بدھ، 1 جون، 2016

پیغمبر ناصح ناکہ پیغمبر فاتح


پیغمبر ناصح ناکہ پیغمبر فاتح

محمد آصف ریاض

انجیل میں حضرت یحییٰ کی زبان سے ایک بشارت آئی ہے۔ وہ بشارت اس طرح ہے: "لوگو، میں تمہیں پانی سے پاک کرتا ہوں، لیکن وہ آنے والا آرہا ہے، وہ مجھ سے بہت زیادہ زورآور طاقت والا ہے، مجھ میں یہ سکت نہیں کہ میں اس کی جوتیاں بھی اٹھا سکوں، وہ جب آئے گا تو تمہیں 'آگ' سے پاک کرے گا۔"

“I baptize you with water for repentance, but he who is coming after me is mightier than I, whose sandals I am not worthy to carry. He will baptize you with the Holy Spirit and fire.

عیسائی حضرات اس بشارت کوحضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں جبکہ مسلم علما اسے پیغمبراسلام سے وابستہ کرکے دیکھتے ہیں۔
مسلم علما اس بشارت کے ذریعہ یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا پیغمبراسلام ایک 'آتشیں پیغمبر' تھے جنھوں نے آتے ہی دنیا کے نقشے کو بدل دیا اورقیصروکسریٰ کی دیواریں ہلاکررکھ دیں وغیرہ۔
ہمارے زیادہ ترعلما انجیل کی بشارت کو اسی انداز میں لیتے ہیں۔ وہ پیغمبراسلام کو' پیغمبرناصح' کی جگہ 'پیغمبر فاتح' Muhammad the conqueror )) بنا کرپیش کرتے ہیں۔ حالانکہ کوئی پیغمبرفاتح نہیں ہوتا وہ تو ناصح اورامین ہوتا ہے۔ چنانچہ خود ایک پیغمبرکی زبان سے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں۔ "انا لکم ناصح امین" یعنی میں تمہارے لئے خیرخواہی چاہنے والا امانت دار ہوں۔
پیغمبرناصح ناکہ پیغمبرفاتح
پیغمبرناصح کو پیغمبرفاتح قراردینے کی وجہ سے مسلمانوں میں وہ سوچ پیدا ہوئی جس کے نتیجہ میں مسلم سماج میں جہادی ایکٹیوزم نے زورپکڑا۔ یہ سوچ مسلمانوں میں اٹھارہویں صدی میں اس وقت ابھری جبکہ 1799 میں بحرمتوسط  Mediterranean Sea ) ) میں مغربی طاقتوں نے ترکوں کے عظیم بحری بیڑہ naval fleet))  پرحملہ کرکے اسے مکمل طور پر تباہ کردیا۔ اور دوسری طرف اسی سال ہندوستان میں برٹش فوج نے سلطان ٹیپوکی فوج کو مکمل شکست دے دی۔ اس کے بعد برٹش جنرل نے فاتحانہ انداز میں یہ اعلان کیا کہ 'آج سے ہندوستان ہمارا ہے'۔
 Today India is ours))
اٹھارہویں اورانیسویں صدی میں یوروپی طاقتوں کے ہاتھوں یکے بعد دیگرے چوٹ کھانے کے بعد نام نہاد مسلم دانشوروں نے مسلم نوجوانوں کو یہ بتا نا شروع کردیا کہ انجیل میں پیغمبر اسلام کوfire  سے تعبیرکیا گیا ہے۔  اور فائر طاقت یعنی Might  کی علامت ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو پھرسے فتوحات کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے، یہیں سے القائدہ، طالبان، داعش، حزب اللہ جیسی تخریبی طاقتیں ابھریں اورانھوں نے اسلام کی شبیہ کو پوری طرح مسخ کرکے رکھ دیا۔ انھوں نے مذہب امن کو مذہب فساد کےہم معنی بنا دیا۔
انجیل کی بشارت
اب آ ئیے، انجیل کی اس بشارت کی تعبیرکرتے ہیں۔ انجیل میں ' فائر'کا ذکرتمثیلی معنوں میں ہے۔ یہاں فائرکے معنی آگ نہیں ہے بلکہ کسوٹی ہے۔ آپ کسی سنارکے پاس جائیں اوراسے اپنا سونا دکھائیں وہ اس سونے کوآگ میں ڈال کر بتا دے گا کہ سونا کتنا خالص ہے اور اس میں کتنی ملاوٹ ہے۔ آگ خالص سونے کو ملاوٹ سے پاک کر دیتی ہے۔ وہ فضلہ کو جھاگ بنا کر اڑا دیتی ہے۔
تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً تمام نبیوں اوررسولوں کے ساتھ ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان کے لائے ہوئے کلمات کے ساتھ اپنے کلمہ کو ملا دیا اورایک بات کو دوسری بات سے بدل دیا۔ یہ سلسلہ پوری تاریخ میں چلتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو برپا کیا اورانھیں ایک ایسی کسوٹی دی جوحق کو باطل سے چھانٹ کرالگ کر دینے والی تھی۔ اسی کسوٹی کو انجیل میں فائر یعنی آگ سے تعبیرکیا گیا " میں پانی سے پاک کرتا ہوں اور وہ آگ سے پاک کرے گا " اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم میری لائی ہوئی کتاب میں ترمیم و تحریف کردیتے ہو لیکن دیکھو، وہ جو آنے والا آرہا ہے تم اس کے ساتھ ایسا نہیں کرسکو گے کیونکہ اس کے پاس ایک 'کسوٹی' ہوگی یعنی ایک ایسی کتاب جس کے ذریعہ سے وہ جھوٹ کو سچ سے الگ کر دے گا۔
وہ کسوٹی کیا ہے؟
وہ کسوٹی قرآن ہے۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جوحق کو باطل سے الگ کرنے والی ہے۔ کوئی اس کتاب میں تحریف نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اس پرآگے سے یا پیچھے سے آسکتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے:
"یہ بڑی باوقعت کتاب ہے ، جس کے پاس باطل پھٹک بھی نہیں سکتا نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے، یہ ہے نازل کرده حکمتوں والے خوبیوں والے اللہ کی طرف سے"۔ (الفصلت: 41،42)
آگے فرمایا:  نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
دوسری جگہ فرمایا:  وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
اورکہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔

