جمعرات، 19 مارچ، 2015

دیکھئے کہ آپ کس کو رد کر رہے ہیں

دیکھئے کہ آپ کس کو رد کر رہے ہیں

محمد آصف ریاض
عبد الغفارصدیقی صاحب جماعت اسلامی کے ایک سینئررکن ہیں۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں اورشعبہ دعوت سے منسلک ہیں۔ مارچ 2015 کوان سے ان کے دفترمیں ملاقات ہوئی۔ وہ بہت سادہ انسان ہیں اورنہایت سادگی کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ جس وقت میں ان سے مل رہا تھا وہ کسی اہم کام میں کمپیوٹرپرمصروف تھے۔ انھوں نے مجھے دیکھتے ہی کمپیوٹرآف کردیا اورکہنے لگے کہ اب کام بعد میں کریں گے۔ خلیفۃ الارض سے ملاقات ہو تو اس پرکسی دوسری چیزکوترجیح نہیں دی جا سکتی۔ یہ کہہ کر وہ مجھ سے دعوت کے موضوع پرگفتگو شنید کرنے لگے۔
مجھے ان کی بات پسند آئی ۔ ایک ایسے بھاری دورمیں جہاں ہرطرف انسانیت کراہ رہی ہو وہاں احترام انسانیت کی بات کرنا بلا شبہ گھپ اندھرے میں روشنی کا چراغ جلا نا ہے۔ بقول احمد فراز"ہم ایک ایسے دورمیں رہتے ہیں جہاں لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا چاہتے ہیں"۔
میرا اس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں
لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا چاہتے ہیں
اصل بات احترام انسانیت کی ہے۔ آدمی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اگراس کے اندراحترام انسانیت نہیں تو وہ خدا کے یہاں پسندیدہ بھی نہیں ۔ وہ درحقیقت شیطان کا بھائی ہے۔ کیونکہ یہ شیطان ہے جس نے سب سے پہلےاحترام انسانیت کورد کیا تھا۔
قرآن میں احترام انسانیت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: " جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اوروجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اورجس نے کسی کی جان بچائی اس نےگویا تمام انسانوں کوزندگی بخش دی"۔ 5: 32))
حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے روایت ہے کہ روسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے افضل درجہ انسان کا ہوگا ، کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول کیا فرشتوں سے بھی ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، فرشتوں سے بھی۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ، رقم الحدیث: 14509)
بائبل میں احترام انسانیت کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں :"پھرخُدا نے کہا کہ ہم اِنسان کواپنی صُورت پراپنی شبیہ کی مانند بنائیں اوروہ سمندر کی مچھلیوں اورآسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اورسب جانداروں پرجو زمین پر رینگتے ہیں اِختیاررکھیں۔"
Then God said, "Let us make mankind in our image, in our likeness, so that they may rule over the fish in the sea and the birds in the sky, over the livestock and all the wild animals, and over all the creatures that move along the ground."

Genesis 1:26
قرآن میں ہے: اور یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اورانھیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اورانھیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اوراپنی بہت سی مخلوق پرانھیں فضیلت عطا فرمائی" 17: 70) (
احترام انسانیت کورد کرنا ایسا ہے جیسے کسی نے خدا کو رد کردیا، اورشیطان نے یہی کیا تھا۔ اس نے انسان کے معاملہ میں تکبر سے کام لیا۔ اس نے کہا ہم آگ سے پیدا کئے گئے ہیں اورانسان خاک سے، ہم اس کے سامنے کیوں جھکیں؟ آج کے لوگوں کا حال بھی یہی ہے۔ وہ کسی نہ کسی صورت احترام انسانیت کو رد کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی کو نادان قرار دے کر، کبھی کسی کوحقیر بتا کر، کبھی کسی کو غیرمہذب بتا کر، کبھی کسی کو مفلس اور نادار قرار دے کر، کبھی کسی کو مجنون اوردیوانہ بتاکر۔
ہردورمیں انسان نے انسانیت کی تحقیرکی اوراس کے لئے اسی طرح کے جواز پیش کئے جس طرح کا جواز شیطان نے پیش کیا تھا۔ آدمی احترام انسانیت کو رد کردیتا ہے، حالانکہ احترام انسانیت کو ردکرنا خود خدا کو رد کرنا ہے۔ کاش انسان کو یہ سمجھ ہوتی!

