بدھ، 2 جنوری، 2013

Throwing Mountain



پہاڑ یا رائی کا دانہ

محمد آصف ریاض

بہار کی راجدھانی پٹنہ سے جنوب کی جانب تقریباً 100 کیلو میٹر کے فاصلہ پر ایک شہر ہے جس کا نام "گیا"ہے۔ یہ شہر پھلگو ندی کے کنارے بسا ہوا ہے۔ یہ ایک قدیم شہر ہے۔ کہا جا تا ہے کہ اسی شہر میں بودھ مذہب کے پیشوا مہاتما بودھ کو زندگی کی حقیقت کا ادراک ہواتھا۔ یہاں بڑے پیمانے پر ہندو، بودھ اور جین مذہب کے عقید ت مند مذہبی رسوم کی ادائیگی کے لئے آتے رہتے ہیں۔
اسی شہر کا ایک گاﺅں ہے "گہلور"۔ یہ گاﺅں دسرتھ مانجھی کی وجہ سے چرچے میں آیا،جسے گاﺅں والے "پہاڑی آدمی" کہہ کر بلاتے ہیں۔

دسرتھ مانجھی کے ساتھ 1967میں ایک المناک واقعہ پیش آیا۔ اس کی بیوی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ اس کے گاﺅں میں کوئی اسپتال نہیں تھا۔ لہذا اسے اپنی بیوی کو لے کرنزدیک کے ایک قصبہ امیٹھی جانا پڑا ۔ امیٹھی اور گہلور کے درمیان صرف 8 کیلو میٹر کا فاصلہ ہےلیکن دونوں کے درمیان ایک پہاڑ آجا تا ہے جس کی وجہ سے یہ دوری8 کیلومیٹر سے بڑھ کر 28 کیلو میٹرہوجاتی ہے۔28کیلو میٹر کی طویل مسافت طے کر کے جب مانجھی اپنی بیوی کو لے کر اسپتال پہنچا، تو اسے بتا یا گیا کہ اس کی بیوی اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکی ہے۔
بیوی کی موت سے مانجھی کوبڑا صدمہ پہنچا۔ اس نے سوچا کہ اگر راستے میں پہاڑ نہیں آتا تو شاید اس کی بیوی نہیں مرتی ۔ اسی دن اس نے اپنے ہاتھوں میں چھینی اور ہتھوڑااٹھا یااور پھر پہاڑ کو کاٹنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ لگاتار 22سال کی کڑی محنت کے بعد 1988 میں اس نے تن تنہا پہاڑ کی 360 فٹ لمبائی، 30 فٹ چوڑا ئی اور 25فٹ اونچا ئی کو کاٹ کرراستہ بنا دیا ۔ پہاڑمیں راستہ بن جانے کے بعد امیٹھی اور گہلور کی دوری 28 کیلو میٹر سے گھٹ کرمحض 8 کیلو میٹر رہ گئی۔ اب گاﺅں والے آرام سے پیدل ہی ایک گاﺅں سے دوسرے گاﺅں آتے جاتے رہتے ہیں۔

میں نے جب اس عظیم الشان کارنامے کا ذکر ایک صاحب سے کیا، تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ آصف صاحب !اس نے اپنی زندگی کے 22 سال برباد کردئے۔ وہ کس طرح ؟ میں نے پوچھا!
مانجھی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ آج کی دنیا چھینی اور ہتھوڑے کی دنیا سے نکل کر ڈائنامائٹ کی دنیا میں داخل ہوچکی ہے۔اگر وہ شخص چھینی اور ہتھوڑے کی جگہ ڈائنامائٹ کا استعمال کرتا تو شاید اسے اپنی زندگی کاایک اتنابڑا حصہ برباد نہیں کرنا پڑتا۔"
میں نے انھیں بتا یا کہ دیکھئے،آپ نے اس معاملہ کا نہایت کمتر اندازہ کیا۔آپ نے اس معاملہ میں ایک عام آدمی کی طرح سوچا ۔ آپ اس معاملہ میں مانجھی کی طرح نہیں سوچ سکے۔

