پیر، 9 فروری، 2015

Learning from the Fish

مچھلی کا سبق

محمد آصف ریاض
مچھلی پانی میں رہنے والی مخلوق ہے۔ یہ بہت ہی متحرک مخلوق ہے۔ اس کی زندگی پانی میں ہے۔ پانی سے باہراس کے لئے کوئی زندگی نہیں۔ مچھلی Dissolved Oxygen آکسیجن لیتی ہے اوریہ آکسیجن اسے پانی میں ہی مل سکتا ہے۔ اسی لئے بغیر پانی کے مچھلی کا تصور تقریباً نا ممکن ہے۔ اگرآپ مچھلی کو پانی سے باہرنکال دیں توآکسیجن کی عدم موجودگی میں وہ اسی طرح ٹرپ تڑپ کر مرجائے گی جس طرح کوئی دوسری مخلوق آکسیجن کی عدم موجودگی میں تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیتی ہے۔
مچھلی انسانی صحت کے لئے بہت ہی مفید شئے ہے۔ یہ انسان کو بڑھاپے اوراندھے پن سے بچاتی ہے۔ امریکہ میں ایک سروے سے پتہ چلا ہے جن لوگوں نے ہفتے میں دو مرتبہ مچھلیاں کھائیں ان میں اندھے پن کا خطرہ 36 فیصد تک کم ہوگیا ۔
رپورٹ کا ایک اقتباس یہاں درج کیا جا تا ہے:
The omega-3 fatty acids found in fish such as salmon are already known to help the heart and brain stay healthy. The new studies, appearing Monday in the Archives of Ophthalmology, add to evidence that fish eaters also protect the eyes.
بلاشبہ مچھلی ایک حیات بخش شئے ہے۔ لیکن اس میں کانٹا بھی ہوتاہے۔ اس کے کھانے میں یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں اس کا کانٹا نہ چبھ جائے۔ تو آپ کیا کرتے ہیں ؟ جب آپ مچھلی کھاتے ہیں تو اس کا کانٹا بہت ہی ہوشیاری سے نکال کرالگ کردیتے ہیں، آپ اس سے الجھتے نہیں۔
یہی دنیوی زندگی کا معاملہ ہے۔ اس دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں چیزوں میں حسنہ اور سیئہ کا پہلو لگا رہتاہے۔ یہاں دن کے ساتھ رات لگی رہتی ہے اور خیر کے ساتھ شرکا پہلو لگا رہتا ہے ۔ انسان سے مطلوب ہے کہ وہ حسنہ کو لے لے اور سیئہ کو چھوڑ دے جس طرح وہ مچھلی کے گوشت کو لے لیتا ہے اور کانٹوں کو چھوڑ دیتا ہے ۔ یہی مچھلی کا سبق ہے۔

اتوار، 1 فروری، 2015

اسلام' ابوالبرکات اورالبرکہ


اسلام' ابوالبرکات اورالبرکہ

محمد آصف ریاض

وہ بہت خوبصورت اورحسین  لڑکی تھی ۔ گوکہ وہ یورپین طرزکا پوشاک پہنتی تھی لیکن اس کا دل اسلامی تھا۔ وہ ترک نزاد جرمن شہری تھی۔ وہ جرمنی میں اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیرتھی ۔ اس کا نام البرکہ(Tuğçe Albayrak) تھا۔ وہ محض 22 سال کی تھی۔
ایک دن وہ جرمنی کے ایک شہرسے گزررہی تھی کہ  تبھی قریب کے ایک رسٹورنٹ سے کچھ لڑکیوں کے چیخنے چلانے کی آوازآئی۔
 وہ اس آواز پردوڑی ہوئی رسٹورنٹ میں پہنچی ۔ وہاں دیکھا کہ دولڑکیاں اپنی عصمت کے تحفظ کے لئے سخت قسم کی جدوجہد کر رہی ہیں ۔ وہ شیرکی طرح دہاڑی اور بدقماشوں پرجھپٹ پڑی۔ اس نے دونوں لڑکیوں کوبچالیا لیکن اس عمل میں اسے اپنی جان گنوانی پڑی۔
یہ افسوسناک واقعہ 15 نومبر2014 کوپیش آیا اور18 تاریخ کوجرمنی کےایک اسپتال میں اس کی موت ہوگئی۔ اس کی موت کی خبرجنگل میں آگ کی طرح پورے جرمنی میں پھیل گئی ۔ لاکھوں جرمن شہری "میں البرکہ ہوں" کے نعروں کے ساتھ سڑکوں پرنکل پڑے۔ 10 لاکھ لوگوں نے آن لائن مہم چلا کرجرمن صدرسے مطالبہ کیا کہ البرکہ کو بعد ازمرگ بہادری کا قومی خطاب دیا جائے۔
اس واقعہ کے بعد جرمن صدرجواشم گاکPresident, Joachim Gauck)  ( نے اپنے تعزیت نامے میں یہ الفاظ لکھے:
"جب دوسرے لوگ دوسرارویہ اپنائے ہوئے تھے، ایسے نازک وقت میں البرکہ نے مثالی بہادری اورسماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ مشکل وقت میں تشدد کی شکارلڑکیوں کی مدد کے لئے آگے آئی ۔"
“Where other people looked the other way, Tugce showed exemplary bravery and civil courage and came to the aid of a victim of violence,” 
البرکہ نے اپنی قربانی دے کرجرمنی میں پھیلےاسلامو فوبیا کو بڑی حد تک کم کردیا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے نفرت کی آگ کو محبت کے پانی سے بجھا دیا۔ اس نے خدا کے اس قول کو ثابت کیا کہ " وہ جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں تو اللہ اسے بجھا دیتا ہے"
أَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللّهُ
البرکہ کی قربانی جرمنی میں اسلام دشمن طاقتوں کے لئے مایوسی کا سبب بنی ۔ جرمنی میں اسلام کے بارے میں لوگوں کا نظریہ بدل گیا۔ اب اسلام جرمنی کا سرمایہ  asset) ) بن چکا ہے۔ البرکہ کی قربانی نے اسلام کے تئیں جرمن شہریوں کے منفی نظریہ کو یکسرتبدیل کردیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ البرکہ کی موت سے قبل جرمنی میں اسلام کے خلاف پگیدا (PEGIDA) کے نام سے ایک مہم چل رہی تھی لیکن البرکہ کی شہادت نےاسلام مخالف اس مہم کو ختم کر دیا۔ البرکہ کی شہادت کے بعد جرمن شہری اپنے آپ کو اسلام مخالف اس مہم سے الگ کرنے لگے ہیں۔ پریس ٹیوی نے اس کی رپورٹنگ ان الفاظ میں کی ہے:
Germany's anti-Islam PEGIDA movement breaks up

