جمعرات، 12 فروری، 2015

"The future belongs to Muslims"

مستقبل مسلمانوں کا ہے

محمد آصف ریاض
" مستقبل مسلمانوں کا ہے" ( ( The future belongs to Muslimsیہ پیشن گوئی کسی مولوی کی نہیں ہے اورنہ ہی کسی شیخ الاسلام نےاس کا فتویٰ جاری کیا ہے۔ یہ بات روس کے ایک پادری دیمتری سمیرنو Dmitri Smirnov)) نے کہی ہے؟
اب جانتے ہیں کہ روس میں ایسا کیا ہواہے جس نے پادری کو اس پیشن گوئی پرمجبورکرکیا؟ کیا روس میں ہرطرف مسجدیں آباد ہوچکی ہیں؟ کیا ہرطرف دعوہ ورک جاری ہوچکا ہے؟ کیا علما نے اپنی ذمہ داریاں پوری کردی ہیں؟ کیا ہرگھرمیں خدا کا کلمہ داخل ہوچکا ہے؟ نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے.
وکی پیڈیا کی رپورٹ بتاتی ہے کہ روس کی راجدھانی ماسکو میں ڈیڑھ کروڑمسلم آباد ہیں جو پوری آبادی کا 14 فیصد ہیں لیکن یہاں مسجد کی تعداد صرف 4 ہے۔
Muslims constitute around 1.5 million, that is 14% of the population.[46] There are four mosques in the city
ماسکو میں ابھی کئی مسجد کی ضرورت ہے لیکن ماسکو کا میئر کسی نئی مسجد کی تعمیرکی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا ماننا ہے کہ جہاں مسجد ہوتی ہے وہاں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ تو پھرپادری کی زبان سے یہ اندیشہ کیوں ظاہر ہوا کہ "روس میں مستقبل اسلام کا ہے"۔ یہ انقلاب کون برپا کر رہا ہے؟
یہ انقلاب ماسکوکی سڑک پرچلنے والے چند مسلم ٹیکسی ڈرائیوربرپا کر رہے ہیں ۔ یہ مسلم ڈرائیور روسی عوام کواسلامی شرافت اوررواداری سےعملاً متعارف کرا رہے ہیں۔ وہ جب بھی کسی مسیحی بڑھیا کو چرچ کی طرف لے جاتے ہیں تووہ ان سے معاوضہ  نہیں لیتے بلکہ خدمت خلق کے طور پرانھیں چرچ تک پہنچا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس مسیحی ڈرائیوروں کا حال یہ ہے کہ وہ ہرموقع کو پیسہ کمانے کا موقع سمجھتے ہیں۔ یہی بات ایک بڑھیا نے بشپ سے کہہ دی جسے سن کرمسیحی پادری حیران رہ گیا اوراس کے منھ سے بے ساختہ یہ الفاظ  نکل پڑے:
"کوئی مسلمان بوڑھی عورت سے پیسہ کمانے میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ وہ بوڑھی عورتوں کا مددگار ہوتا ہے ۔ وہ انھیں اپنے ساتھ بازارلے جاتا ہے اوراگران کے پاس کوئی سامان ہے تو وہ اسے اٹھاتا بھی ہے اور بعض اوقات وہ ان کا بل بھی چکا دیتا ہے اوراگر ان کے پاس سامان ہو تو وہ انھیں ایلی ویٹریا فلورتک پہنچا دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ روس میں مستقبل مسلمانوں کا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ مستقبل ان کا ہے ، وہ لوگ اس زمین کے وارث ہوں گے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ آج مسیحیوں کوان چیزوں کی ضرورت نہیں ۔"
   A Muslim is not interested in gaining benefit from the old woman. Rather, the Muslim offers to take her around, take her to the landrette, pay her bills, take her to the market, carry her bags up to her floor or to her elevator (if she has one),' he said.Smirnov went on to say: 'For this reason, the future will belong to the Muslims. The future is theirs. They will plough this land, because today's Christians are not in need of these things.'
روسی پادری کی بات سن کرمجھے منگولوں کی یاد آگئی ۔ تیرہویں صدی میں جب کہ منگولوں کے پے درپے حملے کی وجہ سے اسلام کا ستارہ ڈوب رہا تھا۔ خلیفہ قتل کردئے گئے تھے اوربغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی تھی توایسے نازک وقت میں عام مسلمانوں نے اپنا رول ادا کیا تھا۔ اس وقت کے سادہ مسلمانوں نےاسلامی رواداری اورسلوک کے ذریعہ منگولوں کا دل جیت لیاتھا۔ مسلمانوں کی سادگی اور شرافت نفس نے منگولوں کو اتنا متاثر کیا کہ انھوں نے اپنا مذہب بدل ڈالا اور سب کے سب مسلمان ہو گئے۔ جو قوم طاقت کے میدان میں مسلمانوں سے جیت چکی تھی شرافت کے میدان میں مسلمانوں سے اچانک ہار گئی۔ اگریہی واقعہ چند ڈرائیوروں کے ہاتھوں روس میں انجام پائے اوران کے ہاتھوں یہاں بھی عروج امت کا واقعہ دہرایا جائے توکوئی تعجب کی بات نہ ہوگی۔ اس قسم کا واقعہ ماضی میں انڈونیشیا میں ہوچکا ہے۔ انڈو نیشیا کو تاجروں نے مسلمان بنا یا تھا۔
بعید نہیں کہ مسیحی پادری کی وہ بات ثابت ہوکہ روس میں مستقبل اسلام کا ہے، اوریہاں عروج امت کا واقعہ روس کے سادہ مسلمانوں جیسے ڈرائیور، اسٹوڈنٹس، ورکنگ ویمن، نوجوان لڑکوں کے ہاتھوں انجام پائے۔
قرآن میں اس بات کی بشارت بہت پہلےسے موجود ہے ۔ قرآن میں ہے: كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله والله مع الصابرين۔
بہت سی قلیل جماعتیں کثیرجماعتوں پرغالب آجاتی ہیں، اوراللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ قرآن کی اس آیت کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ وہ صرف تعداد میں کم ہوں گے بلکہ وہ وسائل اوربعض مرتبہ علم میں بھی کم ہوں گے لیکن اپنی شرافت اورنیک نامی کی وجہ سے دوسروں پرغالب آجائیں گے۔ شاید روس کے مسلم ڈرائیور قرآن کی اسی پیشن گوئی کو ثابت کریں !

