پیر، 19 جون، 2017

ہندوستانی مسلمان اور مساجد ہند

محمد آصف ریاض

ہندوستان میں بے شمارمساجد ہیں۔ بہت سی مسجدیں مسلم حکومت میں بنائی گئیں ، جیسے دہلی کی شاہجہانی مسجد، مسجد بیگم پور، مسجد قوت الاسلام ، کھڑ کی مسجد، مسجدہ کوہنہ پرانہ قلعہ، دہلی ،  ادینہ مسجد، بنگال، تاج المساجد بھوپال، مکہ مسجد حیدرآباد، نگینہ مسجد آگرہ،آدھے دن کا جھونپڑا مسجد, اجمیر، وغیرہ ۔ بہت سی مساجد انگریزحکومت میں تعمیرکی گئیں اوربہت سی مساجد آزادی کے بعد بنیں۔

ہندوستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہیں کوئی مسجد تعمیرنہ ہو رہی ہو۔ رپورٹیں بتاتی  ہیں کہ ہندوستان میں تقریباٍ 3 سے 4 لاکھ چھوٹی بڑی مساجد ہیں۔ یہ مساجد ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں کچھ شہروں، کچھ گاؤں، کچھ مضافات تو کچھ پہاڑ کی وادیوں میں اورکچھ ندیوں کے کنارے اورساحل سمندرپررونق افروز ہیں ۔

نوے کی دہائی میں ہندوستان میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے ملک کو ہلا کررکھ دیا ۔ وہ واقعہ بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ تھا۔ اس واقعہ نے ملک میں خیرسگالی اورہم آہنگی کے ماحول کوزہرآلود بنا دیا ۔ لیکن حیرت انگیز طورپر یہی وہ دہائی ہے جب ملک کے ہرطول وعرض، شہر، قصبے اور گاؤں میں بے شمار مساجد تعمیر کی گئیں ۔ نوے کی دہائی میں اتنی زیادہ مساجد تعمیر ہوئیں کہ ہم اسے بجا طورپر'مسجد کی دہائی' کہہ سکتے ہیں۔

1990 سے 2010 کے درمیان اتنی زیادہ مسا جد تعمیر ہوئیں کہ لوگ چوک چوراہے پر یہ کہتے سنے گئے کہ اب بہت ہوگیا۔  اب ہندوستانی مسلمانوں کو مسجد کی نہیں اسکول ، کالج اورلائبریری کی ضرورت ہے۔

ان بے شمار مساجد کی تعمیر کے با وجود بہت سے قصبے ،گائوں اورمضافات آج بھی مساجد سے محروم ہیں۔ ان میں وہ گائوں قصبے ، مضافات یا  کالونیاں  شامل ہیں جہاں کی آبادی نئی ہے یا جہاں بہت غریب مسلمان بودو باش اختیار کرتے ہیں۔

مساجد کی ضرورت کیوں 

مسلمانوں کے لئے مساجد روحانی سینٹرکی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہاں سے مسلمان روحانی غذا حاصل کرتے ہیں۔ جس طرح کوئی مسلمان اپنے جسم کی پرورش کے لئے فوڈ سینٹرسے کھانا حاصل کرتا ہے اسی طرح وہ روحانی غذا کے حصول کے لئےمسجد کا رخ کرتا ہے۔ مسجد دراصل سجدہ گاہ ہے۔ مسلمان مسجد میں یکسو ہوکرخدا سے رازو نیازکی باتیں کرتے ہیں۔ مسلمانوں پر روزانہ پنجگانہ نماز فرض ہے۔ یہ گویا خدا کو پانچ مرتبہ تھینکیو کہنے کا عمل ہے۔  انسان کی پوری زندگی کا انحصار خدا کی رحمت پرہے۔ انسان کا پیدا ہونا اوراس کی پر ورش تمام چیزیں خدا کے زیرانتظام ہوتی ہیں۔ مثلاً انسان خدا کی زمین پرچلتا پھر تا اور بودوباش اختیارکرتا ہے ، اسی طرح وہ خدا کے پانی سے سیراب ہوتا ہے،  خدا کے سورج سے روشنی حاصل کرتا ہے،  خدا کے پیدا کئے ہوئے نباتات سے وہ آکسیجن حاصل کرتا ہے۔  انسان ہر روز ان چیزوں کو مصرف میں لیتا ہے تو فطری طور پر اس کا دل شکرخدا وندی سے بھر جا تا ہے۔  اسی شکرخدا وندی کے احساس کو خدا کے سامنے رکھنے کے لئے وہ پانچ وقت ہرروزمسجد کا رخ کرتا ہے۔

قرآن کا ارشاد ہے:’’اللہ کی مسجدوں کے آباد کار تو وہی لوگ ہوتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت کو مانیں اور نماز قائم کریں ،زکوٰۃ  دیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں"۔ (سورۃ التوبہ(18) دوسر ی جگہ ارشاد فرما یا : ’’مسجدیں اللہ کیلئے ہیں لہٰذا ان میں اللہ کے سوا کسی اور کو مت پکارو۔‘‘(الجن 18 )