اس معاملہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مانجھی نے "غیر مو جود وسائل"  کے لئے جدو جہد نہیں کی، جیسا کہ عام طور پر لوگ کرتے ہیں بلکہ اس نے "موجود وسائل" کے استعمال کو جانا اور اپنے نشانہ کو پانے میں کامیابی حاصل کی ۔
واقعہ یہ ہے کہ جب بھی آدمی کے سامنے کوئی معاملہ آتا ہے تو اس سے نمٹنے کے لئے اسے وسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔اب اس کے سامنے دوآپشن ہوتے ہیں۔اول یہ کہ وہ دستیاب وسائل کو جانے اور اس کا استعمال کر کے حالات کو اپنے حق میں کرلے، جیسا کہ مانجھی نے کیا۔ دوسرا یہ کہ وہ غیر دستیاب وسائل کے حصول کی تگ و دو میں پڑ کر اپنے آپ کو تباہ کرے، جیسا کہ عام طور پر لوگ کرتے ہیں۔
عقلمند آدمی دستیاب وسائل کے استعمال کو جانتا ہےاور بیوقوف غیر دستیاب وسائل کی تگ و دو میں پڑ کر اپنی زندگی تباہ کرتا ہے۔عقلمند آدمی یہ دیکھتا ہے کہ وہ کیا کرسکتا ہے۔ نادان آدمی  یہ سوچتا ہے کہ اس کے پاس یہ ہوتا تو وہ یہ کرتا۔عقلمند آدمی ممکن کی طرف دوڑتا ہے، اور بیوقوف ناممکن کی طرف۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ کسی معاملہ میں عقلمندی کا مظاہرہ کرے،اس لئے کہ وہ آدمی ہے۔
اس واقعہ کا دوسراسبق یہ ہے کہ آدمی اپنے عزم ، حوصلہ اور استقلال کی طاقت کا استعمال کر کے پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا سکتا۔ وہ بھی محض چھینی اور ہتھوڑی کے بل پر۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر آدمی عزم وحوصلہ اور استقلال سے بھراہوتوہر پہاڑ اسے رائی کا دانہ نظر آئے گااوراگر آدمی کے اندرعزم و حوصلہ کی کمی ہو تو رائی کا ہر دانہ اسے ہمالیہ پہاڑ نظرآئے گا۔ کوئی چیز دانہ ہے یا پہاڑ وہ انسان کی اپنی سوچ اور اپنے عزم پرمنحصر کرتا ہے۔  

Key to success


کامیابی کا راز

محمد آصف ریاض
اسٹیفن ہاکنگ }  پیدائش   { 8 -January 1942 موجودہ دور کے مایہ ناز سائنسداں ہیں۔ ہاکنگ کو آئن سٹائن کے بعد گزشتہ صدی کا سب سے بڑا سائنسداں سمجھا جا تا ہے۔ وہ 30 سالوں تک کیمبرج یونیورسٹی میں علم حساب کے لوکیسین پرو فیسررہے ۔
 یہ وہی عہدہ ہے،جس پر کبھی معروف سائنسداں سراسحاق نیوٹن فائزتھے۔ اسٹیفن ایک خطرناک قسم کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ وہ نہ ہاتھ پاﺅں ہلا سکتے ہیں اور نہ بو ل سکتے ہیں لیکن وہ دماغی طور پر صحت مند ہیں اور اپنا کام مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
 ہاکنگ کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیو ریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔
ان کی ایک کتاب {A brief history of time} وقت کی مختصرتاریخ کے نام سے دنیابھرمیں مشہور ہے۔ سائنس کی دنیا میں یہ ایک انقلابی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ یہ آسان الفاظ میں لکھی گئی ایک عمدہ کتاب ہے جس سے طلبا اساتذہ اورمحققین بیک وقت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسٹیفن نے اپنی اس کتاب کے اعتراف {  Acknowledgment} میں اپنی پہلی کتاب " دی لارج اسکیل آف اسپیس ٹائم، شائع 1973 " کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: "میں قارئین کو اس بات کا مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ میری پہلی کتاب کو پڑھیں۔ یہ بہت زیادہ ٹیکنیکل کتاب ہےاسے سمجھا نہیں جا سکتا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اس عرصے میں یہ جانا ہے کہ چیزوں کو آسان اور قابل فہم بنا کر کس طرح پیش کیا جا تا ہے۔"
ہاکنگ کی کتاب دی لارج اسکیل آف اسپیس ٹائم اوروقت کی مختصر تاریخ کے درمیان تقریباً 16سال کا وقفہ ہے۔اس سولہ سال میں ہاکنگ نے جا نا کہ لکھا کس طرح جا تا ہے۔
یہی کسی کامیابی کا رازہے۔ کوئی کامیابی پہاڑ کی شکل میں آسمان سے نہیں اتر تی۔ ہر کامیابی کی جڑ کسی چھوٹی کامیابی میں پیوست ہوتی ہے،جس طرح کوئی تناور درخت کسی گمنام دانے سے نکلتا ہے،اسی طرح کوئی بڑی کامیابی کسی نامعلوم چھوٹی کامیابی سے پھوٹتی ہے۔
 آدمی کو کامیابی کے اسی راز کو جاننا ہے۔
آدمی لکھتے لکھتے،لکھنا جانتا ہے،اور پڑھتے پڑھتے پڑھنا۔ وہ بولتے بولتے بولنا جانتا ہے،اور چلتے چلتے چلنا۔اس معاملہ میں کسی کا کوئی استثنا نہیں۔
کڑی کڑی ملتی ہے،تب زنجیر بنتی ہے،لفظ لفظ ملتے ہیں تب جملہ بنتا ہے، قطرہ قطرہ ملتا ہے، تب دریا بنتا ہے۔ قدم قدم بڑھتے ہیں، تب کوئی منزل طے پاتی ہے،اینٹ اینٹ ملتی ہے، تب کوئی عالیشان قلعہ وجود میں آتا ہے۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ لوگ اس وزڈم سے بے خبر ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ہر بڑی کامیابی کی جڑ چھوٹی کامیابی کے اندر ہوتی ہے، جیسے درخت بیج کے اندر ہوتاہے۔
ہرشخص لمبی چھلانگ لگانے کی فکر میں ہے،ہر شخص ایک ایسی اڑان بھر رہا ہے جس کے لئے ابھی اس کے بال وپرتیار نہیں ہیں۔

