جمعرات، 29 جنوری، 2015

مصیبت کے پیٹ میں کشمیری مسلمان

مصیبت کے پیٹ میں کشمیری مسلمان

محمد آصف ریاض
اکتوبرکے مہینے میں جموں کشمیرمیں تباہ کن سیلاب آیا۔ اس سیلاب کی زد میں آکرسینکڑوں لوگ مارے گئے اورکروڑوں کا مالی نقصان ہوا۔ لاکھوں کشمیری ادھرسے ادھر ہوگئے۔ خبروں کے مطابق کئی لاکھ  لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔
تمام مبصرین نے اپنے اپنے انداز میں اس سانحہ پر تبصرہ کیا ۔ کسی نے اسے مین میڈ پروبلم بتایا، کسی نے اسے ماحولیات سے کھلواڑکا نتیجہ  قرار دیا ۔ کسی نے اسے خدائی عذاب بتا یا وغیرہ۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ سیلاب کشمیریوں کے جمود کو توڑنے کے لئے آیا تھا۔ اس سیلاب سے خدا کا منشا یہ تھا کہ کشمیری اپنی کنڈیشنگ کو توڑیں ۔ وہ مفروضہ کشمیری چادرکواتار پھینکیں۔ وہ یہ جانیں کہ خدا نے انھیں کشمیرت کی بقا کے لئے نہیں بھیجا ہے بلکہ وہ دین کی بقا کے لئے وارد کئے گئے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ سے کشمیری ماحول میں رہ کرکشمیریوں کا ذہن بھی کشمیری بن گیا ہے۔ کشمیریت کی بھول بھلیوں میں پڑکرانھوں نے وہ اصلی پیغام بھی بھلا دیا جس کا خدانےانھیں امین بنا یا تھا۔ کشمیریوں کی کنڈیشنگ کا عالم یہ ہے کہ وہ کشمیرسے باہرنکلنے کے لئے بھی تیارنہیں ہوتے، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ خدا نے انھیں دین کا پیغامبربنا کربھیجا ہے ناکہ کشمیریت کا پیغامبر۔
کشمیریوں کی ناکامی
پنجاب اورہماچل پردیش کی سرحدیں جموں کشمیرسے جڑی ہوئی ہیں لیکن کشمیری اپنے پڑوسیوں کو بھی خدائی پیغام پہنچانے میں ناکام  ہیں۔ حالانکہ وہ چاہتے تواپنے پڑوسیوں تک بہ آسانی دین کا پیغام پہنچا سکتے تھےاس کے لئے انھیں زیادہ  دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی اورنہ ہی زبان کا کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہوتا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ آج سے 20 سال قبل تک بلکہ آج بھی بہت سے سکھ اور پنجابی اردو پڑھتے اور بولتے ہیں۔
آج سے تقریباً پندرہ سال قبل بنارس میں ایک سکھ  سے میری ملاقات ہوئی ۔ وہ مجھ سے اردو اخبار مانگ کر پڑھنے لگا تومیں حیران رہ گیا ۔ اس نےبتا یا  کہ ہمارے گھر میں اردو پڑھی جاتی ہے اور زیادہ تر لوگ اردو جانتے ہیں۔ کشمیری مسلمان اس ہم آہنگی کا فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ وہ اپنے بھائیوں کو دین کا پیغام پہنچا سکتے تھے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے اور پورے معاملہ میں انڈیفرنٹ بنے رہے۔ چونکہ ان کا مائنڈ  دعوہ اورینٹیڈ نہ تھا، اس لئے انھوں نے خدا کی طرف سے پیدا کئے گئے مواقع کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
 1984کے واقعہ کے بعد سکھوں کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں سیکنڈ تھاٹ پیدا ہوا تھا۔ سکھ مخالف فساد کے بعد سکھ اپنے آپ کو فطری طور پرمسلمانوں سے قریب محسوس کرنے لگے تھے۔ ایسا اس لئے ہوا تھا کیونکہ فساد کے دوران مسلمانوں نے سینکڑوں سکھوں کو فسادیوں کے ہاتھوں سے بچا یا تھا۔ لیکن مسلمان اس موقع پربھی انھیں دین کا پیغام پہنچانے میں ناکام رہے۔
خدائی پیغام کے تئیں کشمیریوں کی مسلسل ناکامی کی وجہ سے خدا کا غضب بھڑک اٹھا۔ اس نے کشمیریوں کو بھی اسی طرح مصیبت کے پیٹ میں بند کردیا جس طرح  خدائی مشن میں ناکامی کی وجہ سے حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں بند کر دیا گیا تھا۔
 حضرت یونس کا واقعہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے :
 وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ  ۔۔ ﴿ الانبیاء ۔87﴾
(اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا، یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا اورسمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے)
 مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کو خدا کا عہد یاد آیا اورآپ نے نہایت گریہ و زاری سے اپنے خدا کو پکار اور توبہ استغفار کیا تو خدا نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے باہرنکال دیا ۔ قرآن میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:
فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿ الانبیاء ۔87﴾
(آخر کو اُس نے تاریکیوں میں پکارا “نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا )
حضرت یونس کی اس پکار پرخدا نے انھیں معاف کردیا اور انھیں مچھلی کے پیٹ سے آزاد کردیا۔ قرآن میں ہے:
فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ﴿145﴾ وَأَنبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ ﴿146﴾
آخرکارہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیااور اُس پر ایک بیل دار درخت اگا دیا۔  (الصافات)
کشمیریوں کے لئے سبق
ایک کشمیری سے دہلی کے شاہین باغ میں میری ملاقات ہوئی۔ ان کی عمر تقریباً ساٹھ سال تھی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کشمیری بم اورگن کلچر کیوں نہیں چھوڑ دیتے تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ اس کلچرمیں اس طرح رم گئے ہیں کہ اب ان کے لئے کوئی ٹرنگ پوائنٹ نہیں ہے۔
میں حیران رہ گیا ! ایک ساٹھ سال کا آدمی جوکہ مسلمان بھی تھا اورقتل وخون کے معاملہ میں نو ٹرنگ پوائنٹ کی بات کر رہا تھا میں نے انھیں بتا کہ خدا نے آپ کو ہمیشہ کے لئے ٹرنگ پوائنٹ دیا ہے۔ خدا نے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھول رکھا ہے، وہ دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اسلام میں تو کوئی ایسا مقام ہی نہیں جہاں سے نو ٹرنگ پوائنٹ کا مفروضہ ثابت ہو۔ میں نے انھیں بتا یا کہ آپ (کشمیریوں) کا معاملہ حضرت یونس کا معاملہ ہے۔ حضرت یونس اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کی وجہ سے "مچھلی کے پیٹ" میں ڈالے گئے تھے اور خدا نے آپ کشمیریوں کو اسی جرم کے سبب "مصیبت کے پیٹ" میں ڈال دیا ہے۔