مسلمان مسجد میں جاکر خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔ ایک حدیث رسول کا  ایک حصہ اس طرح ہے:  قرة  عيني في الصلاة یعنی فرمایا  اللہ کے رسول نے  کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں کیا جائے گا۔

مسجدیں اسلامی مساوات ، بھائی چارہ ، اخوت  ایثارو رواداری کا عملی نمونہ ہیں  ۔ مسجد میں غریب ،امیر، گورے ،کالے عربی عجمی سب ایک ساتھ ہی صف میں کھڑے ہوکر خدا کے آگے سر بسجود ہوتے ہیں۔  یہ عمل  وہ  دن  بھر  میں  پانچ  مرتبہ  دہراتے  ہیں ۔ اس عمل کے ذریعہ وہ یہ عہد لیتے ہیں کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں کسی کے ساتھ تعصب پسندی کا رویہ اختیار نہیں کریں گے۔ وہ لوگوں کے ساتھ بھائی بھائی بن کر رہیں گے۔ وہ خدا کی زمین پر کبرو نخوت کی روش اختیار نہیں کریں گے۔

مسجد چونکہ عبادت کی جگہ ہے اس لئے مسلمان جہاں بھی ہوتے ہیں وہاں ایک  چھوٹی یا بڑی مسجد  ضرور تعمیر کرتے ہیں۔  ہندوستانی مسلمانوں کواب بھی ملک کے مختلف گوشے میں مسجد کی ضرورت ہے ۔ اور وہ اس ضروت کی تکمیل کے لئے کوشش بھی کررہے ہیں ۔ لیکن کچھ لوگ مسجد کی تعمیرپران دنوں اپنی ناراضگی ظاہرکرنے میں لگے ہیں ۔ ان میں آر ایس ایس اور بجرنگ دل جیسی تنظیمیں سر فہرست ہیں۔

مسجد پر تنازعہ

گزشتہ دنوں دہلی کے سونیا وہارکالونی کے آمبے انکلیو میں ایک واقعہ گزرا۔  یہاں مسلمان ایک مسجد تعمیر کر رہے تھے لیکن 7 جون 2017 کو کچھ شر پسند عناصر نے اس زیر تعمیر مسجد کی دیواریں گرا دیں ۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ہریانہ کے بللبھ گڑھ میں 2015 میں پیش آچکا ہے ۔ یہاں بھی کچھ شرپسند عناصر نے زیرتعمیرمسجد کومسمارکرنے کی کوشش کی اورمسلمانوں سے بھڑ گئے۔

اس طرح کے واقعات ملک کے مختلف مقامات پر پیش آتے رہتے ہیں لیکن اس معاملہ میں مسلمانوں کو ہر گز مشتعل نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں کہ جو لوگ مساجد پر حملہ بولتے ہیں ان کا اصل مقصد مسلمانوں کو مشتعل کرنا ہی ہوتا ہے۔ وہ کچھ دنوں کے لئے مساجد کی تعمیر روکنے میں بھلے ہی کامیاب ہوجائیں لیکن  وہ ایسا نہیں کر سکتے کہ وہ مسجد کی تعمیر ہمیشہ کے لئے روک دیں کیونکہ ملک کا  آئین انھیں اس بات کی اجا زت نہیں دیتا۔ مسلمانوں کو اس معاملہ میں سڑک پراتر نے کے بجائے قانونی کاروائی کرنی چاہئے۔

ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ قوموں کی زندگی میں حالات بدلتے رہتے ہیں ۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ شاہ جہاں نے جس مسجد کو اپنے قلعہ کے سامنے تعمیر کرا یا تھا ۔ جو مسجد  بڑے بڑے علما اور امرا کی سجدہ گاہ بنی۔  وہ مسجد 1857 کی بغاوت کے بعد اصطبل بنا دی گئی تھی اور یہاں گھوڑے اور ہاتھی باندھے جاتے تھے اور یہ صورت حال تقریباً 30 سالوں تک باقی رہی پھر وقت نے پلٹہ کھا یا اور یہ مسجد ایک بار پھر فر زندان اسلام کے سجدوں سے روشن ہوگئی اور آج تک روشن ہے۔

چودہویں صدی کی مشہور فیروز شاہی جامع مسجد کوٹلہ برسوں نمازیوں سے خالی پڑی رہی۔ لیکن یہاں بھی وقت نے پلٹا کھا یا اور آزادی کے بعد غالباً وی پی سنگھ کے دورمیں اس مسجد کو نمازیوں کے لئے کھول دیا گیا۔ یہاں جمعہ اورعیدین کی نمازیں ہورہی ہیں۔ اور ساتھ ہی ظہر عصر اور مغرب کی نمازیں بھی یہاں ہوتی ہیں البتہ اب حکومت نے یہاں نماز پڑھنے پر پانچ روپے کا ٹکٹ لگا دیا ہے لیکن فرزندان توحید یہ قیمت بھی اللہ کی خوشنودی کے لئے چکا رہے ہیں۔

