تجربہ اس کی زندگی کی تمام لذات کا خاتمہ کردیتا ہے۔ یہ تجربہ موت کا تجربہ ہے۔ موت کا تجربہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں اس کے پاس آسما نی فیصلوں کو قبول کرنے کے سوا، کوئی چارہ نہیں ہے۔
وینزوئیلا کے صدرہوگو شاویز (28 July 1954 – 5 March 2013 ) جنوبی امریکہ کے بہت ہی طاقتور لیڈر تھے۔ انھوں نے امریکہ اور یوروپ کے کسی دبائو کو کبھی برداشت نہیں کیا۔ محض  58 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے ان کی موت ہوگئی ۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے آخری وقت میں کامریڈ کو بلا یا۔ وہ اس سے کچھ کہنا چاہ رہے تھے لیکن کمزوری کے سبب کچھ بول نہیں پا رہے تھے، تبھی کامریڈ نے اپنا کان ان کے منھ میں لگا دیا۔ تواس نے سنا۔
"کامریڈ ، میں مرنا نہیں چاہتا ہوں ، برائے مہربانی تم مجھے بچا لو، تم مجھے مرنے مت دو۔"     
I do not want to die, please do not let me die) (
Mail Online 7, March 2013
قرآن میں زندگی کی اس حقیقت کا بیان ان الفاظ میں ہوا ہے: "ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہوگئی، اورکل وہی نباتات بھس بن کر رہ گئ جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے" 18- 45 ))

منگل، 3 مئی، 2016

نہیں بات یہ ہے کہ وہ یتیم کی تکریم نہیں کرتے

محمد آصف ریاض
اگرایک شخص یہ کہے کہ خدا نے مجھے عزت دی، خدا نے مجھے دوسروں پرفضیلت دی، خدا نے مجھے مال اوراولاد والا بنا یا ،خدا نے مجھے علم ودانش سے نوازہ، تو آپ یہ سمجھیں گے کہ یہ تمام شکرکے الفاظ ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ خدا نے ان تمام الفاظ کو ناشکری کے خا نے میں رکھا ہے۔
قرآن کا بیان ہے: " مگرانسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اسے آزما ئش میں ڈالتا ہے اوراسے عزت اورنعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھےعزت دی، اورجب وہ اسکو آزمائش میں ڈالتا ہے اوراس کا رزق اس پرتنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔" ( سورہ الفجر آیت 15- 16 )
یہاں دومتضاد باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جب وہ انسان کوعزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی اورجب وہ اس کا رزق تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کیا۔
قرآن کے اس بیان میں بظاہرایک رویہ شکرکا ہے"خدا نے مجھے عزت دی" اوردوسرا رویہ ناشکری کا  "خدا نے مجھے ذلیل کیا" لیکن قرآن نے ان دونوں رویوں کوناشکری کے خانے میں رکھاہے۔