اگر آپ ماضی کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ جرمنی کا واقعہ اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے جوآج سے سات سوسال قبل یعنی چودہویں صدی میں مالدیپ میں پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں خصوصی طور پرکیا ہے۔
ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ پہلے مالدیپ میں مورتی کی پوجا ہوتی تھی ۔ یہاں ہرمہینہ سمندرکے راستے سے ایک بلا آتی تھی۔ ایک مرتبہ ابوالبرکات نامی ایک بربراس جزیرے پراترا۔ وہ حافظ قرآن تھا۔ وہ وہاں ایک بڑھیا کے یہاں مہمان ٹھہرا ۔ ایک دن اس نے بڑھیا کو روتے ہوئے دیکھا توپوچھا کہ ماں ماجرا کیا ہے؟
بڑھیا نے بتایا "یہاں سمندرکے راستے ہرمہینے ایک بلا آتی ہے اوراس بلا کو روکنے کے لئے ہر بارایک آدمی کو اپنی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اسے سجاکرسمندرکے کنارے چھوڑدیا جا تا ہے اورسمندری طوفان اسے کھا کراپنی بھوک مٹا لیتا ہے۔ اس طرح وہ لوگ اپنے ملک کو مجموعی تباہی سے بچا لیتے ہیں اوراس باراس کی بیٹی کے نام سے قرعہ نکلا ہے اوراب اسے اپنی بیٹی کی قربانی دینی ہوگی، اسی لئے گھر میں ہر طرف کہرام مچا ہے۔"
ابوالبرکات نے بڑھیا سے کہا کہ ماں توپریشان نہ ہواس بار سمند کی خوراک میں بنوں گا ۔ اس بار میں جائوں گا۔ چنانچہ ابوالبرکات کوسجا سنوار کر سمند کے کنارے لے جاکرچھوڑ دیا گیا۔ کہا جا تا ہے کہ ابوالبرکات وہاں رات بھر قرآن کی تلاوت کرتا رہا ۔ طوفان آیا اورچلا گیا۔
صبح شہر کے لوگ ابوالبرکات کی لاش برآمد کرنے پہنچے تو ابوالبرکات کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے پایا۔ یہ دیکھ کروہ حیران رہ گئے۔ لوگ اسے اٹھا کربادشاہ کے پاس لے گئے۔ بادشاہ بھی حیران ہوا اوراس نے کہا کہ اگراگلی بار بھی ہمارا ملک سمندرکےعتاب سے محفوظ رہا تو ہم سب لوگ ابوالبرکات کے مذہب پرایمان لے آئیں گے اورپھر وہی ہوا۔ دوبارہ طوفان آیا اورملک تباہی سے بچ گیا تو بادشاہ نے اسلام قبول کر لیا اوراس کے ساتھ پورا ملک اسلام میں داخل ہوگیا۔
ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ یہاں کی ایک مسجد پرایک کتبہ لگاہوا ہے جس پر لکھا ہوا ہے "سلطان احمد شنورازہ ابوالبرکات کے ہاتھ پراسلام لایا۔"
مالدیپ کے ابوالبرکات اورترکی کی البرکہ کو کس چیزنے اتنا بہادربنا دیا تھا؟ وہ کون سی قوت محرکہ تھی جوانھیں طوفان بلا سے ٹکرا رہی تھی؟
اللہ پر یہ بھروسہ کہ جو ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اگر وہ نفع پہنچانا چاہے توکوئی اسے روکنے والا نہیں اوراگروہ نقصان میں ڈالے تو کوئی اسے بچا نے والا نہیں۔  