مسلمانوں کو مساجد کے معاملہ میں فراست ایمانی سے کام لینا چاہئے۔ انھیں اس معاملہ میں قبائلی جاہلیت سے بالکل دور رہنا چاہئے۔ ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ مسجد ہمارے لئے عبادت کی جگہ ہے وہ ہمارے لئے جائے فخر نہیں ۔ مسجد کے معاملہ میں ہمارا کام نصف ہے اور نصف کام اللہ کا ہے۔ اگرکہیں کوئی شخص یا کمیونٹی مسجد کی تعمیر کو روک دے تو یہ سمجھنا چاہئے کہ شاید مسجد کی تعمیر کے بارے میں ابھی اللہ کا حتمی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ کیونکہ جب اس کا فیصلہ آجائے گا تو کوئی اس کے فیصلہ کو بدلنے والا نہیں۔ 

جمعرات، 15 جون، 2017

بندہ بندہ ہے چاہے وہ کتناہی اوپرچڑھے اوررب رب ہے گرچہ وہ نیچے اترے

محمد آصف ریاض
محی الدین العربی عرب کا ایک نامورشاعرہے۔ وہ اہل علم کے درمیان العربی کے نام سے جاناجا تا ہے۔ اس کا ایک شعرہے۔ العبدعبد وان ترقی، والرب رب وان تتنزل: بندہ بندہ ہے چاہے وہ کتناہی اوپرچڑھے اوررب رب ہے گرچہ وہ نیچے اترے۔
قرآن میں اللہ پاک کی صفات کا ذکران الفاظ میں ہوا ہے: لیس کمثلہ شئی؛ یعنی اللہ کےمثل کوئی شئے نہیں۔ ( سورہ الشوریٰ 11 )
ایک مشہورحدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:  وکلکم فقیرالا من اغنیت فسئلونی اررزقکم:
یعنی اے میرے بندو،" تم سب محتاج ہومگروہ جس کومیں عطا کروں، اس لئے تم مجھ سے مانگو میں تمہیں رزق عطا کروں گا۔"
یہ محتاجی اضافی معنی میں نہیں بلکہ حقیقی اور حتمی معنیٰ میں ہے۔ مثلاً انسان آکسیجن پرزندہ رہتا ہےاورآکسیجن کے لئے اسے پوری طرح خدا ئی نظام پرانحصارکرنا پڑتا ہے۔
آکسیجن درختوں سے حاصل ہوتا ہے اوردرختوں کی پیدا وارکے لئے پانی، روشنی اورہیٹ ضروری ہے۔ تو خدا نےسورج کا انتظام کیا۔ آسمان سے پانی برسایا۔ زمین نے اس پانی کواپنی گود میں سمیٹ لیا، پھرسورج نے اس پرروشنی برسا یا اس طرح زمین پرنباتات اگ آئے اورہم انھی نباتات سے آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔
خدا اگراپنے اس اعلیٰ نظام کوچند منٹ کے لئے روک لے توانسان اسی طرح گھٹ گھٹ کردم توڑ دے گا جس طرح مچھلیاں پانی سے باہر تڑپ تڑپ کرجان دے دیتی ہیں۔ مچھلیاں پانی سے باہرکیوں مرجاتی ہیں؟ کیونکہ انھیں تحلیل شدہ آکسیجن چاہئےاوروہ صرف پانی میں ہی مل سکتا ہے۔ پانی کے باہران کے لئے آکسیجن نہیں اس لئے وہ مر جاتی ہیں۔
اسی طرح دیکھنے کا عمل ہے۔ انسان کے پاس دیکھنے کے لئے آنکھیں ہیں لیکن کیا وہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے؟ نہیں۔ اگرچیزوں میں روشنی کوجذب کرنے کی صلاحیت نہ ہوتوچیزیں اتنی زیادہ  ڈارک  ہوجائیں گی کہ آدمی آنکھ رکھنے کے  با وجود کچھ دیکھ نہیں سکتا ۔ خدانے سورج کو بنا یا آدمی اس روشنی میں چیزوں کودیکھتا ہے۔ لیکن وہ صرف انھیں چیزوں کودیکھ سکتا ہےجوچیزیں اپنےاندرسورج کی روشنی کوجذب کررہی ہیں جوچیزیں روشنی کوجذب نہیں کرتیں انسان انھیں دیکھ بھی نہیں سکتا۔
اب ایک مثال الو کی لیجئے۔ الو دن میں نہیں دیکھ پاتا کیوں کہ اس کی آنکھیں ایسی جگہ واقع ہوئی ہیں کہ جب وہ اپنی آنکھیں کھولتا ہے تو سورج کی روشنی براہ راست ان پر پڑنے لگتی ہے جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں چوندھیا جاتی ہیں اور وہ کچھ بھی دیکھ نہیں پا تا۔ ذرا سوچئے کہ اگر انسان کی آنکھوں کی بنا وٹ میں بھی اسی قسم کی ترمیم کردی جائے توکیا ہوگا ؟ وہ سورج کی روشنی سے بھا گے گا اور آنکھ رکھنے کے با وجود کچھ دیکھ نہیں سکے گا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں ہرچیزکے لئے وہ اپنے رب کا محتاج ہے۔ اس کا رب اگراسے نہ کھلائے تووہ کھا نہیں سکتا، وہ اگرنہ پلائے تو وہ پی نہیں سکتا۔ وہ نہ دکھائے توانسان دیکھ نہیں سکتا۔ یعنی انسان اورخدا کے درمیان جورشتہ ہے وہ 'مین' اور'سپر مین' کا نہیں ہے بلکہ بندہ اوررب کا ہے۔ ایک غنی ہے اور دوسرا محتاج ۔ ایک کچھ نہیں ہے اوردوسرا سب کچھ ۔ ایک پیدا کرنے والا ہے اور دوسرا وہ جسے پیدا کیا گیا۔ یہی وہ واقعہ ہے جسے العربی نے اپنے شعرمیں ان الفاظ میں سمجھا نے کی کوشش کی ہے:
"العبدعبد وان ترقی، والرب رب وان تتنزل: بندہ بندہ ہے چاہے وہ کتناہی اوپرچڑھے اوررب رب ہے گرچہ وہ نیچے اترے۔"
x