اب آپ کی نجات کی صورت بھی وہی ہے جو حضرت یونس کی تھی یعنی اپنے گناہوں پرسچی ندامت اور توبہ اور خدائی مشن کو دوبارہ لے کر اٹھنا اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ضرور اہل کشمیرمصیبت کے پیٹ سے نکل جائیں گے۔

ہفتہ، 6 دسمبر، 2014

Jews exodus from Europe and opportunities for Muslims

یہود کا اسرائیل سے انخلا اور مسلمانوں کے لئے مواقع


محمد آصف ریاض

دوسری جنگ عظیم کے دوران یہود یوں کوعیسائیوں کے ہاتھوں زبردست اذیت کا شکارہونا پڑا تھا۔ اعداد و شمارکے مطابق نازیوں نےساٹھ لاکھ یہود یوں کو قتل کیا تھا۔ اس قتل عام کے بعد فطری طورپرجنگ تھم گئی تھی اورعیسائیوں میں یہود کے تئیں سیکنڈ تھاٹ پیدا ہوا تھا۔
جنگ عظیم دوئم کے خاتمہ پرعیسائیوں نے بہترسمجھا کہ یہود کوایک بارپھرکہیں بسایا جائے چونکہ یوروپ میں ہرطرف یہود مخالف ماحول قائم تھا اس لئےاس وقت کی عیسائی طاقتوں برطانیہ ، جرمنی اور فرانس وغیرہ نے یہ بہترسمجھا کہ یہود کو یوروپ سے نکال کر فلسطین میں بسا دیا جائے ۔ چنانچہ 1948 میں یہود کو یوروپ سے نکال کر فلسطین میں یعنی عالم اسلام کے قلب میں بسا دیا گیا۔
فلسطین میں یہود کی آبادکاری سے پوری دنیا کے مسلمان بھڑک اٹھے۔ انھوں نے یہود کے وجود کوعالم اسلام  کے لئے خطرہ قراردیا۔ انھوں نے یوم اسرائیل کو یوم نکبہ یعنی (Day of the Catastrophe)  کا نام دیا۔ آج بھی ساری دنیا کے مسلمان یوم اسرائیل کو یوم نکبہ ( بڑا المیہ) قرار دیتے ہیں۔
مسلمانوں نے یہود کی آباد کاری کے معاملہ کو صرف ایک پہلو سے دیکھا اورافسوسناک بات یہ ہے کہ وہ آج تک فلسطین میں یہود کی آباد کاری کواسی پہلوسے دیکھتے ہیں۔ اسرائیل کے قیام میں مسلمانوں نے صرف اپنے نقصان کو دیکھا۔ وہ اس معاملہ میں اپنے فائدے کو نہ دیکھ سکے۔
مسلمانوں نےاسرائیل کے وجود کوعالم عرب کے قلب میں دیکھ کر یہ گمان کرلیا کہ ان کا محاصر ہوچکا ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصررہے کہ خود یہود مسلمانوں کے محاصرے میں آ گئے ہیں ۔ اب وہ چاروں طرف سے مسلم ممالک کے نرغے میں ہیں۔ اب وہ جہاں جو جی میں آئے کرنے کے لئے آزاد نہیں ہیں۔ اب عملاً ان کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئےہیں۔
مثلاً اسرائیل کے شمال میں لبنان اور اردن، شمال مشرق میں سیریا، مغربی کنارہ اورغازہ پٹی واقع ہے۔ اسی طرح مشرق اور جنوب مشرق میں مصراورخلیج العقبہ واقع ہے۔ یعنی اسرائیل چاروں طرف سے مسلم ممالک سے گھرا ہوا ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہود مسلمانوں کے نرغے میں ہیں ناکہ مسلمان  یہود کے نرغے میں ۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک یہودی مفکر  Sebastian Vilar Rodrigez نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے :


The Jews are leaving Europe not because the Jihadists are coming, but because they are here, dwelling among us. They hate Israel and they loathe Jews, but we say almost nothing and do very little. Instead, we let the Jews emigrate to Israel, and they are doing so in their thousands every year. They may be surrounded there on all sides by the enemies of Zionism. But at least they have a government which will not hesitate to protect and defend them۔