جمعرات، 29 جنوری، 2015

مصیبت کے پیٹ میں کشمیری مسلمان

مصیبت کے پیٹ میں کشمیری مسلمان

محمد آصف ریاض
اکتوبرکے مہینے میں جموں کشمیرمیں تباہ کن سیلاب آیا۔ اس سیلاب کی زد میں آکرسینکڑوں لوگ مارے گئے اورکروڑوں کا مالی نقصان ہوا۔ لاکھوں کشمیری ادھرسے ادھر ہوگئے۔ خبروں کے مطابق کئی لاکھ  لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔
تمام مبصرین نے اپنے اپنے انداز میں اس سانحہ پر تبصرہ کیا ۔ کسی نے اسے مین میڈ پروبلم بتایا، کسی نے اسے ماحولیات سے کھلواڑکا نتیجہ  قرار دیا ۔ کسی نے اسے خدائی عذاب بتا یا وغیرہ۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ سیلاب کشمیریوں کے جمود کو توڑنے کے لئے آیا تھا۔ اس سیلاب سے خدا کا منشا یہ تھا کہ کشمیری اپنی کنڈیشنگ کو توڑیں ۔ وہ مفروضہ کشمیری چادرکواتار پھینکیں۔ وہ یہ جانیں کہ خدا نے انھیں کشمیرت کی بقا کے لئے نہیں بھیجا ہے بلکہ وہ دین کی بقا کے لئے وارد کئے گئے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ سے کشمیری ماحول میں رہ کرکشمیریوں کا ذہن بھی کشمیری بن گیا ہے۔ کشمیریت کی بھول بھلیوں میں پڑکرانھوں نے وہ اصلی پیغام بھی بھلا دیا جس کا خدانےانھیں امین بنا یا تھا۔ کشمیریوں کی کنڈیشنگ کا عالم یہ ہے کہ وہ کشمیرسے باہرنکلنے کے لئے بھی تیارنہیں ہوتے، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ خدا نے انھیں دین کا پیغامبربنا کربھیجا ہے ناکہ کشمیریت کا پیغامبر۔
کشمیریوں کی ناکامی
پنجاب اورہماچل پردیش کی سرحدیں جموں کشمیرسے جڑی ہوئی ہیں لیکن کشمیری اپنے پڑوسیوں کو بھی خدائی پیغام پہنچانے میں ناکام  ہیں۔ حالانکہ وہ چاہتے تواپنے پڑوسیوں تک بہ آسانی دین کا پیغام پہنچا سکتے تھےاس کے لئے انھیں زیادہ  دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی اورنہ ہی زبان کا کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہوتا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ آج سے 20 سال قبل تک بلکہ آج بھی بہت سے سکھ اور پنجابی اردو پڑھتے اور بولتے ہیں۔
آج سے تقریباً پندرہ سال قبل بنارس میں ایک سکھ  سے میری ملاقات ہوئی ۔ وہ مجھ سے اردو اخبار مانگ کر پڑھنے لگا تومیں حیران رہ گیا ۔ اس نےبتا یا  کہ ہمارے گھر میں اردو پڑھی جاتی ہے اور زیادہ تر لوگ اردو جانتے ہیں۔ کشمیری مسلمان اس ہم آہنگی کا فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ وہ اپنے بھائیوں کو دین کا پیغام پہنچا سکتے تھے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے اور پورے معاملہ میں انڈیفرنٹ بنے رہے۔ چونکہ ان کا مائنڈ  دعوہ اورینٹیڈ نہ تھا، اس لئے انھوں نے خدا کی طرف سے پیدا کئے گئے مواقع کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
 1984کے واقعہ کے بعد سکھوں کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں سیکنڈ تھاٹ پیدا ہوا تھا۔ سکھ مخالف فساد کے بعد سکھ اپنے آپ کو فطری طور پرمسلمانوں سے قریب محسوس کرنے لگے تھے۔ ایسا اس لئے ہوا تھا کیونکہ فساد کے دوران مسلمانوں نے سینکڑوں سکھوں کو فسادیوں کے ہاتھوں سے بچا یا تھا۔ لیکن مسلمان اس موقع پربھی انھیں دین کا پیغام پہنچانے میں ناکام رہے۔
خدائی پیغام کے تئیں کشمیریوں کی مسلسل ناکامی کی وجہ سے خدا کا غضب بھڑک اٹھا۔ اس نے کشمیریوں کو بھی اسی طرح مصیبت کے پیٹ میں بند کردیا جس طرح  خدائی مشن میں ناکامی کی وجہ سے حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں بند کر دیا گیا تھا۔
 حضرت یونس کا واقعہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے :
 وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ  ۔۔ ﴿ الانبیاء ۔87﴾
(اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا، یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اورسمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے)
 مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کو خدا کا عہد یاد آیا اورآپ نے نہایت گریہ و زاری سے اپنے خدا کو پکار اور توبہ استغفار کیا تو خدا نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے باہرنکال دیا ۔ قرآن میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:
فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿ الانبیاء ۔87﴾
(آخر کو اُس نے تاریکیوں میں پکارا “نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا )
حضرت یونس کی اس پکار پرخدا نے انھیں معاف کردیا اور انھیں مچھلی کے پیٹ سے آزاد کردیا۔ قرآن میں ہے:
فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ﴿145﴾ وَأَنبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ ﴿146﴾
آخرکارہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیااور اُس پر ایک بیل دار درخت اگا دیا۔  (الصافات)
کشمیریوں کے لئے سبق
ایک کشمیری سے دہلی کے شاہین باغ میں میری ملاقات ہوئی۔ ان کی عمر تقریباً ساٹھ سال تھی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کشمیری بم اورگن کلچر کیوں نہیں چھوڑ دیتے تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ اس کلچرمیں اس طرح رم گئے ہیں کہ اب ان کے لئے کوئی ٹرنگ پوائنٹ نہیں ہے۔
میں حیران رہ گیا ! ایک ساٹھ سال کا آدمی جوکہ مسلمان بھی تھا اورقتل وخون کے معاملہ میں نو ٹرنگ پوائنٹ کی بات کر رہا تھا میں نے انھیں بتا کہ خدا نے آپ کو ہمیشہ کے لئے ٹرنگ پوائنٹ دیا ہے۔ خدا نے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھول رکھا ہے، وہ دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اسلام میں تو کوئی ایسا مقام ہی نہیں جہاں سے نو ٹرنگ پوائنٹ کا مفروضہ ثابت ہو۔ میں نے انھیں بتا یا کہ آپ (کشمیریوں) کا معاملہ حضرت یونس کا معاملہ ہے۔ حضرت یونس اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کی وجہ سے "مچھلی کے پیٹ" میں ڈالے گئے تھے اور خدا نے آپ کشمیریوں کو اسی جرم کے سبب "مصیبت کے پیٹ" میں ڈال دیا ہے۔