بدھ، 26 اکتوبر، 2016

Where everybody is fighting against everybody

Muhammad Asif Reyaz

 What was the situation when Muslims in the 13th century entered the world which is today called Europe? To understand the real situation in Europe I would recommend you to read a Russian commentator’s words. His words have been taken as reference by Professor Thomas Arnold in his famous book The Spread of Islam in The World. Read the comments:
 “Without the fear of the law an empire is like a steed without reins. Constantine and his ancestors allowed their grandees oppress the people, there was no more justice in their law courts, no more courage in their hearts,  the judges amassed treasures from the tears and blood of the innocent,  the Greek soldiers were proud only of the magnificent of their dresses. The citizens did not blush of being traitors; the soldiers were not ashamed to fly.”
“At length the Lord poured out his thunder on these unworthy rulers, and raised up Mohammad whose warriors delight in battle, and whose judges do not betray their trust.”
Spread of Islam in the world: page No 148 
This is the first part of the story, now read the second part of the story.
 Now that, European powers have entered the world which is called Muslim world from Syria to Iraq to Afghanistan, what is going on there? To know the real situation of Muslim world again read another Russian commentator, this time Russian Prime Minister Dmitry Medvedev.
 “It would be impossible to win such a war quickly, especially in the Arab world, where everybody is fighting against everybody." Russian Prime Minister clarified on Muslim world while talking to a local newspaper.
Surely history repeats itself. When Muslims were of a good character, they were getting the results accordingly. But when they became as corrupt as early Christains and Jews they got the same result as they had got. And in the words of Russian commentator:
“The Lord poured out his thunder on these unworthy rulers.” It reminds us that, “You reap what you sow.” And of course Muslims are no exception to this universal truth.

پیر، 24 اکتوبر، 2016

Two stories from Sicily to Sindh

Muhammad Asif Reyaz
Abu Rayhan Muhammad ibn Ahmad Al-Biruni , was a man of great knowledge. He was well versed in the Physics, Mathematics, and Astronomy he had also distinguished himself as a historian and chronologist. He was well versed in different languages like Arabic, Sanskrit, Persian, Greek, Hebrew and Syriac.
In 1017 he travelled to India to learn about Hindus and discussed with them questions of religion, science, literature and very basis of their civilization. He remained in India for 17 years studying and exploring these subjects. After learning everything about India he wrote the most famous book named Tarikh Al-Hind (History of India) , also known as Albiruni ‘s India.
Reading this book, you will come across many interesting stories. Here I am mentioning you two stories from the book that I find very interesting.
 The first story is related to Sicily presently with Italy. And the second is related to Sindh presently with Pakistan.
When Muslims at the time of Omayyad Caliphate won Sicily, they found an idol there. That Idol was very beautiful and shining. That was made of gold and diamond. When this Idol was brought to Caliph he saw it and said; this is of no use for me, send it to Sindh the Raja of  Sindh who is Hindu will buy this paying handsome amount of money and so happened. The Idol was brought to Raja of Sindh and he bought it paying very big amount of money.
The second story is about Sindh. When Muhammad al-qasim won Sindh and he entered Multan. He found the city thriving and economy there was very much flourishing.
He asked people the reason of the city’s prosperity. He was informed that this is because of Adyttya Devta. Where is this Devta? he asked. He was brought to Adyttya Mandir. He saw the Devta and said; let it be remain here, let it be preserved for it will ensure our economy going. 
This shows the pragmatic approach of earlier Muslim leaders. Their decisions were smart, efficient, and compassionate.
In comparison, today’s Muslim leaders lack this quality and hence don’t receive the same respect as their predecessors did.  