آدمی اگر گہرا مطالعہ کرے اور تفکر سے کام لے تو اسے یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ انجیل میں تمثیل کی زبان میں قرآن کو فائریعنی آگ کہا گیا اورآگ اس لئے کہا گیا کیوں کہ آگ ایک کسوٹی ہے جو چیزوں کو ملاوٹ سے پاک کر دیتی ہے اور قرآن بھی یہی کرتا ہے کہ وہ حق کو باطل سے الگ کردیتا ہے۔ تو واضح ہو ا کہ انجیل میں آگ کا ذکر پیغمبراسلام کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ تمثیل کی زبان میں قرآن کے لئےاستعمال ہوا ہے۔ اور یہاں ہمارے علما سے تعبیر کی غلطی ہوئی ہے۔ 

ہفتہ، 14 مئی، 2016

اگر آپ کے پاس تخلیقی ذہن ہے توکوئی آپ کو روک نہیں سکتا

اگر آپ کے پاس تخلیقی ذہن ہے توکوئی آپ کو روک نہیں سکتا

محمد آصف ریاض
بہارکے دربھنگہ ضلع کے رہنے والے ایک نوجوان جمیل شاہ کی یہ خواہش تھی کہ وہ بالی ووڈ کے بڑے ستاروں کےساتھ کام کرے۔ وہ انھیں دیکھے اوران کے ساتھ رقص کرے۔ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لئے جمیل شاہ پہلےدہلی آئے پھریہاں سے بنگلورگئے اوراس کے بعد فلمی نگری ممبئی پہنچ گئے۔
وہ بیک گرائونڈ ڈانسربن کربڑے بڑے فنکاروں کے ساتھ ڈانس کرنا چا ہتے تھے۔ لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ وہ ایک غریب آدمی تھے۔ اسی درمیان ان کی ملاقات معروف ڈانس گروسندیپ سپارکرسے ہو ئی۔ سپارکرنے بغیرفیس لئےجمیل کوڈانس سکھا نا شروع کردیا۔ لیکن اس دوران ایک اورمسئلہ کھڑا ہوگیا۔ رقص کے جوتے بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ ان جوتوں کو خریدنے کے لئے دس ہزار سے لے کرلاکھوں روپے تک خرچ کرنا پڑتا ہے اورجمیل کے لئے اتنا پیسہ جٹانا آسان نہیں تھا۔ عام طور پر ڈانسراپنے جوتے انگلینڈ سے امپورٹ کرتے ہیں۔ جمیل انگلینڈ سے جوتے امپورٹ نہیں کرسکتے تھے،چناچہ انھوں نے ڈانسروں کے جوتوں کا گہرا مشاہدہ کیا اوراسی قسم کا ایک جوتا بنا کراپنے گرو سندیپ سپارکرکو دکھا یا۔
یہ جوتا فلم انڈسٹری میں زیادہ ترلوگوں کو پسند آیا اور پھر 2007 سے جمیل نے با ضابطہ طور پر جوتے بنانے کا کام شروع کردیا۔ جمیل کہتے ہیں کہ سب سے پہلے انھوں نے ڈینو موریا کے لئے، پھر پرینکا چوپڑا کے لئے، دھوم تھری میں عامرخان کے لئے، زندگی نہ ملے گی دوبارہ میں ریتک روشن کے لئے، ان کے علا وہ عالیہ بھٹ، کاجول، اجئے دیوگن، سلمان خان، رنبیر کپور، قطرینہ کیف، سری دیوی اور بہت سے دوسرے ستاروں کے لئے جوتے بنائے۔ اب حال یہ ہے کہ انھوں نے جوتوں کا کاروبار شروع کردیا ہے اور زیادہ تر فلمی ستارے انگلینڈ  کے بجائے انھیں سے  جوتا خریدنا پسند کرتے ہیں کیونکہ ان کے جوتے اچھے بھی ہوتے ہیں اور بہت سستے بھی۔
ایک اور اسٹوری