بدھ، 26 دسمبر، 2012

You have no excuse now


اب آپ کے پاس کوئی عذر نہیں بچتا

محمد آصف ریاض
کل شیشے کے گلاس میں ناریل کا پانی نکال کرمیری طرف بڑھا یا گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ پانی بالکل شفاف تھا۔ میں اس پانی کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے سکتے میں آگیا۔ سوکھی ہوئی لکڑیوں کے درمیان سے پاکیزہ اور اس قدرشفاف پانی کانکلنا میرے لئے ایک معجزہ سے کم نہیں تھا!
مجھے،ناریل کےاس پانی کو دیکھ کر حضرت موسیٰ کا وہ معجزہ یاد آگیا جس کا ذکر قرآن کے سولہویں پارہ میں ہواہے۔ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ وہ فرعون کے پاس جائیں،اسے سمجھائیں اور اللہ کا خوف دلائیں کہ و ہ سرکش ہوگیا ہے۔
جب موسیٰ اپنے بھائی ہارون کے ساتھ فرعون کے پاس اللہ کا پیغام لے کر پہنچے تو اس نے ا پنے حوارین کو جمع کر کے کہا کہ "یہ دونوں محض جادو گر ہیں۔اوران کا پختہ ارادہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں،اور تمہارے بہترین مذہب کو بر باد کردیں،توتم بھی اپنا کوئی داﺅ اٹھا نہ رکھو،صف بندی کر کے آگے بڑھو،جوآج غالب آگیا،وہی بازی لے گیا"!مقابلہ آرائی کے وقت جادو گروں نے کہا موسیٰ پہلے تم یا پہلے ہم!
موسیٰ نے جواب دیا پہلے تم ہی اپنے کر تب دکھا لو۔انھوں نے اپنی رسیوں اور لکڑیوں کو زمین پر ڈال دیا، موسیٰ کو لگا کہ لکڑیاں اوررسیاں ان کے جادوکے زورسےدوڑ بھاگ رہی ہیں۔ پس موسیٰ اندر سے ڈرگئے!
خدا کا حکم ہوا ڈرومت موسی، والق مافی یمینک تلقف ماصنعو، جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے،اسے زمین پر ڈال دو،وہ ان کی تمام کاریگری کو نگل جائے گا۔ موسی نے اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی اور وہ سانپ بن کر ان کے کرتبوں کو نگل گیا۔ موسیٰ کا یہ معجزہ دیکھ کرتمام جادو گر سجدہ میں گر پڑے۔اور پکار اٹھے،ہم تو موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔
فرعون نے کہا میری اجازت سے پہلے ہی تم ایمان لےآئے !میں تمہارے ہاتھ پاﺅں الٹے سیدھے کٹوا کر کھجور کے تنے پر لٹکوا دوں گااورتمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کی مار زیادہ سخت اور زیادہ دیر پا ہے!جا دو گروں نے جواب دیا، ناممکن کہ ہم موسیٰ کے خداپرتمہیں ترجیح دیں۔
حضرت موسیٰ کا معجزہ جادوگروں کے لئے ایک حیران کن تجربہ تھا۔ اس تجربہ نے ان کے سوچنے کے اندازکو یکلخت بدل دیا۔ اب فرعون ان کا کنسرن نہیں رہا بلکہ خداوند ان کا سب سے بڑا کنسرن بن گیا۔
گلاس میں ناریلکاپانی کو دیکھ کر میں سوچنے لگا خدا وند نے موسی کے ذریعہ جومعجزہ ظاہر کیا تھا اس نے جادو گروں کو یکلخت بدل دیا تھا۔
موسیٰ کا معجزہ کیا تھا؟ موسی نے فرعون اورجادو گروں کے سامنے جو معجزہ کیا تھا،اس میں ایک لکڑی سانپ میں تبدیل ہوگئی تھی،اس واقعہ نے جادو گروں کی زندگی میں بھونچال مچا دیا تھا۔ ان کے ذہن و دماغ پر اسٹوننگ ہوئی تھی اور پھر ان کے سوچنے کا زاویہ ہمیشہ کے لئےبدل گیا تھا۔
آج ہمارے سامنے بھی یہ معجزہ ہورہا ہے اور نہایت تواتر کے ساتھ ہو رہا ہے لیکن کوئی بھی اس سے سیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
آج بھی لکڑیاں پانی میں تبدیل ہورہی ہیں۔ لکڑیاں آگ بن رہی ہیں،لکڑیاں شادابیاں اگل رہی ہیں، لکڑیاں ہمارے لئے آرام و راحت کا سبب بن رہی ہیں،یہ معجزات نہایت تواتر کے ساتھ ہورہے ہیں لیکن آج کسی کی زندگی میں بھونچال نہیں آرہا ہے۔ موسیٰ کے اس معجزہ کے مقابلہ میں کوئی جادو گرنہیں ہے،سب کے سب فرعون بنے ہوئے ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟
اصل بات یہ ہے کہ جادو گروں نے معجزہ کو ایک بار ہی دیکھا تھا اس لئے ان کا چونک اٹھنا لازمی تھا۔ آدمی کی نفسیات یہ ہے کہ جب وہ کسی حیرت انگیز واقعہ کو پہلی بار دیکھتا ہے تو وہ چونک اٹھتا ہے،لیکن جب یہی حیرت انگیز واقعہ بار بار ہو تو وہ اس میں اپنے لئے کوئی سبق نہیں پاتا۔ وہ اس سے اپنے لئے تفکر کی غذا حاصل نہیں کرتا۔ وہ اس کے تئیں بہرا،گونگا،اور اندھا بن جا تا ہےاوریہی انسان کا جرم ہے۔
انسان کا جرم!
حکومت جب کوئی نیا قانون لاتی ہے، تو وہ اس کاخوب چرچا کرتی ہے تاکہ قانون سے متعلق نکات ہر شخص پر ظاہر ہوجائے اور کسی کے لئے کوئی اکسکیوز باقی نہ رہے ۔
مثلاً سال کے آخر میں حکومت ٹیکس سے متعلق بہت سارے اشتہارات دیتی ہے جس میں بتا یا جاتا ہے کہ ٹیکس چوری کرنے والوں کو کیا سزا ہو سکتی ہے! اس جانکاری کے باوجود اگر کوئی شخص ٹیکس چراتا ہے، تو گویا وہ قانون کی نظر میں اپنے آپ کو مجرم قرار دیتا ہے۔اورقانون کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔
خدا اپنے معجزات کو ہر روز ظاہر کر رہا ہے تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اے ،خداوند! تو نے جا دو گروں کی رہنمائی کے لئے معجزہ ظاہر کیا تھا، لیکن میری رہنمائی کے لئے کوئی معجزہ نہ کیا،اسی لئے ہم گمراہ ہوئے۔ اب انسان کے پاس کوئی اکسکیوز نہیں بچتا۔انسان نے خدا کے معجزہ کے مقابلہ میں جادو گر بننے کے بجائے فرعون بن کر اپنے آپ کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ انسان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ جنت کا طلبگار نہیں بلکہ دوزخ کا طلب گار ہے۔ وہ پھولوں کا نہیں کانٹوں کا طلبگار ہے۔