پیر، 16 مارچ، 2015

جہالت کے ساتھ ذلت لگی رہتی ہے

جہالت کے ساتھ ذلت لگی رہتی ہے

محمد آصف ریاض
کل اتوارکا دن تھا اورمارچ 2015 کی 15 تاریخ تھی۔ میں معروف اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خان کا لکچر سننے کے لئے ویسٹ نظام الدین دہلی گیا ہوا تھا۔ وہاں مولانا کی تقریرکے بعد گڈ ورڈس سے کچھ کتابیں خریدنے لگا۔ یہاں گڈ ورڈس میں کچھ بہترین اورمعیاری کتابیں بہت کم قیمت پرمل جاتی ہیں۔ تویہاں میں نے تین چارکتابیں خریدیں۔
کائونٹرپرسلیم احمد صاحب (تاجر) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مسلمانوں کی حالت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ہے کہ مسلمان علم کے خریدار نہیں بن رہے ہیں ۔ اتنی اچھی اچھی کتابیں بازاروں میں آتی ہیں لیکن میں مسلمانوں کو بہت کم کتاب خریدتے ہوئے دیکھتا ہوں ۔ وہ کتابوں پر پیسہ خرچ کرنا نہیں چاہتے۔
میں نے کہا کہ آپ صحیح فرما رہے ہیں۔ لیکن اگر یہی بات آپ مسلمانوں یا ان کے لیڈران سے کہیں تو وہ کہیں گے کہ غربت کی وجہ سے ایسا ہے۔ حالانکہ جس وقت وہ یہ بات کہہ رہے ہوں گے ان کے پان کی لالی ان کی غربت کو جھٹلا رہی ہوگی۔ اصل بات غربت کی نہیں ہے ۔ اصل بات کنسرن کی ہے۔ مسلمانوں کا کنسرن زیادہ کما نا اورزیادہ کھانا بن چکا ہے۔ چنانچہ وہ گدھے کی طرح کماتے ہیں اورگدھے کی طرح کھالیتے ہیں۔
میں نے انھیں بیربل کا ایک واقعہ سنایا۔ کہا جا تا ہے کہ ایک بار کسی وجہ سے ناراض ہوکراکبر نے بیربل کو ملازمت سے نکال دیا۔ بیربل بے روزگارہو گیا تو روزگار کی تلاش میں شہر میں نکل پڑا۔ اسی دوران اس کی ملاقات ایک نواب سے ہوئی۔ اس نے نواب کے یہاں ملازمت کی درخواست دی۔ نواب نے کہا کہ بربل آپ تو بہت پڑھے لکھے اور ہوشیار آدمی ہیں آپ میرے بچے کو پڑھا ئیے! بیربل نے کہا ٹھیک ہے لیکن یہ تو بتائے کہ میری تنخواہ کتنی ہوگی؟ نواب نے جواب دیا 20 درہم ۔ بیربل نے نہایت سادگی سے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ آپ اپنے کوچوان کوکیا دیتے ہیں۔ نواب نے جواب دیا 100 درہم۔ اس پربیربل نے کہا کہ آپ اپنے بچے کو پڑھا کیوں رہے ہیں اسے کوچوان بنائیے۔
یہی حال مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی قیمت (price)  چکانے کے لئے تیار نہی ہیں۔ وہ عملاً اپنے بچوں کوکوچوان بنا نے پر راضی ہیں، اور اسی لئے ذلت کی زندگی گزارتے ہیں۔