ہفتہ، 24 ستمبر، 2016

Why these walls are? What the Europe is afraid of?

یہ دیواریں کیوں ہیں؟ اہل یوروپ کس چیز سےخوف زدہ ہیں؟
محمد آصف ریاض
آبنائے باسفورس پرترکی نے جب دنیا کا تیسرا سب سے بڑا پل تعمیرکیا اوراس پل کے ذریعہ ایشیا کو یوروپ سے جوڑدیا تواہل یوروپ نے ترکوں کے اس عمل کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ انھوں نے ترکوں کی اس بے مثال کوشش کوسراہنے کے بجائےاسے اپنی تہذیب اورکلچرکے لئے خطرہ سے تعبیرکیا۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جس وقت ترکی یہ پل تعمیرکررہا تھا ٹھیک اسی وقت یوروپ اپنےارد گرد دیواریں تعمیرکررہا تھا تاکہ کوئی باہری اس کے اندرداخل نہ ہوجائے۔ بلغاریہ میں دیواریں اٹھائی جا رہی تھیں، ہنگری، آسٹریا، سلووینیا، یونان، یوکرین اوراسٹونیا میں دیواریں تعمیر کی جا رہی تھیں، حد تو یہ ہے کہ برطانیہ اورفرانس میں بھی رفوجیوں کو روکنے کے لئے دیواریں کھڑی کی جا رہی تھیں۔
اپنےآپ کو دیواروں کے اندر محصور پاکرعیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس کو مداخلت کرنی پڑی۔ انھوں نے عیسائیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا " دیوار اٹھا نا مسیح کی تعلیمات میں سے نہیں ہے۔" ایک اخبار نے ان کے اس قول کو اس طرح نقل کیا ہے۔:
Building walls 'is not Christian
واشنگٹن پوسٹ نے اس پرایک اسٹوری کی ہے۔ اس اسٹوری میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح یوروپ اپنےآپ کودیواروں کے درمیان محصورکررہاہے۔ اس اسٹوری کی سرخی یہ ہے۔ " یوروپ لوگوں کو باہر رکھنے کے لئے دیواریں تعمیر کر رہا ہے۔
 "Europe is building more fences to keep people out"
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یوروپ کس چیزسے ڈرتا ہے؟ وہ کیوں اپنےآپ کو دیواروں کےاندرمحصورکررہا ہے؟جواب بہت واضح ہے۔ وہ یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ انٹریکشن سے ڈرتا ہے۔
سڑکیں، موٹرویز، ریلویز، ہوائیں پٹیاں، بندرگاہیں، یہ انسانی رشتوں کے استحکام کی علامت ہیں۔ یہ قوموں کے درمیان انٹریکشن کا دروازہ کھولتی ہیں۔ اوریوروپ کے لیڈران اسی انٹریکشن سے خوفزدہ ہیں۔ یوں تو ان کے خوف کی کئی وجوہات ہیں۔ تاہم میں یہاں چند وجوہات کا خصوصی ذکرکروں گا۔
(1) اسلام کا دین فطرت ہونا۔ اسلام دین فطرت ہےاس لئے یہ ہراس شخص کو پسند آتا ہے جواپنی فطرت پرجیتا ہے۔
(2) اسلام توریت انجیل، زبوریا یا کسی نبی اوررسول کو مسترد نہیں کرتاجیسا کہ دوسرے مذاہب میں ہے بلکہ اسلام ان پرایمان لانے کی تلقین کرتا ہے۔ چنانچہ ایک عیسائی جب دین اسلام میں داخل ہوتا ہے تونہ اسےاپنا رسول چھوڑنا پڑتا ہے،اورنہ ہی اسے اپنی کتاب کومسترد کرنا پڑتا ہے۔ ایک عیسائی مذہب اسلام میں داخل ہوکراپنے آپ کوکرسچن پلس مسلمان سمجھتا ہے۔اسلام میں ان کے لئےکچھ کھونا نہیں بلکہ پانا ہی پاناہے۔