پیر، 9 فروری، 2015

وزیر اعظم مودی اور امن کے دس سال

وزیر اعظم مودی اور امن کے دس سال

محمد آصف ریاض
پندرہ اگست کو قوم کے نام اپنے پہلےخطاب میں وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ سے یہ اعلان کیا تھا کہ " ہمیں تشدد سے پاک دس سال دیجئے۔ لڑائی جھگڑا اورتشدد سے پاک دس سال ملک کی تقدیربدل دینے کے لئے کافی ہے"۔ ٹائمز آف انڈیا نے اس کی رپورٹنگ کرتے ہوئے لکھا تھا:
PM Narendra Modi pitches for 10-year moratorium on violence
چونکہ وزیراعظم گجرات فساد کولے کرہمیشہ چرچے میں رہے ہیں، شاید اسی لئے مسلمانوں کےایک طبقہ نےان کے اس اعلان کو شک کی نگاہ سے دیکھا ۔ کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ آرایس ایس کواپنی پالیسی کے نفاذ کے لئے ابھی وقت درکارہےاورشاید وزیراعظم اسی لئے وقت مانگ رہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں یہ ایک مفروضہ ہے۔ اپنی اصل کے اعتبارسے یہ تعبیر کی ایک غلطی ہے۔ مسلمانوں نے ایک صحیح پیغام کو  غلط معنیٰ میں لے لیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی حکمراں اپنی ہی رعایا کی تباہی کا سامان کیوں تیار کرے گا اوراگر وہ اپنی ہی رعایا کوتباہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو وہ حکومت کس پر کرے گا؟
دوسری بات یہ کہ اگر یہ دس سال کا موقع آرایس ایس کی تیاری کے لئے ہے تواس کی قیمت کے طور پرہندوئوں کو اپنے لاکھوں بچوں کو تخریب کاری پرآمادہ کرنا ہوگا ؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمان اپنے بچوں کو تخریب کاری سکھاتے ہیں اور اگروہ اپنے بچوں کو تخریب کاری نہیں سکھاتے تو ہندو اپنے بچوں کو تخریب کارکیوں بنائیں گے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو بیوقوفی خود مسلمان نہیں کرتے وہ ملک کے ہندو کیوں کرنے لگے؟
تیسری بات یہ ہےکہ اگریہ دس سال آرایس ایس اوردوسرے ہندو انتہا پسندوں کی تخریب کاری کی تیاری کے لئے ہے تو پھراس کی کیا گارنٹی ہے کہ دس سال تک اوراس کے بعد بھی وقت کا سرا ان ہی کے ہاتھوں میں رہے؟
تاریخ کا سبق بتاتا ہے کہ آدمی کواس بات کا اختیار ہوتا ہے کہ کسی چیزکا آغاز وہ اپنی امنگوں کے مطابق کرے لیکن اس کا انجام بھی اس کی امنگوں کے مطابق ہو اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی ؟
چند مثالیں
عیسائیوں نے بارہویں صدی کے آغاز میں مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کا آغاز کردیا تھا۔ یہ آغاز ان کے ہاتھ میں تھا لیکن اس کی قیمت انھیں یہ چکانی پڑی کہ یوروپ کا بڑا حصہ بشمول استنبول مسلمانوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ بارہویں صدی کے خوبصورت آغاز کا انجام پندرہویں صدی میں بہت زیادہ افسوسناک تھا۔
روس 1979 میں افغانستان میں گھس گیا ۔ یہ اس کے اختیار میں تھا لیکن کیا انجام بھی اس کے اختیار میں تھا؟ سب جانتے ہیں کہ روس افغانستان سے اس حال میں نکلا کہ بہت جلد وہ 13 ٹکڑوں میں بکھر گیا تھا ۔ اسی طرح سری لنکا کے صدر راج پکشے نومبر  2005  میں تملوں کو کچل کر حکومت میں آئے اور 9 جنوری  2015 کے انتخاب میں اپنے حریف میتھری پا لا سری سینا Maithripala Sirisena کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا گئے۔
 کیا راج پکشے کا مذہبی جنون انھیں بچا سکا ؟ نہیں! تو پھرمودی جی اسی طرح کے جنون میں کیوں مبتلا ہوں گے؟ جو عمل بڑے بڑوں کو پچیچھے دھکیل رہا ہو مودی جی اسی عمل کو دوہرا کر پچھلی سیٹ پر کیوں بیٹھنا چاہیں گے؟۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو حکمراں امن کے ساتھ 100 سال تک حکومت کر سکتا ہے تو وہ بد امنی پھیلا کر اپنی مدت حکمرانی کوگھٹا کردس سال کیوں کرے گا؟
اصل بات
اصل بات یہ ہے کہ دس سالہ امن کے ذریعہ وزیراعظم لوگوں کو امن کا مزا چکھانا چاہتے ہیں۔ انھیں معلوم ہے کہ جب لوگوں کو امن کا مزہ مل جائے گا تو وہ بد امنی پر کبھی نہیں اتر سکتے۔ شاید وہ لوگوں کو امن کا فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس میں مزہ ملنے لگے۔ وہ لوگوں کے اندر امن کی عادت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے امن کے دس سال مانگ رہے ہیں؟
میں نہیں سمجھتا کہ اس کے پیچھے ان کا کوئی اورمنصوبہ ہے۔ اوراگرہے بھی تب بھی مسلمانوں کو ان کے اس اعلان کا استقبال کرنا چاہئے کیوں کہ قرآن میں بتا یا گیا ہے کہ جو آدمی چال چلتا ہے اس کا وبال اسی کے سر پر پڑتا ہے۔     