" یہودی یوروپ سے نقل مکانی کر رہے ہیں ، اس لئے نہیں کہ یہاں جہادی (مسلمان ) آرہے ہیں بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ یوروپ میں آکر ہمارے درمیان رہ رہے ہیں۔ وہ اسرائیل سے نا پسندیدگی کی حد تک نفرت کرتے ہیں ۔ لیکن ہم ہیں کہ ان کےخلاف کچھ بھی نہیں کر پاتے اور اگر کچھ کرتے بھی ہیں تو وہ بہت کم  ہے۔ ہم یہود کو یوروپ سے نقل مکانی کرنے کی چھوٹ دے چکے ہیں۔ ہرسال ہزاروں کی تعداد میں یہودی یوروپ چھوڑ کر اسرائیل جا رہے ہیں۔ بلا شبہ وہاں وہ ہرطرف سے دشمنوں سے گھرے ہوئے ہیں تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ وہاں ایک حکومت ہے جو یہود کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے"
   1948 سے پہلے کی صورت حال یہ تھی کہ یہود ایک عالمی کمیو نٹی تھی۔ وہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ تاہم جب اسے فلسطین میں لاکربسا دیا گیا تواچانک وہ ایک علاقائی کمیونٹی بن کررہ گئی ۔ انھوں نے اپنے آپ کو چاروں طرف سے مسلمانوں کے درمیان گھرا ہوا پا یا تو اپنی آبادی کو بڑھا نے کے لئے انھوں نے ساری دنیا کے یہود کواسرائیل میں بلا لیا۔ اس سے انھیں یہ فائدہ تو ہوا کہ اسرائیل کی آبادی میں کچھ  اضا فہ ہوگیا لیکن نقصان یہ ہوا کہ ساری دنیا یہود سے خا لی ہوگئی ۔ اب یہود عالمی پلیئر نہ رہ کرعلاقائی پلیئر بن گئے۔
ساری دنیا کے یہود جب اسرائیل میں آکرجمع ہوگئےتودوسرے لفظوں میں وہ مسلمانوں کے محاصرے میں آگئے۔ یہود کے ایک جگہ جمع ہونے سے مسلمانوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ملا کہ وہ یہود کی عالمی سازش سے بچ گئے۔ اٹھارہویں صدی اور اس سے پہلے عالم یہ تھا کہ مسلمان دنیا میں جہاں کہیں جاتے تھے انھیں یہود کی سازشوں سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔ وہ جس خطے میں بھی جاکرآباد ہوتے تھے وہاں کے یہود مسلمانوں کے خلاف آسمان سرپراٹھا لیتےتھے۔ وہ دوسری قوموں خاص طورسے عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا دیتے تھے۔ یہود کی ان سازشوں کی وجہ سے اسپین سے مسلمانوں کا انخلا ہوا۔ یہود کی انھی سازشوں کی وجہ سے یکم نومبر 1922 کو عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا۔
خلافت عثمانیہ کے خاتمہ  کے بعد مسلمانوں کے لئے یہ مشکل ہوگیا تھا کہ وہ ان علاقوں کو اپنا مسکن بنائیں جہاں مسلمان سرے سے موجود نہ ہوں یا ہوں تو برائے نام ہوں ۔ یہود انھیں کہیں بھی آسانی سے بسنے نہیں دیتے تھے۔ مثلاً ان کے لئے یوروپ میں آباد ہونا بڑا مشکل امرتھا کیونکہ یہاں یہود کا بڑا دبدبہ تھا۔
خدا کا منصوبہ
اس زمین پرخدا کا منصوبہ یہ ہے کہ زمین پربسنے والا ہرانسان خدا کے پیغام کو جان لے۔ وہ خدا کی معرفت حاصل کر لے۔ اس کام کے لئے خدا نے ہر دور میں نبیوں اوررسولوں کومبعوث فرمایا۔ سب سے آخر میں پیغمبر اسلام کی بعثت ہو ئی پھرخدا نے ان کی امت اور قرآن کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا تاکہ ہر گھر میں خدائی کلمہ داخل ہوجائے۔ خدا کے اس منصوبہ کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
'لایبقی علی ظھر الأرض بیت مدر ولا وبر لا أدخلہ اللہ کلمة الاسلام بعز عزیز أوذل ذلیل ما یعزھم اللہ عزوجل فیجعلھم من أھلھا أو یذلھم فیدینون لھا.'' (مسند أحمد: ٢٣٦٣٩' مؤسسة الرسالة' الطبعة الثانیة' ١٩٩٩ء)
'' زمین کی پشت پر کوئی کچا یا پکا مکان باقی نہ رہے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس میں اسلام کے کلمہ کو داخل کر دے گا، عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلیل کی ذلت کے ساتھ' ۔
تاریخ کا سبق بتاتا ہے کہ خدائی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں یہود سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ انھوں نے کئی نبیوں اور رسولوں کو قتل کیا۔ جب یہود کی سفاکی حد سے بڑھ گئی تو خدا نے یہود کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹا نا شروع کر دیا۔ اسی خدائی پروسس کے نتیجہ میں یہود یوروپ سے نکالے گئے تاکہ اہل یوروپ کے ہرگھر میں خدائی کلمہ داخل ہو سکے۔ اب جبکہ یوروپ سے یہود کا حتمی انخلا ہوچکا ہے تو صورت حال یہ ہے کہ یہاں کے ہر گھر میں خدائی کلمہ بڑی تیزی سے داخل ہو رہا ہے۔ یہود کے انخلا کے فوراً بعد یوروپ کا دروازہ اسلام کے لئے کھل گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ یوروپ کا کوئی شہرنہیں ہے جہاں سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند نہ ہوتی ہوں۔
اس واقعہ کو ایک یہود مفکر Sebastian Vilar Rodrigez نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
 " یوروپ نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کواس لئے قتل کردیا تاکہ ان کی جگہ وہ دوکروڑ مسلمانوں کو آدباد کرسکیں۔"
Europe Killed Six Million Jews and Replaced them with 20 Million Muslims !
یوروپ آج توحید کا گہوارہ بن چکا ہے۔ یہاں ہر دن سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اسلام قبول کر رہے ، اسی رفتار کو دیکھتے ہوئے کچھ شر پسند یہودیوں نے اسے یوروپ Europe کی جگہ Eurabia  یعنی عرب کہنا شروع کر دیا ہے۔  
یوروپ کے چند شہروں میں آباد مسلمانوں سے متعلق اعدادو شماریہاں پیش کئےجاتےہیں:مزید جانکاری کے لئے اس لنک پر کلک کریں::
http://en.wikipedia.org/wiki/List_of_cities_in_the_European_Union_by_Muslim_population

منگل، 11 نومبر، 2014

Seeking for Haji Ilahi Bakhsh

مجھے"حاجی الہی بخش" کی تلاش ہے
محمد آصف ریاض
1857 کی جنگ میں انگریزوں نے دہلی کی جامع مسجد پر قبضہ جما لیا تھا۔ یہاں نمازممنوع تھی ۔ انگریزوں نے اس مسجد کو اپنے قبضے میں لے کرفوجی بارک بنا لیا تھا۔ 1858 میں کینٹر بری کے لاٹ پادری کا حکم نامہ آیا کہ دہلی میں اسقف اعلیٰ کا عہدہ قائم کیا جائے۔ انگریزی اخباروں نے شور مچایا کہ جامع مسجد کو گرجا گھر بنا دیا جائے۔ اور یہاں اسقف کا مرکز قائم کیا جا ئے لیکن حکومت نے وسیع ترمصلحتوں کے پیش نظراپنے ارادے کو بدل دیا۔ البتہ مسلمانوں کی ناراضگی کے باوجود مسجد بدستور فوجی بارک بنی رہی۔
1862 میں انگریزوں نے اس شا ہجہانی مسجد کو نیلام کردیا۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ سب سے بڑی بولی میرٹھ  کی قریشی برادری کے ایک فرد حاجی الہی بخش نے لگائی۔ حاجی الہی بخش نے پچھتر ہزار روپے نقد ادا کر کے مسجد کو انگریز حکومت سے خرید لیا اور پھراسے نماز کے لئے مسلمانوں کے حوالے کردیا۔  مزید جانکاری کے لئے پڑھئے  تاریخ نظریہ پاکستان؛ پروفیسر محمد سلیم۔
قومیں اگر زندہ ہوں تو وہ  پہاڑ جیسے بوجھ کو بھی  بخوشی اپنے سر پر اٹھا لیں گی اور اگر  مردہ ہوں تو رائی کا ہر دانہ انھیں پہاڑ نظر آئے گا۔
کل اگر ہندوستانی مسلمان عروج کے مقام پر فائز تھے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ انھوں نے اپنے آپ کو زندہ رکھا تھا، وہ ہر چیلینج کو قبول کر نے کے لئے تیار رہتے تھے ان کے درمیان ہر وقت کوئی نہ کوئی  حاجی الہی بخش موجود رہتا تھا اور آج اگر مسلمان اپنے آپ کو پسماندہ پاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ان کے درمیان کو ئی الہی بخش موجود نہیں ہے۔