ہفتہ، 14 مارچ، 2015

دیکھئے کہ آپ کا عمل کیا کہہ رہا ہے

دیکھئے کہ آپ کا عمل کیا کہہ رہا ہے
محمد آصف ریاض
7 فروری 1015 کو دہلی اسمبلی کا انتخاب ہوا۔ اس انتخاب میں وزیراعظم مودی نے بلند و بانگ نعرے لگائے۔ انھوں نے ان تمام نعروں کو دہرایا جو وہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی کے ساتھ لگا چکے تھے۔ چونکہ دہلی میں بڑے پیمانے پر لوگ جھگی جھونپڑی میں رہتے ہیں اور15 سے 20 سیٹوں پروہ  فیصلہ کن رول ادا کرتے ہیں اس لئے جناب مودی نے ایک نیا نعرہ دیا ۔ وہ نعرہ تھا "جہاں جھگی وہیں مکان"۔
مانا یہ جا رہا تھا کہ مودی صاحب  کے اس نعرہ کا بڑا فائدہ ہوگا۔ لیکن انتخاب کا نتیجہ بہت الٹا نکلا ۔ مودی صاحب کی پارٹی 70 میں صرف 3 سیٹیں ہی حاصل کر سکی۔
اہل دہلی نے مسٹرمودی کو بری طرح مسترد کردیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جناب مودی کا قول کچھ اورتھا اوران کا عمل کچھ اور۔ ان کا عمل  ان کے قول کی تائید نہیں کر رہا تھا۔ مثلاً جب دہلی میں صدارتی حکومت قائم تھی توکئی جھگی جھونپڑیوں کو بلڈوز کردیا گیا تھا۔ دہلی میں قانون انتظامیہ کی حالت خستہ تھی۔ کلیسائوں پرمسلسل حملے ہو رہے تھے۔ فرقہ پرست طاقتیں آزادانہ گھوم رہی تھیں۔ اور یہ سب اس وقت ہورہا تھا جبکہ وزیراعظم خود دہلی میں موجود تھے اوران کی عظیم الشان حکومت نہایت آن بان کے ساتھ قائم تھی۔ الغرض یہ کہ تمام خوشنما وعدوں کے با وجود وزیراعظم مودی دہلی نہ جیت سکے اور وجہ صرف ایک تھی وہ یہ کہ ان کا عمل ان کے قول کو سپورٹ نہیں کر رہا تھا۔
یہی حال مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان لوگوں کو قرآن و حدیث کی باتیں بتا تے ہیں لیکن کوئی بھی ان کی خوبصورت بولی کا خریدار نہیں بنتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ جو کچھ بولتے ہیں ان کا عمل اس کی نفی کرتا ہے۔ مثلاً مسلمان امن کی بات کرتے ہیں اورعملاً بد امنی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے علما عجز کی بات کرتے ہیں اورعملاً سرکش بنے رہتے ہیں۔
مسلمان ہوں یا مودی اگروہ صرف لوگوں کواپنا قول دیتے رہیں توانھیں ہر گز کامیابی ملنے والی نہیں ہے ۔ انسان بہرحال عمل کا خریدارہوتا ہے وہ قول کا خریدار نہیں ہوتا ۔ وہ درخت سے زیادہ اس کے پھولوں اور پھلوں کا طالب ہوتا ہے۔ آدمی کا ایک عمل اس کے بلین قول پر بھاری ہے۔
ایک مثال
اب میں یہاں قول و عمل کے بارے میں پیغمبراسلام کی زندگی سے ایک نمونہ پیش کروں گا۔ مکہ میں ایک بڑھیا رہتی تھی ۔ وہ اکثر پیغمبراسلام پر اپنی چھت سے کوڑا ڈال دیتی تھی ۔ پیغمبر اسلام اسے در گزر فرماتے ہوئے لوگوں کو نصیحت کرتے رہتے تھے۔
ایک دن ایسا ہواکہ بڑھیانےحسب معمول آپ پرکوڑا نہیں ڈالا ۔ آپ اس کے گھر گئے تو پتہ چلا کہ وہ بیمار ہے۔ آپ نے اس کی عیادت کی۔ بڑھیا کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ ماں تمہارا کیا حال ہے۔ بڑھیا آپ کو دیکھ کرحیران رہ گئی۔ اس نے پوچھا تم یہاں کیوں آئے ہو؟ آپ نے فرمایا کہ معلوم ہوا ہے کہ آپ بیمار ہیں تو آپ کی عیادت کے لئے آگیا۔ یہ سن کر بڑھیا رونے لگی۔ اس نے کہا دنیا تم کو مذمم (جس کی مذمت کی جائے)کہتی ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ تو محمد  (جس کی تعریف کی جائے) ہے۔  یہ کہہ کر وہ مسلمان ہو گئی۔ 