اب آپ کی نجات کی صورت بھی وہی ہے جو حضرت یونس کی تھی یعنی اپنے گناہوں پرسچی ندامت اور توبہ اور خدائی مشن کو دوبارہ لے کر اٹھنا اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ضرور اہل کشمیرمصیبت کے پیٹ سے نکل جائیں گے۔

ہفتہ، 6 دسمبر، 2014

Jews exodus from Europe and opportunities for Muslims

یہود کا اسرائیل سے انخلا اور مسلمانوں کے لئے مواقع


محمد آصف ریاض

دوسری جنگ عظیم کے دوران یہود یوں کوعیسائیوں کے ہاتھوں زبردست اذیت کا شکارہونا پڑا تھا۔ اعداد و شمارکے مطابق نازیوں نےساٹھ لاکھ یہود یوں کو قتل کیا تھا۔ اس قتل عام کے بعد فطری طورپرجنگ تھم گئی تھی اورعیسائیوں میں یہود کے تئیں سیکنڈ تھاٹ پیدا ہوا تھا۔
جنگ عظیم دوئم کے خاتمہ پرعیسائیوں نے بہترسمجھا کہ یہود کوایک بارپھرکہیں بسایا جائے چونکہ یوروپ میں ہرطرف یہود مخالف ماحول قائم تھا اس لئےاس وقت کی عیسائی طاقتوں برطانیہ ، جرمنی اور فرانس وغیرہ نے یہ بہترسمجھا کہ یہود کو یوروپ سے نکال کر فلسطین میں بسا دیا جائے ۔ چنانچہ 1948 میں یہود کو یوروپ سے نکال کر فلسطین میں یعنی عالم اسلام کے قلب میں بسا دیا گیا۔
فلسطین میں یہود کی آبادکاری سے پوری دنیا کے مسلمان بھڑک اٹھے۔ انھوں نے یہود کے وجود کوعالم اسلام  کے لئے خطرہ قراردیا۔ انھوں نے یوم اسرائیل کو یوم نکبہ یعنی (Day of the Catastrophe)  کا نام دیا۔ آج بھی ساری دنیا کے مسلمان یوم اسرائیل کو یوم نکبہ ( بڑا المیہ) قرار دیتے ہیں۔
مسلمانوں نے یہود کی آباد کاری کے معاملہ کو صرف ایک پہلو سے دیکھا اورافسوسناک بات یہ ہے کہ وہ آج تک فلسطین میں یہود کی آباد کاری کواسی پہلوسے دیکھتے ہیں۔ اسرائیل کے قیام میں مسلمانوں نے صرف اپنے نقصان کو دیکھا۔ وہ اس معاملہ میں اپنے فائدے کو نہ دیکھ سکے۔
مسلمانوں نےاسرائیل کے وجود کوعالم عرب کے قلب میں دیکھ کر یہ گمان کرلیا کہ ان کا محاصر ہوچکا ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصررہے کہ خود یہود مسلمانوں کے محاصرے میں آ گئے ہیں ۔ اب وہ چاروں طرف سے مسلم ممالک کے نرغے میں ہیں۔ اب وہ جہاں جو جی میں آئے کرنے کے لئے آزاد نہیں ہیں۔ اب عملاً ان کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئےہیں۔
مثلاً اسرائیل کے شمال میں لبنان اور اردن، شمال مشرق میں سیریا، مغربی کنارہ اورغازہ پٹی واقع ہے۔ اسی طرح مشرق اور جنوب مشرق میں مصراورخلیج العقبہ واقع ہے۔ یعنی اسرائیل چاروں طرف سے مسلم ممالک سے گھرا ہوا ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہود مسلمانوں کے نرغے میں ہیں ناکہ مسلمان  یہود کے نرغے میں ۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک یہودی مفکر  Sebastian Vilar Rodrigez نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے :


The Jews are leaving Europe not because the Jihadists are coming, but because they are here, dwelling among us. They hate Israel and they loathe Jews, but we say almost nothing and do very little. Instead, we let the Jews emigrate to Israel, and they are doing so in their thousands every year. They may be surrounded there on all sides by the enemies of Zionism. But at least they have a government which will not hesitate to protect and defend them۔


" یہودی یوروپ سے نقل مکانی کر رہے ہیں ، اس لئے نہیں کہ یہاں جہادی (مسلمان ) آرہے ہیں بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ یوروپ میں آکر ہمارے درمیان رہ رہے ہیں۔ وہ اسرائیل سے نا پسندیدگی کی حد تک نفرت کرتے ہیں ۔ لیکن ہم ہیں کہ ان کےخلاف کچھ بھی نہیں کر پاتے اور اگر کچھ کرتے بھی ہیں تو وہ بہت کم  ہے۔ ہم یہود کو یوروپ سے نقل مکانی کرنے کی چھوٹ دے چکے ہیں۔ ہرسال ہزاروں کی تعداد میں یہودی یوروپ چھوڑ کر اسرائیل جا رہے ہیں۔ بلا شبہ وہاں وہ ہرطرف سے دشمنوں سے گھرے ہوئے ہیں تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ وہاں ایک حکومت ہے جو یہود کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے"
   1948 سے پہلے کی صورت حال یہ تھی کہ یہود ایک عالمی کمیو نٹی تھی۔ وہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ تاہم جب اسے فلسطین میں لاکربسا دیا گیا تواچانک وہ ایک علاقائی کمیونٹی بن کررہ گئی ۔ انھوں نے اپنے آپ کو چاروں طرف سے مسلمانوں کے درمیان گھرا ہوا پا یا تو اپنی آبادی کو بڑھا نے کے لئے انھوں نے ساری دنیا کے یہود کواسرائیل میں بلا لیا۔ اس سے انھیں یہ فائدہ تو ہوا کہ اسرائیل کی آبادی میں کچھ  اضا فہ ہوگیا لیکن نقصان یہ ہوا کہ ساری دنیا یہود سے خا لی ہوگئی ۔ اب یہود عالمی پلیئر نہ رہ کرعلاقائی پلیئر بن گئے۔
ساری دنیا کے یہود جب اسرائیل میں آکرجمع ہوگئےتودوسرے لفظوں میں وہ مسلمانوں کے محاصرے میں آگئے۔ یہود کے ایک جگہ جمع ہونے سے مسلمانوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ملا کہ وہ یہود کی عالمی سازش سے بچ گئے۔ اٹھارہویں صدی اور اس سے پہلے عالم یہ تھا کہ مسلمان دنیا میں جہاں کہیں جاتے تھے انھیں یہود کی سازشوں سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔ وہ جس خطے میں بھی جاکرآباد ہوتے تھے وہاں کے یہود مسلمانوں کے خلاف آسمان سرپراٹھا لیتےتھے۔ وہ دوسری قوموں خاص طورسے عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا دیتے تھے۔ یہود کی ان سازشوں کی وجہ سے اسپین سے مسلمانوں کا انخلا ہوا۔ یہود کی انھی سازشوں کی وجہ سے یکم نومبر 1922 کو عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا۔
خلافت عثمانیہ کے خاتمہ  کے بعد مسلمانوں کے لئے یہ مشکل ہوگیا تھا کہ وہ ان علاقوں کو اپنا مسکن بنائیں جہاں مسلمان سرے سے موجود نہ ہوں یا ہوں تو برائے نام ہوں ۔ یہود انھیں کہیں بھی آسانی سے بسنے نہیں دیتے تھے۔ مثلاً ان کے لئے یوروپ میں آباد ہونا بڑا مشکل امرتھا کیونکہ یہاں یہود کا بڑا دبدبہ تھا۔
خدا کا منصوبہ
اس زمین پرخدا کا منصوبہ یہ ہے کہ زمین پربسنے والا ہرانسان خدا کے پیغام کو جان لے۔ وہ خدا کی معرفت حاصل کر لے۔ اس کام کے لئے خدا نے ہر دور میں نبیوں اوررسولوں کومبعوث فرمایا۔ سب سے آخر میں پیغمبر اسلام کی بعثت ہو ئی پھرخدا نے ان کی امت اور قرآن کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا تاکہ ہر گھر میں خدائی کلمہ داخل ہوجائے۔ خدا کے اس منصوبہ کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
'لایبقی علی ظھر الأرض بیت مدر ولا وبر لا أدخلہ اللہ کلمة الاسلام بعز عزیز أوذل ذلیل ما یعزھم اللہ عزوجل فیجعلھم من أھلھا أو یذلھم فیدینون لھا.'' (مسند أحمد: ٢٣٦٣٩' مؤسسة الرسالة' الطبعة الثانیة' ١٩٩٩ء)