جمعہ، 3 اکتوبر، 2014

فتنہ اور علما



فتنہ اور علما
محمد آصف ریاض
یہود سے کہا گیا تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ وہ لوگوں کا مال ناحق نہ کھا ئیں ۔ نیز یہ کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اچھا برتائو کریں۔ ان سے کہا گیا تھا:
اگرتو، میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کوجو تیرے پاس رہتا ہو کچھ قرض دے تواس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا، اورنہ ان سے سود لینا" (کتاب خروج باب 22)
" اوراگرتیرا کوئی بھائی مفلس ہوجائے اوروہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو اسے سنبھالنا۔ وہ پرد یسی اورمسافر کی طرح تیرے ساتھ رہے۔ تواس سے سود یا نفع مت لینا بلکہ اپنےخدا کا خوف رکھنا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے، تو اپنا روپیہ اسے سود پرمت دینا اوراپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے مت کھلانا "
(احبار باب 25 )
شروع میں یہود نے پیغمبروں کی تعلیم پرعمل کیا لیکن بعد میں ان کے یہاں بہت سے ناخلف لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے پیغمروں کی تعلیم کو پس پشت ڈال دیا ۔ لیکن ابھی وہ اتنے جری نہیں ہوئے تھے کہ علی اعلان پیغمبروں کے احکام کو توڑ تے پھرتے، البتہ جب انھیں اس کام میں اپنے بگڑے ہوئے فقہا کی مدد حاصل ہو گئی تو وہ بہت جری اور سر کش ہوگئے۔ یہود کے بگڑے ہوئے فقہا نے انھیں بتایا کہ خیر کے جو بھی احکام ہیں وہ سب یہود سے متعلق ہیں اورجو خدائی غصہ ہے وہ سب امیوں یعنی غیر یہود کے لئے ہے۔ اپنے فقیہوں کی اس نئی توضیح کو سن کر یہود اس طرح خوش ہوئے جیسے نعوذ با اللہ خدا کی طرف سے انھیں زمین پر لوٹ مار کی کھلی چھوٹ مل گئی ہو۔ اب وہ اخلاقی طور پر اس قدر گر گئے کہ اگر کوئی ایک دینار بھی ان کے پاس رکھتا تو وہ اسے لوٹا نے کے لئے تیار نہ ہوتے۔ قرآن میں ان کی اس حالت کا ذکراس طرح ہوا ہے۔:
"اہل کتاب میں سے کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینارکے معاملہ میں بھی اس پربھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا، الا یہ کہ تم اس پر سوار ہوجائو۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے" (آل عمرا ، آیت 75)
یہود میں جب خرابی پیدا ہوئی تو وہ ایک دم سے اتنے خراب نہ ہوئے کہ خدا ئی احکام کو صریحاً توڑ دیتے ۔ ابھی ان میں اتنی جسارت پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن جب انھیں اپنے بگڑے ہوئے فقہا کا سہارا مل گیا تو وہ نڈر ہوگئے ۔ فقہا کی طرف سے شہہ پاکر ان کی سر کشی اتنی بڑھی کہ غیر تو غیر اپنے بھی ان کی بد سلوکی سے محفوظ نہ رہہ سکے۔
قرآن میں ان کی اس حالت کا ذکر اس طرح ہوا ہے:
کیا خدائی حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے، اگر ایسا ہوتا تو یہ دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے"
(سورہ النساء، آیت 53 )
مذاہب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دورزوال میں مسلم فقہا بھی اپنی قوم کے ساتھ وہی کررہے ہیں جویہود و نصاریٰ کے فقہا اپنی قوم کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ مثلا آپ  انذار کے بارے میں کوئی قرآنی آیت مسلمانوں کو سنا ئیں تو ان کے علما کہیں گے کہ یہ حکم یہود کے بارے میں ہے، اور اگر آپ کوئی دوسری آیت پیش کریں تو وہ کہیں گے کہ اس کا رخ نصاریٰ کی طرف ہے، یعنی وہ اپنے آپ کو صرف تبشیرکے خانے میں رکھیں گے، وہ اپنے آپ کو انذار کے خانے میں رکھنے کے لئے ہر گزتیار نہ ہوں گے۔ 
 حدیث میں آیا ہے کہ فتنہ علما کی طرف سے آئے گا اور انھیں کی طرف لوٹے گا۔ 
حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایک زمانہ آئیگا جس میں اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائیگا اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے ان کی مسجدیں بڑی بارونق ہوں گی مگر رشد وہدایت سے خالی اورویران ان کے (نام نہاد) علماء آسمان کی نیلی چھت کے نیچے بسنے والی تمام مخلوق سے بد تر ہوں گے ،فتنہ ان ہی کے ہاں سے نکلےگا اوران ہی میں لوٹے گا (یعنی وہی فتنہ کے بانی بھی ہوں گے اوروہی مرکزومحوربھی (بیہقی فی شعب الایمان ،مشکوۃ شریف ۳۸)

جمعہ، 8 اگست، 2014

نبیوں کی پکار

نبیوں کی پکار


محمد آصف ریاض

یکم اگست 2014  کو میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ میں گھر پر بیٹھا کتابوں کا مطالعہ کر رہا تھا، تبھی ایک بچے کے رونے کی آوازسنائی دی۔ وہ بچہ زارو قطار رورہا تھا۔ بہت ہی دلسوز آواز تھی اس کی۔ اس کی آہ و زاری سن کر میں دوڑا ہوا ونڈو پر آگیا اور دیکھنے لگا کہ آخر اسے کیا ہوا ہے؟