Learning from the Fish

مچھلی کا سبق

محمد آصف ریاض
مچھلی پانی میں رہنے والی مخلوق ہے۔ یہ بہت ہی متحرک مخلوق ہے۔ اس کی زندگی پانی میں ہے۔ پانی سے باہراس کے لئے کوئی زندگی نہیں۔ مچھلی Dissolved Oxygen آکسیجن لیتی ہے اوریہ آکسیجن اسے پانی میں ہی مل سکتا ہے۔ اسی لئے بغیر پانی کے مچھلی کا تصور تقریباً نا ممکن ہے۔ اگرآپ مچھلی کو پانی سے باہرنکال دیں توآکسیجن کی عدم موجودگی میں وہ اسی طرح ٹرپ تڑپ کر مرجائے گی جس طرح کوئی دوسری مخلوق آکسیجن کی عدم موجودگی میں تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیتی ہے۔
مچھلی انسانی صحت کے لئے بہت ہی مفید شئے ہے۔ یہ انسان کو بڑھاپے اوراندھے پن سے بچاتی ہے۔ امریکہ میں ایک سروے سے پتہ چلا ہے جن لوگوں نے ہفتے میں دو مرتبہ مچھلیاں کھائیں ان میں اندھے پن کا خطرہ 36 فیصد تک کم ہوگیا ۔
رپورٹ کا ایک اقتباس یہاں درج کیا جا تا ہے:
The omega-3 fatty acids found in fish such as salmon are already known to help the heart and brain stay healthy. The new studies, appearing Monday in the Archives of Ophthalmology, add to evidence that fish eaters also protect the eyes.
بلاشبہ مچھلی ایک حیات بخش شئے ہے۔ لیکن اس میں کانٹا بھی ہوتاہے۔ اس کے کھانے میں یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں اس کا کانٹا نہ چبھ جائے۔ تو آپ کیا کرتے ہیں ؟ جب آپ مچھلی کھاتے ہیں تو اس کا کانٹا بہت ہی ہوشیاری سے نکال کرالگ کردیتے ہیں، آپ اس سے الجھتے نہیں۔
یہی دنیوی زندگی کا معاملہ ہے۔ اس دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں چیزوں میں حسنہ اور سیئہ کا پہلو لگا رہتاہے۔ یہاں دن کے ساتھ رات لگی رہتی ہے اور خیر کے ساتھ شرکا پہلو لگا رہتا ہے ۔ انسان سے مطلوب ہے کہ وہ حسنہ کو لے لے اور سیئہ کو چھوڑ دے جس طرح وہ مچھلی کے گوشت کو لے لیتا ہے اور کانٹوں کو چھوڑ دیتا ہے ۔ یہی مچھلی کا سبق ہے۔