مثلاً قرآن میں اس بیان کے فوراً بعد آگے بیان ہوا ہے : " ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم سےعزت کا سلوک نہیں کرتے، اورمسکین کو کھانا کھلانے پرایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے، اورمیراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔"
ایسا کیوں ہوا کہ خدا نے بظاہرشکرکے الفاظ بولنے والے اورناشکری کے الفاظ بولنے والے دونوں قسم کے انسان کو ایک ہی خانے یعنی نا شکری کے خانے میں رکھا؟
اصل بات یہ ہے کہ اللہ انسان کی بولیوں پرنہیں جا تا، وہ اس کے عمل پرجا تا ہے۔ ایک شخص جسے خدا نے نعمت اورعزت دی، جسے شہرت اوردولت سے نوازہ گیا، اگروہ کسی مجمع یا تنہائی میں خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہے کہ خدا نے مجھے یہ دیا، خدا نے مجھے وہ دیا، خدا نے مجھے فضیلت دی ، خدا نے مجھے حاجی بنایا، خدا نے مجھے غازی بنایا ، خدا نے مجھے علم والا بنایا تودرحقیقت وہ اپنے رب کی بڑائی بیان نہیں کررہا ہے، وہ خود اپنی بڑائی بیان کررہا ہے۔ بظاہر وہ خدا کا نام لے رہا ہے لیکن درحقیقت وہ اپنا اچیومنٹ بتا رہا ہے۔  
یہاں جو یہ کہا کہ " یتیم کا اکرام نہیں کرتے"، یہ بہت ہی معنی خیزبات کہی ۔ یتیم کون ہوتا ہے؟ یتیم درحقیقت کسی سماج کا سب سے کمزورانسان ہوتا ہے۔ اورسماج کے سب سے کمزورانسان کی عزت وہی شخص کرسکتا ہے جوحقیقی معنوں میں اللہ والا ہو، جس نے اپنے ایگو کو اللہ کے لئے کرش کر دیا ہو، جو فخرو مباہات کی نفسیات سے نکل کر تواضع کی نفسیات میں جی رہا ہو۔ ایسا کوئی بھی شخص جو اپنے سے کمزور کی عزت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنی انانیت میں جینے والا انسان ہے، بظاہروہ زبان سے للاہیت کے جتنے بھی الفاظ بولے خدا کے یہاں ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں۔
یتیم کی تکریم کا حکم دے کرخدا یہ بتا رہا ہے کہ انسان کوچاہئے کہ وہ ہروقت تواضع کی نفسیات میں جئے، وہ سرکشی اور کبر کی نفسیات کو چھوڑدے، اور جب کوئی بات بولے توخوب سوچ لے کہ کہیں وہ شکرکے الفاظ کے پردے میں خود اپنے ایگو (ego)کی فیڈ نگ تو نہیں کررہا ہے؟ کیونکہ ایسا کر کے وہ انسان کودھوکہ دے سکتا ہے لیکن وہ خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ خدا نے پہلے ہی خبردار کردیا ہے" تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات کوبھی جانتا ہے۔"

وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى

پیر، 29 فروری، 2016

اپنے حریف کی کمزوری کو جانئے


اپنے حریف کی کمزوری کو جانئے
محمد آصف ریاض
اٹھائیس فروری، 2016 کے اردو اخبار میں ہندوستان کے معروف پہلوان دلیپ سنگھ رانا (گریٹ کھلی) سے متعلق ایک خبرشائع ہوئی ہے۔ اس خبرمیں بتایا گیا ہے کہ ہلدوانی میں ایک پہلوانی مقابلہ کے دوران گریٹ کھلی اپنے کناڈیائی حریف Brody Steel کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا گئے۔ بروڈی اسٹیل نے نہ یہ کہ گریٹ کھلی کو شکست دی بلکہ انھیں مارکر بری طرح زخمی بھی کردیا۔
کھلی کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرا یا گیا جہاں ان کے سرمیں سات ٹانکے لگا ئے گئے۔ آئی سی یو سے نکل کر کھلی نے ناشتہ کیا۔ ناشتہ میں انھوں نے 35 انڈے ، 5 کلو دودھ،  7 برگر اور 7 گلاس جوس لیا۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ " سر کے بدلے سر پھوڑیں گے اور خون کے بدلے اپنے حریف کا خون بہائیں گے"۔ اس کے بعد ایک بار پھر وہ   دہرادون میں واقع راجیوگاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں مقابلہ کے لئے اترے اوراپنے حریف بروڈی اسٹیل سے اپنی شکست کا بدلہ لیا۔
گریٹ کھلی کے بارے میں ایک نوجوان نے بتا یا کہ کھلی پہلےاکثرجیت جاتے تھے لیکن اب وہ اکثرہار جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ انھوں نے بتا یا کہ کھلی کے پائوں کمزور ہیں، ان کا جسم کافی وزنی ہے اورجب وہ چلتے ہیں توایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پائوں ان کے جسم کا وزن نہیں اٹھا پا رہا ہے۔ پہلے ان کے حریفوں کواس کا علم نہیں تھا اور وہ کھلی کے پائوں پرحملہ کر نے کے بجائے اس کے بازئوں سے ٹکرا جاتے تھے اور نتیجہ کار ہار جاتے تھے لیکن اب انھیں کھلی کے پائوں کی کمزوری کا علم ہوگیا ہے اوراب وہ ہر مقابلہ میں کھلی کے پائوں کو نشانہ بناتے ہیں، پائوں پر حملہ ہوتے ہی کھلی زمین پر ڈھیر ہوجاتے ہیں۔
مجھے ایک واقعہ یاد آگیا
روس جب افغانستان میں داخل ہوا تو طالبان نے اس کے خلاف مورچہ سنبھال لیا۔ کئی برسوں تک لڑائی چلتی رہی اور بہت سے افغانی مارے گئے۔ تبھی 1986 میں امریکہ نے افغان لڑاکوئوں کو روس کے خلاف لڑنے کے لئے اسٹرنگر میزائل دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ میزائل ہیٹ سیکنگ Heat seeking میزائل بھی کہلا تا ہے ۔ جب افغان لڑاکوئوں کے ہاتھوں میں یہ میزائل آیا تو انھوں نے اس میزائل کے ذریعہ روس کے فائٹر پلین کو مار گرانا شروع کردیا ۔ مہینے دو مہینے کے اندرانھوں نے روس کے درجنوں فائٹر پلین گرا دئے جس کی وجہ سے روس کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجہ کار اس کے پائوں میدان جنگ سے اکھڑ گئے۔
اسٹرنگر در حقیقت ایک ہیٹ سیکنگ میزائل تھا۔ اس میں ایسا آلہ لگا ہوا تھا جو ہمیشہ ہیٹ کی تلاش میں رہتا تھا۔ جیسے ہی کوئی روسی پلین بمباری کرتا تو یہ میزائل اس کے پیچھے لگ جا تا تھا اوراسے تلاش کرکے آسمان پرہی مار گراتا تھا۔
بعد میں روسی سائنسدانوں نے اس کی کاٹ یہ نکالی کہ انھوں نے اپنے پلین میں ایک نیا سسٹم نصب کردیا۔ وہ پلین سے میزائل برساتے تھے اوراس کے ساتھ ہی پلین سے آگ کا گولہ برساتے ہوئے بھاگ جاتے تھے، اسٹرنگر چونکہ ہمیشہ ہیٹ کی تلاش میں رہتا تھا اس لئے وہ فائٹر پلین کی طرف بھاگنے کے بجائے ہیٹ کی طرف بھاگنے لگتا تھا اوراس طرح روسی پلین اپنا بچائو کرنے میں کامیاب ہو جا تے تھے۔
ہرآدمی اورہرنظام کی اپنی ایک کمزوری ہوتی ہے۔ آدمی اگراپنے حریف کی اس کمزوری کو جان لے تو اسے ہرانا بہت آسان ہوجائے۔
مضمون نگار " امکانات کی دنیا" مظفر نگر کیمپ میں" اور فتوحات کی دنیا، کے مصنف ہیں۔ ان کے مضامین پڑھنے کے لئے آپ ان کے بلاگ پر بھی جا سکتے ہیں۔