دیکھا کہ بچہ نیم برہنہ حالت میں تھا۔ اس کی عمر سات آٹھ سال رہی ہوگی۔ وہ ذہنی طورپرمعذورتھا۔ لیکن جو چیز لوگوں کوحیران کرنے والی تھی وہ اس کی پر سوز آواز تھی۔ وہ دیوانہ وار پکارے جا رہا تھا:

" امی، تم کہاں ہو؟ امی تم کہاں ہو؟ امی، میری امی کہاں گئی؟ وہ ابھی یہیں کہیں تو تھی، میری امی، کوئی میری امی کو لادو۔"

اس کے لہجے میں اتنا درد تھا کہ اگر وہ اسی طرح  دوچار مرتبہ اور پکارتا تو میں یقیناً رو پڑتا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ جہاں تک اس کی آواز پہنچی ہر شخص اسے دیکھنے کے لئے اپنے گھروں سے بے چین ہو کر نکل پڑا۔ عورتیں کھڑکیوں سے جھانکنے لگیں، اسی درمیان ایک نوجوان آیا اوراس بچے کو پکڑ کراس کی ماں کے پاس لے گیا۔

اس بچے کو دیکھ کر مجھے نبیوں اور رسولوں کی یاد آگئی۔ خدا کے معاملہ میں ان کی محبت بھی اسی بچے کی طرح ہوا کرتی تھی۔ وہ بھی ہرصدماتی تجربے پر اپنے رب کو اسی طرح پکار اٹھتے تھے جس طرح یہ کھویا ہوا بچہ اپنی ماں کوپکار رہا تھا۔

مثلاً بائبل کے مطابق جب حضرت عیسیٰ کو یہود نے قتل کے لئے گھیرلیا اورآپ کی داڑھی پکڑ کرآپ کو زودو کوب کرنا شروع کیا تو بائبل میں آتا ہے کہ آپ بے اختیار ہو کر پکار اٹھے: خدا یا، خدایا ، آپ نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟

My God My God why have you forsaken me?

اسی طرح زبور میں ہے کہ جب حضرت دائود کو سخت ترین دشمنوں کا سامنا ہوا تو آپ بے ساختہ پکار اٹھے:
"خدا اٹھے، اس کے دشمن تتربتر ہوں۔ وہ جواس کا کینہ رکھتے ہیں ، اس کے حضور سے بھاگیں۔ جس طرح دھواں پرا گندہ ہوتا ہے، اسی طرح خدایا تو انھیں پرا گندہ کر۔ جس طرح موم آگ پر پگھلتا ہے اسی طرح شریرخدا کے حضور فنا ہوں۔ "


Let God arise, let his enemies be scattered: let them also that hate him flee before him.
2 As smoke is driven away, so drive them away: as wax melteth before the fire, so let the wicked perish at the presence of God.
Psalm


دعا کے یہ الفاظ کسی بندہ خدا کی زبان پراس وقت جاری ہوتے ہیں جبکہ اس بندہ خدا کوخدا کی گہری معرفت حاصل ہو، جبکہ اس کی صبحیں اور شامیں خدا کی یاد میں ڈوبی ہوئی ہوں، جبکہ اس کا دل ہروقت خدا کی طرف لگا ہوا ہو، جبکہ اسے پورا یقین ہو کہ خدا ہی ہر چیز کا مالک ہے اور سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے۔

جمعرات، 31 جولائی، 2014

Are we ready for this great job?