ایک اردواخبارمیں جمیل کی اس اسٹوری کوپڑھ کرمجھے ایک اوراسٹوری یاد آگئی۔ یہ اسٹوری میں نے How to make wealth   نامی ایک کتاب میں پڑھی تھی۔  یہ اسٹوری چرچ کے ایک ملازم کے بارے میں تھی۔ ایک شخص چرچ میں نوکری کرتا تھا۔ لیکن ایک بارایسا ہوا کہ وہاں کا پادری بدل گیا۔ اس نے ایک نیا قانون لایا ۔ اس نے کہا کہ تین مہینے کا وقت دیا جا تا ہے چرچ کے وہ ملازمین جو انگریزی نہیں جانتے وہ انگریزی سیکھ لیں، جو لوگ انگریزی نہیں سیکھ پائیں گے انھیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔
تین مہینے بعد پادری نے تمام ملازمین کو بلا یا اوران سے انگریزی کے بارے میں پوچھ تاچھ شروع کی۔ پیسٹرنے کہا کہ میں اب تک انگریزی نہیں سیکھ سکا ہوں۔ پادری نے جواب دیا تو پھرآج سے آپ کوئی اورنوکری ڈھونڈھ لیں۔ پیسٹرپریشان ہوا۔ وہ چرچ سے اداس ہوکرنکل گیا۔ لیکن اس کی عادت تھی کہ جب وہ بہت مشکل میں ہوتا تھا توسگریٹ پیتا تھا۔ آج بھی اسے سگریٹ کی طلب ہوئی۔ اور یہ طلب بہت شدید تھی۔ لیکن بہت دورتک پیدل چلنے کے با وجود اسے سگریٹ کی کوئی دکان نہیں ملی۔ یہیں اس کے ذہن میں ایک آئڈیا آیا ۔ اس نے سوچا کہ اس کی طرح کتنے لوگ ہوں گے جن کی جیب میں پیسہ ہوگا، اوروہ سگریٹ پینا چاہتے ہوں گے لیکن کوئی سگریٹ بیچنے والا نہیں ہوگا۔ چنانچہ پیسٹر نےفیصلہ کیا کہ وہ چرچ کے قریب ہی ایک سگریٹ کی دکان کھولے گا۔ اوراس نے دوسرے ہی دن چرچ کے قریب سگریٹ کا ایک اسٹال لگا لیا۔ یہ اسٹال کامیاب ثابت ہوا، پھراس نے کئی اوراسٹالس لگوائے ، اس طرح اس نے پورے امریکہ میں سگریٹ کا بزنس پھیلا دیا اور خوب پیسہ کمایا۔
کہا جا تا ہے کہ ایک مرتبہ بینک کا ایک مینیجراس سے ملنے آیا۔ اس نے پوچھا کہ سر! آپ جانتے ہیں کہ ہمارے بینک میں آپ کے کتنے پیسے ہیں؟ پیسٹر نے جواب دیا میں نہیں جانتا، البتہ ہمارا منشی جانتا ہوگا۔ اس نے پوچھا کہ آپ کیوں نہیں جانتے؟ پیسٹرنے جواب دیا "میں پڑھا لکھا نہیں ہوں" ! مینیجر نے حیرانی سے پوچھا۔ سر، ذرا سوچئے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو کیا ہوتے؟ پیسٹر نے قدرے اطمینان سے کہا" چرج کا ایک نوکر۔"
اصل بات یہ ہے کہ یہ دنیا امکانات کی دنیا ہے۔ اورکسی امکان کو واقعہ وہی لوگ بنا سکتے ہیں جواپنےاندر تخلیقی ذہن رکھتے ہوں۔ جو بہت سوچتے ہوں اورکریٹیو مائنڈ کے ساتھ سوچتے ہوں، جو ڈرینڈ سیٹر ہوں نہ کہ ٹرینڈ فولور۔ اس دنیا میں کامیابی کا صرف اور صرف ایک ہی راز ہے اور وہ ہے؛ محنت، محنت اور تخلیقی ذہن کے ساتھ محنت۔
کسی دانشورکا  قول ہے: " اگر آپ کے پاس تخلقی ذہن ہے توکوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔"

  When you have a creative mind it doesn't stop going))