جمعہ، 13 مارچ، 2015

متقیوں کا سردار

متقیوں کا سردار
محمد آصف ریاض
آج صبح قرآن کی تلاوت کے بعد دوسری کتابوں کا مطالعہ کررہا تھا تبھی بچوں نے 'کرکرے' کا مطالبہ کردیا۔ تینوں بچے یحییٰ، مدیحہ اورانیقہ نےاسرارکیا کہ ابوآج بلکہ ابھی ہم لوگوں کو 'کرکرے' دلائیے۔ میں انھیں لے کر قریب کی ایک دکان میں گیا اور تین پیکٹ کرکرے لے کرسبھی کو ایک ایک پیکٹ دے دیا۔ تینوں بچے بہت خوش ہوئے ۔ میں بستر پرتکیہ لگاکر بیٹھ گیا اوردوبارہ پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔
میرے بچے بھی میرے قریب ہی بیٹھ  گئے اورکرکرے کھانے لگے۔ میں نے اپنا ایک ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا۔ بیٹی نے اس میں کچھ کرکرے رکھ دیا پھربیٹے نے اپنے پیکٹ سے کر کرے نکال کرمیرے ہاتھوں میں رکھ دیا، پھر چھوٹی بیٹی نے بھی ایسا ہی کیا۔ میں نے اپنا ہاتھ واپس نہیں کھینچا۔ بچوں نے دوبارہ میرے ہاتھوں میں کرکرے رکھنا شروع کردیا یہاں تک کہ میرا ہاتھ بھرگیا۔ اب بچوں نے کہا کہ ابواسے کھالیں۔ میں نے اس میں سے تھوڑا لیا اورپھرانھیں واپس کردیا۔
بچوں کے اس عمل کو دیکھ کرمیرے دل سے یہ دعا نکلی کہ خدایا تو میرے بچوں کو دنیا داری سے بچا اورانھیں ان کی فطرت پرقائم رکھ ۔ کیونکہ آدمی جب تک اپنی فطرت پرقائم رہتا ہے وہ لوگوں کے لئے اورخود اپنے ماں باپ کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا رہتا ہے لیکن جیسے ہی وہ دنیا داری کی زد میں آتا ہے اس میں بھی وہی خرابی پیدا ہوجاتی ہے جو برو بحرمیں پھیلی ہوئی ہے اورجسے قرآن میں فساد فی البروالبحر کہا گیا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے میری زبان پرقرآن کی یہ آیت آگئی :" اے ہمارے رب ہمیں اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اورہمیں متقیوں کا سرداربنا" 25: 72) (
بات یہ ہے کہ اس دنیا میں ہرصاحب اولاد سردارہے۔ اب اگراس کی اولاد ناخلف ہے تو وہ زمین پرنا خلفوں کا سردار ہوگا اوراگر اس کی اولاد متقی ہے تو وہ زمین پر متقیوں کا سردار کہلائے گا۔

جمعرات، 5 مارچ، 2015

آدمی پتھر پر پتھر جمع کر کے خوش ہوتا ہے

آدمی پتھر پر پتھر جمع کر کے خوش ہوتا ہے

محمد آصف ریاض
تاریخ  کی کتابوں میں درج ہے کہ اسپین کے سلطان عبد الرحمٰن الناصرنے جب قرطبہ میں الزہرا نامی محل تعمیرکرلیا توایک دن وہ نہایت پرشکوہ اندازمیں سونے کے تخت پر بیٹھا۔ وہاں اس کے امرا اور درباری موجود تھے۔ سلطان نے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی سنا ہے کہ کسی نے ایسا عالی شان محل تعمیر کیا ہو۔ درباریوں نے خوب تعریف کی۔ لیکن قاضی منذر وہاں سرجھکائے بیٹھے رہے۔ آخرمیں بادشاہ قاضی منذرکی طرف مخاطب ہوا اوران سے ان کی رائے مانگی۔
قاضی منذرروپڑے اورکہا کہ خدا کی قسم مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ شیطان تمہارے اوپراتنا زیادہ قابو پالے گا کہ وہ تم کو کافروں کے درجہ تک پہنچا دے۔ سلطان نےعاجزی کے ساتھ کہا کہ دیکھئے آپ کیا کہہ رہے ہیں اورکس طرح آپ مجھے کافروں کے درجہ تک پہنچا رہے ہیں۔ اس کے بعد قاضی منذرنے قرآن کی سورہ الزخرف کی تلاوت کی۔
"اوراگریہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پرہوجائیں تورحمٰن کے ساتھ کفرکرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنادیتے۔ اورزینوں کو بھی جن پر وہ چڑھا کرتے ہیں، اوران کے گھروں کے دروازے اور تخت کو بھی جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں اور سونے کے بھی، اوریہ سب یوں ہی دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک صرف پرہیزگاروں کے لئے ہے۔" قرآن  43:33-35
یہ واقعہ پڑھ کر مجھے ایک اور واقعہ یاد آگیا ۔ یہ واقعہ انجیل میں اس طرح درج ہے۔ انجیل میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنے اصحاب کے ساتھ  کسی شہر سے گزر رہے تھے۔ شہر کی پر شکوہ عمارتوں کو دیکھ کر آپ کے اصحاب احساس عجب کے شکار ہوگئے اور کہنے لگے" استاذ دیکھ کیسی کیسی عمارتیں ہیں اور کیسے کیسے محل! حضرت مسیح نے جواب دیا تو ان عمارتوں پرمرتا ہے، سن! خدا کی قسم کوئی پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا جو گرا نہ دیا جائے گا۔"
As Jesus was leaving the temple, one of his disciples said to him, “Look, Teacher! What massive stones! What magnificent buildings!”
Do you see all these great buildings?” replied Jesus. “Not one stone here will be left on another; everyone will be thrown down.”
آدمی پتھر پر پتھر جمع کرکے خوش ہوتا ہے کہ اس نے زمین پر بڑا کارنامہ انجام دے دیا ہے۔ لیکن اس دن انسان کا کیا حال ہوگا جب کہ وہ پہاڑوں کو روئی کا گالہ بن کر اڑتے ہوئے دیکھے گا اورجب آسمان کو اس طرح دیکھے گا کہ وہ ڈگمگا رہا ہوگا.