کیا ہم اس کار عظیم کے لئے تیار ہیں؟

محمد آصف ریاض
ہندوستانی مسلمانوں کو شکایت ہے کہ  انھیں سیاست میں حصہ داری نہیں دی جا تی۔  وہ کہتے ہیں کہ انھیں جان بوجھ  کرسیاسی میدان میں پیچھے دھکیل دیا جا تا ہے۔ ان کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ مسلم اکثریت والے حلقوں کو ایس سی،ایس ٹی کے لئے ریزرو کردیا گیا ہے اور قانون کے مطابق مسلمان ایس سی ایس ٹی نہیں ہو سکتے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کی نمائندگی پارلیمنٹ اوراسمبلیوں میں سکڑکررہ گئی ہے۔
مثلاً سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق  بہار، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں  تیس سے زیادہ اسمبلی کی سیٹیں وہ ہیں جنھیں ایس سی ایس ٹی کے لئے ریزرو کر دیا گیا ہے حالانکہ یہاں ایس سی ایس ٹی کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسی طرح ملک بھرمیں 70 سے زیادہ لوک سبھا کی سیٹیں وہ ہیں جہاں مسلمان آسانی کے ساتھ کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن یہاں بھی یہی پریشا نی ہے کہ مسلم اکثریت والی تقریباً 30 سے 32 حلقوں کو ایس سی ، ایس  ٹی کے لئے ریزر کر دیا گیا ہے۔ مزید جانکاری کے لئے پڑھئے سچر کمیٹی کی رپورٹ:
مسلمان گزشتہ ساٹھ سالوں سے حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ مسلم اکثریت والے حلقوں کو ان ریزرو کر دیا جائے، اس مطالبہ کو لے کر کئی بار ملک کے مسلم لیڈران ملک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات  کر چکے ہیں۔ مثلا زکواۃ فائونڈیشن آف انڈیا، مسلم مجلس مشاورت، جماعت اسلامی ہند اورجمیعۃ العلماء ہند جیسی ملی تنظیموں نے ملک کے حکمراں طبقات سے ملاقات کر کے مسلم سیٹوں کو ڈی ریزر کر نے کا مطابلہ کیا ہے اور کرتے رہے ہیں۔ زکواۃ فائونڈیشن کے سید ظفر محمود نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے موقع پرسونیا گاندھی اور جناب راہل گاندھی کو اس سلسلے میں خط بھی لکھا تھا۔
مسلم اکثریت والے انتخابی حلقوں کو ایس سی ایس ٹی کے لئے ریزرو کئے جانے کے خلاف ملک کے مسلمان اکثر احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب نادانی کا معاملہ ہے۔ مسلمان اس معاملہ میں ہارڈ آپشن کو لے رہے ہیں حالانکہ ان کے لئے ایزی آپشن بھی موجود ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے مزاج کے مطابق اس طرح بگڑ چکے ہیں کہ وہ وہاں بھی ہارڈ آپشن لیتے ہیں جہاں ان کے لئے ایزی آپشن پہلے سے موجود ہوتا ہے، یعنی مسلمانوں کا معاملہ آبیل مجھے مار کا مسئلہ ہے۔
ایک مرتبہ حضرت عائشہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی کا کوئی پسندیدہ عمل بتائے تو آپ نے جواب دیا کہ جب آپ کے سامنے دو آپشنس ہوتے تھے تو آپ ہمیشہ آسان آپشن کو لے لیتے تھے۔ He always opted for the easy option  
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ آسانی کو پسند کرتے تھے۔ آ پ فرمایا کرتے تھے یسرو ولا تعسرو و بشرو ولا تنفرو یعنی آسانیاں پیدا کروتم لوگ مشکل پیدا مت کرو، تم لوگ بشارت سنانے والے بنو، تم لوگ نفرت پھیلانے والے مت بنو۔
وہ آسان آپسن کیا ہے؟
مسلما نوں کے سامنے پوری دنیا بشمول ہندوستان میں سب سے آسان آپشن دعوت دین کا آپشن  ہے ۔ مسلمان اگراس ملک میں خدائی پیغام کو لے کراٹھیں توان کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے جنھیں حل کرنے کے لئے وہ ایک عرصہ سے جانی اور مالی جدو جہد کر رہے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً پچیس کروڑ مسلمان رہتے ہیں اگر ہرمسلمان مرد عورت اپنی طرف سے پانچ غیر مسلموں کو قرآن پہنچا دیں تو چند ہی سالوں میں پورے ہندوستان میں دعوت کا پیغام عام ہوجائے گا اورنتیجہ کار وہ پیشن گوئی پوری ہوچکی ہوگی جسے حدیث کی کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے"خدا کا کلمہ ہرگھر میں پہنچ کر رہے گا چاہے لوگ پسند کریں یا نہ کریں۔"
ہندوستانی مسلمان اگراس کار عظیم (خدائی پیغام ) کو لے کراٹھیں تو اس کا فوری نتیجہ یہ نکلے گا کہ 80 کروڑکی آبادی میں 10 کروڑ سعید روحیں جوامکانی مسلم کی صورت میں سچائی کو پانے کے لئے پہلے سے ہی بیتاب ہیں، بہت جلد اپنے باپ آدم کے دین کو قبول کر لیں گی۔ اگرایسا ہوا تو حالات اس طرح پلٹا کھائیں گے کہ مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے، یعنی آج جو کیرالہ کی آبادی ہے، اس آبادی کے لحاظ سے 4 ریاستیں وجود میں آجائیں گی اور یہ سب 10 سے 15 سالوں کے اندر ہی  ہو جائے گا۔ ملک کےمسلمان اگراس دوسرے آپشن کو لیں تو وہ پائیں گے کہ قرآنی دعوت کے نتیجہ میں انھیں وہ تمام چیزیں مل گئیں جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ صحابہ نے اسی راستہ پر چل کرکامیابی حاصل کی تھی تو کیا وجہ ہے کہ مسلمان اسی راستے پر چل کرناکام ہو جائیں؟۔ایک اور انداز میں سوچئے کہ آج اس ملک میں جو مسلمان ہیں وہ بھی کبھی امکانی مسلم ہی تھے، ان کے اسلاف نے خدائی دین کو سمجھا اور مسلمان ہوگئے تو اگر آپ اور آپ کے باپ دادا دین اسلام کو پسند کر سکتے ہیں تو دوسرے لوگ ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟ ہمارے ان کے درمیان ایسا کیا فرق ہے؟ ہمارے اور ان کے درمیان وزڈم کا کوئی فرق نہیں بلکہ اس بات کا فرق ہے کہ ہمارے باپ دادا کو جن لوگوں نے دین پہنچا یا تھا وہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے بہت اچھے تھے اور ہم جن لوگوں کو دین پہنچانے جا رہے ہیں وہ اپنے کردار کے لحاظ سے ہم سے اچھے ہیں کمی ان میں نہیں ہے کمی خود ہمارے اندر ہے، یعنی کمی مدعو میں نہیں ہے کمی خود داعی کے اندر ہے۔ ہمیں  رسول اور اصحاب رسول کے طریقہ پر چل کراس کمی کو دور کرنا ہے اور قرآن کے ذریعہ سے وہ کامیابی حاصل کر نی ہے جسے ہم کسی اور ذریعہ سے حاصل نہیں کر سکتے۔
اب رہا اصل مسئلہ ایس سی، ایس ٹی ریزریشن کا تو اس کوایک اور انداز میں سمجھئے، جن اسمبلی اور پارلیمانی سیٹوں میں مسلمانوں کی خا صی تعداد ہے اور وہاں کی سیٹیں ریزرو کر دی گئی ہیں اگر مسلمان وہاں قرآن پھیلائیں اور لوگوں کو خدا کا دین پہنچائیں تو انھیں ایس سی ایس ٹی  کے اندر بہت  سے امکانی مسلمان 'رجل مومن' مل جائیں گے جو ایس سی ایس ٹی رہتے ہوئے مسلمان ہوں گے اوراپنے اپنے حلقوں کی نمائندگی کررہے ہوں گے۔ یعنی آفیشیلی تو وہ شڈیلڈ کاسٹ یا شڈیلڈ ٹرائب کے افراد ہوں گے لیکن ان آفیشیلی وہ مسلم ہوں گے۔ اور یہ وہ مسلم ہوں گے جنھیں قرآن میں "رجل مومن" کہا گیا ہے۔ یعنی ایسا مومن جو ابھی ڈکلیئرڈ نہ ہو بلکہ اس نے اپنے آپ کوحکمت عملی کے مطابق صیغہ راز میں رکھا ہو ، ملک کے کرسچن پہلے سے ایسا کر رہے ہیں۔
کرسچن کیا کرتے ہیں!  
جھارکھنڈ میں ایک قبیلہ رہتا ہے جسے مانٹوس Montos قبیلہ کہا جا تا ہے۔ یہ قبیلہ تقریباً 86 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ جھارکھنڈ میں کام کرنے والی کرشچن مشنریوں نے اس قبیلہ کے 40 سے 50 فیصد آبادی کو کرسچن بنا لیا ہے۔ لیکن یہ لوگ آفیشیلی کرسچن نہیں ہیں کیونکہ قانون کے مطابق اگرایس ٹی ایس ٹی کا کوئی شخص کرسچن یا مسلمان بن جائے تواس کا ریزر ویشن ختم ہوجائے گا، چنانچہ کرسچن ایسا کرتے کہ وہ قبائلیوں کو کرسچن بنا لیتے ہیں لیکن ان کا نام اوران کا آفیشیل اسٹیٹس  نہیں بدلتے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ریزرویشن ختم کئے جانے کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ لہذا آفیشیلی یہ لوگ ہندو ہوتے ہیں اورعملاً کرسچن ۔ مزید جانکاری کے لئے پڑھئے: Welcoming the Gospel in Jharkhand
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص شڈیلڈ کاسٹ اور شڈیلٹ ٹرائب ہوتے ہوئے عملاً کرسچن ہو سکتا ہے توکوئی شخص شڈیلڈ کاسٹ اور شڈیلڈ ٹرائب کا ہوتے ہوئے مسلمان کیوں نہیں ہوسکتا؟ کرسچن اپنی دانائی سے وہ کام کر رہے جو مسلمان اپنی نادانی کی وجہ سے نہیں کر پا رہے ہیں۔
مسلمانوں کے مسائل پر نظر ڈالئے تو معلوم ہوگا کہ مسلما نوں کا اصل مسئلہ  تعصب یا سازش کا مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ اسی دنیا میں بہت سی دوسری قومیں بھی رہتی ہیں جو تمام تعصبات اورسازشوں کے ساتھ اگے بڑھ رہی ہیں ۔ مسلمانوں کا اصل مسئلہ نا دانی کا مسئلہ  ہے۔ مسلمانوں کا حال آج وہی ہوگیا ہے جو دور زوال میں یہود کا ہوگیا تھا، جس کی نشاندہی کرتے ہوئے یہود کے ایک پیغمبر ہبککوک (Habakkuk) نے کہا تھا:
"خدا تمہارے اوپر نادانی کو انڈیل دے گا، تمہارے درمیان کوئی  دانا آدمی موجود نہ ہوگا  جو تمہارے مسائل کو حل کر سکے۔"