ہفتہ، 22 دسمبر، 2012

Devine design of Paradise


جنت وہی ہے، جسے خدا وند بنائے

محمد آصف ریاض
آدمی زمین پر بڑی تگ و دو کے بعد اپنی تمناﺅں کا ایک گھر بناتا ہے اور جب وہ اپنے اس گھر میں داخل ہوتا ہےتو اسے ایک صدماتی تجربہ (Shocking experience) سے گزرنا پڑتا ہے۔ اپنے نئے گھر میں داخل ہوتے ہی اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنے لئے جس نئے گھر کی  تعمیر کی ہے وہ کامل ڈیزائن پرنہیں ہے۔ یعنی جس نقشہ پر اس نے اپنا گھر بنا یا ہے، وہ نقشہ نا مکمل ہے۔ اب وہ اپنے گھر کو دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے مایوس ہوجاتا ہے۔
 وہ اپنے گھر کو نئے نقشہ پر تعمیر کرنا چاہتا ہے، لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرپا تا۔ وہ وقت کے ساتھ سمجھوتہ کرتا ہے اور مطلوبہ وسائل کے انتظار میں رہتا ہے تاکہ نئے نقشہ پر وہ اپنے لئے از سر نو ایک نئے گھر کی تعمیر کر سکے ۔
اب جب کہ اسے مطلوبہ وسائل حاصل ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے پہلے گھر کو منہدم کرکے ایک نئے ڈیزائن پرا پنی تمناﺅں کا گھر تعمیر کرتاہے۔
زمین پر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ہرآنے والا وقت پچھلے ڈیزائن کو مسترد کردیتا ہے۔ چنانچہ کنسٹرکشن اور ڈسٹرکشن کا کام اس زمین پر مسلسل جا ری ہے۔ آدمی ہر بار یہ سوچ کر گھر بنا تا ہے کہ اس میں داخل ہوکر وہ اپنی مطلوبہ خوشی کو پالے گا۔ لیکن ہر بار اسے ایک صدماتی تجربہ ہوتا ہے۔ ہر بار اسے جو چیز ملتی ہے وہ احساس محرومی ہے۔ ہر بار اسے پانے کی جگہ کھونے کا احساس ہوتا ہے۔
جنت کا گھر
اب ذرا سوچئے کہ اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ انسانوں کے لئے جنت کا فیصلہ کرے، اور انھیں تعمیراتی وسائل دے کر یہ کہے کہ جاﺅ تم اپنے لئے خود سے جنت کی تعمیر لو، تو کیا ہوگا؟
انسان خوبصورت جنت بنا ئے گا لیکن جیسے ہی وہ اپنی بنائی ہوئی جنت میں داخل ہوگا،اسے یہ احساس ستانے لگے گا کہ اس نے اپنے لئے جس جنت کی تعمیر کی ہے وہ اپنے کامل ڈیزائن پر نہیں ہے۔ اس خیال کے آتے ہی وہ اسے منہدم کرنا شروع کر دے گا۔ وہ ایک نئے ڈیزائن پر اپنی جنت تعمیر کرے گا، لیکن پھر اسے احساس ہوگا کہ وہ ڈیزائن بھی نامکمل ہے۔ اوراب اس کا ایک ہی کام رہ جائے گا یعنی اپنی بنائی ہوئی جنت کومنہدم کرنا اور اسے از سر نو تعمیر کرنا۔ جنت میں اسے وہ چیز نہیں ملے گی جس کے لئے جنت بنائی گئی ہے، یعنی ابدی مسرت Eternal bliss
انسان کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ انسان خود سے اپنے لئے جنت بنا تا تو خداوند نے جنت کا نقشہ خود سے تیار کیا اور اپنی نگرانی میں اسے تعمیر کرایا تاکہ انسان کو اس میں ابدی خوشی مل سکے۔ اگر جنت میں انسان کو کامل خوشی نہیں ملتی تو جنت کی تعمیر کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔ انسان اگر خود سے اپنی جنت کی تعمیر کرتا تو اسے وہ چیز نہیں مل پاتی جس کے لئے جنت بنائی گئی ہے۔ یعنی کامل مسرت۔ اٹرنل بلیس ۔خدا نے کامل ڈیزائن پر جنت کی تعمیر کی تاکہ انسان کو وہاں کامل خوشی مل سکے۔