اتوار، 1 فروری، 2015

اسلام' ابوالبرکات اورالبرکہ


اسلام' ابوالبرکات اورالبرکہ

محمد آصف ریاض

وہ بہت خوبصورت اورحسین  لڑکی تھی ۔ گوکہ وہ یورپین طرزکا پوشاک پہنتی تھی لیکن اس کا دل اسلامی تھا۔ وہ ترک نزاد جرمن شہری تھی۔ وہ جرمنی میں اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیرتھی ۔ اس کا نام البرکہ(Tuğçe Albayrak) تھا۔ وہ محض 22 سال کی تھی۔
ایک دن وہ جرمنی کے ایک شہرسے گزررہی تھی کہ  تبھی قریب کے ایک رسٹورنٹ سے کچھ لڑکیوں کے چیخنے چلانے کی آوازآئی۔
 وہ اس آواز پردوڑی ہوئی رسٹورنٹ میں پہنچی ۔ وہاں دیکھا کہ دولڑکیاں اپنی عصمت کے تحفظ کے لئے سخت قسم کی جدوجہد کر رہی ہیں ۔ وہ شیرکی طرح دہاڑی اور بدقماشوں پرجھپٹ پڑی۔ اس نے دونوں لڑکیوں کوبچالیا لیکن اس عمل میں اسے اپنی جان گنوانی پڑی۔
یہ افسوسناک واقعہ 15 نومبر2014 کوپیش آیا اور18 تاریخ کوجرمنی کےایک اسپتال میں اس کی موت ہوگئی۔ اس کی موت کی خبرجنگل میں آگ کی طرح پورے جرمنی میں پھیل گئی ۔ لاکھوں جرمن شہری "میں البرکہ ہوں" کے نعروں کے ساتھ سڑکوں پرنکل پڑے۔ 10 لاکھ لوگوں نے آن لائن مہم چلا کرجرمن صدرسے مطالبہ کیا کہ البرکہ کو بعد ازمرگ بہادری کا قومی خطاب دیا جائے۔
اس واقعہ کے بعد جرمن صدرجواشم گاکPresident, Joachim Gauck)  ( نے اپنے تعزیت نامے میں یہ الفاظ لکھے:
"جب دوسرے لوگ دوسرارویہ اپنائے ہوئے تھے، ایسے نازک وقت میں البرکہ نے مثالی بہادری اورسماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ مشکل وقت میں تشدد کی شکارلڑکیوں کی مدد کے لئے آگے آئی ۔"
“Where other people looked the other way, Tugce showed exemplary bravery and civil courage and came to the aid of a victim of violence,” 
البرکہ نے اپنی قربانی دے کرجرمنی میں پھیلےاسلامو فوبیا کو بڑی حد تک کم کردیا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے نفرت کی آگ کو محبت کے پانی سے بجھا دیا۔ اس نے خدا کے اس قول کو ثابت کیا کہ " وہ جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اسے بجھا دیتا ہے"
أَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللّهُ
البرکہ کی قربانی جرمنی میں اسلام دشمن طاقتوں کے لئے مایوسی کا سبب بنی ۔ جرمنی میں اسلام کے بارے میں لوگوں کا نظریہ بدل گیا۔ اب اسلام جرمنی کا سرمایہ  asset) ) بن چکا ہے۔ البرکہ کی قربانی نے اسلام کے تئیں جرمن شہریوں کے منفی نظریہ کو یکسرتبدیل کردیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ البرکہ کی موت سے قبل جرمنی میں اسلام کے خلاف پگیدا (PEGIDA) کے نام سے ایک مہم چل رہی تھی لیکن البرکہ کی شہادت نےاسلام مخالف اس مہم کو ختم کر دیا۔ البرکہ کی شہادت کے بعد جرمن شہری اپنے آپ کو اسلام مخالف اس مہم سے الگ کرنے لگے ہیں۔ پریس ٹیوی نے اس کی رپورٹنگ ان الفاظ میں کی ہے:
Germany's anti-Islam PEGIDA movement breaks up

اگر آپ ماضی کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ جرمنی کا واقعہ اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے جوآج سے سات سوسال قبل یعنی چودہویں صدی میں مالدیپ میں پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں خصوصی طور پرکیا ہے۔
ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ پہلے مالدیپ میں مورتی کی پوجا ہوتی تھی ۔ یہاں ہرمہینہ سمندرکے راستے سے ایک بلا آتی تھی۔ ایک مرتبہ ابوالبرکات نامی ایک بربراس جزیرے پراترا۔ وہ حافظ قرآن تھا۔ وہ وہاں ایک بڑھیا کے یہاں مہمان ٹھہرا ۔ ایک دن اس نے بڑھیا کو روتے ہوئے دیکھا توپوچھا کہ ماں ماجرا کیا ہے؟
بڑھیا نے بتایا "یہاں سمندرکے راستے ہرمہینے ایک بلا آتی ہے اوراس بلا کو روکنے کے لئے ہر بارایک آدمی کو اپنی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اسے سجاکرسمندرکے کنارے چھوڑدیا جا تا ہے اورسمندری طوفان اسے کھا کراپنی بھوک مٹا لیتا ہے۔ اس طرح وہ لوگ اپنے ملک کو مجموعی تباہی سے بچا لیتے ہیں اوراس باراس کی بیٹی کے نام سے قرعہ نکلا ہے اوراب اسے اپنی بیٹی کی قربانی دینی ہوگی، اسی لئے گھر میں ہر طرف کہرام مچا ہے۔"
ابوالبرکات نے بڑھیا سے کہا کہ ماں توپریشان نہ ہواس بار سمند کی خوراک میں بنوں گا ۔ اس بار میں جائوں گا۔ چنانچہ ابوالبرکات کوسجا سنوار کر سمند کے کنارے لے جاکرچھوڑ دیا گیا۔ کہا جا تا ہے کہ ابوالبرکات وہاں رات بھر قرآن کی تلاوت کرتا رہا ۔ طوفان آیا اورچلا گیا۔
صبح شہر کے لوگ ابوالبرکات کی لاش برآمد کرنے پہنچے تو ابوالبرکات کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے پایا۔ یہ دیکھ کروہ حیران رہ گئے۔ لوگ اسے اٹھا کربادشاہ کے پاس لے گئے۔ بادشاہ بھی حیران ہوا اوراس نے کہا کہ اگراگلی بار بھی ہمارا ملک سمندرکےعتاب سے محفوظ رہا تو ہم سب لوگ ابوالبرکات کے مذہب پرایمان لے آئیں گے اورپھر وہی ہوا۔ دوبارہ طوفان آیا اورملک تباہی سے بچ گیا تو بادشاہ نے اسلام قبول کر لیا اوراس کے ساتھ پورا ملک اسلام میں داخل ہوگیا۔
ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ یہاں کی ایک مسجد پرایک کتبہ لگاہوا ہے جس پر لکھا ہوا ہے "سلطان احمد شنورازہ ابوالبرکات کے ہاتھ پراسلام لایا۔"
مالدیپ کے ابوالبرکات اورترکی کی البرکہ کو کس چیزنے اتنا بہادربنا دیا تھا؟ وہ کون سی قوت محرکہ تھی جوانھیں طوفان بلا سے ٹکرا رہی تھی؟
اللہ پر یہ بھروسہ کہ جو ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر وہ نفع پہنچانا چاہے توکوئی اسے روکنے والا نہیں اوراگروہ نقصان میں ڈالے تو کوئی اسے بچا نے والا نہیں۔  