“God will pour upon you the spirit of foolishness, and there will be no wise man among you”

بدھ، 23 جولائی، 2014

میں ہندوستانی مسلمانوں سے پوچھ رہا ہوں

میں ہندوستانی مسلمانوں سے پوچھ رہا ہوں

محمد آصف ریاض
ملک کی آزادی کے ساتھ ہی ملک کی تقسیم کا سانحہ پیش آگیا۔ 1947 میں بٹوارے کے وقت پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لہذا یہ طے پا یا کہ پنجاب پاکستان کے ساتھ جا ئے گا، پھر یہ ہوا کہ پنجاب کے مشرقی علاقہ میں سکھ اورہندو رہتے تھے جو اس بٹوارے پرراضی نہ ہوئے تو مغربی پاکستان جہاں مسلمان اکثریت میں تھے اسے پا کستان کو دے دیا گیا اور مشرقی پنجاب ہندوستان کے ساتھ رہا۔  اس طرح مغربی پنجاب کا 65 فیصد حصہ پاکستان کو گیا اور مشرقی پنجاب کا 35 فیصد حصہ ہندوستان کے حصے میں آیا۔
بٹوارے کی صورت میں بہت خون خرابہ ہوا۔ پروفیسر اے آر مومن A. R. Momin   کے مطابق تقسیم کے دوران تقریبا پانچ لاکھ لوگ مارے گئے۔ مغربی پنجاب میں مسلمانوں نے ہندوئوں اورسکھوں کو مارا اور مشرقی پنجاب میں ہندو اور سکھوں نے مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا تقریباً صفایا ہوگیا، ہزاروں مسجدیں نیست و نابود کر دی گئیں اور بہت سی مسجدیں سکھوں اور ہندوں کے قبضے میں چلی گئیں اوران میں بہت سی مسجدیں آج بھی ان کے قبضے میں ہیں۔
ملک کی تقسیم نے لوگوں کے دلوں کوبانٹ دیا تھا، حالانکہ جو احمق ملک کو بانٹ رہے تھے وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ صرف زمینوں کا بٹوارہ ہے، اس سے لوگوں کے دلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ وہ اپنی جہالت میں اس قدرغرق تھے کہ انھیں پتہ ہی نہیں تھا کہ مذہب کے نام پرتقسیم بہرحال انسانوں کے دلوں کو بانٹ دے گا۔ بہرکیف وہی ہوا جو ہونا تھا۔ یعنی دونوں طرف سے زبردست خون ریزی ہوئی اور ہزاروں لوگ مارے گئے۔ مزید جانکاری کے لئے پڑھئے : India wins freedom . by Maulana Azad
1984 میں آپریشن بلو اسٹار، وزیر اعظم اندرا گاندھی کا قتل، اور پھرسکھ  قتل عام کے بعد سکھوں میں مسلمانوں کے تئیں سیکنڈ تھاٹ پیدا ہوا۔ چونکہ ملک بھر میں سکھوں کو ہندوں کے ہاتھوں قتل و خون کا سامنا کرنا پڑا تھا اس لئے انھوں نے اس برے وقت میں مسلمانوں کواپنے قریب پایا۔ پہلے جو سکھ مسلمانوں کو دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے، اب وہ مسلمانوں کے قریب ہونا پسند کرنے لگے تھے۔
موقع جو گنوا دیا گیا
1984 کے سکھ فساد کے بعد مسلمانوں کے تئیں سکھوں کی سوچ کا بدلنا گویا خدا کے اس قانون کے مطا بق ہوا تھا جسے قرآن میں نداولہا بین الناس یعنی ہم لوگوں کے درمیان وقت کو پھیرتے رہتے ہیں۔ یہ ملک کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑا موقع تھا کہ وہ اپنے آپ کو سکھوں کے قریب کریں اورانھیں خدا کا کلمہ سنا ئیں۔ لیکن ملک کے مسلمان ایسا نہ کرسکے، کشمیر جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اس کی سرحد پنجاب سے ملتی ہے لیکن اس نے بھی صرف فساد میں اضافہ کیا وہ خدا کے داعی کے طور پر سکھوں کو کچھ دے نہ سکے، انھوں نے بندہ خدا کو خدا کا کلمہ نہیں سنا یا، یعنی انھیں قرآن نہیں پہنچا یا گیا۔ اس طرح انھوں نے ایک سنہرا موقع (golden opportunity )  کھو دیا۔
مسلمانوں کے تئیں سکھوں کے رویہ میں تبدیلی کا عالم یہ تھا کہ جب میں 2008 میں چنڈی گڑھ گیا تو وہاں کے مفتی شہر سے منی ماجرا کے ایک مدرسہ میں میری ملاقات ہوئی ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں مسلمانوں کا کیا حال ہے؟ انھوں نے بتا یا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان اس ریاست میں اپنا نام لینے سے گھبرا تے تھے لیکن اب انھیں کھلی آزادی حاصل ہے، آج وہ ٹوپی کرتا پہن کراور داڑھی رکھ کر شہروں میں گھومتے ہیں اور کوئی انھیں روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے۔ انھوں نے بتا یا کہ سکھوں نے جن مساجد پر قبضہ جما رکھا تھا انھیں وہ خود ہی رضاکارانہ طور پر مسلمانوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ بہار اور یوپی کے جو مسلم مزدور یہاں کام کررہے ہیں سکھ انھیں زمین دے کر بسا لیتے ہیں اوران پر مسجدوں کے دروازے کھول دیتے ہیں بعض اوقات وہ نئی مسجد بنا کربھی  دے دیتے ہیں۔
پنجاب کے شاہی امام حبیب الرحمٰن لدھیانوی سے فون پر ہماری بات چیت ہوئی تو ایک بات چیت میں انھوں نے بتا یا کہ اب تک انھوں نے ریاست میں 400 مسجدیں سکھوں کے ہاتھوں سے واگزار کرا لی ہیں اوران میں بہت سی مسجدیں وہ ہیں جنھیں خود سکھوں نے رضا کارانہ طور پر مسلمانوں کو واپس لوٹا  دیا ہے یا لوٹا رہے ہیں۔
فتح گڑھ صاحب میں دیوا گنڈواں (Diwa Gundwan) گائوں میں سکھوں اور ہندوں نے مل کر اس مسجد کی از سر نو تعمیر کی ہے جسے تقسیم کے وقت نقصان پہنچا یا گیا تھا۔ موگا کے نزدیک اجیت وال Ajitwal  گائوں میں ایک مسجد تھی جسے تقسیم کے وقت تقریباً مسمار کر کے کوڑا دان میں تبدیل کر دیا گیا تھا ، ایک دن چند سکھ ، مسلم اور ہندو طلبا نے اسے صاف کرنا شروع کیا اور پھر سبھوں نے مل کر اسے از سر نو تعمیر کر دیا۔
مسلمانوں کے تئیں سکھوں کے اندر بدلائو کا عالم یہ تھا کہ شرومنی گرودوا پربندھک کے ایک سابق صدر نے یہاں تک کہہ دیا کہ تقسیم کی لڑا ئی میں انھوں نے ایک مسلم کو مار دیا تھا اب انھیں اپنے جرم پر ندامت ہے اور وہ اس گناہ کو دھونے کے لئے ایک مسجد بنانا چاہتے ہیں اور انھوں نے اپنے گائوں میں ایک مسجد تعمیر کی ۔
1985 کے بعد مسلمانوں کے تئیں سکھوں کے رویہ میں آنے والی تبدیلی ملک کے مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا موقع تھا۔ مسلمان اس موقع کا استعمال کر کے سکھوں کے درمیان قرآن کا پیغام پیش کر سکتے تھے ، وہ وہاں اپنے لئے تجارت کے مواقع تلاش کر سکتے تھے ، لیکن کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان ایسا کرنے میں پوری طرح ناکام رہے۔ کشمیری جو سر حد پر ہونے کی وجہ سے سکھوں کے بہت قرب تھے وہ اپنی کشمیریت کا لبادہ اوڑھ کر سوئے رہے۔ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایک پڑوسی کے تئیں ان کی اپنی کوئی دینی ذمہ داری بھی ہے۔
 1985 کے واقعہ کا الٹا فائدہ بی جے پی نے اٹھا یا ۔ بی جے پی نے سکھوں کو یہ سمجھا یا کہ  سکھوں کا قتل عام کانگریس نے کرا یا تھا، حالانکہ کہا جا تا ہے کہ سکھوں کے خلاف اشتعال انگیزی میں ہندو تنظیموں کا بڑا کر دار تھا ۔ لیکن اس سچائی کے باوجود بی جے پی نے اسے کانگریس کا معاملہ بنا دیا۔
روزنامہ ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق  2014 کے لوک سبھا انتخابات  کے موقع پر موجودہ وزیر اعظم مسٹر مودی جب  پنجاب گئے تو انھوں نے وہاں عوام  سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکالی دل کے ساتھ بی جے پی اتحاد صرف د دو پارٹیوں کا اتحاد نہیں ہے بلکہ یہ ہندو اور سکھ کا اتحاد ہے۔