خدا نے اپنے کامل ڈیزائن کا نمونہ اس کائنات میں پھیلا دیا تاکہ بندوں کو اس بات کا ادراک ہوجائے کہ اس کی جنت بھی اسی قسم کے کامل نقشے پر بنی ہوگی۔
 مثلاً خدا نے زمین پر درخت کو اگایا۔ درخت کو اس نے کامل ڈیزائن پر تیار کیا۔ درخت کو دیکھ کر کوئی نہیں کہتا کہ اسے ہٹاﺅاس سے بہتر ڈیزائن کا درخت تیار کیا جا سکتا ہے۔ خدا نے پہاڑ کو بنا یا ۔ پہاڑ اپنے کامل ڈیزائن پرہے،کوئی نہیں کہتا کہ پہاڑ کو ہٹا ﺅ کیونکہ یہ ڈیزائن فرسودہ ہے اوراس سے کامل ڈیزائن کا پہاڑ بنا یا جا سکتا ہے۔ خدا نے کامل ڈیزائن پر زمین کو پھاڑ ا اور دریا بہا یا،کوئی نہیں کہتا کہ اسے بھر دوکیوں کہ اس سے بہتر ڈیزائن کا اور دریا بہا یا جا سکتا ہے۔ خدا نے آسمان کو بلند کیا کوئی نہیں کہتا کہ اس آسمان کو ہٹاﺅ، اس سے بہتر آسمان کی تعمیر کی جا سکتی ہے۔ خدا نے گھاس کو بچھا یا کوئی نہیں کہتا کہ اس گھاس کو ہٹا ﺅ اس سے بہتر ڈیزائن پر گھاس کو بچھا یا کا سکتا ہے۔خدا نےکائنات میں ہر چیز کو اس کے کامل ڈیزائن پر تیار کیا۔ کوئی اس سے بہتر ڈیزائن نہیں دے سکتا۔ یہ ایک نمونہ ہے جو بتا رہا ہے کہ اسی قسم کامل ڈیزائن پرخداونداپنے نیک بندوں کے لئے جنت کی تعمیر کرے گا۔
اب انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ خدا کے کامل نقشہ پر تیار کی گئی جنت میں خوش نہیں رہ سکے گا کیوں کہ وہاں اس کے لئے یہ موقع نہیں ہوگا کہ وہ اپنی جنت کی تعمیر ایک نقشہ کے بعد دوسرے نقشہ پر کر سکے۔ وہ وہاں اوب جائے گا۔
بلاشبہ اس طرح کی باتیں نادانی اور بے خبری کی باتیں ہیں۔ انسان سے پوچھا جائے گا کہ خدا نے کامل ڈیزائن پر درختوں کو بنا یا تو کیا کوئی درختوں کو دیکھ کر اوب گیا ؟ خدا نے کامل ڈیزائن پر سمندر کو بنا یا تو کیا کوئی دریا اور سمندر کو دیکھ کر اوب جا تا ہے۔ خدا نے کامل ڈیزائن پر پہاڑ وں کو بنا یا تو کیا کوئی انھیں دیکھ کر اوب گیا ؟ خدا نے کامل ڈیزائن پر پھولوں کو کھلا یا تو کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ پھولوں کو دیکھ کر اس کا دل اوب گیا ہے۔ نہیں ہر گز نہیں، تو پھر وہ کامل جنت میں کس طرح اوب جائے گا۔
بات یہ ہے انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی جنت کی تعمیر خود سے کر سکے۔ نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت کی دنیا میں ۔ یہ صرف خدا ہے جو انسان کو جنت دے سکتا ہے۔ جنت وہی ہے جسے خدا بنائے، انسان کی بنائی ہوئی ہر جنت اسے عقوبت خانہ معلوم ہوگی۔ وہ اس سے بہت جلد اوب جائے گا، وہ اس سے نکلنے کے لئے بے چین ہوجائے گا۔ وہ اسے بہت جلد منہدم کرنا شروع کر دے گا۔ خدا نے کامل نقشہ پر جنت کی تعمیر کی تاکہ انسان کو وہاں کامل خوشی مل سکے۔
رگ وید میں ہے ۔”مجھے اس لوک میں دوام عطا کرجہاں مود ،مدہ اور پرمود تین قسم کی لذات حاصل ہوتی ہیں اور دیرینہ تمنائیں پوری ہوتی ہیں“۔ —رگ وید منتر 11
قرآن میں ہے ”ان کے لئے جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے“الفرقان"
دوسری جگہ ارشاد ہے ”کوئی نہیں جانتا کہ نیک بندوں کے لئے جنت میں کیا کیا سامان چھپا کر رکھے گئے ہیں" "السجد"