جمعرات، 19 فروری، 2015

کوشش کرنے والوں کی کبھی ہارنہیں ہوتی

کوشش کرنے والوں کی کبھی ہارنہیں ہوتی

محمد آصف ریاض
مئی 2014 کے لوک سبھا انتخابا ت کے لئے بی جے پی کے لیڈراورگجرات کے وزیراعلی نریندرداس مودی نے بہت ہی جارحانہ مہم شروع کی ۔ مسٹرمودی کوجب بی جے پی کی طرف سے وزیراعظم کا امیدواربنا یا گیا توانھوں نے ملک بھرمیں تقرباً پانچ سو ریلیاں کیں اوراپنی آتشیں تقریر کی بدولت میدان مارنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی پارٹی پوری اکثریت کے ساتھ جیت گئی اورمسٹرمودی 26 مئی 2014 کوملک کے 15 ویں وزیراعظم بن گئے۔
مودی لہرکا ملک بھرمیں ایسا رعب طاری ہوا کہ اسی رعب کی بدولت مودی نے اپنی پارٹی کو مہارشٹر، ہریانہ، اور جھارکھنڈ کے اسمبلی انتخابات میں جیت دلا دی ۔ مودی لہر نے سیاسی سمندر میں وہ طوفان اٹھا یا کہ بشمول کانگریس دوسری تقریباً تمام پارٹیاں اس طوفان میں ڈوبتی ہوئی نظر   آئیں۔ ہرسیاسی کھلاڑی مودی لہرکے سامنے بے بس نظرآرہا تھا۔ اسی اثنا میں دہلی سے ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس کا نام اروند کیجریوال تھا۔ لوگ اسے'مفلرمین' بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ سردیوں میں اپنے گلے میں معمولی قسم کا مفلر لپیٹے رہتا تھا۔
 اروند کیجریوال عام آدمی پارٹی کے کنوینراوردہلی کے وزیراعلیٰ ہیں۔ وہ بہت زیادہ محنتی لیڈرمانے جاتے ہیں۔ انھوں نے انا ہزارے تحریک سے سیاسی زندگی کا آغازکیا۔ 2012 میں انھوں نےعام آدمی پارٹی بنائی اور2013 کے انتخاب میں حصہ لیا۔ اس انتخاب میں انھوں نے پندرہ سالوں سے دہلی پر راج کرنے والی خاتون وزیراعلیٰ شیلا دکشت کو بری طرح مات دی ۔ انتخابات کے بعد 28 سیٹوں کے ساتھ وہ بی جے پی کے بعد دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کرابھرے۔ کانگریس کی مدد سے انھوں نے 23 دسمبر1913 کو دہلی کے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھا۔ لیکن چونکہ ان کی پارٹی کواکثریت حاصل نہیں تھی اس لئے بہت جلد یعنی 14 فروری 2014 کو اپنےعہدے سے استعفیٰ د ے دیا۔
وزیراعلیٰ کاعہدہ چھوڑ کرکجریوال لوک سبھا کےانتخاب میں مودی کو ٹکر دینے کے لئے بنارس چلے گئے۔ لیکن یہاں انھیں مودی لہرکے ہاتھوں سخت قسم کی ہزیمت اٹھانی پڑی۔ مودی لہرمیں ان کی پارٹی بھی ملک بھرمیں بری طرح ہارگئی البتہ کسی طرح پنجاب میں وہ 4 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