Mr. Modi said that the alliance between the Akali Dal and BJP was not just political but represents Hindu-Sikh unity, which the Congress has tried in vain to sabotage through its “divide and rule” agenda.


The Hindu 24, 2014 03
مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ  پوری دنیا میں ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کا سلوک ہوتا ہے لیکن وہ کبھی اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ ان کے ساتھ ایسا اس لئے ہو رہا ہے کیوں کہ وہ پیغمبر کے مقام پر فائز کئے گئے لیکن وہ پیغمبرانہ ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے اس  لئے خدا نے لوگوں کے دلوں کو ان پر سخت کردیا۔ اورسزا کے طور پر انھیں  رسوائی کی پیٹ میں دفن کر دیا جس طرح  حضرت یونس کو مچھلی کے  پیٹ میں ڈال دیا تھا۔
 اب رسوائی کے  پیٹ سے نکلنے کے لئے مسلمانوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ وہ توبہ نصوح سے کام لیں۔  وہ سچی توبہ کریں اور حضرت یونس کی طرح اپنے مشن پر لوٹ جائیں۔
ہندوستان میں ایک ارب  پچیس کروڑ لوگ رہتے ہیں ۔ اس میں  تقریباً پچیس کروڑ مسلمان ہیں ، چنانچہ  ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے کہ وہ اپنے پانچ قریبی ساتھیوں کو ایک ایک قرآن گفٹ کریں ۔ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خدائی پیغام کو پہنچائیں۔ وہ خدائی دین کے علمبردار بنیں ۔ اسی راستے سے خدا نے ماضی میں انھیں  سر خرو کیا تھا اور دوبارہ اسی راستے سے وہ اس دنیا میں سر خرو ہو سکتے ہیں۔ اس کے علا وہ مسلمانوں کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ خدا کے سامنے جب غیر مسلم یہ دعویٰ  کریں گے کہ خدا یا، مجھے کسی نے آپ کا پیغام نہیں پہنچایا تو خدا اس وقت مسلمانوں سے ضرور پوچھے گا کہ تم نے خدا کا کلمہ لوگوں کو کیوں نہیں پہنچایا؟ کیا مسلمان خدا کے اس سوال کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں؟ میں ہندوستانی مسلمانوں سے پوچھ رہا ہوں!