پیر، 17 دسمبر، 2012

There is comfort in the remembrance of God


خدا وند کو مت بھول

محمد آصف ریاض
15 دسمبر 2012 کو میں گھر سے آفس کے لئے نکلا۔ مجھے نوئیڈا سیکٹر 15 جانا تھا۔ یہاں اتر کر میں نے آفس کے لئے ایک رکشہ لے لیا۔ رکشہ سے اتر کر کرایہ دیا اور آفس کی طرف بڑھنے لگا۔ تبھی رکشہ والے نے اچانک میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں حیران ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگا۔ میں نے دیکھا اس کی آنکھیں تقریبًا بھیگ چکی تھیں۔
وہ بھرائی ہوئی آواز میں گویا ہوا۔ " آپ ایک اچھے مسلمان ہیں۔ میں نے آپ کو کئی بار اپنے رکشہ پر سوار کیا ہے۔ میں بھی مسلمان ہوں لیکن آپ کی طرح نہیں۔"
 غالباً رکشہ پراس نے مجھ سے وہ دعایہ کلمات سن لئے تھے جوحالت عجز میں خدا کی نعمتوں اور رحمتوں کو یاد کر کے اکثر میری زبان پرجاری ہوجاتے۔
 مثلاً خدایا، اپنےاس عاجز بندے کو بخش دے، معاف فرما۔ آسمان سے میری دستگیری کوآاور میرے گناہوں کو بھلادے۔ میرے کام کو خراب مت کر۔ میرے لئے زمین پرزندگی کے اسباب پیدا فرما، میرے ماں باپ رحمت فرمااورمیرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے۔ میرے علم کو بڑھااور میرے لئے اپنی بخششیں تمام کر،وغیرہ۔
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا آپ مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔
میں نے نصیحت کرتے ہوئے اس سے کہا "اپنے خدا وند کو مت بھول، اسے صبح و شام پکارو۔ دیکھ، جو خدا وند اتنی بڑی زمین اور اتنے بڑے آسمان کاخالق ہے، کیا وہ تمہارے لئے ایک چھوٹا سا مکان نہیں بنا سکتا؟ اپنے رب سے امید باندھ اور اس کو گریہ و زاری کے ساتھ پکار۔ دیکھ، جو خدا وند کائنات میں ہرچیز کے لئے اسباب پیدا کر رہا ہے، کیا وہ تمہاری کامیابی کے اسباب پیدا نہیں کرسکتا؟
میری اس نصیحت پروہ خوش ہوا اور مسکرایا۔ خدا وند کے ذکر نے اس کی مایوسی کو یاس میں بدل دیا۔ اوربلا شبہ خدا وند کی یاد میں بندوں کے لئے سکون ہے۔ اسی بات کو قرآن میں اس طرح سمجھایا گیا ہے: "یاد رکھو، اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے" {13:28}