جمعرات، 29 جنوری، 2015

مصیبت کے پیٹ میں کشمیری مسلمان

مصیبت کے پیٹ میں کشمیری مسلمان

محمد آصف ریاض
اکتوبرکے مہینے میں جموں کشمیرمیں تباہ کن سیلاب آیا۔ اس سیلاب کی زد میں آکرسینکڑوں لوگ مارے گئے اورکروڑوں کا مالی نقصان ہوا۔ لاکھوں کشمیری ادھرسے ادھر ہوگئے۔ خبروں کے مطابق کئی لاکھ  لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔
تمام مبصرین نے اپنے اپنے انداز میں اس سانحہ پر تبصرہ کیا ۔ کسی نے اسے مین میڈ پروبلم بتایا، کسی نے اسے ماحولیات سے کھلواڑکا نتیجہ  قرار دیا ۔ کسی نے اسے خدائی عذاب بتا یا وغیرہ۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ سیلاب کشمیریوں کے جمود کو توڑنے کے لئے آیا تھا۔ اس سیلاب سے خدا کا منشا یہ تھا کہ کشمیری اپنی کنڈیشنگ کو توڑیں ۔ وہ مفروضہ کشمیری چادرکواتار پھینکیں۔ وہ یہ جانیں کہ خدا نے انھیں کشمیرت کی بقا کے لئے نہیں بھیجا ہے بلکہ وہ دین کی بقا کے لئے وارد کئے گئے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ سے کشمیری ماحول میں رہ کرکشمیریوں کا ذہن بھی کشمیری بن گیا ہے۔ کشمیریت کی بھول بھلیوں میں پڑکرانھوں نے وہ اصلی پیغام بھی بھلا دیا جس کا خدانےانھیں امین بنا یا تھا۔ کشمیریوں کی کنڈیشنگ کا عالم یہ ہے کہ وہ کشمیرسے باہرنکلنے کے لئے بھی تیارنہیں ہوتے، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ خدا نے انھیں دین کا پیغامبربنا کربھیجا ہے ناکہ کشمیریت کا پیغامبر۔
کشمیریوں کی ناکامی
پنجاب اورہماچل پردیش کی سرحدیں جموں کشمیرسے جڑی ہوئی ہیں لیکن کشمیری اپنے پڑوسیوں کو بھی خدائی پیغام پہنچانے میں ناکام  ہیں۔ حالانکہ وہ چاہتے تواپنے پڑوسیوں تک بہ آسانی دین کا پیغام پہنچا سکتے تھےاس کے لئے انھیں زیادہ  دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی اورنہ ہی زبان کا کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہوتا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ آج سے 20 سال قبل تک بلکہ آج بھی بہت سے سکھ اور پنجابی اردو پڑھتے اور بولتے ہیں۔
آج سے تقریباً پندرہ سال قبل بنارس میں ایک سکھ  سے میری ملاقات ہوئی ۔ وہ مجھ سے اردو اخبار مانگ کر پڑھنے لگا تومیں حیران رہ گیا ۔ اس نےبتا یا  کہ ہمارے گھر میں اردو پڑھی جاتی ہے اور زیادہ تر لوگ اردو جانتے ہیں۔ کشمیری مسلمان اس ہم آہنگی کا فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ وہ اپنے بھائیوں کو دین کا پیغام پہنچا سکتے تھے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے اور پورے معاملہ میں انڈیفرنٹ بنے رہے۔ چونکہ ان کا مائنڈ  دعوہ اورینٹیڈ نہ تھا، اس لئے انھوں نے خدا کی طرف سے پیدا کئے گئے مواقع کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
 1984کے واقعہ کے بعد سکھوں کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں سیکنڈ تھاٹ پیدا ہوا تھا۔ سکھ مخالف فساد کے بعد سکھ اپنے آپ کو فطری طور پرمسلمانوں سے قریب محسوس کرنے لگے تھے۔ ایسا اس لئے ہوا تھا کیونکہ فساد کے دوران مسلمانوں نے سینکڑوں سکھوں کو فسادیوں کے ہاتھوں سے بچا یا تھا۔ لیکن مسلمان اس موقع پربھی انھیں دین کا پیغام پہنچانے میں ناکام رہے۔
خدائی پیغام کے تئیں کشمیریوں کی مسلسل ناکامی کی وجہ سے خدا کا غضب بھڑک اٹھا۔ اس نے کشمیریوں کو بھی اسی طرح مصیبت کے پیٹ میں بند کردیا جس طرح  خدائی مشن میں ناکامی کی وجہ سے حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں بند کر دیا گیا تھا۔
 حضرت یونس کا واقعہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے :
 وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ  ۔۔ ﴿ الانبیاء ۔87﴾
(اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا، یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اورسمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے)
 مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کو خدا کا عہد یاد آیا اورآپ نے نہایت گریہ و زاری سے اپنے خدا کو پکار اور توبہ استغفار کیا تو خدا نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے باہرنکال دیا ۔ قرآن میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:
فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿ الانبیاء ۔87﴾
(آخر کو اُس نے تاریکیوں میں پکارا “نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا )
حضرت یونس کی اس پکار پرخدا نے انھیں معاف کردیا اور انھیں مچھلی کے پیٹ سے آزاد کردیا۔ قرآن میں ہے:
فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ﴿145﴾ وَأَنبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ ﴿146﴾
آخرکارہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیااور اُس پر ایک بیل دار درخت اگا دیا۔  (الصافات)
کشمیریوں کے لئے سبق
ایک کشمیری سے دہلی کے شاہین باغ میں میری ملاقات ہوئی۔ ان کی عمر تقریباً ساٹھ سال تھی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کشمیری بم اورگن کلچر کیوں نہیں چھوڑ دیتے تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ اس کلچرمیں اس طرح رم گئے ہیں کہ اب ان کے لئے کوئی ٹرنگ پوائنٹ نہیں ہے۔
میں حیران رہ گیا ! ایک ساٹھ سال کا آدمی جوکہ مسلمان بھی تھا اورقتل وخون کے معاملہ میں نو ٹرنگ پوائنٹ کی بات کر رہا تھا میں نے انھیں بتا کہ خدا نے آپ کو ہمیشہ کے لئے ٹرنگ پوائنٹ دیا ہے۔ خدا نے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھول رکھا ہے، وہ دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اسلام میں تو کوئی ایسا مقام ہی نہیں جہاں سے نو ٹرنگ پوائنٹ کا مفروضہ ثابت ہو۔ میں نے انھیں بتا یا کہ آپ (کشمیریوں) کا معاملہ حضرت یونس کا معاملہ ہے۔ حضرت یونس اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کی وجہ سے "مچھلی کے پیٹ" میں ڈالے گئے تھے اور خدا نے آپ کشمیریوں کو اسی جرم کے سبب "مصیبت کے پیٹ" میں ڈال دیا ہے۔