بدھ، 11 مئی، 2016

آپ کی ہر بات ریکارڈ کی جا رہی ہے

آپ کی ہر بات ریکارڈ کی جا رہی ہے

محمد آصف ریاض
آٹھ مئی 2016 کودہلی میں واقع ایک میگزین کےآفس میں جانےکا موقع ملا۔ وہاں موجود صحافیوں سے بات چیت ہوئی ۔ یہ بات چیت بہت خوشگوارماحول میں ہوئی ۔ تمام لوگوں نے میری باتیں بغورسنیں۔ وہاں میری بات ریکارڈ کی جا رہی تھی ۔ جب میں اپنی بات کہہ چکا تومجھے خیال آیا کہ کہیں میں کوئی غلط بات تو نہیں کہہ گیا؟ جب گھرواپس آیا تو ہربات اپنی بیوی سے دہرا یا،اوراس سے پوچھا کہ میں نے کوئی بات غلط تو نہیں کہہ دی؟ کیونکہ وہاں میری ہربات ریکارڈ کی جا رہی تھی۔ کیمرے کی وجہ سے میرے اوپرایک قسم کا دبائوتھااورمیں اپنی باتیں بہت سوچ سمجھ کہہ رہا تھا۔
اب میں سوچنے لگا کہ دنیا کی ریکارڈنگ انسان کو کس قدرحساس بنا دیتی ہے۔ کیمرے کے سامنے جب بولنا ہو تو انسان بولنے سے پہلے بھی سوچتا ہے اوربولنے کے بعد بھی۔ وہ ایک مرتبہ نہیں ہزارمرتبہ سوچتا ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ وہ بول رہا ہے وہ اس کے خلاف شہادت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اس دنیا میں ایک اور ریکارڈنگ ہے جس سے انسان غافل ہے۔ وہ اس قدر خفیہ ہے کہ انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا اوراس کی ہر بات ریکارڈ کر لی جاتی ہے۔
قرآن میں ہے کہ انسان بولتا بھی نہیں کہ لکھنے والا اس کو لکھ لیتا ہے۔ " یقیناً تم پرنگہبان عزت والے ، لکھنے والے مقرر ہیں، وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو"۔
وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ ﴿١٠﴾ كِرَامًا كَاتِبِينَ ﴿١١﴾ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ﴿١٢﴾
آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ بول رہا ہے۔ وہ بے تکان بولتا جا رہا ہے، نہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے اور نہ بولنے کے بعد! کیوں؟ اس لئے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں ہے۔ کہیں کوئی کیمرہ نہیں ہے جو اس کی کہی ہوئی بات کوشہادت (evidence) کے طور پر استعمال کر سکے۔
کاش! انسان یہ جان لیتا کہ وہ جہاں بھی ہو جو کچھ بھی کرتا یا بولتا ہو، اس کا ہر قول ہر فعل خدا کے یہاں ریکارڈ میں ہے۔ قرآن میں ہے۔ "چاہے تم کوئی بات پکارکرکہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات کوبھی جانتا ہے 20: 7))
( اورتم جہاں کہیں بھی ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے اورجو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے ) الحدید / 4
( کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی آسمانوں وزمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ ہی زیادہ مگر وہ جہاں بھی ہوں وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا بیشک اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے والا ہے ) المجادلۃ / 7
کاش ، اگرانسان یہ جان لیتا کہ اس کا ہرقول اورہرفعل ایک خدائی کیمرے میں محفوظ کیا جا رہا ہے، تو وہ بولنے کا تحمل نہیں کرتا۔ اس کا حال یہ ہوجا تا کہ وہ بولتا کم اورسوچتا زیادہ ۔
بلال ابن حارث کہتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسم نے فرمایا۔ آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے ، وہ اس کو زیادہ اہم نہیں سمجھتا ۔ مگر اللہ اس پر اپنی ناراضگی اس وقت تک کے لئے لکھ لیتا ہے جبکہ وہ اس سے ملے گا۔
روایات میں آتا ہے علقمہ تابعی نے کہا کہ بلال ابن حارث کی حدیث نے مجھے بہت سی بات بولنے سے روک دیا۔

(رواہ ابن ماجہ و الترمذی )  