جمعہ، 14 دسمبر، 2012

You cannot do anything except prayer


اب آپ کچھ نہیں کر سکتے دعا کے سوا

محمد آصف ریاض
آج جمعہ کا دن ہے ۔ دسمبر 2012کی 14 تاریخ ۔ آج میں نے جمعہ کی نماز نوئیڈا کے اشوک نگر جامع مسجد میں پڑھی۔ اس مسجد میں ہرجمع کو ہزاروں لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں۔ نوئیڈا سیکٹر پندرہ میں واقع آفس سے نزدیک ہونے کی وجہ سے میں بھی یہیں نماز پڑھتا ہوں۔ اس جامع مسجد کے امام نے آج جو خطبہ دیا وہ اس طرح ہے:
"حضرت جنید بغدادی بہت بڑے پہلوان تھے۔ پوری دنیا میں ان کی پہلوانی کا چرچا تھا۔ انھوں نے اپنی پہلوانی کا لوہا منوانے کے لئے بہت ریاضت کی تھی۔ { مولانا نے یہ نہیں بتا یا کہ وہ کون سے پہلوان تھے جن سے کشتی لڑکرجنید بغدادی نے پوری دنیا میں اپنی پہلوانی کا لوہا منوایا تھا} لیکن ایک دن عجیب و غریب واقعہ ہوا کہ ان کی ساری پہلوانی دھری کی دھری رہ گئی۔ ایک پتلے دبلے آدمی سے وہ ہار گئے۔ لوگوں کو حیرانی ہوئی کہ اتنا بڑا پہلوان ایک معمولی آدمی سے کس طرح ہار گیا۔ لوگوں نے جنید بغدادی سے پوچھا حضرت آپ کی پہلوانی کا سکہ ساری دنیا میں چلتا ہے لیکن یہ دبلا پتلا شخص کس طرح آپ کو ہرانے میں کامیاب ہوگیا۔؟ جنید بغدادی نے فرمایا۔ وہ شخص" سید " تھا اور سید کے احترام میں میں نے اپنی شکست کو قبول کرلیا۔ قربان جائے جنید بغدادی پر، جنھوں نے سید کا اس قدر احترام کیا۔ اسی احترام کی وجہ سے انھیں خدا نے یہ مقام دیا کہ وہ پانی پر مصلی  بچھا کرنماز پڑھتے تھے۔"
یہ صرف ایک مسجد کا خطبہ نہیں ہے۔ اس طرح کی بے تکی ، بے ہودہ، اور گندی کہانیاں آپ ملک کی تقریباً تمام مساجد میں سن سکتے ہیں۔
مذکورہ امام کا خطبہ بتا رہا ہے کہ مسلمانوں کے اندر جہالت کی جڑیں کتنی گہری ہوگئی ہیں۔ اگر آپ بغور جائزہ لیں تو پائیں گے کہ مسلمانوں پرجہالت کی تہیں اتنی زیادہ ہیں کہ آگر آپ انھیں ہٹانا چاہیں تو ہٹا نہیں سکتے۔ آپ ہار جائیں گے۔
حدیث میں قیامت کی ایک نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ  لوگ عالیشان مساجد تعمیر کرنے لگیں گے توسمجھ لینا کہ قیامت نزدیک آگئی۔
(Doomsday will not come until people boast about mosques and decorations in them.) [Ibn Mâja]
لوگ بڑی بڑی مساجد بنائیں گے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہاری ترجیحات بدل جائیں گی۔ تم لوگ اپنی تعمیر کے بجائے درو دیوار کی تعمیر میں لگ جائوگے۔ یعنی شفٹ ان پرائیریٹی کا معاملہ پیش آئے گا۔ لوگ درو دیوار کی تعمیر میں لگ جائیں گےاور اپنی تعمیرکو بھول جائیں گے۔
مسلمانوں کی مسجدوں کو دیکھئے تو آپ کو اس حدیث کا وزڈم سمجھ میں آجائے گا۔ مسلمانوں کی بڑی بڑی مسجدوں میں چھوٹے چھوٹے امام کی بہتات بتا رہی ہے کہ قیامت سر پر آگئی۔ اب آپ کچھ نہیں کر سکتے، دعا کے سوا۔  