جمعہ، 15 جنوری، 2016

گھر واپسی ممکن ہے؛ لیکن یہ واپسی نئے گھرمیں بھی ہوسکتی ہے

گھر واپسی ممکن ہے؛ لیکن یہ واپسی نئے گھرمیں بھی ہوسکتی ہے
محمد آصف ریاض
جب سے بی جے پی حکومت میں آئی ہے، ہرطرف گھرواپسی کا غلغلہ ہے۔ آرایس ایس ، وشو ہندو پریشد اور ہندو مہا سبھا نامی  منووادی تنظیمیں ہرطرف گھرواپسی کا شورمچا رہی ہیں۔
گھرواپسی کے اس شورنے برادران وطن کو خاص طورسے دلتوں، آدی واسیوں اوراوبی سیزکوجنھیں ورن ویوستھا میں" شودر" کہا جا تا ہے، یہ سوچنے پرمجبورکردیا کہ آخر یہ مسلمان کون ہیں اوراگروہ گھر واپسی کریں گے تو کس گھر میں جائیں گے؟
مسلمانوں کے بارے میں ان کی ڈسکوری نے انھیں بتایا کہ یہ مسلمان کوئی دوسری مخلوق یا کوئی ایلین نہی ہیں، جیسا کہ منو وادی ان کے بارے میں انھیں بتا تے ہیں، بلکہ یہ مسلمان بھی انھیں دلتوں آدی واسیوں اوراو بی سیز کے گوشت پوست کا حصہ ہیں۔ وہ بھی انھیں کے بھائی بندھو ہیں۔
اپریل 2014 کو جب کہ موجودہ وزیراعظم مسٹرمودی اپنی انتخابی ریلیوں میں مصروف تھے، اس دوران مجھے پٹنہ جانے کا موقع ملا۔ اس سفر میں ایک ہندو جوڑے سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے مجھے بتا یا:
"مسلمان کون ہیں؟ مسلمان میرے ہی بھائی ہیں۔ وہ میرے ہی گوشت پوست کا حصہ ہیں ۔ ہم دو بھائی تھے ایک کو اسلام پسند آیا تواس نےاسلام قبول کر لیا اور ہم ہندو رہ گئے ۔ اب اگر کوئی میرے بھائی کو مارے گا، یا اسے برا بھلا کہے گا تو کیا ہم چپ بیٹھے دیکھتے رہیں گے؟ ہر گز نہیں۔" جب وہ بول رہا تھا تو اس کی بیوی وہیں بیٹھ کراسے بغور سن رہی تھی اورمیں مسکرا رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ آج ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو پہچان لیا۔ اوراس کے لئے ہمیں ان منو وادیوں کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہئے جو گھر واپسی کی مہم چلا رہے ہیں۔
اب ایک دوسرا واقعہ سنئے۔ 9 جنوری 2016 کومیں اپنی بیوی اوربچوں کے ساتھ دہلی کتاب میلہ میں گیا ہوا تھا۔ میں بذریعہ آٹو وہاں گیا تھا۔ راستے میں ڈرائیورسے بات چیت ہونے لگی ۔ یہ ڈرائیور یوپی کے متھرا شہرکا رہنے والا تھا۔ اس نے بات چیت کے دوران مجھ سے جو کچھ کہا اسے میں یہاں نقل کرتا ہوں۔ اس نے کہا: 
"ہندوستان میں بہت کم مسلمان باہرسے آئے ہیں۔ یہ یہاں کے دلت آدی واسی، اوراوبی سیزتھے جھنوں نے منووادیوں کی تھوپی ہوئی سماجی نا برابری، ظلم اورجہالت کے خلاف آوازبلند کی اوراسلام دھرم کو اپنا لیا۔ وہ میرے بھائی بندھو ہیں۔ اورمنو وادی ان سے اسی لئے نفرت کرتے ہیں کیوں کہ وہ ہم میں سے ہیں۔"