پیر، 9 مئی، 2016

کامریڈ ، میں مرنا نہیں چاہتا، تم مجھے مرنے مت دو

کامریڈ ، میں مرنا نہیں چاہتا،  تم مجھے مرنے مت دو

محمد آصف ریاض
آسمان پانی برساتا ہے اورزمینیں اپنی شادابیاں اگل دیتی ہیں۔ یہ شادابیاں دیکھنے والوں کوبھلی معلوم پڑتی ہیں۔ آدمی اپنے ارد گرد ان شادابیوں کو دیکھ کرخوش ہوتا ہے اوریہ سوچنے لگتا ہے کہ اب زمین سے یہ شادابیاں کبھی ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ اب یہ گل اوربوٹے کبھی مرنےوالے نہیں ہیں۔ اب ان ندیوں اورآبشاروں کی روانی میں کوئی خلل پیدا ہونے والا نہیں ہے۔ اب ان پھولوں کی مسکراہٹ کو کوئی چھینے والا نہیں ہے۔
تاہم ایک وقت آتا ہے جب آدمی اسی خطہ زمین سے دوبارہ گزرتا ہے اوراس باروہ یہاں ایک برعکس دنیا کا نظا رہ کرتا ہے۔ وہ زمینیں جوکل تک شادابیاں اگل رہی تھیں، وہ آج بیان بیان نظرآتی ہیں۔ آدمی یہ دیکھ کرحیران رہ جا تا ہے کہ کل تک جہاں ایک دنیا آباد تھی، جہاں پھول کھلے تھے، پودے پروان چڑھ رہے تھے، پتیاں باد سرسرکے ساتھ جھوم رہی تھیں، جہاں پرندے خوبصورت نغمے سنا رہے تھے، وہ دنیا یکایک برباد ہوچکی ہے۔ جہاں کل تک ہر طرف زندگی رقص کر رہی تھی، اب وہاں ہرطرف خوفناک ریگستانی سناٹاہے۔
یہ ایک تمثیل ہے جس سے انسانی زندگی کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔ آدمی ماں کے پیٹ سے نکل کرزمین پرآباد ہوتا ہے، پھروہ زمین پرطاقت حاصل کرتا ہے، وہ کم عمری سے جوانی کی طرف بڑھتا ہے،رفتہ رفتہ وہ مال اوراولاد والا بن جا تا ہے۔ اب اس کے ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ اس نے زمین پرکنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ اب اس کی دنیا کبھی اجڑنے والی نہیں ہے۔ اب اس کی طاقت میں کوئی کمزوری پیدا ہونے والی نہیں ہے۔
لیکن تبھی انسان پرایک تجربہ گزرتا ہے جواس کی تمام خوش گمانیوں الٹ دیتا ہے۔ وہ صدماتی تجربہ اس کی زندگی کی تمام لذات کا خاتمہ کردیتا ہے۔ یہ تجربہ موت کا تجربہ ہے۔ موت کا تجربہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں اس کے پاس آسما نی فیصلوں کو قبول کرنے کے سوا، کوئی چارہ نہیں ہے۔
وینزوئیلا کے صدرہوگو شاویز (28 July 1954 – 5 March 2013 ) جنوبی امریکہ کے بہت ہی طاقتور لیڈر تھے۔ انھوں نے امریکہ اور یوروپ کے کسی دبائو کو کبھی برداشت نہیں کیا۔ محض  58 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے ان کی موت ہوگئی ۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے آخری وقت میں کامریڈ کو بلا یا۔ وہ اس سے کچھ کہنا چاہ رہے تھے لیکن کمزوری کے سبب کچھ بول نہیں پا رہے تھے، تبھی کامریڈ نے اپنا کان ان کے منھ میں لگا دیا۔ تواس نے سنا۔
"کامریڈ ، میں مرنا نہیں چاہتا ہوں ، برائے مہربانی تم مجھے بچا لو، تم مجھے مرنے مت دو۔"     
I do not want to die, please do not let me die) (
Mail Online 7, March 2013
قرآن میں زندگی کی اس حقیقت کا بیان ان الفاظ میں ہوا ہے: "ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہوگئی، اورکل وہی نباتات بھس بن کر رہ گئ جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے" 18- 45 ))

منگل، 3 مئی، 2016

نہیں بات یہ ہے کہ وہ یتیم کی تکریم نہیں کرتے

محمد آصف ریاض