2015 میں دہلی میں صدرراج کا خاتمہ ہوا اورکیجریوال ایک بار پھرمیدان میں اترآئے۔ اس بار کیجریوال کا مقابلہ بنارس کے مودی سےنہیں تھا بلکہ اس مودی سے تھا جواپنی لہرکی بدولت ملک کا وزیراعظم بن چکا تھا اوراسی لہرکی بدولت وہ کئی ریاستی انتخابات بھی جیت چکا تھا۔ دہلی کے ریاستی انتخابات میں بھی اورریاستوں کی طرح 'چلوچلیں مودی کے ساتھ' کا نعرہ دے کر بی جے پی نےالیکشن کو کیجریوال بنام مودی کردیا۔ حالانکہ کیجریوال اس سے بچنا چاہ رہے تھے۔ لیکن بی جے پی اس کے لئے تیارنہ تھی۔ وہ کجریوال کومودی کے طوفان میں ڈوبا کرماردینا چاہ رہی تھی۔
مسٹرمودی نے دہلی میں کیجریوال کے خلاف یکے بعد دیگرے کئی ریلیاں کیں ۔ وہ اپنی آتشیں تقریر میں اس قدر آگے نکل گئے کہ انھوں نے کجریوال کو بھگوڑا اور نکسلی تک کہہ ڈالا۔ ہرطرف مودی لہرکا ہوا کھڑا کیا گیا لیکن کجریوال ہارماننے والے نہ تھے۔ انھوں نے ہار سے جیت کو نچوڑنے کی قسم کھا رکھی تھی ۔ انھوں نےپارٹی کو ازسرنو منظم کیا اور مودی لہر کے سامنے ڈٹ گئے ۔ انھوں نے سینکڑوں ریلیاں کیں اورگھرگھرجاکرلوگوں سے رابطہ قائم کیا۔ نتیجہ کارانتخاب جیت گئے۔
10 فروری 2015 کی صبح جب اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا توملک کا ہرشخص سکتے میں تھا۔ کجریوال نے مودی کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا اورپوری بی جے پی کو انھوں نے ڈوبا کر برباد کردیا تھا۔ مودی لہرکا خاتمہ اس اندازمیں ہوا کہ ان کی پارٹی 70 میں محض 3 سیٹ ہی لا سکی۔ حالت یہ ہوگئی کہ بی جے پی سے وزیراعلیٰ کی امیدوارکرن بیدی بھی الیکشن ہارگئیں جبکہ کانگریس اپنا کھاتہ بھی نہ کھول سکی ۔
کیجریوال کی اس حیران کن فتح پرہر طرف سے انھیں مبارک باد دی جانے لگی۔ امیتابھ بچن نے بھی انھیں مبارکباد دی۔ انھوں نے کیجریوال کومبارکباد دیتے ہوئے اپنے والد ہری ونش رائے بچن کی یہ نظم ٹیوٹ کی:
لہروں سے ڈر کر نوکا پار نہیں ہوتی
کوشش کرنے والوں کی کبھی ہارنہیں ہوتی
ننھی چیٹی جب دانا لے کر چلتی ہے
چڑھتی ہے دیواروں پرسوبارپھسلتی ہے
من کا وشواش رگوں میں ساہس بھرتا ہے
چڑھ کرگرنا گرکرچڑھنا نہ اکھڑتا ہے
آخراس کی محنت بیکارنہیں ہوتی
کوشش کرنے والوں کی کبھی ہارنہیں ہوتی
اسفلتا ایک چنوتی ہے اسے سیوکارکرو
کیا کمی رہ گئی دیکھو،اورسدھارکرو
جب تک نہ سفل ہونیند چین کوتیا گوتم
سنگھرش کا میدان چھوڑ کرمت بھاگوتم
کچھ کئے بنا ہی جئے جئے کار نہیں ہوتی
کوشش کرنے والوں کی کبھی ہارنہیں ہوتی