میں سوچنے لگا کہ ہرعمل کا ایک رد عمل ہو تا ہے۔ اورمنو وادیوں نے جس زور شور سے گھر واپسی کا ہنگامہ کھڑا کیا ہے اس سے برادران وطن میں (منو وادیوں کو چھوڑ کر) یہ پیغام گیا کہ وہ مسلمانوں کے بارے میں از سر نو جانکاری حاصل کریں اوراس جانکاری نے انھیں بتا یا کہ مسلمان دوسرے نہیں ہیں وہ انھیں ہندوئوں میں سے ہیں جنھیں منو وادی شودریا انٹچیبل کہتے ہیں۔
گھر واپسی کا معاملہ
بلا شبہ منو وادیوں نے گھر واپسی کا معاملہ اٹھا کر بہت  بڑی غلطی کی ہے۔ وہ یہ بھول رہے ہیں کہ مسلمان ان کی نگاہ میں ایلین ہوسکتے ہیں لیکن وہ عام ہندوئوں کی نگاہ میں ایلین یا کوئی اجنبی مخلوق نہیں ہیں۔ گھر واپسی کے امکان سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن یہ واپسی پرانے گھر میں ہی ہو یہ ضروری نہیں ہے ، یہ واپسی نئے گھر میں بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ایسا  دیکھا گیا ہے لوگ بہت مشکل سے اپنے لئے ایک نیا گھر بناتے ہیں اورجب کوئی نیا گھر بنا لیتا ہے تو پھروہ پرانے گھرمیں واپس جا نا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ اس بات کا امکان کافی بڑھ گیا ہے کہ مسلمانوں کےوہ بھائی جو اپنے پرانے گھرمیں رہ گئے ہیں، وہ اپنے بھائی کے نئے گھرکے دروازے پردستخط دینا شروع کردیں۔ یعنی واپسی ہو گی۔ لیکن یہ واپسی نئے گھر کی طرف ہوگی ۔ اوراگرایسا ہوا تو یقیناً منووادیوں کو بڑی تکلیف ہوگی اوراس تکلیف کے لئے وہ خود ہی ذمہ دار ہوں گے۔
ایک مثال:
امرائو سلودیا 1978 بیچ کے آئی ایس آفیسر ہیں۔ قانون کے مطابق انھیں 31 دسمبر2015 کو راجستھان چیف سکریٹری کے عہدے پر فائز ہوجا نا تھا اوراگر ایسا ہوتا تو وہ ریاست کے پہلے دلت چیف سکریٹری ہوتے۔ لیکن سلودیا کو پرموشن نہیں دیا گیا اوران کی جگہ موجودہ چیف سکریٹری کی مدت میں توسیع کر دی گئی۔ ایسا اس لئے کیا گیا کیونکہ سلودیا دلت تھے۔ سلودیا کو یہ بات ناگوار گزری اورانھوں نے بے انصافی کے خلاف لڑتے ہوئے مسلمان بن جانے کا اعلان کردیا۔ دی ہندواخبار نے اس واقعہ کی رپورٹنگ ان الفاظ میں کی ہے:  
After being denied the promotion that would make him the State’s Chief Secretary, senior IAS officer Umrao Salodia, a 1978 batch IAS officer from the Dalit community, on Thursday, appealed to Chief Minister Vasundhara Raje for Voluntary Retirement. Mr. Salodia, who alleged the Raje government of “victimising him on the basis of caste” also converted to Islam, on Thursday
مسٹر سلودیا کا یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ گھر واپسی کی مہم منووادیوں کے لئے الٹی بھی  پڑسکتی ہے۔ جو لوگ یہ مہم چلا رہے ہیں انھیں جاننا چاہئے کہ وہ کسی کواس کے نئے گھرسے نکال کرواپس پرانے گھر میں نہیں دھکیل سکتے، اور نہ ہی وہ کسی کو نیا گھر بنانے سے روک سکتے ہیں۔