اگرایک شخص یہ کہے کہ خدا نے مجھے عزت دی، خدا نے مجھے دوسروں پرفضیلت دی، خدا نے مجھے مال اوراولاد والا بنا یا ،خدا نے مجھے علم ودانش سے نوازہ، تو آپ یہ سمجھیں گے کہ یہ تمام شکرکے الفاظ ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ خدا نے ان تمام الفاظ کو ناشکری کے خا نے میں رکھا ہے۔
قرآن کا بیان ہے: " مگرانسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اسے آزما ئش میں ڈالتا ہے اوراسے عزت اورنعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھےعزت دی، اورجب وہ اسکو آزمائش میں ڈالتا ہے اوراس کا رزق اس پرتنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔" ( سورہ الفجر آیت 15- 16 )
یہاں دومتضاد باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جب وہ انسان کوعزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی اورجب وہ اس کا رزق تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کیا۔
قرآن کے اس بیان میں بظاہرایک رویہ شکرکا ہے"خدا نے مجھے عزت دی" اوردوسرا رویہ ناشکری کا  "خدا نے مجھے ذلیل کیا" لیکن قرآن نے ان دونوں رویوں کوناشکری کے خانے میں رکھاہے۔
مثلاً قرآن میں اس بیان کے فوراً بعد آگے بیان ہوا ہے : " ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم سےعزت کا سلوک نہیں کرتے، اورمسکین کو کھانا کھلانے پرایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے، اورمیراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔"
ایسا کیوں ہوا کہ خدا نے بظاہرشکرکے الفاظ بولنے والے اورناشکری کے الفاظ بولنے والے دونوں قسم کے انسان کو ایک ہی خانے یعنی نا شکری کے خانے میں رکھا؟
اصل بات یہ ہے کہ اللہ انسان کی بولیوں پرنہیں جا تا، وہ اس کے عمل پرجا تا ہے۔ ایک شخص جسے خدا نے نعمت اورعزت دی، جسے شہرت اوردولت سے نوازہ گیا، اگروہ کسی مجمع یا تنہائی میں خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہے کہ خدا نے مجھے یہ دیا، خدا نے مجھے وہ دیا، خدا نے مجھے فضیلت دی ، خدا نے مجھے حاجی بنایا، خدا نے مجھے غازی بنایا ، خدا نے مجھے علم والا بنایا تودرحقیقت وہ اپنے رب کی بڑائی بیان نہیں کررہا ہے، وہ خود اپنی بڑائی بیان کررہا ہے۔ بظاہر وہ خدا کا نام لے رہا ہے لیکن درحقیقت وہ اپنا اچیومنٹ بتا رہا ہے۔  
یہاں جو یہ کہا کہ " یتیم کا اکرام نہیں کرتے"، یہ بہت ہی معنی خیزبات کہی ۔ یتیم کون ہوتا ہے؟ یتیم درحقیقت کسی سماج کا سب سے کمزورانسان ہوتا ہے۔ اورسماج کے سب سے کمزورانسان کی عزت وہی شخص کرسکتا ہے جوحقیقی معنوں میں اللہ والا ہو، جس نے اپنے ایگو کو اللہ کے لئے کرش کر دیا ہو، جو فخرو مباہات کی نفسیات سے نکل کر تواضع کی نفسیات میں جی رہا ہو۔ ایسا کوئی بھی شخص جو اپنے سے کمزور کی عزت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنی انانیت میں جینے والا انسان ہے، بظاہروہ زبان سے للاہیت کے جتنے بھی الفاظ بولے خدا کے یہاں ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں۔
یتیم کی تکریم کا حکم دے کرخدا یہ بتا رہا ہے کہ انسان کوچاہئے کہ وہ ہروقت تواضع کی نفسیات میں جئے، وہ سرکشی اور کبر کی نفسیات کو چھوڑدے، اور جب کوئی بات بولے توخوب سوچ لے کہ کہیں وہ شکرکے الفاظ کے پردے میں خود اپنے ایگو (ego)کی فیڈ نگ تو نہیں کررہا ہے؟ کیونکہ ایسا کر کے وہ انسان کودھوکہ دے سکتا ہے لیکن وہ خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ خدا نے پہلے ہی خبردار کردیا ہے" تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات کوبھی جانتا ہے۔"

وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى

پیر، 29 فروری، 2016

اپنے حریف کی کمزوری کو جانئے


اپنے حریف کی کمزوری کو جانئے
محمد آصف ریاض
اٹھائیس فروری، 2016 کے اردو اخبار میں ہندوستان کے معروف پہلوان دلیپ سنگھ رانا (گریٹ کھلی) سے متعلق ایک خبرشائع ہوئی ہے۔ اس خبرمیں بتایا گیا ہے کہ ہلدوانی میں ایک پہلوانی مقابلہ کے دوران گریٹ کھلی اپنے کناڈیائی حریف Brody Steel کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا گئے۔ بروڈی اسٹیل نے نہ یہ کہ گریٹ کھلی کو شکست دی بلکہ انھیں مارکر بری طرح زخمی بھی کردیا۔
کھلی کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرا یا گیا جہاں ان کے سرمیں سات ٹانکے لگا ئے گئے۔ آئی سی یو سے نکل کر کھلی نے ناشتہ کیا۔ ناشتہ میں انھوں نے 35 انڈے ، 5 کلو دودھ،  7 برگر اور 7 گلاس جوس لیا۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ " سر کے بدلے سر پھوڑیں گے اور خون کے بدلے اپنے حریف کا خون بہائیں گے"۔ اس کے بعد ایک بار پھر وہ   دہرادون میں واقع راجیوگاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں مقابلہ کے لئے اترے اوراپنے حریف بروڈی اسٹیل سے اپنی شکست کا بدلہ لیا۔
گریٹ کھلی کے بارے میں ایک نوجوان نے بتا یا کہ کھلی پہلےاکثرجیت جاتے تھے لیکن اب وہ اکثرہار جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ انھوں نے بتا یا کہ کھلی کے پائوں کمزور ہیں، ان کا جسم کافی وزنی ہے اورجب وہ چلتے ہیں توایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پائوں ان کے جسم کا وزن نہیں اٹھا پا رہا ہے۔ پہلے ان کے حریفوں کواس کا علم نہیں تھا اور وہ کھلی کے پائوں پرحملہ کر نے کے بجائے اس کے بازئوں سے ٹکرا جاتے تھے اور نتیجہ کار ہار جاتے تھے لیکن اب انھیں کھلی کے پائوں کی کمزوری کا علم ہوگیا ہے اوراب وہ ہر مقابلہ میں کھلی کے پائوں کو نشانہ بناتے ہیں، پائوں پر حملہ ہوتے ہی کھلی زمین پر ڈھیر ہوجاتے ہیں۔
مجھے ایک واقعہ یاد آگیا
روس جب افغانستان میں داخل ہوا تو طالبان نے اس کے خلاف مورچہ سنبھال لیا۔ کئی برسوں تک لڑائی چلتی رہی اور بہت سے افغانی مارے گئے۔ تبھی 1986 میں امریکہ نے افغان لڑاکوئوں کو روس کے خلاف لڑنے کے لئے اسٹرنگر میزائل دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ میزائل ہیٹ سیکنگ Heat seeking میزائل بھی کہلا تا ہے ۔ جب افغان لڑاکوئوں کے ہاتھوں میں یہ میزائل آیا تو انھوں نے اس میزائل کے ذریعہ روس کے فائٹر پلین کو مار گرانا شروع کردیا ۔ مہینے دو مہینے کے اندرانھوں نے روس کے درجنوں فائٹر پلین گرا دئے جس کی وجہ سے روس کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجہ کار اس کے پائوں میدان جنگ سے اکھڑ گئے۔
اسٹرنگر در حقیقت ایک ہیٹ سیکنگ میزائل تھا۔ اس میں ایسا آلہ لگا ہوا تھا جو ہمیشہ ہیٹ کی تلاش میں رہتا تھا۔ جیسے ہی کوئی روسی پلین بمباری کرتا تو یہ میزائل اس کے پیچھے لگ جا تا تھا اوراسے تلاش کرکے آسمان پرہی مار گراتا تھا۔
بعد میں روسی سائنسدانوں نے اس کی کاٹ یہ نکالی کہ انھوں نے اپنے پلین میں ایک نیا سسٹم نصب کردیا۔ وہ پلین سے میزائل برساتے تھے اوراس کے ساتھ ہی پلین سے آگ کا گولہ برساتے ہوئے بھاگ جاتے تھے، اسٹرنگر چونکہ ہمیشہ ہیٹ کی تلاش میں رہتا تھا اس لئے وہ فائٹر پلین کی طرف بھاگنے کے بجائے ہیٹ کی طرف بھاگنے لگتا تھا اوراس طرح روسی پلین اپنا بچائو کرنے میں کامیاب ہو جا تے تھے۔
ہرآدمی اورہرنظام کی اپنی ایک کمزوری ہوتی ہے۔ آدمی اگراپنے حریف کی اس کمزوری کو جان لے تو اسے ہرانا بہت آسان ہوجائے۔
مضمون نگار " امکانات کی دنیا" مظفر نگر کیمپ میں" اور فتوحات کی دنیا، کے مصنف ہیں۔ ان کے مضامین پڑھنے کے لئے آپ ان کے بلاگ پر بھی جا سکتے ہیں۔