اب آپ کی نجات کی صورت بھی وہی ہے جو حضرت یونس کی تھی یعنی اپنے گناہوں پرسچی ندامت اور توبہ اور خدائی مشن کو دوبارہ لے کر اٹھنا اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ضرور اہل کشمیرمصیبت کے پیٹ سے نکل جائیں گے۔

ہفتہ، 6 دسمبر، 2014

Jews exodus from Europe and opportunities for Muslims

یہود کا اسرائیل سے انخلا اور مسلمانوں کے لئے مواقع


محمد آصف ریاض

دوسری جنگ عظیم کے دوران یہود یوں کوعیسائیوں کے ہاتھوں زبردست اذیت کا شکارہونا پڑا تھا۔ اعداد و شمارکے مطابق نازیوں نےساٹھ لاکھ یہود یوں کو قتل کیا تھا۔ اس قتل عام کے بعد فطری طورپرجنگ تھم گئی تھی اورعیسائیوں میں یہود کے تئیں سیکنڈ تھاٹ پیدا ہوا تھا۔
جنگ عظیم دوئم کے خاتمہ پرعیسائیوں نے بہترسمجھا کہ یہود کوایک بارپھرکہیں بسایا جائے چونکہ یوروپ میں ہرطرف یہود مخالف ماحول قائم تھا اس لئےاس وقت کی عیسائی طاقتوں برطانیہ ، جرمنی اور فرانس وغیرہ نے یہ بہترسمجھا کہ یہود کو یوروپ سے نکال کر فلسطین میں بسا دیا جائے ۔ چنانچہ 1948 میں یہود کو یوروپ سے نکال کر فلسطین میں یعنی عالم اسلام کے قلب میں بسا دیا گیا۔
فلسطین میں یہود کی آبادکاری سے پوری دنیا کے مسلمان بھڑک اٹھے۔ انھوں نے یہود کے وجود کوعالم اسلام  کے لئے خطرہ قراردیا۔ انھوں نے یوم اسرائیل کو یوم نکبہ یعنی (Day of the Catastrophe)  کا نام دیا۔ آج بھی ساری دنیا کے مسلمان یوم اسرائیل کو یوم نکبہ ( بڑا المیہ) قرار دیتے ہیں۔
مسلمانوں نے یہود کی آباد کاری کے معاملہ کو صرف ایک پہلو سے دیکھا اورافسوسناک بات یہ ہے کہ وہ آج تک فلسطین میں یہود کی آباد کاری کواسی پہلوسے دیکھتے ہیں۔ اسرائیل کے قیام میں مسلمانوں نے صرف اپنے نقصان کو دیکھا۔ وہ اس معاملہ میں اپنے فائدے کو نہ دیکھ سکے۔
مسلمانوں نےاسرائیل کے وجود کوعالم عرب کے قلب میں دیکھ کر یہ گمان کرلیا کہ ان کا محاصر ہوچکا ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصررہے کہ خود یہود مسلمانوں کے محاصرے میں آ گئے ہیں ۔ اب وہ چاروں طرف سے مسلم ممالک کے نرغے میں ہیں۔ اب وہ جہاں جو جی میں آئے کرنے کے لئے آزاد نہیں ہیں۔ اب عملاً ان کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئےہیں۔
مثلاً اسرائیل کے شمال میں لبنان اور اردن، شمال مشرق میں سیریا، مغربی کنارہ اورغازہ پٹی واقع ہے۔ اسی طرح مشرق اور جنوب مشرق میں مصراورخلیج العقبہ واقع ہے۔ یعنی اسرائیل چاروں طرف سے مسلم ممالک سے گھرا ہوا ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہود مسلمانوں کے نرغے میں ہیں ناکہ مسلمان  یہود کے نرغے میں ۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک یہودی مفکر  Sebastian Vilar Rodrigez نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے :


The Jews are leaving Europe not because the Jihadists are coming, but because they are here, dwelling among us. They hate Israel and they loathe Jews, but we say almost nothing and do very little. Instead, we let the Jews emigrate to Israel, and they are doing so in their thousands every year. They may be surrounded there on all sides by the enemies of Zionism. But at least they have a government which will not hesitate to protect and defend them۔


" یہودی یوروپ سے نقل مکانی کر رہے ہیں ، اس لئے نہیں کہ یہاں جہادی (مسلمان ) آرہے ہیں بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ یوروپ میں آکر ہمارے درمیان رہ رہے ہیں۔ وہ اسرائیل سے نا پسندیدگی کی حد تک نفرت کرتے ہیں ۔ لیکن ہم ہیں کہ ان کےخلاف کچھ بھی نہیں کر پاتے اور اگر کچھ کرتے بھی ہیں تو وہ بہت کم  ہے۔ ہم یہود کو یوروپ سے نقل مکانی کرنے کی چھوٹ دے چکے ہیں۔ ہرسال ہزاروں کی تعداد میں یہودی یوروپ چھوڑ کر اسرائیل جا رہے ہیں۔ بلا شبہ وہاں وہ ہرطرف سے دشمنوں سے گھرے ہوئے ہیں تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ وہاں ایک حکومت ہے جو یہود کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے"
   1948 سے پہلے کی صورت حال یہ تھی کہ یہود ایک عالمی کمیو نٹی تھی۔ وہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ تاہم جب اسے فلسطین میں لاکربسا دیا گیا تواچانک وہ ایک علاقائی کمیونٹی بن کررہ گئی ۔ انھوں نے اپنے آپ کو چاروں طرف سے مسلمانوں کے درمیان گھرا ہوا پا یا تو اپنی آبادی کو بڑھا نے کے لئے انھوں نے ساری دنیا کے یہود کواسرائیل میں بلا لیا۔ اس سے انھیں یہ فائدہ تو ہوا کہ اسرائیل کی آبادی میں کچھ  اضا فہ ہوگیا لیکن نقصان یہ ہوا کہ ساری دنیا یہود سے خا لی ہوگئی ۔ اب یہود عالمی پلیئر نہ رہ کرعلاقائی پلیئر بن گئے۔
ساری دنیا کے یہود جب اسرائیل میں آکرجمع ہوگئےتودوسرے لفظوں میں وہ مسلمانوں کے محاصرے میں آگئے۔ یہود کے ایک جگہ جمع ہونے سے مسلمانوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ملا کہ وہ یہود کی عالمی سازش سے بچ گئے۔ اٹھارہویں صدی اور اس سے پہلے عالم یہ تھا کہ مسلمان دنیا میں جہاں کہیں جاتے تھے انھیں یہود کی سازشوں سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔ وہ جس خطے میں بھی جاکرآباد ہوتے تھے وہاں کے یہود مسلمانوں کے خلاف آسمان سرپراٹھا لیتےتھے۔ وہ دوسری قوموں خاص طورسے عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا دیتے تھے۔ یہود کی ان سازشوں کی وجہ سے اسپین سے مسلمانوں کا انخلا ہوا۔ یہود کی انھی سازشوں کی وجہ سے یکم نومبر 1922 کو عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا۔
خلافت عثمانیہ کے خاتمہ  کے بعد مسلمانوں کے لئے یہ مشکل ہوگیا تھا کہ وہ ان علاقوں کو اپنا مسکن بنائیں جہاں مسلمان سرے سے موجود نہ ہوں یا ہوں تو برائے نام ہوں ۔ یہود انھیں کہیں بھی آسانی سے بسنے نہیں دیتے تھے۔ مثلاً ان کے لئے یوروپ میں آباد ہونا بڑا مشکل امرتھا کیونکہ یہاں یہود کا بڑا دبدبہ تھا۔
خدا کا منصوبہ
اس زمین پرخدا کا منصوبہ یہ ہے کہ زمین پربسنے والا ہرانسان خدا کے پیغام کو جان لے۔ وہ خدا کی معرفت حاصل کر لے۔ اس کام کے لئے خدا نے ہر دور میں نبیوں اوررسولوں کومبعوث فرمایا۔ سب سے آخر میں پیغمبر اسلام کی بعثت ہو ئی پھرخدا نے ان کی امت اور قرآن کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا تاکہ ہر گھر میں خدائی کلمہ داخل ہوجائے۔ خدا کے اس منصوبہ کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
'لایبقی علی ظھر الأرض بیت مدر ولا وبر لا أدخلہ اللہ کلمة الاسلام بعز عزیز أوذل ذلیل ما یعزھم اللہ عزوجل فیجعلھم من أھلھا أو یذلھم فیدینون لھا.'' (مسند أحمد: ٢٣٦٣٩' مؤسسة الرسالة' الطبعة الثانیة' ١٩٩٩ء)
'' زمین کی پشت پر کوئی کچا یا پکا مکان باقی نہ رہے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل کر دے گا، عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلیل کی ذلت کے ساتھ' ۔
تاریخ کا سبق بتاتا ہے کہ خدائی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں یہود سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ انھوں نے کئی نبیوں اور رسولوں کو قتل کیا۔ جب یہود کی سفاکی حد سے بڑھ گئی تو خدا نے یہود کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹا نا شروع کر دیا۔ اسی خدائی پروسس کے نتیجہ میں یہود یوروپ سے نکالے گئے تاکہ اہل یوروپ کے ہرگھر میں خدائی کلمہ داخل ہو سکے۔ اب جبکہ یوروپ سے یہود کا حتمی انخلا ہوچکا ہے تو صورت حال یہ ہے کہ یہاں کے ہر گھر میں خدائی کلمہ بڑی تیزی سے داخل ہو رہا ہے۔ یہود کے انخلا کے فوراً بعد یوروپ کا دروازہ اسلام کے لئے کھل گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ یوروپ کا کوئی شہرنہیں ہے جہاں سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند نہ ہوتی ہوں۔
اس واقعہ کو ایک یہود مفکر Sebastian Vilar Rodrigez نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
 " یوروپ نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کواس لئے قتل کردیا تاکہ ان کی جگہ وہ دوکروڑ مسلمانوں کو آدباد کرسکیں۔"
Europe Killed Six Million Jews and Replaced them with 20 Million Muslims !
یوروپ آج توحید کا گہوارہ بن چکا ہے۔ یہاں ہر دن سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اسلام قبول کر رہے ، اسی رفتار کو دیکھتے ہوئے کچھ شر پسند یہودیوں نے اسے یوروپ Europe کی جگہ Eurabia  یعنی عرب کہنا شروع کر دیا ہے۔  
یوروپ کے چند شہروں میں آباد مسلمانوں سے متعلق اعدادو شماریہاں پیش کئےجاتےہیں:مزید جانکاری کے لئے اس لنک پر کلک کریں::
http://en.wikipedia.org/wiki/List_of_cities_in_the_European_Union_by_Muslim_population