ہفتہ، 9 جنوری، 2016

نرمی باقی رہنے والی چیز ہے اور سختی باقی نہیں رہتی

نرمی باقی رہنے والی چیز ہے اور سختی باقی نہیں رہتی
محمد آصف ریاض
جنوری 2016 کو نئی دہلی میں کچھ  لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک معا ملہ پراپنی بے چینی کا اظہار کررہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ صبرکیجئے کیونکہ اللہ تعا لیٰ صبرکرنے والوں کے ساتھ۔ ہے۔ میں نے انھیں قرآن کی یہ آیت پڑھ کرسنائی۔ فصبركَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ " پس اے نبی صبر کرو جس طرح اولو العزم رسولوں نے صبر کیا"۔ 46:34  
میری اس بات پرایک صاحب بھڑک اٹھے اورکہنے لگے کہ آدمی کب تک صبر کرے گا؟ وہ کب تک بچ بچ کرچلتا رہے گا؟ میں  نے جواب دیا کہ اسی کا نام تقویٰ ہے۔ پھرمیں نے انھیں حضرت عمرکا ایک واقعہ سنا یا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابی بن کعب سے تقویٰ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے پوچھا کہ اے کعب تقویٰ کیا ہے؟ حضرت کعب نے جواب ديا امیرالمومنین آپ کبھی خار دار وادیوں سے گزرے ہیں ؟ جواب ملا ہاں! أبی بن کعب نے پوچھا : کس طرح گزرے ؟ حضرت عمرنے جواب دیا: دامن کوبالکل سميٹ لیا تھا اور بچ بچ کر چلتا تھا، حضرت کعب نے فرمایا اے امیرالمومنین یہی تقویٰ ہے۔ ( تفسير ابن کثير : 1/43)
اصل بات یہ ہے کہ یہ دنیا ناساز گار حالات سے بھری پڑی ہے اوران ناساز گارحالات سے بچ بچ کر نکل جانے کا نام تقویٰ ہے۔ لیکن میری ان باتوں کا میرے سامعین پر کوئی اثرنہیں پڑا۔ وہ اب بھی اپنی بے صبری کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
اس دوران ایک بوڑھے شخص نے ایک اوربات کہی جو مجھے پسند آئی۔ اس نے کہا کہ انسان کے پاس منھ ہے۔ اس میں زبان بھی ہے اور دانت بھی۔ زبان نرم ہوتی ہے اوردانت سخت۔ لیکن جب انسان بوڑھا ہوکرمرجا تا ہے تو اس کے سارے دانت جھڑ جاتے ہیں لیکن اس کی زبان باقی رہ جاتی ہے۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ نرمی باقی رہنے والی چیز ہے اور سختی باقی نہیں رہتی۔
اس بوڑھے شخص کی بات سن کر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آگئی۔
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا : یعنی  مشکل کے ساتھ آسانی ہے؛ پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔  