جمعہ، 15 جنوری، 2016

گھر واپسی ممکن ہے؛ لیکن یہ واپسی نئے گھرمیں بھی ہوسکتی ہے

گھر واپسی ممکن ہے؛ لیکن یہ واپسی نئے گھرمیں بھی ہوسکتی ہے
محمد آصف ریاض
جب سے بی جے پی حکومت میں آئی ہے، ہرطرف گھرواپسی کا غلغلہ ہے۔ آرایس ایس ، وشو ہندو پریشد اور ہندو مہا سبھا نامی  منووادی تنظیمیں ہرطرف گھرواپسی کا شورمچا رہی ہیں۔
گھرواپسی کے اس شورنے برادران وطن کو خاص طورسے دلتوں، آدی واسیوں اوراوبی سیزکوجنھیں ورن ویوستھا میں" شودر" کہا جا تا ہے، یہ سوچنے پرمجبورکردیا کہ آخر یہ مسلمان کون ہیں اوراگروہ گھر واپسی کریں گے تو کس گھر میں جائیں گے؟
مسلمانوں کے بارے میں ان کی ڈسکوری نے انھیں بتایا کہ یہ مسلمان کوئی دوسری مخلوق یا کوئی ایلین نہی ہیں، جیسا کہ منو وادی ان کے بارے میں انھیں بتا تے ہیں، بلکہ یہ مسلمان بھی انھیں دلتوں آدی واسیوں اوراو بی سیز کے گوشت پوست کا حصہ ہیں۔ وہ بھی انھیں کے بھائی بندھو ہیں۔
اپریل 2014 کو جب کہ موجودہ وزیراعظم مسٹرمودی اپنی انتخابی ریلیوں میں مصروف تھے، اس دوران مجھے پٹنہ جانے کا موقع ملا۔ اس سفر میں ایک ہندو جوڑے سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے مجھے بتا یا:
"مسلمان کون ہیں؟ مسلمان میرے ہی بھائی ہیں۔ وہ میرے ہی گوشت پوست کا حصہ ہیں ۔ ہم دو بھائی تھے ایک کو اسلام پسند آیا تواس نےاسلام قبول کر لیا اور ہم ہندو رہ گئے ۔ اب اگر کوئی میرے بھائی کو مارے گا، یا اسے برا بھلا کہے گا تو کیا ہم چپ بیٹھے دیکھتے رہیں گے؟ ہر گز نہیں۔" جب وہ بول رہا تھا تو اس کی بیوی وہیں بیٹھ کراسے بغور سن رہی تھی اورمیں مسکرا رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ آج ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو پہچان لیا۔ اوراس کے لئے ہمیں ان منو وادیوں کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہئے جو گھر واپسی کی مہم چلا رہے ہیں۔
اب ایک دوسرا واقعہ سنئے۔ 9 جنوری 2016 کومیں اپنی بیوی اوربچوں کے ساتھ دہلی کتاب میلہ میں گیا ہوا تھا۔ میں بذریعہ آٹو وہاں گیا تھا۔ راستے میں ڈرائیورسے بات چیت ہونے لگی ۔ یہ ڈرائیور یوپی کے متھرا شہرکا رہنے والا تھا۔ اس نے بات چیت کے دوران مجھ سے جو کچھ کہا اسے میں یہاں نقل کرتا ہوں۔ اس نے کہا: 
"ہندوستان میں بہت کم مسلمان باہرسے آئے ہیں۔ یہ یہاں کے دلت آدی واسی، اوراوبی سیزتھے جھنوں نے منووادیوں کی تھوپی ہوئی سماجی نا برابری، ظلم اورجہالت کے خلاف آوازبلند کی اوراسلام دھرم کو اپنا لیا۔ وہ میرے بھائی بندھو ہیں۔ اورمنو وادی ان سے اسی لئے نفرت کرتے ہیں کیوں کہ وہ ہم میں سے ہیں۔"
میں سوچنے لگا کہ ہرعمل کا ایک رد عمل ہو تا ہے۔ اورمنو وادیوں نے جس زور شور سے گھر واپسی کا ہنگامہ کھڑا کیا ہے اس سے برادران وطن میں (منو وادیوں کو چھوڑ کر) یہ پیغام گیا کہ وہ مسلمانوں کے بارے میں از سر نو جانکاری حاصل کریں اوراس جانکاری نے انھیں بتا یا کہ مسلمان دوسرے نہیں ہیں وہ انھیں ہندوئوں میں سے ہیں جنھیں منو وادی شودریا انٹچیبل کہتے ہیں۔
گھر واپسی کا معاملہ
بلا شبہ منو وادیوں نے گھر واپسی کا معاملہ اٹھا کر بہت  بڑی غلطی کی ہے۔ وہ یہ بھول رہے ہیں کہ مسلمان ان کی نگاہ میں ایلین ہوسکتے ہیں لیکن وہ عام ہندوئوں کی نگاہ میں ایلین یا کوئی اجنبی مخلوق نہیں ہیں۔ گھر واپسی کے امکان سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن یہ واپسی پرانے گھر میں ہی ہو یہ ضروری نہیں ہے ، یہ واپسی نئے گھر میں بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ایسا  دیکھا گیا ہے لوگ بہت مشکل سے اپنے لئے ایک نیا گھر بناتے ہیں اورجب کوئی نیا گھر بنا لیتا ہے تو پھروہ پرانے گھرمیں واپس جا نا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ اس بات کا امکان کافی بڑھ گیا ہے کہ مسلمانوں کےوہ بھائی جو اپنے پرانے گھرمیں رہ گئے ہیں، وہ اپنے بھائی کے نئے گھرکے دروازے پردستخط دینا شروع کردیں۔ یعنی واپسی ہو گی۔ لیکن یہ واپسی نئے گھر کی طرف ہوگی ۔ اوراگرایسا ہوا تو یقیناً منووادیوں کو بڑی تکلیف ہوگی اوراس تکلیف کے لئے وہ خود ہی ذمہ دار ہوں گے۔
ایک مثال:
امرائو سلودیا 1978 بیچ کے آئی ایس آفیسر ہیں۔ قانون کے مطابق انھیں 31 دسمبر2015 کو راجستھان چیف سکریٹری کے عہدے پر فائز ہوجا نا تھا اوراگر ایسا ہوتا تو وہ ریاست کے پہلے دلت چیف سکریٹری ہوتے۔ لیکن سلودیا کو پرموشن نہیں دیا گیا اوران کی جگہ موجودہ چیف سکریٹری کی مدت میں توسیع کر دی گئی۔ ایسا اس لئے کیا گیا کیونکہ سلودیا دلت تھے۔ سلودیا کو یہ بات ناگوار گزری اورانھوں نے بے انصافی کے خلاف لڑتے ہوئے مسلمان بن جانے کا اعلان کردیا۔ دی ہندواخبار نے اس واقعہ کی رپورٹنگ ان الفاظ میں کی ہے:  
After being denied the promotion that would make him the State’s Chief Secretary, senior IAS officer Umrao Salodia, a 1978 batch IAS officer from the Dalit community, on Thursday, appealed to Chief Minister Vasundhara Raje for Voluntary Retirement. Mr. Salodia, who alleged the Raje government of “victimising him on the basis of caste” also converted to Islam, on Thursday
مسٹر سلودیا کا یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ گھر واپسی کی مہم منووادیوں کے لئے الٹی بھی  پڑسکتی ہے۔ جو لوگ یہ مہم چلا رہے ہیں انھیں جاننا چاہئے کہ وہ کسی کواس کے نئے گھرسے نکال کرواپس پرانے گھر میں نہیں دھکیل سکتے، اور نہ ہی وہ کسی کو نیا گھر بنانے سے روک سکتے ہیں۔