(3) اسلامی سادگی۔ اسلامی تعلیمات میں سادگی کی بڑی اہمیت ہے۔ مسلمانوں میں تمام قسم کے بگاڑ کے باوجود سادگی اوراصول پسندی آج بھی باقی ہے۔ مثلاً مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ آج بھی شراب کاری ، بدکاری اور سود خوری سے نفرت کرتا ہے۔ وہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ آج بھی حسن سلوک کا رویہ اختیارکرتا ہے۔
(4) امن پسندی۔ مسلمانوں نے ہزارسالوں تک اس دنیا کو چلایا۔ مسلمانوں کی قیادت میں دنیا پرامن بنی رہی لیکن جیسے ہی یہ دنیا مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کرعیسائیوں کے ہاتھوں میں آئی تو دنیا کو 2 جنگ عظیم کا سا منا کرنا پڑا جس میں تقریباً 85 کروڑ لوگ مارے گئے،اوریہ جنگیں آج بھی جاری ہیں۔ مغرب (عیسائی دنیا) جنگ بڑھکانے میں تو مہارت رکھتا ہے لیکن جنگ کی آگ بجھانے سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ۔ عراق، افغانستان، سیریا، فلسطین، وغیرہ میں آپ اس کی مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔
عیسائی لیڈران یہ جانتے ہیں کہ اگر مسلمانوں اورعیسائیوں کے درمیان انٹریکشن بڑھا اوران کے درمیان نفرت کی دیوارگرا دی گئی توان کے بچے بوڑھے، جوان ، مرد عورتیں سب اسلام کی آغوش میں ہوں گے۔ یہاں میں آپ کو ایک مثال دوں گا۔
سیمون کولیزسعودی عرب میں برطانیہ کے سفیرہیں۔ انھوں نے 30 سال کا عرصہ مسلما نوں کے ساتھ گزارا۔ ایک مدت تک مسلمانوں کے برتائو اوران کے حسن سلوک سے متاثر ہوکرانھوں نے اسلام میں داخل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ستمبر  2016 میں وہ اچانک اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کے لئے نکل پڑے اور وہاں پہنچ کر حالت احرام میں انھوں نے ٹیوٹ سے یہ اطلاع دی کہ وہ مسلمان ہوچکے ہیں۔ انھوں نے لکھا؛
God bless you. In brief: I converted to Islam after 30 years of living in Muslim societies and before marrying Huda,” he wrote.         
 " اللہ پاک آپ پررحم فرمائے۔ مختصریہ کہ میں اسلام میں داخل ہوچکا ہوں۔ میں مسلمانوں کے درمیان 30 سال رہا اس درمیان میں ان سے اس قدر متاثر ہواکہ ھدیٰ سے شادی سے قبل ہی اسلام میں داخل ہوگیا ۔"
یہ ہے انٹریکشن کی طاقت ۔ انٹریکشن قوموں کے درمیان نفرت کی دیواروں کو گرا دیتی ہے۔ اور یوروپی لیڈران انٹریکشن کی اسی طاقت سے خوفزدہ ہیں ۔اسی لئے وہ ہر طرف نفرت کی دیوارکھڑی کر رہے ہیں۔ کہیں پتھر کی دیوار، کہیں مسلک کی دیوار، کہیں مذہب کی دیوار، کہیں گورے کی دیوار کہیں کالے کی دیوار!
لیکن یہ دیواریں قدرتی نہی ہیں بلکہ مصنوعی ہیں۔ ان دیواروں کو خدا نے نہیں بنا یا بلکہ اسے خدا کی مرضی کے خلاف بنا یا گیا ہے اور جیسا کہ بائبل میں لکھا ہوا ہے؛ " جو پلانٹ میرے باپ نے نہیں لگا یا اسے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا۔"
“Every plant that my heavenly Father has not planted will be rooted up."