'' زمین کی پشت پر کوئی کچا یا پکا مکان باقی نہ رہے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل کر دے گا، عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلیل کی ذلت کے ساتھ' ۔
تاریخ کا سبق بتاتا ہے کہ خدائی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں یہود سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ انھوں نے کئی نبیوں اور رسولوں کو قتل کیا۔ جب یہود کی سفاکی حد سے بڑھ گئی تو خدا نے یہود کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹا نا شروع کر دیا۔ اسی خدائی پروسس کے نتیجہ میں یہود یوروپ سے نکالے گئے تاکہ اہل یوروپ کے ہرگھر میں خدائی کلمہ داخل ہو سکے۔ اب جبکہ یوروپ سے یہود کا حتمی انخلا ہوچکا ہے تو صورت حال یہ ہے کہ یہاں کے ہر گھر میں خدائی کلمہ بڑی تیزی سے داخل ہو رہا ہے۔ یہود کے انخلا کے فوراً بعد یوروپ کا دروازہ اسلام کے لئے کھل گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ یوروپ کا کوئی شہرنہیں ہے جہاں سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند نہ ہوتی ہوں۔
اس واقعہ کو ایک یہود مفکر Sebastian Vilar Rodrigez نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
 " یوروپ نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کواس لئے قتل کردیا تاکہ ان کی جگہ وہ دوکروڑ مسلمانوں کو آدباد کرسکیں۔"
Europe Killed Six Million Jews and Replaced them with 20 Million Muslims !
یوروپ آج توحید کا گہوارہ بن چکا ہے۔ یہاں ہر دن سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اسلام قبول کر رہے ، اسی رفتار کو دیکھتے ہوئے کچھ شر پسند یہودیوں نے اسے یوروپ Europe کی جگہ Eurabia  یعنی عرب کہنا شروع کر دیا ہے۔  
یوروپ کے چند شہروں میں آباد مسلمانوں سے متعلق اعدادو شماریہاں پیش کئےجاتےہیں:مزید جانکاری کے لئے اس لنک پر کلک کریں::
http://en.wikipedia.org/wiki/List_of_cities_in_the_European_Union_by_Muslim_population

منگل، 11 نومبر، 2014

Seeking for Haji Ilahi Bakhsh

مجھے"حاجی الہی بخش" کی تلاش ہے
محمد آصف ریاض
1857 کی جنگ میں انگریزوں نے دہلی کی جامع مسجد پر قبضہ جما لیا تھا۔ یہاں نمازممنوع تھی ۔ انگریزوں نے اس مسجد کو اپنے قبضے میں لے کرفوجی بارک بنا لیا تھا۔ 1858 میں کینٹر بری کے لاٹ پادری کا حکم نامہ آیا کہ دہلی میں اسقف اعلیٰ کا عہدہ قائم کیا جائے۔ انگریزی اخباروں نے شور مچایا کہ جامع مسجد کو گرجا گھر بنا دیا جائے۔ اور یہاں اسقف کا مرکز قائم کیا جا ئے لیکن حکومت نے وسیع ترمصلحتوں کے پیش نظراپنے ارادے کو بدل دیا۔ البتہ مسلمانوں کی ناراضگی کے باوجود مسجد بدستور فوجی بارک بنی رہی۔
1862 میں انگریزوں نے اس شا ہجہانی مسجد کو نیلام کردیا۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ سب سے بڑی بولی میرٹھ  کی قریشی برادری کے ایک فرد حاجی الہی بخش نے لگائی۔ حاجی الہی بخش نے پچھتر ہزار روپے نقد ادا کر کے مسجد کو انگریز حکومت سے خرید لیا اور پھراسے نماز کے لئے مسلمانوں کے حوالے کردیا۔  مزید جانکاری کے لئے پڑھئے  تاریخ نظریہ پاکستان؛ پروفیسر محمد سلیم۔
قومیں اگر زندہ ہوں تو وہ  پہاڑ جیسے بوجھ کو بھی  بخوشی اپنے سر پر اٹھا لیں گی اور اگر  مردہ ہوں تو رائی کا ہر دانہ انھیں پہاڑ نظر آئے گا۔
کل اگر ہندوستانی مسلمان عروج کے مقام پر فائز تھے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ انھوں نے اپنے آپ کو زندہ رکھا تھا، وہ ہر چیلینج کو قبول کر نے کے لئے تیار رہتے تھے ان کے درمیان ہر وقت کوئی نہ کوئی  حاجی الہی بخش موجود رہتا تھا اور آج اگر مسلمان اپنے آپ کو پسماندہ پاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ان کے درمیان کو ئی الہی بخش موجود نہیں ہے۔