منگل، 28 جولائی، 2015

کمزوری آپ کو تباہ نہیں کرتی، یہ آپ کی طاقت ہے جو آپ کو تباہ کر دیتی ہے

کمزوری آپ کو تباہ نہیں کرتی، یہ آپ کی طاقت ہے جو آپ کو تباہ کر دیتی ہے

محمد آصف ریاض
فرید زکریا معروف انڈین اسکالررفیق زکریا کے بیٹے ہیں ۔ وہ عالمی شہرت یافتہ سیاسی مبصراورتجزیہ نگارہیں۔ وہ امریکہ میں رہتے ہیں۔ 2014 تک وہ ٹائم میگزین کے ایڈیٹررہے، اس کے ساتھ ہی وہ ایشیا سے متعلق اوبامہ کی صلاح کارٹیم میں بھی کام کر چکے ہیں۔ انھوں نے سن جرنل (Sun Journal) میں ایک مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے:
"ہماری توجہ سے دور چین اپنی کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔"
 (Outside our focus, China marches on)
مسٹرزکریا نے لکھا ہے کہ جنوری 2007 میں جبکہ جارج ڈبلیو بش عراق میں مزید فوجی کمک بھیجنے کا حکم صادر فرما رہے تھے، میں ایک چینی کمیونسٹ دوست کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ کھانے کے دوران میں نے پوچھا کہ عراق میں مزید فوج بھیجنے کے امریکی فیصلے کوچین میں کس طرح لیا جا رہا ہے تواس کا جواب بہت ہی اثر دار تھا۔ اس نے کہا:
" ہم تو یہ چاہیں گے کہ تم اپنی ساری فوج عراق بھیج دو اور وہاں اگلے 10 سال تک مصروف جنگ رہو۔ اس درمیان ہمیں اپنی معیشت کو ٹھیک کرنے کا موقع مل جائے گا۔"
     "We would hope that you would send the entire American Army into Iraq and stay for another 10 years. Meanwhile, we will keep building up our economy."
مسٹرزکریا نے لکھا ہے کہ مجھے یہ بات اس ہفتے اس وقت یاد آگئی جبکہ میں جنوبی ایشیا کےدورے پرتھا ۔ میں نے دیکھا کہ " مغربی دنیا آئی ایس، ایران اور یونان کے معاملہ میں مصروف رہی۔ اس درمیان چین نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوگیا بلکہ اس نے خطے میں نئے قسم کی جغرافیائی سیاسیات کا آغاز بھی کردیا۔"
ایک اورمصنف نے اپنے مضمون میں چینی پہل جیسےایشیا ڈیولپمنٹ بینک، ایشیا انفراسٹرکچرانوسٹمنٹ بینک اورسنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ (non-West ) یعنی غیر مغرب کا عروج ہے۔
یوروپ اورامریکہ کی تباہی بتا رہی ہے کہ ہرجنگ دو طرفہ تباہی پرختم ہوتی ہے۔ کوئی بھی جنگ یکطرفہ تباہی پرختم نہیں ہوتی۔ جنگ کے بارے میں یہ کہا جا تا ہے کہ آپ اپنی منشا کے مطابق اسے شروع کر سکتے ہیں لیکن آپ اپنی منشا کے مطابق اسے ختم نہیں کر سکتے۔ یعنی جنگ کا آغاز آدمی کے اپنے ہاتھوں میں ہے لیکن اس کا انجام اس کے ہاتھوں میں نہیں۔
افغانستان برباد ہوا تواس کے ساتھ روس بھی کئی ٹکڑوں میں منقسم ہو کربکھر گیا۔ عراق برباد ہوا تو اس کے ساتھ ہی امریکہ اوریوروپ بھی برباد ہوگیا۔ یونان، اسپین ، اٹلی اور یوروپ کے دوسرے ممالک میں آج جو اتھل پتھل ہے اس کی تاریں کہیں نہ کہیں عراق اورافغانستان جنگ سے جڑی ہوئیں ہیں۔
تاریخ کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ تما بڑی طاقتیں اس وقت تباہ ہوئیں جبکہ وہ اپنے شباب پر تھیں۔ مثلاً فرعون اس وقت تباہ ہوا جبکہ اس کی حکومت شباب پرتھی۔ رومن اورایرانی ایمپائراس وقت تباہ ہوئے جبکہ وہ طاقت کے نشے میں تھے۔ روس اس وقت ٹوٹا جبکہ وہ عہد شباب پر تھا۔ یوروپ اور امریکہ اس وقت ٹوٹ رہا ہے جبکہ یہ طاقتیں عہد شباب میں ہیں۔
یاد رکھئے" کمزوری آپ کو تباہ نہیں کرتی، یہ آپ کی طاقت ہے جو آپ کو تباہ کر دیتی ہے۔" اگر آپ کمزور ہیں تو یہ بہت خطرے کی بات نہیں، خطرہ اس وقت ہے جبکہ آپ طاقت میں ہوں۔ تو جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم زمین پرطاقت حاصل ہے اس لئے ہمیں کوئی خطرہ نہیں، انھیں جاننا چاہئے کہ قومیں ہمیشہ اپنی طاقت کے ساتھ ختم ہوئی ہیں، وہ بے طاقتی کے ساتھ ختم نہیں ہوئیں۔
عاد ، ثمود اور میخوں والے، سب طاقت کے ساتھ ختم ہوئے ، ان میں سے کوئی بے طاقتی کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ تو اگر آپ طاقت والے ہیں تو سنبھل کر چلئے کہ آپ کے گرنے کا اندیشہ زیادہ ہے۔
معروف اردو شاعرمیرتقی میراپنے اشعار میں شاید اسی نکتے کی وضاحت کرنا چاہ رہے تھے:  
کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر!
میں بھی کبھو کسو کا سرِ پُر غرور تھا۔