منگل، 11 نومبر، 2014

Seeking for Haji Ilahi Bakhsh

مجھے"حاجی الہی بخش" کی تلاش ہے
محمد آصف ریاض
1857 کی جنگ میں انگریزوں نے دہلی کی جامع مسجد پر قبضہ جما لیا تھا۔ یہاں نمازممنوع تھی ۔ انگریزوں نے اس مسجد کو اپنے قبضے میں لے کرفوجی بارک بنا لیا تھا۔ 1858 میں کینٹر بری کے لاٹ پادری کا حکم نامہ آیا کہ دہلی میں اسقف اعلیٰ کا عہدہ قائم کیا جائے۔ انگریزی اخباروں نے شور مچایا کہ جامع مسجد کو گرجا گھر بنا دیا جائے۔ اور یہاں اسقف کا مرکز قائم کیا جا ئے لیکن حکومت نے وسیع ترمصلحتوں کے پیش نظراپنے ارادے کو بدل دیا۔ البتہ مسلمانوں کی ناراضگی کے باوجود مسجد بدستور فوجی بارک بنی رہی۔
1862 میں انگریزوں نے اس شا ہجہانی مسجد کو نیلام کردیا۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ سب سے بڑی بولی میرٹھ  کی قریشی برادری کے ایک فرد حاجی الہی بخش نے لگائی۔ حاجی الہی بخش نے پچھتر ہزار روپے نقد ادا کر کے مسجد کو انگریز حکومت سے خرید لیا اور پھراسے نماز کے لئے مسلمانوں کے حوالے کردیا۔  مزید جانکاری کے لئے پڑھئے  تاریخ نظریہ پاکستان؛ پروفیسر محمد سلیم۔
قومیں اگر زندہ ہوں تو وہ  پہاڑ جیسے بوجھ کو بھی  بخوشی اپنے سر پر اٹھا لیں گی اور اگر  مردہ ہوں تو رائی کا ہر دانہ انھیں پہاڑ نظر آئے گا۔
کل اگر ہندوستانی مسلمان عروج کے مقام پر فائز تھے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ انھوں نے اپنے آپ کو زندہ رکھا تھا، وہ ہر چیلینج کو قبول کر نے کے لئے تیار رہتے تھے ان کے درمیان ہر وقت کوئی نہ کوئی  حاجی الہی بخش موجود رہتا تھا اور آج اگر مسلمان اپنے آپ کو پسماندہ پاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ان کے درمیان کو ئی الہی بخش موجود نہیں ہے۔