ہری ونش رائے بچن

بدھ، 18 فروری، 2015

پاکستانیوں کی نجات

پاکستانیوں کی نجات

محمد آصف ریاض
پاکستان میں تقریباً ہرروزقتل وغارت گری کے بازارگرم  ہوتے ہیں ۔ یہاں تقریباً ہرروزکوئی نہ کوئی خونی واقعہ ضرور پیش آتا ہے۔ کبھی مسجد پرحملہ ہوتا ہے توکبھی چرچ جلائے جاتے ہیں۔ کبھی اسکولوں کو نشانہ بنا یا جا تا ہے توکبھی خانقاہوں میں خون کی ہولی کھیلی جا تی ہے۔ صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب پاکستانی اسےاپنا نوشتہ تقدیرسمجھنے لگے ہیں۔ انھیں یہ لگتا ہے کہ اب وہ اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ They cannot do anything about this))
اسی قسم کا ایک خونی واقعہ وہ ہے جسے پشاورکا قتل عام کہا جا تا ہے۔ یہاں 16 دسمبر2014 کو ایک اسکول میں 9 دہشت گرد گھس آئے اورانھوں نے ننھے ننھے بچوں پرگولیاں چلانی شروع کردیں یہاں تک کہ 150 بچوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ آج 13 فروری 2015 کوجبکہ میں اپنا یہ مضمون لکھ رہا ہوں ایک اورحملہ پشاورکی ایک مسجد میں ہوا ہے جہاں درجنوں لوگ مارے گئے ہیں۔
ایک عرصہ سے میں یہ سوچتارہا ہوں کہ آخر پاکستان کی یہ حالت کیوں ہوئی ؟ آخریہاں کوئی گھرکوئی عبادت خانہ ،کوئی تعلیم گاہ شدت پسندوں کے ہاتھوں سے محفوظ کیوں نہیں ہے؟  کیوں پاکستانیوں کو ہر روز ایک نئی چیخ و پکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ اس کا جواب ہمیں قرآن کی اس آیت میں ملا:
" اوریقیناً یونس بھی رسولوں میں سے تھا۔ یاد کرو جب کہ وہ ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ نکلا ۔ پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اورمات کھائی۔ آخرکارمچھلی نےاسے نگل لیا اوروہ ملامت زدہ تھا۔ اب اگروہ تسبیح (توبہ) کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو وہ لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن (قیامت) تک اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا۔  37: 139- 144))
حضرت یونس کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ وہ عراق کے شہرنینویٰ میں رسول بنا کربھیجے گئے تھے۔ انھیں تبلیغ دین کا کام دیا گیا تھا ۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ دلبرداشتہ ہوگئے اورشہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کے لئے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے لگی۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کے لئے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اسے دریا میں ڈال دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اورکشتی والوں نے آپ  کو دریا میں پھینک دیا یہاں ایک مچھلی نے انھیں نگل لیا۔ یونس نے اپنی قوم کو قبل از وقت چھوڑ دیا تھا ۔ انھوں نے بے صبری کا مظاہرہ کیا تھا چنانچہ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں بند کردیا گیا اوراس وقت تک آپ کو اس مصیبت سے نجات نہیں ملی جب تک کہ آپ نے توبہ نہیں کیا۔
اب پاکستان کا حال دیکھئے۔ پاکستان14 اگست 1947 کو وجود میں آیا۔ پاکستان کا وجود خدائی منصوبہ کے خلاف تھا ۔ کیونکہ اس کے قیام پرامت میں اتفاق رائے نہیں تھا۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے قیام کے خلاف تھی جو آج تک ہندوستان میں ہے اورخدا کے فضل سے یہاں کےمسجدومحراب کو روشن کئے ہوئے ہے۔
معروف مبصراورسیاسی تجزیہ کارکلدیپ نیئرنے اپنی سوانح Byond the lines   میں لکھا ہے کہ "ملک کی تقسیم سے سب سے بڑا نقصان مسلمانوں کو ہوا۔ کیونکہ تقسیم کے دوسرے ہے دن مسلمان ہندوستان کےاندرایک چھوٹی سی اقلیت بن کر رہ گئے حالانکہ اب تک وہ ایک بڑی طاقت تھے۔" اس سلسلے میں مزید جانکاری کے لئے پڑھئے مولانا ابوالکلام آزاد کی سوانح" آزادی ہند " India wins freedom انگریزی ایڈیشن۔
ملک کی تقسیم سے مسلمانوں کا سب سے پہلا اورامیجیٹ نقصان یہ ہوا کہ کئی مسلم اکثریتی صوبے اچانک دو لخت ہوکر رہ گئے۔ مثلا پنجاب جوکہ ایک مسلم صوبہ تھا پنجاب اورمغربی پنجاب کے درمیان منقسم ہوگیا۔ اسی طرح بنگال جومسلم صوبہ تھا مشرقی اورمغربی حصوں میں بٹ گیا۔ اسی طرح کشمیر کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا اورآسام کے بھی دو حصے کئے گئے۔ دوسرا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ بہت سے مساجدو مدارس اچانک ویران ہوگئے۔ بہت سی مسلم بستیاں جہاں کی فضائیں اذان کی صدائوں سے ہمہ وقت گونجتی رہتی تھیں اچانک اجڑ گئیں۔ مثلاً پنجاب، ہریانہ راجستھان، بہار، بنگال اورآسام کی مسلم بستیاں وغیرہ ۔ خدا کا فضل ہے کہ بہت سی تباہ حال مسلم بستیوں کو مسلمانان ہند نے ایک بار پھرسے آباد کردیا ہے جیسے ہریانہ ، بنگال، آسام، اور پنجاب کی مسلم بستیاں وغیرہ۔ اس سلسلے کی ایک رپورٹ وہ ہے جسے دی نیشنل ورلڈ نامی ویب سائٹ نے ان الفاظ میں شائع کیا ہے
 " Maolana Ludhianvi said. "In fact, because of excellent co-operation by the Sikhs, in the past few years in Punjab we have been able to resurrect nearly 20 mosques which had been lying in virtual ruins or had been turned to gurdwaras or had been occupied by illegal settlers for decades."