جمعہ، 3 اکتوبر، 2014

فتنہ اور علما



فتنہ اور علما
محمد آصف ریاض
یہود سے کہا گیا تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ وہ لوگوں کا مال ناحق نہ کھا ئیں ۔ نیز یہ کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اچھا برتائو کریں۔ ان سے کہا گیا تھا:
اگرتو، میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کوجو تیرے پاس رہتا ہو کچھ قرض دے تواس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا، اورنہ ان سے سود لینا" (کتاب خروج باب 22)
" اوراگرتیرا کوئی بھائی مفلس ہوجائے اوروہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو اسے سنبھالنا۔ وہ پرد یسی اورمسافر کی طرح تیرے ساتھ رہے۔ تواس سے سود یا نفع مت لینا بلکہ اپنےخدا کا خوف رکھنا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے، تو اپنا روپیہ اسے سود پرمت دینا اوراپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے مت کھلانا "
(احبار باب 25 )
شروع میں یہود نے پیغمبروں کی تعلیم پرعمل کیا لیکن بعد میں ان کے یہاں بہت سے ناخلف لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے پیغمروں کی تعلیم کو پس پشت ڈال دیا ۔ لیکن ابھی وہ اتنے جری نہیں ہوئے تھے کہ علی اعلان پیغمبروں کے احکام کو توڑ تے پھرتے، البتہ جب انھیں اس کام میں اپنے بگڑے ہوئے فقہا کی مدد حاصل ہو گئی تو وہ بہت جری اور سر کش ہوگئے۔ یہود کے بگڑے ہوئے فقہا نے انھیں بتایا کہ خیر کے جو بھی احکام ہیں وہ سب یہود سے متعلق ہیں اورجو خدائی غصہ ہے وہ سب امیوں یعنی غیر یہود کے لئے ہے۔ اپنے فقیہوں کی اس نئی توضیح کو سن کر یہود اس طرح خوش ہوئے جیسے نعوذ با اللہ خدا کی طرف سے انھیں زمین پر لوٹ مار کی کھلی چھوٹ مل گئی ہو۔ اب وہ اخلاقی طور پر اس قدر گر گئے کہ اگر کوئی ایک دینار بھی ان کے پاس رکھتا تو وہ اسے لوٹا نے کے لئے تیار نہ ہوتے۔ قرآن میں ان کی اس حالت کا ذکراس طرح ہوا ہے۔:
"اہل کتاب میں سے کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینارکے معاملہ میں بھی اس پربھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا، الا یہ کہ تم اس پر سوار ہوجائو۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے" (آل عمرا ، آیت 75)
یہود میں جب خرابی پیدا ہوئی تو وہ ایک دم سے اتنے خراب نہ ہوئے کہ خدا ئی احکام کو صریحاً توڑ دیتے ۔ ابھی ان میں اتنی جسارت پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن جب انھیں اپنے بگڑے ہوئے فقہا کا سہارا مل گیا تو وہ نڈر ہوگئے ۔ فقہا کی طرف سے شہہ پاکر ان کی سر کشی اتنی بڑھی کہ غیر تو غیر اپنے بھی ان کی بد سلوکی سے محفوظ نہ رہہ سکے۔
قرآن میں ان کی اس حالت کا ذکر اس طرح ہوا ہے:
کیا خدائی حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے، اگر ایسا ہوتا تو یہ دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے"
(سورہ النساء، آیت 53 )
مذاہب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دورزوال میں مسلم فقہا بھی اپنی قوم کے ساتھ وہی کررہے ہیں جویہود و نصاریٰ کے فقہا اپنی قوم کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ مثلا آپ  انذار کے بارے میں کوئی قرآنی آیت مسلمانوں کو سنا ئیں تو ان کے علما کہیں گے کہ یہ حکم یہود کے بارے میں ہے، اور اگر آپ کوئی دوسری آیت پیش کریں تو وہ کہیں گے کہ اس کا رخ نصاریٰ کی طرف ہے، یعنی وہ اپنے آپ کو صرف تبشیرکے خانے میں رکھیں گے، وہ اپنے آپ کو انذار کے خانے میں رکھنے کے لئے ہر گزتیار نہ ہوں گے۔ 
 حدیث میں آیا ہے کہ فتنہ علما کی طرف سے آئے گا اور انھیں کی طرف لوٹے گا۔ 
حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک زمانہ آئیگا جس میں اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائیگا اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے ان کی مسجدیں بڑی بارونق ہوں گی مگر رشد وہدایت سے خالی اورویران ان کے (نام نہاد) علماء آسمان کی نیلی چھت کے نیچے بسنے والی تمام مخلوق سے بد تر ہوں گے ،فتنہ ان ہی کے ہاں سے نکلےگا اوران ہی میں لوٹے گا (یعنی وہی فتنہ کے بانی بھی ہوں گے اوروہی مرکزومحوربھی (بیہقی فی شعب الایمان ،مشکوۃ شریف ۳۸)