جمعرات، 8 ستمبر، 2016


مسلمانان ہند یہ جاننے میں ناکام رہے کہ " کل کیا ہوگا، کل کے بعد کل کیا ہوگا، اگلے ہفتے کیا ہوگا ، اگلے مہینے کیا ہوگا اور اگلے سال کیا ہوگا۔"

محمد آصف ریاض
پچھلے دنوں مجھے ایک پروگرام میں بلا یا گیا۔ وہاں مجھ سے مسلم سیاست پربولنے کے لئے کہا گیا۔ ہم نے کہا کہ جمہوریت میں ہم مسلمان اورہندو سیاست کی بات نہیں کرسکتے، البتہ ہم سیاست کی بات کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم نے سیاست کے بارے میں انھیں ونسٹن چرچل کا ایک قول سنایا ۔ چرچل نے کہا تھا :
 "سیاست اس اہلیت کا نام ہے کہ آدمی پیشگی طور پر یہ بتا سکے کہ کل کیا ہوگا، اگلے ہفتے اور اگلے مہینے اور اگلے سال کیا ہوگا، اور اگر کچھ نہ ہو تو آدمی میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ یہ بتا سکے کہ کیوں نہیں ہوا۔"
Politics is the ability to foretell what is going what is going to happen tomorrow, next week next month and next year,and to have the ability to afterwards to explain why it did not happen”
Winston Curchill
کسی آدمی میں پیشگی طور پرچیزوں کو سمجھنے کی یہ صلاحیت کب پیدا ہوتی ہے؟ یہ صلاحیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ اس کا مطالعہ بہت گہرا ہو، وہ چیزوں کوغیر جانبدار ہو کراعتدال پسندی کی نگاہ سے دیکھتا ہو، وہ ہر قسم کی کنڈیشننگ سے پاک ہو، وہ  اپنے ارد گرد کی دنیا کا گہرا ادراک رکھتا ہو، وہ انسانی نفسیات کو سمجھنے میں غلطی نہیں کرتا ہو، وہ تاریخی واقعات سے آشنا ہو، وہ جغرافیائی اور مذہبی حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ لائن سے نکل کر بٹوین دی لائن، اور بیائونڈ دی لائن کا مفہوم سمجھتا ہو، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے اندر 'جاگتے رہو' کی اسپرٹ موجود ہو۔
سیاست میں دوراندیشی کی بڑی اہمیت ہے۔ اسی سیاسی اہلیت کی کمی نے ملک میں مغل سلطنت کا خاتمہ کردیا، اسی سیاسی اہلیت کی کمی نے مسلمانوں کو اس ملک میں ایک ناچیز شئے بنا دیا ۔
مسلمانان ہند نے اپنی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے تین ایسی غلطیاں کیں جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ (1) پہلی غلطی انگریزوں کو کاروبارکرنے کی اجازت کی شکل میں۔ (2) دوسری غلطی 1857 کی بغاوت کی شکل میں۔(3) تیسری غلطی ملک کی تقسیم کی شکل میں۔
یہ تینوں غلطیاں مسلمانوں نے اس لئے کیں کیونکہ ان کے اندر یہ سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوچکی تھی کہ" کل کیا ہوگا، کل کے بعد کل کیا ہوگا ، اگلے ہفتے کیا ہو گا ، اگلے مہینے کیا ہوگا، اور اگلے سال کیا ہوگا اور اس کے بعد کیا ہوگا۔"
انگریز ہندوستان میں
انگریزجب ہندوستان میں آئے تووہ فاتح کی شکل میں نہیں آئے تھے۔ وہ کاروباری کی شکل میں آئے تھے۔ انھوں نے یہاں مسلم حکمرانوں کی خوشامد کی اوراپنے لئے تجارت کے مواقع حاصل کئے، پھرانھوں نے مغل حکمرانوں سے اپنے لئے ٹیکس فری تجارت کا پروانہ حاصل کیا اوراس کے بعد انھوں نے رشوت کے ذریعہ گورنراورعلاقائی حکمرانوں کو خریدنا شروع کر دیا جو بعد میں مغل سلطنت کی تباہی کا سبب بنا۔ مغل حکمراں انگریز بیوپاریوں کی خوشامد سے اس طرح متاثرہوئے کہ وہ یہ جان نہ سکے کہ ان کے عزائم کیا ہیں، اورکل کیا ہونے والا ہے، اور جب جاگے تو وقت نکل چکا تھا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی
ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1623 تک سورت، احمد آباد، بھروچ، آگرہ اورموسولیپٹم میں اپنی فیکٹریاں قائم کرلیں تھیں۔ 1625 میں انھوں نے سورت میں واقع اپنی کمپنی کو قلعہ بند کرنا شروع کردیا جس پر مغل حکمراں بگڑ گئے اور فیکٹری کے چیف کو گرفتار کرلیا ۔  1639 میں کمپنی نے مدراس کے مقامی لیڈر کی ا جازت سے اپنی فیکٹری قائم کی اوراسے قلعہ میں تبدیل کرلیا۔ سترہویں صدی تک مدراس میں کمپنی پوری طرح آزاد ہوگئی ۔ 1633 میں ایسٹ انڈیا نے اڑیسہ میں پہلی فیکٹری قائم کی، انگلش کمپنی کو بعد میں بنگال کےھگلی میں فیکٹری کھولنے کا پروانہ ملا، پھر پٹنہ ، ڈھاکہ اور بنگال کے دوسرے علاقوں میں فیکٹریاں کھولی گیں۔ ملکی معیشت پرقبضہ کرنے کے بعد انگریزوں نے ملک پرحکومت کرنے کا عزم ظاہرکردیا تب مغل حکمراں اورنگ زیب سے ان کا ٹکرائو ہوا۔