بدھ، 12 دسمبر، 2012

When the man will come to know his weakness


پہلا حکم بھی خدا کا تھا اور آخری حکم بھی خدا کا ہے

محمد آصف ریاض
انسانی جسم کا نظام کئی چیزوں پرمشتمل ہے۔ مثلاً ڈائیجسٹیو سسٹم { digestive system }  امیون سسٹم immune system نروس سسٹم {nervous system} ریسپریٹری سسٹم { respiratory system} وغیرہ۔
اسی قسم کا ایک سسٹم وہ ہے جسے سائنس کی اصطلاح میں یورینری سسٹم {urinary system} کہاجا تاہے۔
انسانی جسم کے اندر یورینری سسٹم ایک عجیب وغریب سسٹم ہے۔ اسی سسٹم کے تحت انسانی جسم کے فضلات پیشاب کے راستے سے باہر نکلتے ہیں۔ اس کام میں کڈنی اوربلاڈر کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر یہ سسٹم کام کرنا چھوڑ دے تو انسان زندہ نہیں رہ سکےگا۔
The urinary system eliminates waste from the body, in the form of urine. The kidneys remove waste from the blood. The waste combines with water to form urine. From the kidneys, urine travels down two thin tubes called ureters to the bladder. When the bladder is full, urine is discharged through the urethra.
خدا وند نے انسان کی تخلیق کی اوراسےاس کی زندگی کاسامان دیا۔ مثلاً انسان کے جسم میں خود کارنظام پیداکیا تاکہ زمین پرانسان کی زندگی قائم رہے۔ ایک نظام وہ ہے جوانسان کے جسم کے اندر پیدا کیا جیسے امیون سسٹم، نروس سسٹم، ریسپریٹری سسٹم، یورینری سسٹم وغیرہ۔ اور دوسرانظام وہ ہے جسے انسانی جسم کے باہر یعنی کائنات میں رکھا۔ مثلاً پانی کا نظام، ہواکا نظام، روشنی کا نظام، آکسیجن کا نظام،لائف سپورٹ سسٹم کا نظام، وغیرہ۔
ایک صورت تو یہ تھی کہ انسان پانی پیتا اورنیچے سے وہ پانی نکل جاتا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ انسان پانی پیتا اور وہ پانی رفتہ رفتہ بوند بوند ٹپک کر نیچے سے نکل جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو انسان مستقل مصیبت میں پڑجاتا۔
خدانے بندوں پررحم فرما یا اور یورینری کا ایک نہایت مستحکم نظام پیدا کیا۔ پھراس نظام کوایک معینہ مدت کے لئےانسان کے حوالے کردیا۔ اب صورت یہ ہے کہ انسان جب چاہتا ہے پیشاب کرتا ہے اور جب چاہتا ہے نہیں کرتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اوپر سے پانی پی رہا ہو اور نیچے سے پانی ٹپکنےلگے۔ خدا نے یورینری کا ایسامستحکم نظام بنا یا ہے کہ انسان کو اپنے سسٹم پر کنٹرول حاصل ہوگیا ہے۔ اب وہ جب چاہتا ہے پیشاب کرتا ہے اور جب چاہتا ہے روک لیتا ہے۔
تاہم یہی وہ بات ہے جس نے انسان کوغلط فہمیں میں ڈال دیا ہے۔ اب انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے پورے نظام پر قدرت حاصل ہوگیا ہے۔ اب اسے چلانے کے لئے خدا کی ضرورت نہیں رہی۔ خدا اب ایک سیمبولک نام نام بن گیا ہے۔ خدا اب آخری سیٹ پر جا چکا ہے۔ اب خدا کی سیٹ پر خود اس کا اپنا قبضہ ہے۔
انسان کو یہی غلط فہمی کائنات کی دوسری چیزوں کے بارے میں ہوگئی ہے۔ خدا نے انسان کی تخلیق کی اور اسے بہت معنی خیزکائنات میں بسایا۔اس کے لئے زندگی کا سارا سامان اتارا اورسارے نظام کو انسان کے تابع کردیا۔ انسان پانی پردوڑتا ہے آسمان میں اڑتا ہے۔ اب انسان کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ انسان کائنات پر قابو پا چکا ہے۔ اب وہ جو چاہئے کرے۔ اب اسے خدا کی ضرورت نہیں رہی۔
لیکن یہ ایک غلط فہمی ہےجوزیادہ دنوں تک باقی رہنے والی نہیں۔ ایک دن آئے گا جب انسان اس لائق بھی نہیں رہے گا کہ وہ اپنی خواہش سے پیشاب بھی کر سکے۔ اس کا یورینری سسٹم سیز کر لیا جائے گا۔ تب انسان جان لے گا کہ پہلا حکم بھی خداکا تھا اورآخری حکم بھی خدا کا ہے۔ نہ پہلے اسے کوئی قدرت حاصل تھی اور نہ آخر میں۔ نہ اس نے کائنات کے نظام کو بنا یا تھا اور نہ وہ اس لائق تھا کہ وہ خدا کو مائنس کر کےاس کے سسٹم کواستعمال کر سکے۔
انسان کو ایک مدت کے لئے اختیارات دئے گئے ہیں۔ قرآن میں اس مدت کو امتحان کی مدت کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے " جس نے موت اور حیات کوپیدا کیا تاکہ معلوم کرے کہ تم لوگوں میں کون اچھا عمل کرنے والا ہے۔"67:2}}
انسان امتحان حال میں ہے۔ امتحان حال میں آدمی کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ چاہے کرے۔ وہ چاہے تو اپنی کاپی پرکچھ لکھےاور چاہے تو نہ لکھے۔ لکھنے اور نہ لکھنے کے لئے اس پر کوئی دبائو نہیں بنا یا جا ئےگا۔ امتحان حال میں اسے کسی چیز پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
انسان ٹسٹ حال میں ہے، وہ جو چاہے کرے۔ لیکن مدت امتحان کے ختم ہوتے ہی اس کی آزادی اس سے چھین لی جائےگی۔ پھر اس کے اعمال کے لحاظ سے اس کا فیصلہ کردیا جائے گا۔
اس روزنیکوکاروں کوابدی جنت میں بسا دیا جائےگااور برے لوگوں کو جھنم کے کوڑے دان میں رونے اور دانت پیسنے کے لئے چھوڑ دیاجائےگا۔