ملک کی آزادی کا وقت جوں جوں قریب آ تا گیا ملک میں مسلم لیگیوں نے بڑا طوفان مچایا۔ انھوں نے خوبصورت ہندوستان کو چھوڑ کر جہاں مسلمان ہزارسال سے آباد چلے آرہے تھے اورجس کےبارے میں حدیث میں پیشن گویاں بھی موجود ہیں، ایک نیا جنگل بسانا چاہا اورلوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اس جنگل کا نام "اسلام آباد" رکھ دیا ۔ انھوں نے " بن کے رہے گا پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان" جیسے بھڑکائو نعروں سے پورے ماحول کو خراب کردیا ۔ 1946  میں انگریزوں کی نگرانی میں قائم ہونے والی عبوری حکومت سے مسلم لیگی اس قدر دلبرداشتہ ہوئے کہ انھوں نے ملک کو چھوڑ کر بھاگ جانے کا فیصلہ کیا اورآخر کار 1947 میں یہاں سے ٹرینوں بسوں اور بیل گاڑیوں میں بھر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
انھوں نے حضرت یونس کی طرح بے صبری کا مظاہرہ کیا اور دعوت کے مواقع پرسیاست کے مواقع کو ترجیح دی۔ انھوں نے صرف یہ دیکھا کہ اب ہندوستان میں ان کے لئے حکومت اورسیاست کے مواقع نہیں ہیں ۔ انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ دعوت کا میدان اب بھی کھلا ہوا ہے۔ اگر وہ دعوتی نگاہ سے دیکھتے تو انھیں ہندوستان میں بے پناہ مواقع نظر آجاتے۔ بہت جلد انھیں اس  با ت کا احساس ہوجا تا کہ دعوت کے راستے وہ سب کچھ پا سکتے جنھیں  وہ سیاست کے راستے سے پانا چاہتے ہیں۔ شیطان نے انھیں ایک ہی موقع دکھا یا وہ تھا سیاست کا موقع۔ شیطان نے انھیں بتایا کہ اب تمہارے لئے یہاں کوئی  موقع نہیں ہے اس لئے یہاں سے نکل جائو۔ انھوں نے شیطان کے بہکاوے پرہجرت کی اور دعوت کا میدان چھوڑ دیا۔ وہ بیل گاڑیوں پر سوار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے تو خدا نے انھیں حضرت یونس کی طرح مصیبت کے پیٹ میں بند کردیا اور تب سے آج تک وہ اس مصیبت کے پیٹ میں کراہ رہے ہیں لیکن نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ وہ اس مصیبت سے اس وقت تک نجات حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ توبہ نہ کریں اور اپنے اوپر دعوت کا دروازہ نہ کھولیں۔
 " اوریقیناً یونس بھی رسولوں میں سے تھا۔ یاد کرو جب کہ وہ ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ نکلا ۔ پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اورمات کھائی۔ آخرکارمچھلی نےاسے نگل لیا اوروہ ملامت زدہ تھا۔ اب اگروہ تسبیح (توبہ) کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو وہ لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن (قیامت) تک اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا۔"  37: 139- 144))