اورنگ زیب نے  1686 میں انگریزوں سے لوہا لیا اورانھیں زبردست شکست دی۔ ان کی فیکٹریاں ضبط کرلیں اورانھیں مار کردوردرازکےعلاقوں میں بھگا دیا۔ سورت ، وشاکھا پٹنم ، مسولیپٹم میں ان کی فیکٹریاں ضبط کر لی گئیں اور ممبئی کے قلعہ کو ان سے چھین لیا گیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ انگریزوں نے مغل حکومت کی طاقت کا غلط اندازہ کر لیا تھا جب انھیں مغل حکومت کی اصل طاقت کا اندازہ ہوا تو انھوں نے ایک بار پھر "خوشامد اور خوش الفاظی" سے کام لینا شروع کرد یا اور معافی تلافی کے ساتھ کئی سالوں کے بعد پھر سے تجارت کا پروانہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اورنگ زیب  نے 150,000 کا معاوضہ وصول کرکےانھیں ایک بار پھر تجارت شروع کرنے کی اجازت دے دی۔
1691 میں انگریزوں کو   3000 روپے سالانہ کےعوض بنگال میں فیکٹری کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔ مغلوں کی اس نااہلی کی قیمت نواب سراج الدولہ کو پلاسی کی جنگ 23 جون 1757میں چکانی پڑی جب وہ انگریزوں کے ہاتھوں بری طرح مار کھا گئے اوران کی شکست نے انگریزوں کے لئے پورے ملک کا دروازہ کھول دیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس ملک کےحکراں بن بیٹھے۔ ایک مورخ نے انگریزوں کی چالبازی اور مغلوں کی نا اہلی کا ذکران الفاظ میں کیا ہے۔:
"جب انگریزوں کو یہ ادارک ہوگیا کہ وہ فی الحال مغل امپائر سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو انھوں نے اپنا طرزعمل بدل لیا اوراب  خوشامد اور خوش الفاظی سےکام لینے لگے ۔ انھوں نے مغل حکمراںوں کے سامنے یہ عرضی داخل کی کہ "ان کے جرائم معاف کرد ئے جائیں"۔ مغل حکمراں نے انھیں معاف کردیا کیونکہ ان کے پاس یہ جاننے کی اہلیت نہ تھی کہ معصوم دکھائی دینے والے یہ کاروباری ایک دن ان کی حکومت کے لئے خطرہ بن جائیں گے۔"
 Having  discovered that they were not yet strong enough to fight with the Mughal power, the English once again became humble petitioners and submitted "that the ill crimes they have done may be pardoned."
Once again they relied on flattery and humble entreaties to get trading concessions from the Mughal Emperor. The Mughal authorities readily pardoned the English folly as they had no means of knowing that these harmless-looking foreign traders would one day pose a serious threat to the country.
1857 کی بغاوت
اب جبکہ مغل حکمرانوں کو شکست دے کر انگریزاس ملک کے حکمراں بن چکے تھے مسلمانوں نے نا حق اور نا عاقبت اندیشی کے طور پر ان نئے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ ایک بار پھر مسلمان یہ جاننے میں ناکام رہے کہ جہاں ان کے حکمراں اورلائو لشکر ہارگئے، وہاں وہ محض عوامی بھیڑ کےبل پرکس طرح جیت سکتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر انگریزوں نے انھیں بری طرح کچل دیا، ان کی جاگیریں چھین لی گئیں ، ان کی جائدادیں ضبط کر لی گئیں ، انھیں نوکری سے نکال دیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے بہترین دماغ قتل کردئے گئے۔ کہا جا تا ہے کہ اس بغاوت میں 70 ہزار سے زیادہ علما قتل کر دئے گئے تھے۔ بغاوت سے پہلے مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ ان کی یہ بغاوت کیا نتیجہ لائے گی۔ 1857 کی اس شکست نے مسلمانوں کو معاشی ، سیاسی ، سماجی اور تعلیمی ، ہر لحاظ  سے توڑ کر رکھ دیا۔ اب وہ اس پوزیشن میں بھی نہیں رہے کہ وہ انگریزوں کے ساتھ کوئی بارگنینگ کرسکیں۔ اپنی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے اپنی بارگیننگ کی طاقت بھی کھو دی اور انگریزوں پر ان کا جو رعب طاری تھا وہ بھی ختم ہوگیا۔ اس سلسلے میں مزید جانکاری کے لئے پڑھئے سرسید احمد خان کی کتاب "اسباب بغاوت ہند" ۔
آزادی ہند
1947 میں جبکہ انگریزوں کا ملک سے جانا طے ہوگیا تو مسلمانوں نے ایک بار پھرتاریخی غلطی دہرائی ۔ وہ غلطی ملک کی تقسیم کی غلطی تھی۔ مسلمانوں کے سچے لیڈرمولانا ابوالکلام نےانھیں خبردارکیا کہ اگرملک بٹ گیا تو ہندوستانی مسلمان ایک ناچیز اقلیت بن کررہ جائیں گے۔ لیکن لوگوں نے آزاد کی جگہ جناح کو ترجیح دی اورنتیجہ سب کے سامنے ہے۔ مزید جانکاری کے لئے پڑھئے مولانا آزاد کی سوانح  India Wins Freedom ))
مسلمانوں کو یہ جاننا چاہئے کہ تاریخی غلطیوں کا حل سیاسی شور و غاغا میں نہیں ہے۔ تاریخی غلطیوں کا حل اس فراست میں ہے جس کے ذریعہ آدمی یہ جان سکے کہ " کل کیا ہوگا ، کل کے بعد کل کیا ہوگا، اگلے ہفتے کیا ہوگا، اگلے مہینے کیا ہوگا، اگلے سال کیا ہوگا اور اس کے بعد کیا ہوگا۔"
یہ فراست کسی انسان یا قوم میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ اس کے اندرعلم کا غلغلہ ہو ۔ اگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر سر بلند ہوں، تو انھیں سر سید احمد خان کے لفظوں میں  سب سے پہلے " علم کے خزانوں " پر قبضہ کرنا چاہئے۔