جمعہ، 8 اگست، 2014

نبیوں کی پکار

نبیوں کی پکار


محمد آصف ریاض

یکم اگست 2014  کو میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ میں گھر پر بیٹھا کتابوں کا مطالعہ کر رہا تھا، تبھی ایک بچے کے رونے کی آوازسنائی دی۔ وہ بچہ زارو قطار رورہا تھا۔ بہت ہی دلسوز آواز تھی اس کی۔ اس کی آہ و زاری سن کر میں دوڑا ہوا ونڈو پر آگیا اور دیکھنے لگا کہ آخر اسے کیا ہوا ہے؟

دیکھا کہ بچہ نیم برہنہ حالت میں تھا۔ اس کی عمر سات آٹھ سال رہی ہوگی۔ وہ ذہنی طورپرمعذورتھا۔ لیکن جو چیز لوگوں کوحیران کرنے والی تھی وہ اس کی پر سوز آواز تھی۔ وہ دیوانہ وار پکارے جا رہا تھا:

" امی، تم کہاں ہو؟ امی تم کہاں ہو؟ امی، میری امی کہاں گئی؟ وہ ابھی یہیں کہیں تو تھی، میری امی، کوئی میری امی کو لادو۔"

اس کے لہجے میں اتنا درد تھا کہ اگر وہ اسی طرح  دوچار مرتبہ اور پکارتا تو میں یقیناً رو پڑتا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ جہاں تک اس کی آواز پہنچی ہر شخص اسے دیکھنے کے لئے اپنے گھروں سے بے چین ہو کر نکل پڑا۔ عورتیں کھڑکیوں سے جھانکنے لگیں، اسی درمیان ایک نوجوان آیا اوراس بچے کو پکڑ کراس کی ماں کے پاس لے گیا۔

اس بچے کو دیکھ کر مجھے نبیوں اور رسولوں کی یاد آگئی۔ خدا کے معاملہ میں ان کی محبت بھی اسی بچے کی طرح ہوا کرتی تھی۔ وہ بھی ہرصدماتی تجربے پر اپنے رب کو اسی طرح پکار اٹھتے تھے جس طرح یہ کھویا ہوا بچہ اپنی ماں کوپکار رہا تھا۔

مثلاً بائبل کے مطابق جب حضرت عیسیٰ کو یہود نے قتل کے لئے گھیرلیا اورآپ کی داڑھی پکڑ کرآپ کو زودو کوب کرنا شروع کیا تو بائبل میں آتا ہے کہ آپ بے اختیار ہو کر پکار اٹھے: خدا یا، خدایا ، آپ نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟

My God My God why have you forsaken me?

اسی طرح زبور میں ہے کہ جب حضرت دائود کو سخت ترین دشمنوں کا سامنا ہوا تو آپ بے ساختہ پکار اٹھے:
"خدا اٹھے، اس کے دشمن تتربتر ہوں۔ وہ جواس کا کینہ رکھتے ہیں ، اس کے حضور سے بھاگیں۔ جس طرح دھواں پرا گندہ ہوتا ہے، اسی طرح خدایا تو انھیں پرا گندہ کر۔ جس طرح موم آگ پر پگھلتا ہے اسی طرح شریرخدا کے حضور فنا ہوں۔ "


Let God arise, let his enemies be scattered: let them also that hate him flee before him.
2 As smoke is driven away, so drive them away: as wax melteth before the fire, so let the wicked perish at the presence of God.
Psalm


دعا کے یہ الفاظ کسی بندہ خدا کی زبان پراس وقت جاری ہوتے ہیں جبکہ اس بندہ خدا کوخدا کی گہری معرفت حاصل ہو، جبکہ اس کی صبحیں اور شامیں خدا کی یاد میں ڈوبی ہوئی ہوں، جبکہ اس کا دل ہروقت خدا کی طرف لگا ہوا ہو، جبکہ اسے پورا یقین ہو کہ خدا ہی ہر چیز کا مالک ہے اور سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے۔